ریاست سویلینز کی ماں کب بنے گی؟


تین حروف کا مجموعہ لفظ ’ماں‘ ذہن میں آتے ہی ایسا فرحت بخش احساس پیدا ہوتا ہے جیسے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ جیسے تپتی دھوپ کے بعد اچانک گھنے سیاہ بادل دیکھ کر ہوتا ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ لفظ ’سوتیلی‘ لگ جائے تو خوف، دکھ اور اضطراب کی لہر جھرجھری طاری کر دیتی ہے۔ یہ کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے سوتیلی ماں کے جسمانی و ذہنی اذیتیں جھیلی ہوں۔ ریاست بھی ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا کام رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ماحول میسر کرنا ہوتا ہے جس میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی، یکساں عدل و انصاف اور مساوات دکھائی دے مگر جب ریاست شہریوں میں تفریق کرنا شروع کر دے تو ایسا طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے انحطاط کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ تہتر سال میں طبقاتی فرق بہت بڑھ چکا ہے اور ریاستی اکابر کی جانب سے اسے زائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آتی۔

سینئر صحافی احمد نورانی کی سابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں ایک تحقیقاتی سٹوری نے اس فرق کو بہت واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔ عاصم سلیم باجوہ آمر پرویز مشرف کے ساتھ تعینات ہونے کے بعد اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان کی آخری تعیناتی بلوچستان میں کمانڈر سدرن کمانڈ کے طور پر رہی ہے۔ اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے اشخاص سے سوال پوچھنا بنتا ہے مگر افسوس صد افسوس کہ طاقت کے مراکز پر تعینات رہنے والے افراد خود کو ہر سوال اور احتساب سے مبرا سمجھتے ہیں۔ بہت شوروغوغا کے بعد ایک چار صفحوں کی بے سروپا تردید جاری کر کے بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔

معروف صحافی احمد نورانی اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے والے ایک بے لچک انسان ہیں۔ گزشتہ دو سال سے بے روزگار احمد نورانی اپنی حق گوئی کی وجہ سے مشکلات جھیلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اپنی راست گوئی کی وجہ سے کچھ سال پہلے نامعلوم افراد کے حملہ میں شدید زخمی بھی ہو چکے ہیں مگر ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنا نہیں چھوڑا۔ حقائق پر مبنی ان کے لفظوں کی کاٹ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے سورماؤں کو چھلنی کر دیتی ہے۔ سویلین بالا دستی کے داعی احمد نورانی اپنے اصولوں کے غلام ہیں اور اس پاداش میں کسی دوستی اور تعلق کا لحاظ بھی نہیں کرتے۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے خلاف حالیہ رپورٹ میں کچھ ایسے حقائق بتائے گئے ہیں جو ناقابل تردید ہیں۔ عاصم باجوہ کے خاندان نے جب کاروبار کا آغاز کیا تو وہ بطور لیفٹیننٹ کرنل پرویز مشرف کے ساتھ تعینات تھے۔ ترقی کر کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچتے پہنچتے ان کا خاندانی کاروبار بھی روشنی کی رفتار سے ترقی کرتا گیا۔ فوڈ، مائننگ، رئیل اسٹیٹ، ٹیلی کام، لاجسٹک اور بیوریجز سمیت 13 سیکٹرز میں 99 کمپنیز پر مشتمل کاروبار چار ممالک تک پھیل چکا ہے۔ ملکیت کی تصدیق شدہ دستاویزات منظرعام پر آ چکی ہیں مگر ان سوالات کا مدلل جواب دینے کی بجائے صحافی کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔

عاصم سلیم باجوہ اس وقت بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے طور پر کام کر رہے تھے۔ (تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انہوں نے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔) یہ تمام حقائق مزید تحقیقات کے متقاضی ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گمنام صحافیوں کی گمنام خبروں اور گمنام کالمز پر نوٹس لینے والے چیئرمین نیب کو معروف صحافی کی یہ خبر نظر نہیں آ رہی اور وہ ملکی تاریخ کے ایک بڑے سکینڈل پر گہری نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کے خلاف ٹی وی چینلز پر بڑھ چڑھ کر بیانات دینے دینے والے ڈی جی نیب لاہور نے بھی اس خبر سے متعلق سوال پر ایسے لاعلمی کا اظہار کیا جیسے ایسی کوئی رپورٹ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔

اپوزیشن کے احتساب کے دلدادہ وزیراعظم عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے مگر اس سکینڈل پر ان کے ہونٹ بھی سلے ہوئے ہے۔ ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے وحید ڈوگر نامی ایک گمنام شخص کی درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف لندن تک تحقیقات کر ڈالی مگر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خلاف وہ بھی بے خبری کی چادر اوڑھے گہری نیند کی وادیوں میں گم ہیں۔

پانامہ کیس کے دوران منتخب وزیراعظم کے خلاف مقدمہ میں سپریم کورٹ ججز کے ریمارکس میڈیا میں زیر گردش رہے ہیں کہ بھلے آسمان ٹوٹ پڑے ہم فیصلہ ضرور دیں گے مگر ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل کے خلاف دستاویزی شواہد کے باوجود نہ تو عدالت نے کوئی نوٹس لیا ہے، نہ کنٹرولڈ میڈیا میں کوئی بات ہو رہی ہے اور نہ ہی منہ سے جھاگ نکالنے والے اینکرز اس پر کوئی پروگرام کر رہے ہیں۔ اس بڑے سکینڈل پر ہر طرف ہو کا عالم ہے۔

اس یرغمال نظام میں حقوق کی آواز اٹھانے والے ہر اس شخص کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائی ہوتی نظر آ رہی ہے جو آئین اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ بھلے وہ سپریم کورٹ کا جج ہو، کوئی سیاستدان ہو، بے باک صحافی ہو یا عام شہری ہو مگر ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی جو حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین شکنی یا کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ایک جانب ایف بی آر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کا جواب تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور دوسری جانب سنگین غداری کیس میں سزائے موت پانے والے آئین شکن پرویز مشرف کے خلاف سزا دینے والی عدالت کالعدم قرار دے دی جاتی ہے۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل کے بارے میں احمد نورانی کی خبر کو جس طرح دبانے کی کوشش کی گئی یہ احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ منتخب وزرا اعظم پھانسی بھی چڑھتے رہے ہیں، جلا وطن بھی ہوئے، جیلیں بھی کاٹی اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے لغو الزام پر نا اہل بھی ہوئے مگر مقتدر قوتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی آواز بھی نہیں اٹھا سکتا۔ ان دہرے معیار کے سبب اب آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ اب پنجاب سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو کبھی مارشل لاؤں کا سب سے بڑا حامی رہا ہے۔ مقتدر قوتوں کو سوچنا پڑے گا کہ سویلین افراد کا احساس کمتری ختم ہو اور انھیں بھی لگے کہ ریاست ان کی سوتیلی نہیں بلکہ حقیقی ماں ہے۔ ایک منتخب وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو، ہر طرح کی تحقیقات کا سامنے کرے اور ایک لیفٹیننٹ جنرل صرف چار صفحوں کی تردید جاری کر کے بری الذمہ ہو جائے تو احتساب سنگین مذاق کہلائے گا۔ اس دہرے احتساب کا تاثر ختم کریں ورنہ یہ صدائیں بلند ہونے میں دیر نہیں لگے گی ”کیا احتساب صرف سویلینز کا ہی ہو گا؟“ کیا ریاست کبھی سویلینز کی ماں بھی بنے گی؟

جنرل (ر) عاصم باجوہ نے الزامات کی مفصل تردید جاری کر دی

Facebook Comments HS