جنسی آسودگی کا خواہشمند شاعر: میرا جی
میراجی کے تخلیقی اظہار کی انفرادیت کی وجہ جنس کی فطری خواہش کا نمایاں ہونا ہی نہیں ہے، بلکہ ان فن پاروں میں قاری کی دلچسپی بڑھنے کی وجہ بنتی ہے، شاعر کی تخلیقی ہنر مندی، اس کے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں حقیقی اور فطری جذبات و کیفیات کو یکجا کر کے منظم شکل دینے کی صلاحیت، مذکورہ مثالوں میں شاعر کی ذہنی کشمکش اور جذبات ایک ایسے ارادہ کی شکل میں نمایاں ہوئے ہیں، جس میں تکمیل آرزو کی خواہش مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ جنسی آسودگی کا خواہشمند شاعر بظاہر بے قابو نہیں ہے، اس کے اظہار میں نہ کسی طرح کی جھنجھلاہٹ ہے، نہ منت وسماجت، بلکہ فاصلہ کا احساس شد ید ہے۔
حالانکہ جن نظموں میں میراجی نے فاصلے / دوری سے پیدا جذبات کی شدت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے، ان میں شاعر اور اس کے مخاطب/ عورت کے درمیان فاصلے میں کسی طرح سے فراق یا ہجر کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، اور گر اس طرح کی نظموں کو کچھ وقفے کے لئے یہ بھول کر مطالعہ کریں کہ یہ میراجی کا نہیں بلکہ کسی اور شاعر کا کلام ہے ”تب بھی یہ نظمیں فاصلے کے شدید احساس کے علاوہ ہجر کی تڑپ سے کوسوں دور ہیں، البتہ یہ ضرور ہے کہ ان میں ہندی شاعری کے اہم کردار برہن کے الاپ کی کیفیت بہت سادگی سے نمایاں ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ شاید اس طرح کا اثر میراجی کی ہندی شاعری سے کسب فیض کا مظہر ہے، نظم میں راوی اور اس کی مخاطب عورت ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں، لیکن ان کے وصال میں فاصلے حائل ہیں، ناسازگار حالات کے تذ کرے کے بغیر میراجی فاصلوں پر سوالیہ کا نشان بھی دونوں طرف سے قائم کرتے ہیں، دونوں اطراف وصال کی شدت خواہش پر افسوس بھی کرتے ہیں،
1 ایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں
آج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہی
دور ہی دور جیون گزر جائے گا اور کچھ بھی نہیں
لہر سے لہر ٹکرائے کیسے کہو؟
اور ساحل سے چھو جائے کیسے کہو؟
”دور کنارا“
2 ترا دل دھڑکتا رہے گا
مر ا دل دھڑکتا رہے گا
مگر دور دور
”دور نزدیک“
3 تخیل کا بڑا ساگر تصور کے حسیں جھونکے
لئے آتے ہیں بارش میں تمنائیں عبارت کی
مگر پوری نہیں ہوتی تمنا دل کی چاہت کی
میں جنسی کھیل۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میراجی کی تصور جنس اور نفسیات کی ترجمان نظموں میں شاعر کی مخاطب عورت ہے، عورت کا کردار روایتی شاعری کے محبوب کی طرح نظموں میں اپنی معنویت قائم رکھتا ہے کیونکہ اس کے حوالے سے ہی شاعر اپنی کیفیات کا اظہار کرتا ہے، لیکن خود عورت کی کیفیت یہاں بھی مفقود ہے جبکہ میراجی کی نظموں کی یہ عورت کوئی خیالی محبوب نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی گوشت پوست کی انسان ہے۔ یہ کالے سیاہ بالوں والی، گداز باہوں والی خوبصورت بھی سفید بھی اور کہیں سانولی شکل و صورت کی عورت ہے، علاوہ ازیں میراجی نے اپنی نظموں میں مذکورہ عورت کے کردار کے علاوہ ماں اور بہن کی شکل میں بھی عورت کو نظم کیا ہے لیکن میراجی کے انداز اور زبان میں کہیں بھی عورت کے متعلق بے حرمتی محسوس نہیں ہوتی۔ حالانکہ میراجی کے متعلق یہ بات بہت مشہور ہے کہ وہ جنسی بے راہ روی کے قائل ہیں اس کے باوجود بھی وہ عورت کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، وہ اس سے محبت کرتے ہیں تکمیل وصال کے بھی خواہشمند ہیں اور چونکہ وصال دو شخصیت کے مابین ارتباط کی جو شکل قائم کرتا ہے، اس میں دونوں جنس کا باہم اتصال لازم ہے، اس لئے میراجی جب اپنی نظموں میں عورت کی تصویر بناتے ہیں۔ تواس کے ساتھ ان کی جنسی خواہش بھی نمایاں ہوتی ہے۔ مثلاً:
1 سیاہ بالوں کی تیرگی میں تمہارا ما تھا چمک رہا ہے
تمہاری بالوں کی تیرگی میں نگاہ گم ہے
یہ بند جوڑ ا جو کھل کے بکھر ے تو پھر کرن بھی سنور کے نکھرے
”جسم کے اس پار ’
2 سفید بازو
گداز اتنے
زباں تصور میں حظ اٹھائے
”دکھ دل کا دارو“
3 تیری یہ پیاری جوانی اک اچھوتی سی کلی / اور صورت سادی سادی سانولی /
اور تیرے بالوں میں چمپا کے پھول/
اور نازک ہاتھ پر لپٹا ہوا گجرا ترا/
اور گلے میں ایک ہار/ آہ تیرے سب سنگار/ کھینچتے ہیں دل کے تار (سرگوشیاں )
4 میں دھندلی نیند میں لپٹا تھا سو پردوں سے وہ جاگ اٹھی
ہلکے ہلکے بہتی آئی اور چھائی میٹھی خوشبو سی
باریک دپٹہ سر پہ لئے اور آنچل کو قابو میں کیے
چنچل نینوں کو اوٹ دیے شر میلا گھونگھٹ تھامے تھی
نردوش بدن اک چندر کرن، اٹھتا جوبن بس من موہن
میں کون ہوں، کیا ہوں کیا جانے، اور بس من میں کیا اور بھول گئی
جب آنکھ کھلی اور ہوش آیا، تب سوچ لگی الجھن سی ہوئی
پھر گونج سی کانوں میں آئی، وہ سندر تھی سپنوں کی پری
” اجنبی انجان عورت رات کی“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



bahut ala aur haqi tehrer