دنیا سے غلامی کا خاتمہ اور یوم دفاع 6 ستمبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


1965ء میں پاکستان اور بھارت کی بری افواج کی مجموعی تعداد کا موازنہ
(یہ اعداد سی آئی اے کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں )

دنیا کی تاریخ پر جب بھی نظر دوڑائیں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اگر ایک طاقتور قوم کو موقع ملا تو اس نے اپنے قریب کی کمزور قوم کو اپنا غلام بنا لیا۔ پھر اللہ تعالی نے ایک رسول کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر بھیجا۔ رسول کریم ﷺ نے دنیا کو وہ چارٹر دیا جس نے انسانی غلامی کو ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا سے غلامی کا مستقل خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آج اقوام متحدہ اور یورپی یونین وغیرہ کی شکل میں دنیا کی اقوام نے انسانی وقار کو تسلیم کرتے ہوئے امیر اور غریب اقوام کو بڑی حد تک برابری کی سطح پر لا کھڑا کیا۔ مگر دنیا کے بعض خطوں میں ابھی بھی غلامی کا عفریت اپنا بھیانک چہرہ نکالے کھڑا ہے اور بعض صورتوں میں تو اپنی بھیانک تاریخ کی خوب گواہی دے رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ دونوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف تو کشمیری مسلمان قوم پر بھارت ناجائز قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ اور دوسری طرف ہندو مذہب یعنی سناتن دھرم میں ذات پات کے نظام کو مذہب کا حصہ بنا دینے سے برہمنوں نے مستقل طور پر شودروں پر حکومت قائم کی ہوئی ہے۔

جب تک ہندوستان کے خطے سے غلامی کے اس نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا یہ نظام دوسری قوموں کو اپنے تسلط میں لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ یہ ہے پس منظر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا۔ بد قسمتی سے کشمیر تو آزاد نہیں ہو سکا مگر بھارت کو اپنے عزائم پر منہ کی کھانا پڑی اور یہ مارکہ رہتی دنیا تک مثال بنا رہے گا کہ ایک پانچ گنا بڑی فوج اپنے حریف کی بہادری اور ہمت کے آگے مکمل بے بس ہو گئی۔ اور آخر کار اسے مذاکرات کی میز پر آ کر بظاہر ایک چھوٹے ملک سے امن کا معاہدہ طے کرنا پڑا۔

جنگ کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ کشمیر میں بھارت کا غاصبانہ قبضہ تو اقوام متحدہ کا ادارہ 1948ء میں ہی تسلیم کر چکا تھا۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب دونوں ممالک کی افواج بھی موجود تھیں۔ مگر کشمیر کی آزادی میں مزید پیش رفت میں کمی کے باعث پاک فوج کی ہائی کمانڈ نے ایک عظیم منصوبہ تیار کیا جسے آپریشن جبرالٹر کہا جاتا ہے۔ یہ آپریشن دشمن کے لیے ایسا ہوش اڑا دینے والا تھا کہ بھارت کو بچت کی کوئی اور صورت نہ نظر آئی مگر یہ کہ وہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بارڈر پر جنگ شروع کر دے۔ چنانچہ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات بھارت نے لاہور پر پوری طاقت سے حملہ کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے طاقت کے زعم میں دشمن کو یہ وہم تھا کہ وہ اگلی شام تک لاہور کے جم خانہ کلب میں بیٹھ کر اپنی شراب کی چسکیاں بھرے گا۔ مگر تاریخ گواہ رہے گی کہ پاکستان افواج کے بہادر جوانوں اور افسروں نے دشمن افواج کو واضح برتری ہونے کے باوجود لاہور کی بی آر بی نہر کو کراس نہیں کرنے دیا۔ میجر عزیز بھٹی نے لاہور کو بچانے کے لئے اپنی جان قربان کی اور نشان حیدر کے مستحق ہوئے۔


میجر راجہ عزیز بھٹی کی بندوق اور ہیلمٹ شہادت کے مقام پر
(تصویر بشکریہ آئی ایس پی آر )

جب لاہور پر قبضے کا بھارتی منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظر آیا تو دشمن نے سیالکوٹ پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں محاذ کھول دیا۔ چنانچہ چونڈا کے مقام پر جنگ عظیم دوم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی۔ وہاں بھی پاک فوج نے ملک کے دفاع میں وہ داستانیں رقم کیں کہ رہتی دنیا تک انھیں یاد رکھا جائے گا۔ دشمن کی ایک ڈویژن فوج کے سامنے پاکستان کی ایک بریگیڈ فوج کو دفاعی جنگ لڑنے کا حکم دیا گیا مگر وہاں موجود بریگیڈئیر عبد العلی ملک نے پاک وطن کی زمین دشمن کے ہاتھ جانا گوارا نہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن کے ٹینکوں کے آگے پاک فوج کے جوانوں نے اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر لیٹنے سے بھی گریز نہیں کیا مگر دشمن کو اس کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔


1965ء میں پاکستان اور بھارت کے ٹینکوں کی مجموعی تعداد کا موازنہ
(یہ اعداد سی آئی اے کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں )

لاہور یا سیالکوٹ کا دشمن کے ہاتھوں چلے جانا پاکستان کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہونا تھا۔ بھارت نے کشمیر، حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ کی طرح ان علاقوں کو بھی اپنے غاصبانہ قبضے میں لے آنا تھا۔ مگر پاک فوج کی بہادری، عوام کی بے پناہ سپورٹ اور اللہ کے فضل سے دشمن اپنے دونوں ارادوں میں ناکام رہا۔ پاکستان ناقابل تسخیر رہا اور پاکستانی قوم عزت سے سر اٹھا کر زندگی گزارنے کے قابل رہی۔

پاکستان کو لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر پر واضح فتح ہوئی۔ مگر کشمیر کے محاذ پر پاکستانی فوج کا اصل منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ کشمیر کو حاصل کرنے کے لئے ہدف یہ تھا کہ اکھنور پر قبضہ کر کے کشمیر میں موجود بھارتی فوج کی سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ یوں دشمن کو گھٹنوں کے بل آنے پر مجبور کیا جائے اور پھر مناسب طریقے سے کشمیر کے عوام کو آزادی دلوائی جائے۔ جنرل اختر ملک کامیابی سے اپنے ہدف اکھنور کے پل کی طرف بڑھ رہے تھے کہ بد قسمتی سے عین موقعہ پر کمانڈ تبدیل کر دی گئی۔ یہ وہی جنرل اختر ملک ہیں جو جن کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ہر قیمت پر زندہ گرفتار یا ہلاک کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیر کو مکمل آزادی دلوانے کی صورت میں جنرل اختر ملک کو اگلا آرمی چیف بننے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ اور جنرل اختر ملک کا احمدی فرقہ سے تعلق ہونے کی وجہ سے یہ بات چند حلقوں کے لیے تشویش کا باعث تھی۔ بہرحال یہ تو مستقبل کا مورخ ہی شاید زیادہ وثوق سے بتا سکے گا کہ 1965ء میں کشمیر کی آزادی حاصل کرنے میں جنرل ملک کا مسلک آڑے آیا یا کیا ہوا؟

اگر بھارتی میڈیا کو سنا جائے تو اس کا دعوی ہے کہ بھارت جنگ جیت گیا۔ سوال یہ ہے کہ کئی گنا بڑی فوج اور کئی گنا بڑی معیشت ہونے کے باوجود بھارت پاکستان کا کوئی ایک شہر بھی حاصل نہ کر سکا۔ کیا اسے فتح کہا جاتا ہے؟ دوسری طرف پاکستانی فوج اور عوام نے اپنی بہادری اور جذبہ ایمانی سے ملک کی سرحدوں کی کامیاب حفاظت کی اور ثابت کر دیا کے حق اور باطل کے معرکے میں حق ہی جیتا کرتا ہے۔


1965ء میں پاکستان اور بھارت کے فوجی بجٹ کا موازنہ
(یہ اعداد ورلڈ بنک سے لیے گئے ہیں )

اس دفاعی جنگ میں پاکستان کی فتح تو ہوئی۔ مگر جب بھی جنگ ہو تو انسانیت کی ہار ہوا کرتی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف تو انسان ہی بستے ہیں اور ٹینک جب کھیتوں میں چلیں تو انسانی اناج ہی برباد ہوتا ہے۔ کشمیر تو ایک دن آزاد ہو گا اور ہندوستان میں مذہبی بنیادوں پر طبقاتی غلامی بھی ختم ہو گی۔ مگر اس کا طریقہ کار ٹینکوں کی جنگ نہیں ہو گا۔ پاکستان کو محبت کا پیغام دینا ہو گا۔ اپنے اندر بسنے والے تمام فرقوں کو بھی اور ہندوستان کی تمام قوموں کی بھی۔ اور ساتھ میں ایک ایسا ماڈل ماڈل پیش کرنا ہو گا جس میں بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب انسان کی ترقی کے مواقع ہوں۔ جب یہ ہو گا تو پاکستان کی ہر محاذ پر کامیابی ہو گی جسے انتہا پسند طاقتیں کسی بھی حربے سے نہیں روک سکیں گی۔ یوں دنیا سے غلامی کے آخری شواہد کا خاتمہ ہو گا۔ فی الحال تو یہ ایک خواب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلال باجوہ، امریکہ کی دیگر تحریریں

بلال باجوہ، امریکہ

بلال باجوہ امریکہ میں مقیم پاکستانی شہری ہیں اور ٹیکنالوجی کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور فاسٹ ادارہ سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

bilal-bajwa-usa has 3 posts and counting.See all posts by bilal-bajwa-usa