حیات بلوچ کاقتل۔ یہ بربریت کب تک․․․؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی یہ تصویر ایک بلوچ خوبرو نوجوان حیات بلوچ کی لاش کی تصویرہے جو کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرزیر گردش ہے۔ تربت میں سڑک پر اوندھے منہ پڑی حیات بلوچ کی خون میں لت پت لاش کے پاس ایک طرف ان کابوڑھا باپ بیٹھا ہوا ہے اور دوسری طرف لاش کے پہلومیں بیٹھی ان کی بوڑھی ماں آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے گریہ کررہی ہیں۔ حیات کی اس بوڑھی ماں کو بھی شاید اب یہ یقین ہوگیا ہے کہ زمین پر قانون کے نفاذکا راگ الاپنے والے ان کو انصاف دلانے میں اسی طرح ناکام ثابت ہوں گے جس طرح نقیب اللہ محسود کے کیس میں ناکام ثابت ہوئے تھے۔

اس بے آسرا ماں کو شاید آسمان سے خلاف قانون غیبی سہارا پر تو یقین ہے لیکن زمیں پر قانون کے موافق اور ممکن ریاستی سہارے سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ حیات بلوچ پر ایف سی کے اہلکاروں نے اسی دن ہونے والے ایک بم دھماکے کا الزام لگایا جب وہ اپنے والد کے ساتھ کجھوروں کے باغ میں کام کر رہا تھا۔ ایف سی اہلکاروں نے حیات بلوچ کو پکڑکرپہلے ان کومکے اور لاتیں مارے اور پھر گھسیٹ کر قریبی سڑک پر والدین کی آنکھوں کے سامنے ان کے جسم میں آٹھ گولیاں پیوست کر دیں۔

بے شک فاشزم کی زبان میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تربت کے رہائشی ایک دہشتگرد کا مقدمہ تھا جس کو ایف سی کے بہادر اہلکاروں نے پل بھر میں نمٹادیا لیکن آئین، قانون اور انصاف کی نظر میں حیات بلوچ کا اس طرح بے درد قتل ایک وحشیانہ، مجرمانہ اور حددرجے قابل ذم عمل ہے۔ کیونکہ پہلا سوال یہ ہے کہ حیات بلوچ طالبعلم تو کراچی کی ایک یونیورسٹی میں شعبہ فزیالوجی میں بی ایس کے آخری سال کے طالبعلم تھے جو تعطیلات گزارنے کے لئے گھر آکراپنے غریب باپ کا ہاتھ بٹھارہے تھے۔

آخر وہ اس مختصرمدت کے دوران طالبعلم سے ایک دہشت گرد کیسے بنے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا محض شک کی بنیاد پر ریاستی اداروں کے لوگ کسی بھی بلوچ اورپشتون پر ہاتھ ڈال سکتاہے یا ہاتھ ڈالنے کے کچھ حدود وقیودبھی ہوتے ہیں؟ تیسرا سوال یہ کیا جاتا ہے اور ضرور کیا جاناچاہیے کہ ایف سی کے اہلکاروں کو سڑکوں پر عدالتیں لگاکر ملزم کو جاں سے مارنے کی اتھارٹی پاکستان کے کس آئین نے دی ہوئی ہے؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ ان غیور جیالوں کے لئے ہروقت صرف شک کی بنیاد پرکسی کے اوپردہشتگردی کے الزامات لگانا اتنا آسان ہے تو الزام کو عدالت میں ثابت کرنے میں انہیں آخر کو نسی مشکل پیش آتی ہے؟

یہ حقیقت اب روزروشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ اس ملک میں ماورا ئے عدالت قتل کے واقعات شاذ نہیں بلکہ یہ عمل پچھلے دو دہائیوں سے ایک معمول بنا ہوا ہے۔ دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام اور ریاست کے تحفظ کے نام پر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یہ پرمٹ دی گئی ہے کہ یہ بندوق بردارکسی بھی وقت اور کہیں بھی صرف شک کی بنیاد پر معصوم لوگوں کوگولیوں سے بھون سکتا ہے۔ ملزم کوعدالت میں حاضر کیے بغیر قتل کرنے کا ایسا دل خراش واقعہ جب بھی رونماہوتا ہے تو میرادل خون کے آنسو رو پڑتا اور ساتھ ساتھ پشتو زبان کا یہ تاریخی ٹپہ گنگناتا ہوں،

اول می پڑ کڑہ بیا می مڑ کڑہ
چی بے قانونہ سزا را نہ کڑے مینہ

۔ ۔ ۔ ”بلا کسی قانونی جواز کے مجھے مارنے سے پہلے قانون و آئین کی روشنی میں مجھے گناہگارتو ثابت کردو۔“ ۔

سچی بات یہ ہے کہ ماورا عدالت قتل کے واقعات کا شمار اب نا ممکن رہا ہے کیونکہ دو دہائیوں کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کے اوپر اب کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ ایک سوال یہاں یہ بھی پیداہوتاہے کہ کیاسیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہرایسے قتل کے واقعے کو ان غازیوں کی غلطی پر محمول کرناچاہیے یا اس کے پیچھے بیٹھے ہوئے مخصوص طبقے کاسوچاسمجھا منصوبہ کہنے کا وقت اب آ گیاہے؟ کراچی میں تین سال پہلے راوانوار اینڈ کمپنی کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کا اگر سنجیدہ لیاجاتاتو آج نقیب محسود کا ایک اور بھائی مفت میں مارا نہ جاتا۔

شرم کا مقام تو یہ بھی ہے کہ بربریت ڈھانے کے ایک دو دن بعد سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام مقتول کے گھرجاکران کے لواحقین کوانصاف فراہم کرنے کی یقین دہانیاں تو تھوک کے حساب سے دیتے ہیں لیکن ورثا کی آنکھیں انتظار سے پتھرا جاتی ہیں لیکن انصاف عنقا رہتاہے۔ نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود کی درد بھراداستان کسے یاد نہیں کہ عدالتوں میں تین سال تک خوار ہوئے اور بالآخر انصاف ملے بغیر چل بسے۔ ایسے مظالم میں براہ راست ملوث یا بالواسطہ ملوث رہنے والے لوگوں کو شاید یہ خیال گزرا ہوگا کہ ان کے یہ کرتوت تا روز قیامت سات پردوں میں پوشیدہ رہیں گے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان لوگوں کی بڑی خام خیالی اور بھول ہے۔ کیونکہ خدا کے ہاں دیر ضرور ہے لیکن اندھیر ہر گز نہیں ہے ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •