دنیا سے غلامی کا خاتمہ اور یوم دفاع 6 ستمبر

دنیا کی تاریخ پر جب بھی نظر دوڑائیں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اگر ایک طاقتور قوم کو موقع ملا تو اس نے اپنے قریب کی کمزور قوم کو اپنا غلام بنا لیا۔ پھر اللہ تعالی نے ایک رسول کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر بھیجا۔ رسول کریم ﷺ نے دنیا کو وہ چارٹر دیا جس نے انسانی غلامی کو ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا سے غلامی کا مستقل خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آج اقوام متحدہ اور یورپی یونین وغیرہ کی شکل میں دنیا کی اقوام نے انسانی وقار کو تسلیم کرتے ہوئے امیر اور غریب اقوام کو بڑی حد تک برابری کی سطح پر لا کھڑا کیا۔ مگر دنیا کے بعض خطوں میں ابھی بھی غلامی کا عفریت اپنا بھیانک چہرہ نکالے کھڑا ہے اور بعض صورتوں میں تو اپنی بھیانک تاریخ کی خوب گواہی دے رہا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ دونوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف تو کشمیری مسلمان قوم پر بھارت ناجائز قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ اور دوسری طرف ہندو مذہب یعنی سناتن دھرم میں ذات پات کے نظام کو مذہب کا حصہ بنا دینے سے برہمنوں نے مستقل طور پر شودروں پر حکومت قائم کی ہوئی ہے۔

Read more

سافٹ امیج اور اقلیتیں

جنرل مشرف سے لے کر عمران خان تک کی حکومتوں کی یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کا ”سافٹ امیج“ دنیا میں متعارف ہو۔ اسے روشن خیال اعتدال پسندی (enlightened moderation) کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے مقصد تو پاکستان کا مفاد ہے۔ یعنی اگر پاکستان کی ساکھ دنیا میں اچھی ہو گی تو لازماً بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ لگائیں گی۔ اور یہاں کی نوجوان افرادی قوت سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی اور عالمی منڈیوں میں اپنا مقام بہتر کرنے کی خواہش کریں گی۔ اور اگر ملک کا سافٹ امیج اچھا ہو گا تو پھر غیر ملکی سیاح پاکستان کے پہاڑی اور سمندری علاقوں کا رخ کریں گے۔ بلکہ بہت سے لوگ مذہبی سیاحت کی غرض سے بھی آئیں گے۔ یوں ملک ترقی کرے گا۔ مگر اس خواب کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ ہو بلکہ تمام اقلیتیں دلی خوشی سے پاکستان میں رہنا پسند کرتی ہوں۔

Read more

کفر کے فتوے اور ملکی ترقی

پاکستان میں ٹیلیویژن چینلز پر وقتاً فوقتاً احمدیوں کے مسئلے پر اظہار خیال ہوتا رہتا ہے۔ انٹرنیٹ پر تو گویا اس موضوع کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ٹیلیویژن اور یو ٹیوب کے لیے تیار کیے گئے پروگراموں میں مولوی حضرات، سیاستدان اور تجزیہ نگار کھل کر ختم نبوت کے عقیدہ پر اپنے ایمان کا مکمل اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور احمدیوں کے کفر پر اپنی مہر ثبت کرتے ہیں۔ اور حال ہی میں ٹیلیویژن پروگراموں کے میزبانوں نے خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے یہ پیش کرنا مقصود ہے کہ ایسی روش ملکی مفاد کے خلاف ہے۔

اس سے پہلے کہ میں اپنے دعوے کے حق میں دلیل پیش کروں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ احمدیہ جماعت کا کفر ایک مذہبی مسئلہ ہے جو بظاہر سیاسی طور پر حل کرنے کے باوجود ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بھٹو صاحب مغربی پاکستان میں اکثریتی ووٹ لے کر وزیر اعظم بنے تھے۔ خاصے مقبول تھے۔ ملک کو آئین دینے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے عوام کو فخریہ اور علانیہ بتایا تھا کہ انھوں نے یہ نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ مگر ضیا صاحب کو پھر اس مسئلہ میں الجھنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں احمدیہ عقائد پر عمل کو جرم بھی قرار دے دیا گیا۔ اب یہ مسئلہ تقریباً 130 سال پرانا ہو چلا ہے تو پھر نواز شریف صاحب کے تیسرے دور میں اور عمران خان صاحب کے دور میں حل ہو کر بھی بے حل ہو جاتا ہے۔ میں اس معمے کو ابھی یہیں چھوڑ کر اصل موضوع پر واپس آتا ہوں۔ یعنی احمدیوں پر کفر کے فتووں کی میڈیا پر تشہیر۔

Read more