خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی تھیں، 1979 ء میں روسی حملے کے ایک سال بعد یہ خاندان امریکہ میں سیاسی پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا اور یہ لوگ افغانستان سے امریکہ منتقل ہوگئے۔ خالد حسینی نے ناول کا انتساب یوں لکھا ہے ’‘یہ کتاب حارث اور فرح کے نام جو میری آنکھوں کا نور ہیں اور افعانستان کی عورت کے نام”

درحقیقت یہ ناول افغانستان کی دو عورتوں مریم جوؔ اور لیلی کیؔ سوچ، مزاج اور حالات کی عکاس ہے اوریہاں کہانی اس خوبی سے بیان کی گئی ہے کہ ناول کے آخر تک دلچسپی قائم رہتی ہے۔

ناول کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ’‘ مریم پانچ برس کی تھی جب اس نے پہلی بار لفظ حرامی سنا۔ ”

جی ہاں مریم جو جلیل کی ناجائز اولاد ہے اور جو ہفتے میں ایک بار ہی اپنے باپ سے ملتی ہے اور اس روز وہ اس کے ساتھ فشنگ پہ جاتی ہے جلیل اس کے لئے مختلف تحائف لے کر آتا ہے جس کی بنا پہ کمسن مریم یہ سمجھتی ہے کہ وہ باپ کی پسندیدہ ہے جبکہ اس کی ماں ناؔنا اسے ہمیشہ حرامی کہ کر پکارتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ دونوں اس کے باپ اور اس کی دونوں بیویوں کے لیے ناقابل قبول اور انتہائی غیر اہم ہیں۔

یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے ’‘ اس وقت مریم نہیں سمجھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ اس لفظ حرامی۔ ۔ ۔ باسٹرڈ۔ ۔ ۔ کا کیا مطلب ہے۔ نہ ہی اس کی عمر اتنی تھی کہ وہ اس نا انصافی کو سمجھ سکتی کہ یہ دراصل حرامی بچوں کے پیدا کرنے والے ہیں جو قابل احتساب ہیں نہ کہ حرامی جن کا گناہ صرف پیدا ہونا ہے۔ ”

مریم جوؔ نے زندگی کے ابتدائی آیام اپنی والدہ ناناؔ کے ساتھ ہرات سے کچھ فاصلے پر ایک ٹیلے پہ ایک کولباؔمیں گزارے۔ جہاں اس کی ماں نے اسے ہمیشہ بتایا کہ اس کا باپ اس سے جھوٹ بولتا ہے وہ ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ ہمیں کبھی قبول نہ کرے گا مگر مریم جو ؔنے اس حقیقت کوکبھی قبول نہ کیا تھا ایک دن مریم جو ؔ باپ کے گھر ہرات جانے کا فیصلہ کرلیتی ہے جو کہ اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے اس کو وہاں بدترین استقبال کا سامنا کرنا پڑتا ہے باپ ملنے سے انکار کردیتا ہے اور ناناؔ اس کے کھو جانے کے صدمے میں گلے میں رسہ ڈال کر خودکشی کرلیتی ہے اور یہ اس کی زندگی کا بدترین موڑ ہے جہاں جلیل کی بیویاں اس کی شادی اس سے عمرمیں کئی گنا بڑے مرد رشید، کہ جس کا تعلق کابل سے ہے، کردیتی ہیں۔

یہاں شمالی افغانستان اور جنوبی افعانستان کے لسانی فرق کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں مریم جوؔ، مریم جانؔ کہلاتی ہے، مریم کئی دفعہ حاملہ ہوئی مگرہر دفعہ اس کا حمل ضائع ہوگیا یہ عمل رشید کے رویے کو اس کے لیے بدتر کرتا گیاجس کے نتیجے میں اسے شدید گھر یلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس کی شادی ہوئی وہ بہت کمسن لڑکی تھی اور رشید ایک ادھیڑ عمر مرد تھا۔

ناول کا دوسرا کردار لیلی ؔہے جو مریم جو ؔکے پڑوس میں رہتی ہے، جو ایک کمسن بچی کے طور پہ ناول میں ظاہر ہوتی ہے ایک پڑھے لکھے والدین کی اولاد جنھوں نے سوویت افغان جنگ میں اپنے دو بیٹے کھو دیے تھے جو وادیٔ پنج شیر سے کابل آئے تھے۔ جن کی ہمدردیاں شمالی اتحاد کے ساتھ تھیں۔ لیلی کا باپ ایک روشن خیال مرد تھا اور لیلی کی پرورش اچھے ماحول میں ہوئی۔ طارق اس کے بچپن کا دوست تھا جس سے اوائل عمری سے وہ محبت کرتی آئی تھی۔

ناول یہاں ایک موڑ لیتا ہے جب طالبان کابل پہ قابض ہوتے ہیں جس میں لیلی کا گھر سمیت اس کی ماں اور باپ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بھائی اس سے پہلے ہی جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ وہ موڑ وہ ہے جو افغانستان کے ہر تیسرے بچے کا مقدر بنا۔ یہ جنگ کی ہولناکیاں ہیں جو ان سے ان کے گھر اور ان کے پیارے، ماں، باپ سب کچھ چھین لے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی جو انتہائی خوبصورت بھی ہے اور کم سن بھی، کابل جیسے شہرمیں تنہا ہے۔

حالات کی ستم ظریفی اسے رشید کے نکاح میں لے آتی ہے۔ وہاں مریم جو اور لیلی کی پہلے چپقلش اور پھر لیلی کے گھر ایک لڑکی عزیزہ کی پیدائش کے بعد رشید کی لاتعلقی اور پھر بدترین تشدد مریم اور لیلی کے درمیان محبت کا ایک ایسا تعلق قائم کردیتا ہے جیسا ماں اور بیٹی کے درمیان ہی ممکن ہے۔ مریم اور لیلی کی محبت لازوال کہانیاں جنم دیتی ہے۔ عزیزہ جو مریم جو کی طرح ایک حرامی اولاد ہے جو طارق اور لیلی کی بیٹی ہے، طارق جو جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہوکر گم ہو چکا ہے۔

پھر حالات کا اس موڑ پہ آجانا کہ لیلی اور مریم جو اپنی جان بچانے کی خاطر رشید کا قتل کر بیٹھتی ہیں اور مریم کا لیلی کو بچانے کی خاطر الزام اپنے سر لے کر موت کو گلے لگالینا مریم کو کردار کی بلندی پہ لے جاتے ہیں۔ ایک ایسی عورت جو تمام عمر محروم محبت رہی اس کا محبت کی ایسی لازوال داستان رقم کر جانا یقیناً غیر معمولی عمل ہے۔ لیلی کو طارق مل جاتا ہے مگر اس حالت میں کہ وہ اپنی ایک ٹانگ کھو چکا ہے ان کا مہاجر بن کر پاکستان میں کوہ مری کے مضافات میں قیام پذیر رہنا اور پھر کابل واپسی۔ ۔ ۔ یہ کہانی کابل واسیوں کے ہاں جانے کتنے بے شمار خاندانوں کا مقدر ہے، جنھوں نے جنگ میں ہجرت کے کرب سہے، اپنے خاندان اور عزیز و اقارب لٹائے۔

ناول کے آخری صفحے سے ایک اقتباس دیکھیے ’‘ جب وہ کابل واپس آئے لیلیؔ کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ تھا کہ وہ نہیں جانتی تھی کہ مریم کو طالبان نے کہاں دفن کیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ مریم کی قبر پہ جائے کچھ دیر وہاں بیٹھے اور وہاں ایک دو پھول رکھ آئے مگر پھر لیلی نے محسوس کیا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مریم اس سے کبھی دور نہیں رہی۔ وہ یہاں ہے، ان دیواروں میں جنھیں انہوں نے ری پینٹ کیا، ان درختوں میں ہے جو انہوں نے مل کر لگائے، ان کمبلوں میں ہے جو بچوں کو گرم رکھتے ہیں۔ وہ ان تکیوں، کتابوں اور پنسلوں میں ہے۔ وہ بچوں کی ہنسی میں ہے، وہ عزیزہ کی آیتوں میں ہے جن کی وہ تلاوت کرتی ہے اوروہ ان دعاؤں میں ہے جو وہ قبلہ کی طرف جھک کر زیر لب پڑھتی ہے۔ اس سے بڑھ کر مریم لیلی کے دل میں ہے جہاں وہ ہزاروں سورجوں کی روشنی کی طرح چمک رہی ہے ”

خالد حسینی کہتے ہیں ’‘ میں امید کرتا ہوں ناول آ پ کو مجبور کردے گا کہ آپ افغان عورت کے لیے محبت اور ہمدردی محسوس کریں جس کی مصیبتیں دنیا کی حالیہ تاریخ میں بہت کم گروہوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ”

ناول اس لائق ہے کہ ترجمہ ہوکر اردو قارئین تک بھی پہنچے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •