ڈاکٹر عطیہ ظفر: نہ بھلا سکوں جسے عمر بھر…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروری 2020ء میں اماں کو خالق حقیقی سے ملے ہوئے چھ سال بیت گئے۔ کئی دفعہ سوچا کہ اماں کے لیے کچھ لکھوں مگر ہمت ہی نہ پڑی کہ اماں سے ڈانٹ نہ پڑ جائے۔ اماں کو برا نہ لگ جائے، اماں کو تکلیف نہ ہو، ایسا ہی رشتہ تھا ہم لوگوں کا اماں کے ساتھ۔ اماں کی ناراضگی ناقابل برداشت مگر اماں کے ساتھ ہنسنا بولنا مذاق کرنا، ہنسی ٹھٹھے لگانا بھی ناممکن۔ جیسے آپ کسی کی پوجا کرتے ہیں، اُس کوناراض بھی نہیں کرسکتے اورانتہائی محبت کے باوجود جَتا بھی نہیں سکتے، منع بھی نہیں کرسکتے صرف خاموش بیٹھ کر دُعا کرسکتے ہیں کہ مان جائیں۔

بچپن سے اماں کو پڑھنے لکھنے، گھر کا کام اور ڈاکٹری کرتے دیکھا۔ کب سوتی تھیں، کب اُٹھتی تھیں، پتہ ہی نہیں تھا۔ کیسے سارے کام ہوجاتے تھے، کیسے سارے گھر کے کپڑے مشین پر سِل کر عید کی صبح تیار ملتے تھے۔ کیسے ہر بچے پر گہری نظر ہوتی تھی۔ آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ کس نے کھانا ٹھیک نہیں کھایا، کس کا چہرہ اُترا ہوا ہے، کس کو کیا بات بُری لگی، کس نے بدتمیزی کی سب پتہ ہوتا تھا۔ حالاں کہ آدھے سے زیادہ دن وہ گھر سے باہر گزارتی تھیں، اسٹوڈنٹس لائف میں بھی اور ڈاکٹر بننے کے بعد بھی۔

گائوں کی یتیم لڑکی کو شہر کے سیاسی لڑکے سے بیاہ کر سر کا بوجھ اُتاردیا گیا، جب کہ وہ ابھی تیرہ سال کی تھی۔ اور 8 سال کی عمر میں والد کی وفات کے بعد سے اپنی ڈپریشن کی شکار ماں اور تین چھوٹے بھائی بہنوں کی فکر میں مبتلا رہتی تھی۔

دیسنہ (بہار) گائوں کی سیدھی سادی، سنجیدہ سی لڑکی بیاہ کر پٹنہ شہر کے مشہور وکیل کے گھر بہو بن کر آئیں تو سارے گھر کی ذمے داری پڑگئی۔ ساس دائمی بیمار مگر بڑی شفیق اور ہمدرد۔ ان سے بہت کچھ سیکھا۔

گھر ایسا کہ گائوں کے لوگوں کا ہر وقت آنا جانا، رہنا سہنا اور سب کی دیکھ بھال کی ان کی ذمے داری۔ کئی طالب علموں کا عارضی یا مستقل ٹھکانہ وہ بھی یہ دیکھیں۔ شوہر سیاست میں مبتلا اور گھر سے بے پرواہ، جو اپنی میڈیکل کالج کی کتابیں بیچ کر باپ کی مرضی کے خلاف کانگریس کے ساتھ چل پڑے تھے۔

1948ء میں دو بچوں کے ساتھ پاکستان ہجرت کی، بے حد غریبی کی حالت میں۔ مگر ابھی بھی کچھ بے سہارا رشتے دار ساتھ اور یہ دونوں اُن کا بھی سہارا۔ کپڑے سی کر، قرآن پڑھا کر آمدنی بڑھانے کی کوشش اور اب شوہر نے بھی روٹی کمانے کے لیے پوسٹ آفس کے سامنے بیٹھ کر لوگوں کے خطوط لکھنا شروع کردیے۔

یا اﷲ یہ گائوں کی لڑکی کو زندگی کیا کیا دکھا رہی تھی، اور وہ بڑی خوش اسلوبی سے نبھائے جارہی تھی۔ پیچھے بیوہ ماں اور یتیم بھائی بہنوں کا خیال بھی کھائے جاتا تھا۔ چار بچے ہوئے تو شوہر کی طرف سے پڑھنے کا مشورہ ملا اور خوشی کے مارے مر جانے والی کیفیت پیدا ہوگئی کہ یہ تو دیرینہ خواہش تھی۔ مرحوم والد کی طرف سے پڑھنے کا شوق ملا تھا جو کہ ان کی بے وقت موت کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔

حروفِ تہجی سے شروع کرکے تین چار سال میں میٹرک پاس، میڈیکل اسکول سلہٹ مشرقی پاکستان میں داخلہ۔ وہاں کے چار سال بچوں اور پڑھائی کے ساتھ۔ پھر کراچی منتقلی، اور ایم بی بی ایس کا داخلہ لاہور میں۔ پھر نقل مکانی، کچھ مہینوں کے بعد کراچی تبادلہ اور پھر دو سال میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور اب سات بچے بھی موجود۔ سب سے چھوٹی بیٹی بعد میں تشریف لائیں۔

کیا یہ قابلِ یقین سفر ہے؟ کیا یہ معجزہ ہے؟ اور یہ سب غربت کے ساتھ اور سارے خاندان کی ناراضی اور کفر کے فتوے کے ساتھ، مگر پھر بھی کمزور رشتے داروں کو سہارا دیتے ہوئے یہ سب ہو گیا۔

کیسا فخر کا لمحہ ہوگا اماں کے لیے جب وہ ڈائو میڈیکل کالج کے آخری سال میں تھیں اور ان کے بڑے بیٹے نے اسی کالج میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے پہلے سال میں قدم رکھا تھا۔ کیا ایسی کوئی مثال دنیا میں ہے کہ ماں بیٹا ایک ہی میڈیکل کالج میں، ایک ہی وقت میں پڑھ رہے ہوں۔

ایسی ہی تھیں میری اماں، نئی نئی مثالیں قائم کرنے والی، نرم مزاج، خاموش طبیعت، سخت محنتی، ذہین، اﷲ سے بہت ڈرنے والی، عبادت گزار، سادہ سی، سفید کپڑوں میں ملبوس۔

جب پردہ کرنا چھوڑا اور خاندان سے کفر کے فتوے لگے تو ساری رنگینیاں، زیور، گہنا سب چھوڑ کر سفید سوتی سادہ لباس اپنا کر سارا سنگھار بھی اُتاردیا کہ کردار پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے، کوئی بُری نظر نہ ڈال سکے۔ ان کا سارا زیور صرف ان کی میٹھی مسکراہٹ، خالص ہنسی اور گرمیوں میں کانوں میں موتیے کے پھول… اور بس۔ ان کے مریض بھی کہتے تھے کہ ہم تو ڈاکٹر کی ہنسی دیکھنے آتے ہیں۔ وہ ہنستی تھیں تو لگتا تھا کہ سارا گھر ہنس رہا ہے۔

نظر پہچاننا ان کو بہت آتا تھا۔ اپنی حساس طبیعت کے باعث بہت کچھ وہ لوگوں کی نظروں سے سمجھ جاتی تھیں اور بقول ان کے یتیمی کے بعد لوگوں کی ترس بھری نظریں اور ’’بیچاری عطیہ‘‘ کے الفاظ ساری زندگی ان کے لیے مہمیز بنے رہے اور آگے سے آگے بڑھنے میں مدد دیتے رہے۔ ’’بیچاری عطیہ‘‘ کا ٹھپہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا اور آخر کار انہوں نے اسے دھو ڈالا۔

کیا کیا روپ تھے ان کے۔ سِل بٹّے پر مسالہ پیستے ہوئے، روٹیاں پکاتے ہوئے ساتھ ساتھ سی اے ٹی کیٹ اور آر اے ٹی ریٹ کا رٹّا لگانا۔ سلائی مشین پر ڈھیروں کپڑے سیتے سیتے اچانک موٹی سی کتاب اُٹھالینا۔ کلینک میں دو مریضوں کے بیچ میں وقفہ ہو تو کوئی ادبی ناول پڑھتے جانا۔ انہیں ہر وقت ملٹی سکنگ ہی دیکھا۔

ان سارے برسوں میں انہوں نے اپنے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ سب کی شادیاں بھی کرادیں۔ سارے سسرالی رشتے بھی بخوبی نبھائے۔

ملیر میں گھر، صبح کی نوکری، شام کی کلینک کے ساتھ ہم سب کی پرورش اور تعلیم و تربیت۔ ہم سب بہنوں کو سارے امور خانہ داری سے روشناس کرایا۔ خود کپڑے سیئے، سوئیٹر بُنے، کروشیا بنایا، کھانا پکایا توبیٹیاں کیوں نہ کریں؟ میری بہنیں تو دوسرے بہت سے کاموں میں بہت ایکسپرٹ بھی ہیں۔ اور ہم سب کو ان ہنگامہ خیزیوں کے ساتھ ڈاکٹر بھی بننا تھا۔ یہ تھا ان کا خواب۔ دن گزرتے گزرتے اچانک سب کی شادیاں ہوگئیں، سب پڑھ گئے، اسی درمیان میں انڈیا سے پھوپھی بھی چھ بچوں کے ساتھ آگئی تھیں۔ ساتھ ہی رہنا سہنا، کھانا پینا چلتا رہا۔ ان کے بچے بھی پڑھ گئے اور شادیاں ہو گئیں۔

مگر قدرت کے امتحان اور بھی باقی تھے۔ ان کے جان سے عزیز اکلوتے چھوٹے بھائی اور بھابھی کے، ایک کے بعد ایک انتقال کے بعد ان کے سات بچوں کی ذمے داریاں بھی آ گئیں۔ سب سے چھوٹی بھتیجی ابھی صرف تین سال کی تھی یعنی حد ہے اپنی پانچ بیٹیاں، پھوپھی کی دو بیٹیاں اور ماموں کی پانچ بیٹیاں۔ 12 لڑکیوں کی مکمل تعلیم و تربیت اور شادیاں کر گزریں نہایت سلیقے اور کفایت شعاری کے ساتھ اور کبھی قرض نہ لیا۔ بڑی آمدنی بھی نہ تھی۔ مجھے یاد ہے میرے اسکول کی فیس 7 روپے تھی اور سات دن تک میں ٹہلتی رہی کہ اماں سے کیسے مانگوں۔ پتہ نہیں، ہیں بھی کہ نہیں۔ پھر انہوں نے خود ہی میرا اُترا ہوا چہرہ نوٹ کر لیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔

ہر ضرورت مند سے ہمدردی اور اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بے قرار۔ کلینک میں مفت علاج کے ساتھ اکثر لوگوں کو پیسے بھی پکڑا دیتیں۔ اکثر فیس میں گائوں کے لوگوں کے محبت بھری سوغات، پھل، سبزیاں ہی کافی ہوتی تھیں۔ اکثر لوگ ہر مہینے آتے اور چپکے سے کچھ لے جاتے۔ اس تنگ دستی میں یہ کیسے کرتی تھیں یہ بھی ایک راز ہے۔ آج تو بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔

ابا اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، ان کے پیسے بھی اسی طرح خرچ ہوتے تھے، دوسروں کے تعلیمی اخراجات پورا کرتے ہوئے۔ مگر اماں نے کبھی اعتراض نہیں کیا، نہ اخراجات کے لیے مطالبہ کیا۔ ایک ہی جواب تھا ’’وہ کون سا پیسے اُڑا رہے ہیں، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر رہے ہیں تو ہماری ضرورت بھی خود بخود ہی پوری ہو جائے گی۔ ‘‘

انہوں نے اپنی ساس کی مرتے دم تک خدمت کی، جن کا جلد ہی انتقال ہوگیا تھا۔ دادا ابا نے لمبی عمر پائی اور انتہائی ضعیفی تک پہنچے۔ ان کی آخری سانسوں تک اماں ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔ اپنی نانی کو رخصت کیا، ہماری نانی اماں کی زندگی کی آخری سانس تک ساتھ کھڑے رہ کر ہم سب کو بہت کچھ سکھا گئیں۔ اماں میں کہاں کہاں آپ پر فخر کروں؟

اماں کے جان سے پیارے تین چھوٹے بھائی بہن یکے بعد دیگرے ان کی حیات میں ہی انتقال کرگئے۔ ان کے بہت ہی پیارے لے پالک بیٹے سلطان ظفر بھی پچاس سال کے لپیٹے میں ہی اماں کے سامنے انتقال کرگئے۔ ان سب کے باوجود وہ چٹان کی طرح مضبوطی سے نہ صرف یہ کہ جمی رہیں بلکہ دوسروں کو حوصلہ دیا۔

بچوں پر، خاص کر لڑکیوں پر تیر کی نظر رکھنا ان کا اور ابا کا شیوہ تھا، مگر کمال یہ تھا کہ ہلکی پھلکی شکایتوں کے علاوہ ہمیں کبھی بُرا بھی نہ لگا۔ آخر ہماری تفریح بھی تو ہوتی تھی۔ کبھی گاندھی گارڈن، کبھی کلفٹن، کبھی سینما اور کبھی رشتے داروں سے ملنا جلنا۔ ابا نے ہم بہنوں کو سڑک پر سائیکل چلانا سکھایا، ڈرائیونگ سکھائی، ہمارے ساتھ بیڈمنٹن کھیلا، اسٹوڈیو نمبر 9 کے ڈرامے اور بزم طلبا کے پروگرام سنے۔

اماں نے ہمیں اردو لٹریچر پڑھنے کی بہت ترغیب دی مگر کتاب ہر دفعہ پہلے خود پڑھی پھر ہمارے ہاتھ میں آئی کہ غلط مواد نہ آجائے۔ سوائے ابن صفی کے ناولوں کے جو کہ انہوں نے خود تو نہیں پڑھے، مگر بھائیوں کے ہاتھ سے ہو کر مجھ تک پہنچے تو انہوں نے تسلی کر لی۔

یہ الگ بات ہے کہ میں نے کچھ چھپ چھپا کر عصمت چغتائی اورمنٹو کوپڑھ ڈالا، سمجھ میں خاک نہ آیا۔ ’’آنہ لائبریری‘‘ کے ہم سب ممبر ہوتے تھے اور بچوں کے رسالوں پر خوب چھینا جھپٹی ہوتی تھی۔

ہم میں سے کوئی بیمار پڑتا تو ان کی بے چینی، بے قراری اور محبت دیکھ کر بار بار بیمار ہونے کا دل چاہتا تھا۔

ہم سب بھائی بہنوں کا ایک ہی رویہ تھا کہ اماں کو تنگ نہ کرو، اماں کو پریشان نہ کرو ۔ اور اگر کسی نے ایسا کردیا تو یعنی اماں کو تنگ کیا یا غصہ دلادیا تو وہ باقی سب کی نظر سے گر گیا۔

یہ کیسے رشتے ہوتے ہیں، جب ہم ان کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے ہیں اوروہ ہمارے چہرے کا رنگ پڑھ لیتی ہیں۔ ہم بڑے ہونے کے بعد بھی اپنی پریشانیاں جتنا چھپانے کی کوشش کریں وہ سمجھ جاتی تھیں اور بے چین ہو جاتی تھیں۔ پھر یہ خاصیت اولاد سے اُتر کر آس پاس کے لوگوں پر بھی اَبر برسانے لگی۔ اولاد کے ساتھ اولاد کے دوستوں سے بھی اسی طرح محبت اور مدد کی۔ کس طرح پریشان ہو ہو کر انہوں نے کئی ملازمین کے گھر بنوا دیے۔ کتنوں کی بیٹیوں کی شادیاں کروا دیں۔ کتنوں کی تعلیم مکمل کروا دی۔

کس طرح کی شخصیت تھی، ہر ایک سے مخلص۔ بناوٹ آتی ہی نہیں تھی، عبادت گزار، انسان تو انسان جانور دوست بھی۔ مگر کوئی فضول بات برداشت نہیں، خاص کر اپنی اولاد کی طرف سے۔ وقت کا ضائع کرنا ناقابل برداشت، کام کرتے رہیں خود بھی اور دوسرے بھی۔

جھوٹ بولنا، بدتمیزی کرنا ناقابل معافی جرم تھا، سزا ضرور ملتی تھی۔ اگر کبھی خود احساس ہو جاتا کہ سزا ضرورت سے زیادہ ہو گئی ہے تو پھر نرمی اور محبت کی پھوار۔

ہر قسم کی آزادی مگر ہر قسم کی پابندی کے ساتھ کہ اُڑان بھرو مگر اتنی نہ بھرو کہ گر ہی جائو۔

ضرورت کے وقت ابا سے ڈانٹ پڑوانا بھی اور اگر زیادہ ہو جائے تو نظر کے سامنے سے بھگا بھی دینا۔ پیسوں کی تنگی کا احساس بھی دلانا پھر فرمائشیں بھی جیسے تیسے پوری کر دینا۔

بہوئوں اور دامادوں کا رشتہ بھی خوب نبھایا۔ کبھی نہ خود شکایت کی اور نہ شکایت کا موقع دیا۔

میری اماں بھی بس ایک ہی تھیں، اور ایسا اب دوسرا کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ اﷲ تعالیٰ ایسے لوگ بار بار پیدا نہیں کرتے۔ ہم سب لوگ جنہوں نے ان کے سائے میں ٹھنڈک پائی، بہت خوش قسمت ہیں جس پر ہمیں ناز و فخر ہونا چاہیے۔

ان کا خواب کہ عورتوں کی صحت کا خیال ہو، ان کی غربت کا خاتمہ ہو، فری ہسپتال ہو جہاں بھکارن بھی آجائے تو اس کا بہترین علاج ہوجائے، پایہ تکمیل کو پہنچ ہی رہا تھا کہ وہ کچھ یاد رکھنے کے قابل نہ رہیں۔ ابا کے انتقال کے بعد آہستہ آہستہ یادداشت کھوبیٹھیں۔ الزائیمرجیسی بیماری کا شکار ہوئیں اور آخری چند سال بستر میں گزارے۔ وہ تو وہاں تھیں جہاں سے ان کو اپنی بھی خبر نہ تھی، پر ہم سب کے لیے وہ بڑے ہی تکلیف دہ دن تھے۔ ان کی خالی خالی آنکھیں کبھی پہچان کی جھلک، کبھی بیگانگی کی انتہا، کبھی وہی خوبصورت مسکراہٹ، کبھی کسی کا نام لے کر بے چین، کبھی لمبی لمبی نیندیں، کچھ خدمت کا موقع دیا مگر حق ادا نہ ہوا اور ماں کا حق کون ادا کرسکتا ہے، وہ بھی ایسی ماں کا ’’رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْراً‘‘۔

کیا دُعا سکھائی ہے رب نے۔ وہ خود رب العالمین ہے اور کہتا ہے کہ تمہارے ماںماں باپ نے تمہارے چھٹپن میں رب کا رول ادا کیا ہے۔ تو رب کے بعد تو اماں ابا ہی ہیں ناں۔ تو کیا ان کی کسی درجے میں پوجا نہ کی جائے؟ یہ پوجا ہی کا رشتہ ہوتا ہے کہ نہ آپ ناراض کرسکتے ہیں، نہ آپ کھل کر بات کرسکتے ہیں، صرف پوجا کرتے ہیں۔

آج بھی دل دُکھ جاتا ہے شدید جرم کے احساس سے، جب وہ بدنصیب لمحے یاد آجاتے ہیں، جب کبھی اماں سے اونچی آواز سے یا غصے سے بات کی تھی۔ یہ پوجا کا محبت کا دستور تو نہ تھا۔ مگر میری اماں نے ضرور مجھے معاف کردیا ہوگا کہ یہی تو ان کی عادت تھی ہر ایک کو معاف کردینا۔

آج وہ کوہی گوٹھ ہسپتال کے ایک پُرسکون گوشے میں درخت کی ٹھنڈی چھائوں تلے اَبدی نیند سورہی ہیں، سارے کام ختم کرکے۔

ابھی یہ سب لکھنے بیٹھی تو اچانک خود ہی خیال آیا کہ وضو تو کرلوں۔ اب اس کو آپ کیا کہیں گے؟ بابرکت لوگوں کی محفل میں ایسے تو نہیں جا سکتے۔

چھ سے زیادہ برس گزر گئے۔ یہ خلا بھرتا ہی نہیں!

’’رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْراً‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر شاہین ظفر کی دیگر تحریریں