فوج اور سویلین نمائندوں کے درمیان مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے والد صاحب فوج سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے 30 سال سے زائد فوج میں اپنی خدمات پیش کیں۔ میں بھی زیادہ تر والد صاحب کے ساتھ فوجی علاقے کینٹ میں رہا اور فوج کے زیر نگرانی سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ میرے دوستوں کی اکثریت اس وقت فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ میرے ان دوستوں کا ہمیشہ مجھے سے یہی گلہ رہتا ہے کہ سوشل میڈیا پر میں ایک ادارے کے بارے میں بہت سخت موقف رکھتا ہوں اس حوالے سے ہماری آپس میں بہت بحث بھی ہوتی ہے مکالمہ ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مکالمہ ضروری ہے کہ مکالمہ ایسے مسائل کے حل میں مدد دیتا ہے جو پیچیدہ ہوں اور تنازعات کی وجہ بن سکتے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شدت پسندی ہے۔ شدت پسندی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ہر شدت پسند کے پاس علم کم اور معلومات زیادہ ہوتی ہیں اور یہ معلومات بھی یک طرفہ ہوتی ہیں۔ میرے فوجی دوست مجھ سے گلہ کرتے ہیں کہ کسی ایک جرنیل کے انفرادی عمل کی وجہ سے پورے ادارے کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔

اور میں اپنے ان دوستوں کی اس بات سے متفق بھی ہوں کیوں کہ اچھے اور برے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ لیکن میرا سوال میرے دوستوں سے ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ جب ایک ریٹائرڈ فوجی افسر پر کوئی الزام ہوتا ہے یا اس کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ کا ادارہ ان کے پشت پر کیوں ہوتا ہے۔ ماضی میں ہم یہ مشرف کیس میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ مشرف کیس کی وجہ سے ایک حکومت کو کیسے یرغمال بنایا گیا؟ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا پڑے گا۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے نہیں ان کے ازالے سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔

اب موجودہ احمد نورانی کی رپورٹ پر چاہیے تو یہ کہ عاصم سلیم باجوہ اس حوالے سے اپنا موقف دیتے یا احمد نورانی کے خلاف کورٹ میں جاتے۔ لیکن بجائے اس کے اس کو انہوں نے سی پیک اور ایک ادارے کے ساتھ جوڑ دیا۔ سوشل میڈیا میں شور کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ جبکہ وہ چیئرمین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے عہدے پر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اپنے بیان میں عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ میں نے عزت اور وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہے اور کرتا رہوں گا، گو وزیراعظم عمران خان نے یہ استعفیٰ مسترد کر دیا۔ سلیم باجوہ کے خلاف میڈیا رپورٹ کسی ادارے یا سی پیک کے خلاف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک کاروبار کے حوالے سے تھے اس کا سی پیک یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر ادارہ خود متنازع لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گا تو ادارے کی ساکھ پر سوال تو اٹھے گا۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جرنیل کا مطلب فوج نہیں ہوتا اور فوج کا مطلب جرنیل نہیں ہوتا۔ لیکن بعض جرنیلوں کی کرپشن اور سیاست میں مداخلت کی وجہ سے عوامی تاثر مجروح ہونے کی قیمت وہ فوجی افسران اور جوان ادا کرتے ہیں جن کا سیاسی معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، جو خالص فوجی ہوتے ہیں۔ اپنی وردی اور بندوق کا مان رکھتے ہیں۔ کارگل پر کیپٹن شیر خان، میجر اقبال یا حوالدار لالک جان کی طرح مٹی کا قرض اتارتے ہیں۔

ادارے حقائق کو چھپا کر اور درست صورت حال سامنے نہ لاکر عوام کو گمراہ ہونے کا موقع خود فراہم کرتے ہیں اور مسائل کو بے نیازی کے ساتھ ٹالتے رہتے ہیں۔ جب یہ مسائل گلے کی ہڈی بن جاتے ہیں، تب نقصان کے پیش نظر عجلت میں ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جو بجائے معاملے کو سلجھانے کے مزید الجھا دیتے ہیں۔ میرے دوست مجھ سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ میں نازک معاملات پر کیوں بولتا ہوں لکھتا ہوں، حساس موضوعات پر مجھے خاموش رہنا چاہیے۔

میرا ان کو جواب ہوتا ہے کہ جب میرا گھر جل رہا ہوں میں اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان میرا ملک میرا گھر میرا پہچان ہے۔ میں اپنے ملک میں مسائل پر اپنی آواز اٹھاتا رہوں گا۔ یہ سوالات میں اس لیے اٹھاتا ہوں کہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے میں اپنے ملک بارے فکر مند ہوں۔ ہمارے دوست یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے نکتہ چینی سے دشمن ملک کا پروپیگنڈا مضبوط ہو رہا ہے۔ اور ہم دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

ہمیں ملکی مفاد کے حوالے سے سنجیدہ ہونا چاہیے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ہمیں انہی الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہیں۔ یہ سرٹیفیکٹ بانٹنا بند کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں ملکی مفاد یہی ہے کہ ملک میں ہونے والے مسائل پر بات کی جائے آواز اٹھائی جائے۔ جب تک مسائل کا ادراک نہیں ہو گا تو ہم حل کی طرف کیسے جا سکتے؟ ہمیں مسائل کی نشاندہی کرنی ہو گی۔ سب اچھا ہے کے رویے کی وجہ سے ہم اس مقام پر ہیں۔

میرے فوجی دوست میرے سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ جب کرنل کی بیوی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اس طرح کے واقعات پورے ملک میں ہوتے رہتے ہیں سیاستدان ان کے دوست اور بیورو کریٹ ماضی میں اس طرح کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اس خاص واقعے کو اتنی پذیرائی کیوں ملی؟ عوام میں ادارے کے خلاف اتنا غصہ کیوں ہے؟

میرا جواب ہمیشہ ان دوستوں کو یہی ہوتا ہے کہ اس وقت عوام یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت اور اختیار صرف ایک ادارے کے پاس ہے۔ اور موجودہ حالات کے ذمہ دار بھی یہی ادارہ ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پبلک یہی سمجھتی ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو ایک ادارے کی رضامندی کے بغیر نہیں آ سکتی اس لیے سیاسی ناکامی کو بھی اس ادارے کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جب تک ہمارے ادارے سیاست میں مداخلت اور کاروبار کرتے رہیں گے فوج کے خلاف مزاحمت بڑھتی رہی گی۔ فوجیوں کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے تو ان کو وہیں تک رہنا چاہیے۔ جب یہ سیاست کریں گے اور کاروبار کریں گے تو پھر سوالات ضرور اٹھیں گے۔ ہم معاشی اور خارجی طور پر دنیا میں کہاں کھڑے ہیں؟ کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط ہو تو اس کی بات دنیا میں اچھی طریقے سے سنی جاتی ہے۔ معیشت کی مضبوطی کا دار و مدار ملک کے سیاسی استحکام سے ہوتا ہے۔

پاکستان سے رقبے اور آبادی میں بہت سے چھوٹے ملک دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان قوموں نے ترقی کے حصول کے لئے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ قوم نہیں کہلا سکتی اس کے لئے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا محض جنگی جنون اور کھوکھلے نعرے پاکستان کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔ عام انتخابات اور حقیقی عوامی نمائندہ حکومت ہی مسائل حل کر سکتے ہیں۔

ماضی کی فوجی اور نیم فوجی حکومتیں چل گئیں کہ گزشتہ چالیس سال سے افغان وار معیشت کا پیٹ بھر رہی تھی۔ متوازی معیشت نے عوام کو باہر نہیں نکلنے دیا۔ افغان وار ختم ہو رہی ہے۔ پیسے آنا بند ہو چکے ہیں اور گھر میں اتنے دانے موجود نہیں کہ عوام مطمئن رہیں۔ آج کی بدلی دنیا میں سرد جنگ کے دور کی جنگی حکمت عملی کار گر ثابت نہیں ہو گی۔ ہمیں موجودہ نئی صورتحال کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی میں تبدیلی کرنی ہو گی۔ ہمیں نئے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ بات ہاتھ سے نکل جائے۔

ہمیں سویلین نمائندوں اور ادارے کے درمیان مکالمے کا آغاز کرنا ہو گا۔ ادارے اور عام آدمی کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا ہو گا۔ مکالمے کا مطلب کسی مسئلے یا صورت حال میں اتفاق رائے کے حصول کے لیے باہمی افہام و تفہیم کی کوشش ہے۔ مکالمے کے دوران ہم دوسروں کی بات اس لیے سنتے ہیں تاکہ ہم ان کے موقف کو جان سکیں، مشترکہ معانی تلاش کرسکیں اور وہ مقامات تلاش کرسکیں جہاں تعاون ممکن ہو۔ ان حکمرانوں اور اداروں کو یہ بات ذہین نشین کر لینی ہو گی کہ عوام کی طاقت جب ان کے پاس ہوگی تو یہ اندرونی اور بیرونی محاذوں پر کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں۔ عوامی طاقت نہ رکھنے والے ادارے، ملک اور ریاستیں شکست و ریخت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •