نئے نظام کی تشکیل وقت کے ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب کے حالات کتنے ڈانواں ڈول ہیں اور ایران میں بھی لوگ حکومت کے خلاف اکثر سراپائے احتجاج ہوتے ہیں۔ ماشا اللہ پاکستان اور ہندوستان کے حالات کے تو ہم خود گواہ ہیں حیات بلوچ کا بہیمانہ ریاستی قتل ہو یا گمشدہ افراد، مہنگائی اور پھیلتی ہوئی بیروزگاری ہو آنکھیں بند کر لیں تو سب ٹھیک، نہیں تو حقیقت یہی ہے کہ اس کا حل اس موجودہ نظام میں تو کسی سیاسی پارٹی یا کسی ارسطو کے پاس نہیں ہے۔ اگر آزاد منڈی کی معیشت اتنی ہی اعلی ہے تو دنیا کا کوئی ایک ملک اس کی کامیاب زندہ مثال کیوں نہیں بنتا۔

آپ کبھی گوگل پر ہی دنیا کے دس بڑے مقروض ممالک کی فہرست دیکھیں تو آپ حیران ہوں جائیں گے کہ جن کو ہم بڑے خوشحال ممالک کہتے ہیں ان سب کے نام آپ کو ملیں گے۔ امریکہ اور برطانیہ میں برنی سینڈرز اور جرمی کوربن کا سوشلزم اور سوشل ڈیموکریسی کے نام پر ابھار حالات کے نئے تیور کا رخ ظاہر کر رہے ہیں گو کہ ان کے کامیاب نہ ہونے کو ہم آگے زیر بحث لاتے ہیں۔ جب حالات اتنے دگرگوں ہوں تو پھر قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہب پرستی کو ہوا دی جاتی ہے ابھی تک امریکہ کے موجودہ الیکشن بہت خاموشی اور سناٹے کا شکار ہے تو اس کی وجہ لوگوں کی اس نظام سے بیزاری اور لا تعلقی کو ظاہر کرتی ہے۔

سوشلزم کے نام پر اکثر لوگوں کی یہ رائے فوری طور پر آجاتی ہے کہ یہ ایک ناکام نظام ہے جس کا تجربہ ماضی میں ہوچکا ہے تو یہ موضوع بذات خود ایک مضمون کا متقاضی ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ جس طرح تیسری دنیا کی سرمایہ داری اور جمہوریت وہ ترقی پسند کردار ادا نہیں کر سکی جو عروج میں یورپ اور امریکہ میں اس نے کیا تھا اور عوام کو وہ ثمرات دینے سے محروم رہی جو یورپ اور امریکہ میں عوام کو میسر ہیں۔ اسی طرح سوشلزم کا نام رکھ لینے سے سوشلسٹ نظام نہیں بن جاتا جو دراصل مارکسزم کی نفی ہو۔

روس میں لینن کی وفات کے بعد آنے والوں نے اور چین و دیگر نام نہاد سوشلسٹ ممالک میں تو روزاول سے عوامی جمہوری انجمنوں کو با اختیار بنانے کے بجائے بیوروکریسی کو مضبوط کیا گیا جس سے طبقات کا خاتمہ نہیں بلکہ سرکاری افسران پر مبنی ایک نیا طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔ فیصلوں کی طاقت عوام کے بجائے مقتدرہ کے حوالے کی گئی۔ اسی طرح کام کرنے والے ادارے بھی وہاں کے محنت کشوں کے بجائے بیوروکریسی کے حوالے کیے گئے جو تباہی کا باعث بنے اور یہ سب مارکسزم کے بالکل برعکس تھا اور اس کے خلاف روس کے سوشلسٹوں نے مزاحمت بھی کی جس کے ہراول دستے میں لیون ٹراٹسکی بھی شامل تھے جنہوں نے اس وقت اس کے خلاف شاندار تصنیفات بھی لکھیں جو آج بھی باآسانی دستیاب ہیں اور جس میں انہوں نے اس نام نہاد سوشلسٹ ریاست کو مزدوروں کی زوال پذیر ریاست کہا جس کا مقدر اس کا خاتمہ تھا اور وہی ہوا۔

سوشلسٹوں کو اکثر کہا جاتا ہے کہ اگر وہ نظام بدلنا چاہتے ہیں تو اس موجودہ نظام کا حصہ بنیں اور پارلیمینٹ میں آ کر نظام کو بدل دیں۔ اس پر فریڈریک اینگلز نے کمیونسٹ مینیفیسٹو کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ سوشلسٹ کبھی بھی موجودہ ریاستی ڈھانچہ پر قبضہ کر کے اسے اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتے بلکہ یہ ڈھانچہ ان پر حاوی ہو جائے گا۔ مولانا روم اپنی ایک مثنوی میں کہتے ہیں کہ اگر کسی پرانی جگہ پر ہمیں خود کو آباد کرنا ہو تو ضرورت اس بات کی ہے کہ جو پہلے والی بنیاد ہے اس کو سرے سے مٹا دیا جائے۔

مولانا روم فریڈریک اینگلز سے بہت پہلے کے دور کی شخصیت ہیں لیکن دیکھیں دونوں کا موقف اصلاح پرستی کے خلاف بالکل ایک جیسا ہے اور تاریخ نے بھی اس کو ایسا ہی ثابت کیا ہے جب پورا یورپ روسی انقلاب کے بعد خود انقلاب کے دہانے پر کھڑا تھا تو یورپ کی اصلاح پرست سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں نے پرانے نظام کے اندر رہتے ہوئے محنت کش طبقے کو وہ مراعات دلانے کا اہتمام کیا جو سوشلزم میں ہی ممکن تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج نیو لبرل ازم سب کچھ نگل گیا ہے اور آج یورپ میں نام نہاد لیفٹ کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں میں اور دوسری سرمایہ دار جماعتوں میں کوئی فرق ہی نہیں رہ گیا ہے۔

امریکہ میں برنی سینڈرز اور برطانیہ میں جرمی کوربن کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اس موجودہ نظام کا حصہ بننے میں کوشاں رہے اور اگر یہ اقتدار میں آ بھی جاتے تو ماسوائے چند اصلاحات کے ان کے پاس مواقع ہی نہیں تھے۔ اس کا مشاہدہ ہم پاکستان میں تو بہت ہی اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں جب پاکستان پیپلز پارٹی بہت بڑے انقلابی نعروں اور وعدوں کے ساتھ اس نظام کا حصہ بنی اور آج اس میں اور کسی بھی دوسری سیاسی جماعت میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی چہرے کو نہیں نظام کو بدلو کے ساتھ جب اقتدار میں آئی تو پھر یہ نظام اس طرح اس پر حاوی ہوا کہ اب وہ نظام کے ساتھ ساتھ چہروں کو بھی اسی طرح برقرار رکھنے پر قائل ہے اور لوگ اکثر ان کے بیانات جو الیکشن سے پہلے کے تھے سنا کر انہیں شرمندہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
بات وہی ہے جو مولانا روم کی ہے کہ اگر نظام کو بدلنا ہے تو پہلے والی بنیاد کو سرے سے مٹا کر نئی بنیاد رکھنی ہو گی اور یہی تاریخ نے ثابت بھی کیا اور وقت کا فیصلہ بھی یہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2