ہملٹن، میں اور آتا ہوا موسم خزاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے مقامات کی سیاحت انسان کو ہمیشہ نئی چیزیں سیکھنے اور مشاہدے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ رواں سال ستمبر میں رخصت ہوتے ہوئے موسم گرما کے آخری دنوں میں گزشتہ روز لیبر ڈے کے دن (ساری دینا میں لیبر ڈے یکم مئی جبکہ امریکہ میں لیبر ڈے ہر سال ستمبر کے مہینے کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے ) نیو جرسی کے شہر پیٹرسن میں واقع ”پیٹرسن گریٹ فالز نیشنل ہسٹوریکل پارک“ کو فیملی کے ہمراہ دیکھنے کا موقع ملا۔

معروف امریکی سیاست دان، ماہر قانون، ملٹری کمانڈر اور ماہر معاشیات الیگزینڈر ہملٹن ( 1755۔ 1804 ) کا شمار امریکہ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ امریکہ کی آزادی کے بعد پہلے امریکی سیکریٹری خزانہ مقرر ہوئے تھے۔

امریکی ریاست نیو جرسی کی کاؤنٹی پاسیک (Passaic) کے پیٹرسن ٹاؤن میں واقع ”پیٹرسن گریٹ فالز نیشنل ہسٹورک پارک“ کے گیٹ وے پر الیگزینڈر ہملٹن یہ تاریخی مجسمہ ایستادہ ہے۔ تفریح کی غرض سے پارک میں داخل ہونے والوں کی سب سے پہلی نگاہ اسی پر پڑتی ہے۔

امریکہ میں موسم خزاں (فال) آفیشلی طور پر ابھی شروع نہیں ہوا۔ عام طور پر امریکہ میں خزاں کا موسم بائیس ستمبر سے شروع ہو کر اکیس دسمبر تک رہتا ہے۔ آج کل جاتے موسم گرما کے آخری آیام ہیں بہت سے پیڑ ابھی اپنے سرسبز پتوں کو زردی میں بدلنے کی جانب مائل ہیں۔ بہت سے مقامات خصوصاً پیٹرسن پارک میں موجود سرسبز وشاداب درختوں اور پودوں پر اب زردی چھانی شروع ہو چکی ہے۔ اور چند ہفتوں تک جب ہر طرف پیڑوں کے سبز پتے زرد، نارنجی، گلابی، سرخ اور عنابی رنگوں کی قبا پہن لیں گے۔ تو ان کا نظارہ دیکھنے والا ہوگا۔

الیگزینڈر ہملٹن کے مجسمے کے عقب میں کھڑے بلند قامت درخت کے پتوں پر بھی ابھی سے زردی چھانی شروع ہو چکی ہے۔ جو آہستہ آہستہ شام کے سائے کی طرح مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔

پیٹرسن شہر کا تاریخی پس منظر جان کرمعلوم ہوا کہ ماضی میں الیگزینڈر ہملٹن کا اس شہر کی تعمیر و ترقی خصوصاً صنعتی ترقی میں بنیادی کردار رہا ہے۔

پیٹرسن شہر کی بنیاد 1791 ء میں ڈالی گئی۔ اور 1792 میں اس کی تعمیر باقاعدہ طور پر امریکہ کے پہلے انڈسٹریل سٹی کے طور پر شروع کی گئی۔ شہر کا نام ولیم پیٹرسن ( 1745۔ 1806 ) کے نام کی مناسبت سے ”پیٹرسن“ رکھا گیا۔ ولیم پیٹرسن نیوجرسی کے سیاستدان، امریکی آئین کے سنگر، سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جسٹس اور ریاست نیو جرسی کے دوسرے گورنر تھے۔

ماضی میں پیٹرسن شہر کی وجہ شہرت صنعتی شہر ہونے خصوصاً کپڑے کی انڈسٹری کاٹن اور سلک فیبرکس رہی ہے۔ ماضی میں ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے بہت سے ورکر اس سٹی کو اپنی جائے سکونت بناتے رہے۔ اس شہر کو اس کے نیک نیم ”سلک سٹی“ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ کپڑے کی صنعت کے علاوہ یہ شہر سٹیم لوکو مٹوو انجن، جہازوں کے انجن اور پیپر رول بنانے کے طور پر مشہور رہا ہے۔

2010 ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پیٹرسن شہر کی آبادی ایک لاکھ چھالیس ہزار ایک سو ننانوے ہے۔ جبکہ 2019 ء کے ایک تخمینے کے مطابق شہر کی موجودہ آبادی ایک لاکھ پینتالیس ہزار دوسو تینتیس ہے۔

پیٹرسن شہر ہسپانوی تارکین وطن کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، پاکستان، بھارت، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک، مڈل ایسٹ اور مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والے دیگر تارکین وطن کے لئے ایک بڑی منزل میں تبدیل ہوا ہے۔

پیٹرسن مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے امریکہ میں دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا شہر ہے۔

پیٹرسن گریٹ فالز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ریاست نیو جرسی کی پاسک کاؤنٹی میں دریائے پاسیک پر واقع یہ ایک بڑی آبشار ہے۔ اس کی اونچائی 77 فٹ ہے۔ فالز اور آس پاس کا علاقہ ”پیٹرسن گریٹ فالز نیشنل ہسٹوریکل پارک“ کو ایک نیشنل ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہے۔ یہ چھوٹی بڑی آبشاروں سے مزین پارک امریکہ کی نیشنل پارک سروس کے زیر انتظام ہے۔ امریکی کانگریس نے اس کے قیام کا اختیار 2009 ء میں دیا تھا۔

پیٹرسن میں اس آبشار کو ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ ایگل کریک قابل تجدید توانائی کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ گریٹ فالز پن بجلی گھر میں تین کپلان ٹربائن موجود ہیں جن کی کل گنجائش 10.95 میگاواٹ ہے۔ ہر ایک ٹربائن کے ذریعے 710 (سی۔ ایس0ایف) بہاؤ پیدا ہوتا ہے۔

پیٹرسن گریٹ فالز نیو جرسی کا ایک پاپولر سیاحتی مقام ہے۔ جہاں ہر سال لاکھوں لوگ پارک میں ان آبشاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔ آج لیبر ڈے کی چھٹی کی وجہ سے لوگوں کی ایک کثیر تعداد پارک میں موجود تھی۔ آبشاروں پر مشتمل یہ پارک اپنے ہاں آنے والوں کو مفت تفریح فراہم کرتا ہے۔ کار پارکنگ اور پارک کا کوئی ٹکٹ نہیں ہے۔

پیٹرسن شہر اور پیٹرسن گریٹ فالز پارک کی ہسٹری پڑھتے ہوئے کئی دلچسپ چیزوں کا پتہ چلا۔ دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے جہازوں کے زیادہ تر انجن اسی شہر میں قائم فیکٹری سے بنے تھے۔

2016 ء میں امریکہ میں ”پیٹرسن“ کے نام سے ایک فلم بھی بنی تھی۔ جس کی کہانی ایک بس ڈرائیور پیٹرسن کے متعلق تھی۔ جو فارغ وقت میں شاعری کرتا تھا۔

اسی طرح امریکی چینل ایچ بی او نے اپنی معروف کرائم ڈرامہ سیریز ”دی سپرانوز“ کے پہلے سیزن کی شوٹنگ پیٹرسن گریٹ فالز اور پیٹرسن کے دیگر مقامات سمیت نارتھ جرسی میں کی تھی۔

ہمارا پروگرام پیٹرسن گریٹ فالز پارک کی سیر کے علاوہ پیٹرسن میوزیم دیکھنے کا بھی تھا۔ تاہم معلوم ہوا کہ کروونا کی وجہ سے نیویارک اور نیو جرسی کے دیگر کئی ایک میوزیم کی طرح ابھی تک یہ میوزیم بھی عارضی طور پر بند ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک تفریحی اور سیاحتی مقامات کروونا کی وجہ سے پبلک کے لیے تاحال بند ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •