قوت بازوئے احرار جہاں ‎


آپ اگر استعمار کے خلاف جنگ میں نبردآزما گروہوں کی کارگزاری کا جائزہ لیں تو ہو سکتا ہے آپ ان کی حکمت عملی سے اتفاق نہ کر پائیں۔ لیکن ان گروہوں کی ایک حکمت عملی قابل غور ہے۔ سوائے داعش، القاعدہ، اور طالبان اور ان سے ملتے جلتے دیگر گروہوں کے، باقی تمام گروہوں نے اپنی کارروائیوں کے دوران میں جان سے جانے والے افراد کا پورا ریکارڈ نہ صرف سنبھال کر رکھا ہے بلکہ ان افراد کی تفصیلات سے دنیا کو واقف بھی کیا ہے۔

فلسطینی گروہوں نے التزام کے ساتھ ان افراد کی تصویریں اور مختصر سوانح عمری بھی تحقیق کرنے والوں کے سپرد کی ہیں۔ حزب اللہ کے ان تینتالیس خود کش بمباروں کی تفصیلات بھی موجود ہیں جنہوں نے حملہ کرکے غیر ملکی افواج کو لبنان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ فلسطین کی ان خواتین پر پوری ایک کتاب شائع ہوچکی ہے جنہوں نے اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد میں شرکت کی اور راہی ملک عدم ہوئیں۔ آپ نجف سے کربلا کی طرف سفر کریں پورے راستے پر سڑک کے درمیان نصب بجلی کے کھمبوں پر شہدا کی تصویریں اور نام آویزاں کیے گئے ہیں۔

رابرٹ پاپ نے تامل ٹائیگرز کے جان سے ہاتھ دھونے والوں کے نام پتے شائع کیے تھے۔ یہاں میں سماجی علوم کے بزعم خود، نام نہاد، اور غیر تربیت یافتہ ماہرین سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان گروہوں نے (ان کی اپنی تعریف کے مطابق) شہداء کے نام اور کارنامے یاد رکھ کر اچھا کیا یا برا؟ کیا کوئی مفکر اور سکالر آج ان گروہوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہے کہ ان افراد کا قتل ایک حادثہ تھا اب اس حادثے کو بھول کر آگے بڑھنا چاہیے؟

کیا ان افراد کے قتل کی یادگار کو صرف ان گروہوں سے تعصب کی عینک لگا کر ان کو تاریخ کے ڈسٹ بن میں ڈال دینا چاہیے یا زندہ انسانی معاشروں میں ان حرماں نصیبوں کے قتل اور ان کے اسباب کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے؟ سماجی علوم کے ماہرین ان ویتنامیوں کو کیا مشورہ دیں گے جو آج تک ہوچی منہ کی یادگاریں کر سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی تصویروں کو گلیوں سڑکوں پر آویزاں کرتے ہیں۔ اپنے ملک کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کا نام اس کے نام پر رکھا ہے۔

ہو سکتا ہے یہ ماہر کبھی ایسے نوجوان کے سامنے آئے ہوں جس نے چی گویرا کی تصویر سے سجی ٹی شرٹ پہنی ہوئی ہو۔ پاکستان میں ایک نوجوان جب چی گویرا کی تصویر اٹھاتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ چی گویرا اور ہوچی منہ کی تصویریں اٹھانے والے یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ اگرچہ زندگی سے بڑی ان شخصیات کے ساتھ ان کا زمانی یا مکانی تعلق نہیں ہے مگر ان سے بن پڑا تو استعمار کے خلاف وہ بھی اسی طرح جدوجہد کریں گے جیسا کہ ان کے ہیروز نے کی تھی۔ یہ تصویریں نہیں ہیں یہ ان شخصیات کی قربانی کا اعتراف ہے جو انہوں نے اپنے اور اپنوں کے لیے نہیں بلکہ آنے والی انسانی نسلوں کے لیے دی تھیں۔ اور یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ جدوجہد اور قربانی کے جو معیار اور سلیقہ یہ شخصیات متعین کر گئی تھیں وہ معیار نہ صرف معتبر تھے بلکہ آج تک قائم ہیں۔

ان شخصیات کی جدوجہد کے حوالے سے آپ لاکھ غیر جانبدار ہوں لیکن اگر آپ انسان ہیں تو انسانی جان کے جانے پر ٹھٹھک کر ان اسباب پر غور ضرور کریں گے جو انسان کو اپنی جان پر کھیلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ چاہے وہ ایک فلسطینی جان دے ایک افغانی یا عراقی جان دے یا پھر ایک کشمیری۔ ایک قدر مشترک آپ بہر طور موجود پائیں گے۔ اور وہ یہ کہ ان سب پر عرصہ حیات اس طرح تنگ کر دیا گیا تھا کہ زندگی پر موت کو ترجیح دینا ان افراد نے افضل سمجھا۔

اب یہ دیکھا جائے گا کہ اپنی جان دینے کا اسلوب اور طریقہ کیا تھا۔ کیا صرف اپنی جان قربان کی یا پھر دوسروں کی جان لیتے ہوئے اپنی جان دی۔ جہاں معاملہ دوسروں کی جان لینے کا آئے گا وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ کس کی زندگی ختم کی گئی۔ ان کی جان لی گئی جو قضیے میں شریک تھے یا ان معصوم شہریوں کو مارا گیا جن کا اصل قضیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اپنی آزادی کے لیے لڑنے والوں کی راہیں دہشت گردوں سے جدا ہو جاتی ہیں۔

دہشت گردی کو سمجھنے کی ضرورت ہے استعمار کی کارگزاریوں سے پیدا ہونے والا اندھا غصہ اس کی بنیاد میں موجود ہوتا ہے۔ جب کہ آزادی کی لڑائی ایک سوچی سمجھی اور منضبط فکر پر استوار مزاحمت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دہشت گردی ایک بیماری ہے جس کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ آزادی کی لڑائی ہر زندہ معاشرے کی زندگی کی گواہی دیتی ہے۔ دہشت گردی اسامہ بن لادن، ابوبکر بغدادی، اور ابومصعب زرقاوی جیسے لوگ کرتے ہیں۔ آزادی کی لڑائی یاسر عرفات، نیلسن منڈیلا، ڈاکٹر اقبال اور قائداعظم جیسے لوگ لڑتے ہیں۔

ڈاکٹر اقبال اور قائداعظم تو ہمارے اپنے ٹھہرے کیا نیلسن منڈیلا کی یاد منانا صرف جنوبی افریقہ کے باشندوں کا فرض ہے یا پوری انسانیت کا؟ سماجی علوم کے ماہر ایسے میں نیلسن منڈیلا اور اس کی جدوجہد کے ان پہلوؤں کو اجاگر کریں گے جو صرف جنوبی افریقہ کے باشندوں سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی سی صورتحال کسی بھی معاشرے اور ملک کو کسی بھی وقت پیش آ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں نیلسن منڈیلا کی قربانی، شخصیت اور سیاسی کردار آنے والے وقتوں میں آنے والے معاشروں کی رہنمائی کرے گا۔

 منڈیلا کو کو یاد رکھنا بنیادی طور پر منڈیلا کے کردار کو یاد رکھنے کا طریقہ ہے۔ ان طریقوں کو صرف جنوبی افریقہ کے تناظر میں مت دیکھئے۔ قد کو بڑا کیجئے۔ تناظر وسیع کیجیے۔ ذہن کے سات پردوں کے پیچھے چھپی فرقہ واریت سے جان چھڑایے۔ استعمار کے خلاف لڑنے والی ان شخصیات کے طریقہ آپ کو بہت کچھ سکھائیں گے۔ اپنی آزادی پر اصرار کرنا زندہ معاشروں کی حیات ہے۔ اور زندہ رہنے کے طریقے زندہ معاشروں کی شہ رگ حیات…

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2