دھند کے شہر میں اجنبی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب میرے احساسات بیدار ہوئے تو میرے کانوں میں عجیب سا شور تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں متحرک ہوں یا شاید میں جس بستر پر ہوں وہ حرکت میں ہے۔ جھولے کی طرح لگ رہا تھا۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ سامنے کھڑکی کے شیشے سے درخت نظر آتے تھے۔ متحرک درخت، تیزی سے پیچھے کو بھاگتے ہوئے درخت۔

”اوہ! یہ کیا ہے؟“ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ دائیں بائیں دیکھا تو صورت حال کا صحیح اندازہ ہوا۔ میں ایک ٹرین میں تھا۔ صبح ہو چکی تھی بیشتر مسافر ابھی تک سو رہے تھے۔ ٹرین پوری رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ میں نے مسافروں پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔ میرے سامنے سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر عورت نیم خوابیدہ سی حالت میں ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کے ساتھ ایک نوخیز لڑکی سمارٹ فون میں گم تھی۔ اوپر والی برتھ پر ایک بوڑھا سویا ہوا تھا۔ نہ جانے ان کی منزل کیا تھی۔

اچانک مجھے خیال آیا، مجھے تو اپنی منزل کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں۔ مجھے کہاں جانا ہے؟ کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ شاید میں نیند کے خمار میں تھا۔ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ میں کیوں اس ٹرین میں سوار ہوا تھا؟ کل میں کہاں تھا؟ باوجود کوشش کے مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔ تب ایک اور خوفناک انکشاف ہوا۔ مجھے تو اپنا نام بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔ میں کون ہوں مجھے کہاں جانا ہے؟

”اف! کیا میری یادداشت چلی گئی ہے لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک دن اچانک کوئی اٹھے اور وہ اپنی یادداشت کھو چکا ہو۔“ میں خود کلامی کر رہا تھا۔

”ہاں! میں ٹرین میں ہوں، میرے پاس ٹکٹ ہو گا اور اس پر میرا نام لکھا ہو گا۔“ میں نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ ٹکٹ نہیں تھا۔ نہ جانے میں نے کہاں رکھا ہو گا۔ کہیں سوتے ہوئے جیب سے گر نہ گیا ہو۔

”سر ناشتا کر لیں۔“ کیبن کے دروازے پر ایک نوجوان کا مسکراتا چہرہ دکھائی دیا۔

بھوک کا احساس جاگ اٹھا۔ میں نے ٹرے پکڑی جس میں بریڈ، جام، مکھن وغیرہ تھے۔ نوجوان نے اس عورت اور لڑکی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے بھی ناشتا لیا۔

”میں ابھی چائے لاتا ہوں۔“ نوجوان نے کہا۔ میں سوچنے لگا کہ ناشتا کر کے اطمینان سے سوچتا ہوں۔ دنیا میں بہت انوکھی قسم کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔ شاید میں بھی ایسی ہی کسی بیماری کا شکار ہو گیا ہوں۔ چائے پیتے ہوئے بھی میں سوچتا رہا مگر کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ ٹرین رک گئی۔ سب لوگ جلدی جلدی اترنے لگے۔ اس کیبن کے مسافر بھی اترنے لگے۔ ”آپ کس سوچ میں گم ہیں میاں! اتریں گے نہیں؟“ عورت نے استفسار کیا۔

”جی ہاں۔ جی نہیں مجھے شاید آگے جانا ہے۔“ میں گڑبڑا گیا۔
”آگے کہاں جائیے گا یہ آخری اسٹیشن ہے۔“ عورت مسکرا اٹھی۔
”اوہ! مجھے معلوم نہیں تھا“

میرے پاس کوئی سامان بھی نہیں تھا لہٰذا میں اٹھا اور کیبن سے باہر نکل آیا۔ ٹرین کا دروازہ کھلا تھا۔ باہر دھند پھیلی تھی اس وجہ سے اسٹیشن کا نام پڑھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ میں ٹرین سے باہر نکلا۔ پلیٹ فارم اچھا خاصا بڑا تھا۔ مختلف اسٹال لگے تھے۔ رش تھا لوگ کھانے پینے کی چیزیں خرید رہے تھے۔ وہیں ایک کتابوں کی دکان تھی۔ کتابیں دیکھ کر میں ایک لمحے کے لئے رکا مگر اس وقت زیادہ اہم یہ بات تھی کہ میں کہاں جاؤں۔ پہلے تو اس اسٹیشن سے باہر جانا چاہیے۔ میرے پاس تو ٹکٹ بھی نہیں تھا۔

بہرحال میرے قدم اٹھتے چلے گئے۔ سیڑھیوں کے پاس ہی ٹکٹ چیکر موجود تھا۔ میں دھک دھک کرتے دل کے ساتھ آگے بڑھا۔

”ٹکٹ پلیز“ اس نے مجھے دیکھ کر کہا۔

”جی“ میں نے یوں ہی جیبیں ٹٹولیں۔ اچانک محسوس ہوا کہ جیب میں کوئی کاغذ ہے۔ ہاتھ باہر نکالا تو ٹکٹ تھا۔ ٹکٹ چیکر نے فوراً ٹکٹ میرے ہاتھ سے لے لیا اور میرے پیچھے آنے والے شخص کی طرف متوجہ ہوا۔ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔

”اوہو ٹکٹ تو میری جیب میں ہی تھا۔ کاش میں نے پہلے ہی اچھی طرح چیک کر لیا ہوتا۔“ میں بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھا۔

باہر گاڑیاں اور رکشے وغیرہ موجود تھے۔ پتا نہیں میرے پاس پیسے بھی ہیں یا نہیں۔ میں نے ایک بار پھر جیبیں ٹٹولیں۔ ایک جیب میں اچھی خاصی رقم موجود تھی۔ مجھے اطمینان ہوا اور میں جلدی سے ایک ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔

”جی صاحب کہاں جائیں گے؟“ ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا۔
میں ایک بار پھر گڑبڑا گیا۔ مجھے کہاں جانا ہے؟ اب اس ڈرائیور کو کیا بتاؤں؟
”کہیں بھی لے چلو جہاں میں سکون سے بیٹھ کر سوچ بچار کر سکوں“ میں نے ذرا ٹھہر کر کہا۔

”تو آپ کو نیشنل پارک چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ اتنا بڑا ہے کہ آپ کسی گوشے میں تنہا بیٹھ سکیں گے“ ڈرائیور بولا۔
”بہت خوب! سمجھدار ہو، تو چلو“

ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ میں باہر دیکھنے لگا تا کہ اندازہ ہو کہ یہ کیسا شہر ہے۔ دھند شدید تھی دس پندرہ فٹ سے آگے دیکھنے میں بہت دقت ہو رہی تھی۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ پھر میں نے سوچا ڈرائیور سے معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

”بھائی میاں یہ کون سا شہر ہے؟“ میں نے سوال کیا۔
”صاحب! لگتا ہے آپ پہلی دفعہ یہاں آئے ہیں“
”اسی لئے تو پوچھ رہا ہوں۔ کچھ بتاؤ اس شہر کے بارے میں“

”مملکت خداداد میں ہمارا شہر اپنی مثال آپ ہے۔ ملک کی دس فیصد آبادی اسی شہر میں ہے۔ علم و ادب کا مرکز ہے۔ سیاسی حوالے سے بھی یہ شہر بہت اہم ہے۔ ڈرائیور بولا۔

”کافی اچھی گفتگو کر لیتے ہو۔ پڑھے لکھے ہو؟“

”جی صاحب! گریجویٹ ہوں۔ گریجویشن کے بعد دو سال سے بے روزگار تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے نوکری مل جائے گی۔ چناں چہ میں بالکل بھی نہ گھبرایا مگر جب فاقے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے محلے داروں سے بات کی۔ وہ اچھے لوگ ہیں انہوں نے چندہ اکٹھا کر کے قسطوں پر یہ گاڑی لے دی۔ اب دال دلیا چل رہا ہے۔“

”خدا خیر کرے! اچھا تم اس شہر کے بارے میں بتا رہے تھے“
”جی صاحب! آپ اس شہر میں بہت خوش رہیں گے۔ اس شہر کا نام۔ ۔ ۔“
اچانک ڈرائیور نے ہیوی بریک لگائی۔
”کیا ہوا“

”اچانک ایک موٹر سائیکل والا سامنے آ گیا تھا۔ بڑی مشکل سے بچا ہے“ ڈرائیور نے جھنجھلا کر کہا۔
”دھند کی وجہ سے دکھائی نہیں دے رہا یہ لوگ پھر بھی رش ڈرائیونگ کر رہے ہیں“
”لیجیے صاحب! نیشنل پارک آ گیا“ ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔
میں نے باہر نکل کر دیکھا۔ واقعی بہت بڑا پارک تھا۔

” اچھا سنو۔“ میں نے ڈرائیور نے سے کہا۔ مگر اس نے نہیں سنا۔ اس نے گیئر لگایا اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ میں پارک میں داخل ہو گیا۔ دور دور تک سبز قطعات اور ہرے بھرے درخت دکھائی دے رہے تھے۔ میں ایک پتھر کی بنچ پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ پارک میں زیادہ رش نہیں تھا۔ لوگ آ جا رہے تھے۔ بچے جھولے جھولے جھول رہے تھے۔ کافی دیر تک غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ گھوم پھر کر شہر کا جائزہ لینا چاہیے۔ میں پارک سے نکل آیا اور پیدل ہی ایک طرف چل پڑا۔ مٹر گشت سے اندازہ ہوا کی خاصا بڑا شہر ہے۔

دوپہر کو ایک ریسٹورانٹ میں لنچ کیا اور پھر آوارہ گردی پر نکل کھڑا ہوا۔ بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اتنا بڑا شہر اور کوئی میرا جاننے والا نہیں تھا۔ میں یہاں اجنبی تھا۔ سوچ رہا تھا کہ کاش کوئی شناسا چہرہ نظر آ جائے مگر تمام خواہشیں کب پوری ہوتی ہیں۔ شام ہو رہی تھی اور اب یہ فکر دامن گیر تھی کہ میں کہاں جاؤں گا۔ میں جہاں موجود تھا وہاں ایک بہت بڑی بلڈنگ نظر آ رہی تھی۔ وہ ایک رہائشی بلڈنگ تھی اور کم از کم چودہ پندرہ منزلوں پر مشتمل تھی۔

کاش اسی بلڈنگ میں میرا کمرہ بھی ہوتا۔ میں بے خیالی میں بلڈنگ کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ بلڈنگ کے صدر دروازے کے پاس ایک سکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔ اس نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک پیدا ہوئی۔ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ کیا یہ مجھے جانتا ہے۔ میں اس کی طرف بڑھا۔

”گڈ ایوننگ سر“ اس نے سر ہلایا۔
”گڈ ایوننگ“ میں نے جواب دیا۔
”کیسے ہیں سر؟“
”تم مجھے جانتے ہو؟“ میں نے فوراً سوال کیا۔

”جناب آپ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں۔ آپ کو کون نہیں جانتا؟“ سکیورٹی گارڈ مسکرا اٹھا۔
”تو پھر بتاؤ میرا نام کیا ہے؟“ میں نے فوراً سوال داغا۔
”جناب آپ مذاق کر رہے ہیں میرے ساتھ“
”مذاق نہیں ہے۔ بتاؤ کیا نام ہے میرا؟“
”آپ واقعی مذاق کر رہے ہیں۔ آپ اپنے اپارٹمنٹ میں جائیے“ سکیورٹی گارڈ بے ہودہ انداز میں ہنسنے لگا۔
”کس اپارٹمنٹ میں جاؤں؟“ میں نے منہ بنا کر کہا۔

”ہا ہا ہا سر اپارٹمنٹ نمبر 501، ففتھ فلور میں جائیں گے اور کہاں جائیں گے۔“
” اور چابی کون دے گا؟“
”سر آپ کے پاس ہو گی۔ اوہ کہیں گم کر دی کیا؟ انتظامیہ سے بات کرنی پڑے گی۔“ سکیورٹی گارڈ چونکا۔
”اچھا ٹھہرو میں دیکھتا ہوں“ میں نے یوں ہی جیبیں ٹٹولیں۔ انگلیاں کسی دھاتی چیز سے ٹکرائیں۔

”ہاں یہ رہی“ میرے ہاتھ میں چابی تھی۔ میں آگے بڑھ گیا اس سکیورٹی گارڈ سے سر کھپانا بیکار تھا۔ اگر میں یہیں رہتا ہوں تو اپنے بارے میں جاننے میں دیر نہیں لگے گی۔ میں اسی طرح کی باتیں سوچتے سوچتے لفٹ میں داخل ہوا اور پانچویں فلور پر پہنچ گیا۔ ہر اپارٹمنٹ کے دروازے پر نمبر لکھے ہوئے تھے مگر کسی کا نام نہیں لکھا تھا۔ میں نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ 501 نمبر والے دروازے میں چابی گھمائی۔ دروازہ کھل گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3