کیا آپ خودکشی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ آج سے چار سال پہلے کی بات ہے۔ ایک سہ پہر میرا ایک مریض میرے کلینک آیا تو اداس دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے چند روز سے شیو بھی نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا

ڈیوڈ تم بہت افسردہ دکھائی دے رہے ہو۔ خیریت تو ہے؟
ڈیوڈ نے میری طرف نہ دیکھا۔ اس نے اپنی نظریں جھکائی ہوئی تھیں۔ کہنے لگا

میں آپ سے بہت کچھ چھپاتا رہا ہوں۔ آپ کو آدھا سچ بتاتا رہا ہوں۔ لیکن آج میں پورا سچ بتانے آیا ہوں۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں مرنا چاہتا ہوں۔ میں خود کشی کرنا چاہتا ہوں۔

پھر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ میں نے اسے ٹیشو پیپر دیے کہ آنسو پونچھ لے۔ پھر بولا
لیکن میں خود کشی کرنے میں تھوڑا انتظار کرنا چاہتا ہوں تا کہ میرے بچے ذرا بڑے ہو جائیں۔

وہ اب کہاں رہتے ہیں؟ ۔ میں نے پوچھا
اپنی ماں کے پاس۔ اس نے جواب دیا

پھر اس نے تفصیل بتائی۔ میرے بچے مجھ سے بات چیت نہیں کرتے۔ میں قانون کی پابندی کرتا ہوں۔ میں ہر ماہ ان کی ماں کو ان کا خیال رکھنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بھیجتا ہوں۔ میں نہیں جانتا وہ کتنی رقم بچوں پر خرچ کرتی ہے اور کتنی اپنی عیاشیوں پر اڑاتی ہے۔ بس یہ جانتا ہوں کہ وہ میرے بیٹے اور بیٹی کے ذہن میں میرے خلاف زہر بھرتی رہتی ہے۔ اسی لیے وہ مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ان کی ماں سے وجہ پوچھتا ہوں تو کہتی ہے تمہارے بچے تم سے ملنا نہیں چاہتے۔

پھر ڈیوڈ نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگا کہ کاش میں اس عورت سے کبھی نہ ملا ہوتا، ملا ہوتا تو کاش شادی نہ کی ہوتی اور شادی بھی کی ہوتی تو کاش بچے نہ پیدا کیے ہوتے۔ شادی اور بچے میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھے۔ میری زندگی میں کوئی خوشی کوئی راحت کوئی تفریح باقی نہیں رہی۔ میں دن رات ان کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جونہی وہ اٹھارہ سال کے ہوں گے مین خودکشی کر لوں گا۔

ڈیوڈ نے اپنی کہانی ختم کی تو کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔ پھر ڈیوڈ نے کہا “ڈاکٹر سہیل آپ اب میری کہانی سن چکے ہیں۔ آپ سب تفاصیل جانتے ہیں۔ آپ کا میرے مسئلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ کا کیا مشورہ ہے؟ میں آپ کی رائے کا بڑا احترام کرتا ہوں۔”

میں نے کہا ڈیوڈ اگر آپ کی اجازت ہو تو اپنی رائے اور مشورے سے پہلے آپ کو ایک نفسیاتی کہانی سناؤں۔ جب آپ اپنی کہانی سنا رہے تھے تو مجھے وہ کہانی یاد آ رہی تھی۔

ضرور سنائیں میں ہمہ تن گوش ہوں۔

ڈیوڈ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنے ایسے شوہر کے ساتھ رہتی تھی جو ظالم تھا جابر تھا۔ اس کی تحقیر کرتا تھا۔ تذلیل کرتا تھا۔ مارتا پیٹتا تھا۔ آخر اس نے شوہر کو چھوڑ دیا علیحدگی اختیار کر لی لیکن علیحدہ ہونے کے چھ ماہ بعد اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا۔

اس کی موت کے بعد چار ماہرین نفسیات ملے اور اس عورت کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے لگے۔ تین ماہرین نفسیات نے کہا اس نے خودکشی کی ہے لیکن ایک ماہر نفسیات نے کہا اس نے قتل کیا ہے وہ ہومی سائیڈ کی مرتکب ہوئی ہے۔

جب تین ماہرین نفسیات نے چوتھے ماہر نفسیات سے پوچھا کہ اس نے خود کو مارا ہے تو وہ قتل کیسے ہو گیا تو اس ماہر نفسیات نے کہا کہ وہ عورت ایک زمانے میں اپنے شوہر سے محبت کرتی تھی اس دوران وہ مرد اس کی ذات اس کی سوچ اس کے ذہن اس کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا۔ اس عورت نے اس مرد کو نفسیاتی طور پر انٹرنلائز (خود کا حصہ) کر لیا تھا اس لیے جسمانی طور پر جدا ہونے کے بعد بھی وہ اس سے پیچھا نہ چھڑا سکی۔ وہ اسے بات بات پر یاد آتا۔ کبھی کھانا کھاتے ہوئے کبھی گانا سنتے ہوئے کبھی سیر کرتے ہوئے کبھی کتاب پڑھتے ہوئے۔ اس کا خیال تھا کہ جدا ہونے کے بعد وہ اس سے نجات حاصل کر لے گی لیکن جدائی کے چھ ماہ بعد بھی جب وہ اس سے نفسیاتی طور پرپیچھا نہ چھڑا سکی تو اس سے نجات حاصل کرنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ خود کشی کر لے۔ چنانچہ وہ موت جو بظاہر خود کشی تھی دراصل درپردہ اپنے شوہر کا قتل تھا۔

ڈیوڈ! تم بھی اپنی بیوی سے سخت نفرت کرتے ہو۔ تم اسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہو لیکن وہ تمہارے اعصاب پر سوار ہے۔ اسی لیے تم خودکشی کے بارے میں سوچتے رہتے ہو لیکن یہ اس مسئلے کا منفی حل ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہارے مسئلے کا مثبت حل بتاؤں۔

ضرور بتائیں۔ آپ کا کیا مشورہ ہے؟

تم اپنے بچوں کو باقاعدگی سے خط لکھا کرو۔ چاہے وہ جواب دیں یا نہ دیں۔ تم اپنے بچوں کو ان کی برتھ ڈے اور کرسمس پر تحفے بھیجا کرو چاہے وہ شکریہ ادا کریں یا نہ کریں۔ تم اپنے خطوط اور تحفوں میں ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے رہو چاہے وہ خاموش ہی کیوں نہ رہیں۔ اگر تم نے ایسا کیا اور تھراپی کے لیے آتے رہے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن وہ تمہارے پاس لوٹ آئیں گے۔

ڈیوڈ نے میرے مشوروں پر عمل کیا۔ وہ خط لکھتا رہا۔ تحفے بھیجتا رہا اور اپنے پیار اور اپنی محبت کا اظہار کرتا رہا اور تھراپی کے لیے مجھ سے ملتا رہا۔

وہ آج مجھ سے ملنے آیا تو مسکرا رہا تھا۔ کہنے لگا ”ڈاکٹر سہیل آپ کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی“۔

وہ کیسے؟ میں متجسس تھا۔

پچھلے ہفتے میری برتھ ڈے تھی۔ میرے دونوں بچوں نے مجھے بلایا اور میرے لیے کیک کاٹا۔ میرے بیٹے نے کہا کہ وہ اب میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ کیک کاٹنے کے بعد میری بیٹی نے مجھے برتھ کارڈ دیا۔ ڈیوڈ نے بڑے فخر سے مجھے وہ کارڈ دکھایا۔ جس پر لکھا تھا

”پاپا۔ آپ کو سالگرہ مبارک۔ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ بھی مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اگر آپ محبت نہ کرتے تو نہ تو ہمیں ہر ماہ خرچ بھیجتے اور نہ ہمیں متواتر محبت بھرے خط لکھتے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ آپ میرے باپ ہیں۔“

جاتے وقت ڈیوڈ جو مجھ سے ہاتھ ملایا کرتا تھا گلے ملا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن اس بار وہ خوشی کے آنسو تھے۔
مجھے بالکل احساس نہ ہوا کہ میری آنکھیں بھی نم تھیں۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد سہیل (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 364 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail