گمنام گاؤں کا آخری مزار اور رؤف کلاسرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔ تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اس شہر کا لینڈ مارک بننے جا رہا ہے۔ خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور ان سے متعلق تمام انتظامی معاملات و امور کو حسن و خوبی سے نمٹانا جناب شاہد حمید کے سعادت مند بیٹوں گگن شاہد اور امر شاہد پر ختم ہے۔ ہماری معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے ملک کے نامور صحافی رؤف کلاسرا کی حالیہ چھپنے والی فرانسیسی ادیب بالزاک کی کتاب کا تذکرہ کیا۔ ہم پرانے لوگ اچھی کتابوں کے تو رسیا ہیں۔ فوراً اسے لکھا کہ سعدیہ پبلشر کا لکھو۔ کرونا کا خوف بھی اب کم ہو گیا ہے خریدتی ہوں۔ اسے گگن نے بھی کہیں پڑھ لیا۔ سعادت مند بچہ فوراً ہی بیچ میں کودا۔ ”ارے نہیں آپا میں بھیج رہا ہوں آپ کو“ ۔

لیجیے رؤف کلاسرا کی تین کتابیں اور جناب شکیل عادل زادہ کی سب رنگ کہانیاں سب نے میرے اردگرد بکھر کر کمرے کی فضاؤں کو خوشبوؤں سے بھر دیا۔ سب رنگ اور شکیل عادل زادہ سے عشق کی کہانی کسی اگلی قسط پر اٹھاتی ہوں کہ اس دور کی فینٹسی کو تازہ کرنے کے لیے تو یادوں کا علیحدہ سے لمبا چوڑا کھاتہ کھولنا ضروری ہے۔ سر دست تو رؤف کلاسرا کے ساتھ باتیں کرنی ہیں۔

بالزاک کے ناول ”تاریک راہوں کے مسافر“ اور ”سنہری آنکھوں والی لڑکی“ کے چند اوراق کی ورق گردانی کے بعد انہیں ایک طرف رکھ دیا کہ پتہ چل رہا تھا ترجمہ کی اٹھان غضب کی ہے۔ یقیناً ناول کی روح، مکالموں کی برجستگی اور مواد کے حسن کو رؤف نے مزید چار چاند لگا دیے ہوں گے۔ ہم جیسے ٹاٹ سکولوں میں چھٹی کلاس سے انگریزی شروع کرنے والوں کو قدم قدم پر ملنے والے دھکوں اور احساس کمتری کے چرکوں نے یہ بات بہت جلد سمجھا دی تھی کہ انگریزی بولنے اور اس پہ قدرت رکھنے کی صلاحیت زندگی کے ہر شعبے میں اپنا قد کاٹھ بڑھانے کے لیے اشد ضروری ہے اسی لیے ہمیں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے کولہو کے بیل کی طرح اپنی آنکھوں پر محنت و لگن کے کھوپے چڑھانے پڑے۔ مشقت کی چکی میں پسنا پڑا۔ رؤف گو کل کا بچہ تھا مگر چار پانچ دہائیاں قبل دور افتادہ گاؤں سے تھا۔ اس کشٹ سے گزر کر ہی یہاں تک پہنچا ہے۔

اب۔ ”گمنام گاؤں کا آخری مزار“ ہاتھوں نے پکڑی۔ فہرست کھولی۔ عنوانات پر نظریں تھیں۔ صفحات کھلتے گئے اور پڑھتی گئی۔ باہر اگر نویں محرم کا سوگ پھیلا ہوا تھا تو میرا اندر اس سے سو گنا زیادہ دکھ اور کرب میں گھر گیا تھا۔ میں جل رہی تھی۔ آنکھوں سے بہتے آنسو جیسے درد کی شدید چبھن کے ساتھ باہر آرہے تھے۔ ہمیشہ سے میری عادت لیٹ کر پڑھنے کی ہے۔ اب کبھی اٹھتی، کبھی بیٹھتی، لگتا تھا جیسے تتے توے پر بیٹھ گئی ہوں۔ کتاب رکھ دی تھی۔ اوپر والے سے شکوؤں میں الجھ گئی تھی۔

”ہمیں اچھے لیڈر دینے میں تیری اتنی تھڑدلی۔ کیا تھا۔ کن کہنے میں تیرے اتنے نخرے۔“

پھر کتاب اٹھائی۔ کہیں ایسے بھی لوگ تھے۔ ایسے بھی بچے تھے جو مدھر سی خوشبوئیں بکھیر رہے تھے۔ انسانیت کی، اعلیٰ اقدار کی، محبت کی۔ کہیں بڑے مانوس سے ادبی چہرے جن سے ہماری بھی یاد اللہ ہے۔ کہیں گاؤں کے گھر کی یادوں کے ناسٹلجیائی احساسات کی یورش جن میں ہم جیسے بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ خود کو شامل سمجھتے تھے۔ ملتے جلتے مناظر اور حالات کی تصویریں، خوبصورت کتابیں، پیارے دوست، مرنے والوں کے نوحے۔

ظفر الطاف جیسی عظیم شخصیت کا تذکرہ ان سے میرا بھرپور کتابی تعارف اقبال دیوان صاحب کے ’سویرا‘ میں تفصیلی مضمون سے ہوا تھا۔ یہ تو بعد میں جانی تھی کہ ظفر بہت خوبصورت افسانہ نگار ندرت الطاف کے بھائی ہیں۔ اور یہ کہ بچپن میں اس جالندھری گھرانے سے ملنے اپنی نانی کے ساتھ دو تین بار گئی تھی۔

’Kite Runner‘ نے وہ ساری یادیں دہرائیں جو میں نے اس ناول کو پڑھتے ہوئے محسوس کی تھیں۔ افغانستان کی سر زمین کے المیے۔ چر نوبل ایٹمی پاور پلانٹ کا المناک حادثہ، اس کے موجد سخاروف کے پچھتاووں کے قصے جنہیں میں نے ماسکو کی ایک روسی جرنلسٹ کے گھر بیٹھ کے سنا تھا۔ اعلیٰ ظرف اور تھڑدلے انسانوں کی داستانیں۔
Papa, what have you done
کیسا فکر انگیز کالم ہے۔ بیوی اور بچے اگر یہ سوال پوچھنا شروع کردیں تو مرد کتنی دیر مزاحمت کرے گا؟

اسرائیل کے ایک چیف انسپکٹر سفسر شک کی بیٹی راشیل یاد آئی تھی۔ جس نے کفر قاسم جاتے راستے میں فلسطینیوں کے کیمپوں کو دیکھتے ہوئے اپنے باپ سے کہا تھا۔ ”آپ لوگ ظالم ہیں۔ آپ لوگوں نے فلسطینیوں سے ان کے گھر چھین لیے ہیں۔“ باپ کے انکار اور یہ کہنے پر کہ انہیں خریدا گیا ہے۔ لڑکی نے باپ کو جھوٹا کہا اور بتایا کہ اس نے بی بی سی پر ڈاکو مینٹری دیکھی ہے۔ وہ ہندوستانی بیوی بھی باعث مثال ہے جو کہتی ہے۔ ہم برتن مانجھ لیں گے تم فیصلہ صحیح کرو۔

ہے نہ ہم سب کے لیے لمجہ فکریہ۔

رؤف کلاسرا سچا، نڈر اور جی دار صحافی ہے۔ اس کے کالموں کا تحریری انداز سیدھا سادہ بیانیہ رنگ میں اپنے تاثر کی اس گہرائی کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے جو سیدھا ٹھک سے دل میں اترتا ہے۔

ہم جیسے شوئی لوگ جو افسانہ کہانی یا کالم لکھتے ہوئے کتنا سارا وقت صرف آغاز کی

پھڑک دار لائن کے انتخاب میں صرف کرتے ہیں۔ بس قاری کی نظر پڑھے اور جم جائے۔ اسی طرح اختتام زور دار ہو۔ اس کے ہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ نہ تشبیہات نہ استعارے نہ لفظوں کی جادو گری۔ مگر کیا ہے؟ کہ اختتام پر کہیں آنسوؤں کے پر نالے ہیں اور کہیں بھڑکتی آگ کہ جس کی تپش آپ کو ان کرداروں کے خوبصورت بوتھے نوچ لینے پر اکساتی ہے۔ اور یہی ایک کامیاب لکھاری کا کمال ہے۔ جیتے رہو رؤف کیا کمال لکھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •