باہر نکلتے ہوئے وقت نہیں، اپنا عورت ہونا دیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپوزیشن حکومت دست و گریبان ہوتی رہی میں خاموش رہی، استعفوں کی بھرمار ہوئی میں تب بھی دیکھتی رہی۔ ترکی کا ڈرامہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لئے ایک خوفناک خواب بن گیا میں نے سوچا ضرور لیکن لکھا نہیں۔ کراچی میں بارشیں شہر کو نگل گئیں میں نے بیان ضرور کیا لیکن تحریر نہ کر سکی۔

آج میرا قلم مجھے آتے جاتے کچوکے لگانے لگا کہ اب بات تیرے عورت ہونے کی غلطی پر ہے اب بھی تو خاموش رہے گی؟ تو میں چیخ اٹھی۔ میں صحافت میں دس برس سے ہوں گھر سے نکلتے ہوئے میں نے اپنے والٹ میں پیسے اور اے ٹی ایم کارڈ تو ضرور چیک کیا ہوگا لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ میں شہر کے ہر کونے پر گئی اور واپس آ گئی لیکن آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں اتنی بے خوف کیسے ہو گئی مجھے اپنے اس عمل پر آج جھرجھری آ رہی ہے کہ میں کئی برسوں سے انجان رکشے ڈرائیوروں، کریم اوبر والوں کے ساتھ وقت بے وقت کیسے سفر کرتی رہی؟ کئی کئی منٹ سنسان سڑک یا فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر نہ صرف سواری کا انتظار کیا تو کئی بار ایسا بھی ہوا کہ اکیلے سفر کے دوران گاڑی خراب ہوئی تو آگے کا راستہ کافی تاخیر کے بعد کسی سواری کے ملنے پر طے کیا۔

لیکن مجھے آج سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے سمجھا دیا کہ تم عورت ہو کہیں بھی جانے سے قبل وقت، حفاظتی اقدامات اور اپنی اوقات کو تو دیکھ لیا کرو۔ اگر کچھ بھی تمہارے ساتھ برا ہوا تو اس کی سراسر ذمہ دار صرف تم ہی ہو۔ وہ بلاشبہ دنیا کے سب سے قابل اور عاقل شخص اور افسر ہیں تب ہی تو اس منصب پر فائز ہیں۔ معاشرے کے ٹھیکیدار نہیں ہیں وہ تو صرف نوکری کر رہے ہیں اور نوکری حلال کرنے کے پیسے وصول کر رہے ہیں۔ اب کیا وہ رات کے اس پہر پولیس جوان پہرے پر بٹھا دیں کہ دیکھتے رہنا کوئی باغی عورت اتنی رات عیاشی کرنے باہر نہ نکل جائے اور اگر نکل آئے اور غلطی سے اس کے کپڑے پورے بھی ہوں تو اسے یہ باور ضرور کروانا کہ بی بی یہ کوئی شریفوں کا وقت نہیں باہر کیوں نکلی ہو۔

راستوں کا تعین کرنے والے افسر کہ جی ٹی روڈ درست فیصلہ تھا موٹر وے نہیں ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ نکلتے وقت پیٹرول تو چیک کرلو۔ لیکن ذہن الجھ سا گیا کہ جن باغی اور خراب عورتوں کی گاڑیوں میں پیٹرول، گیس پوری ہو اور اور وہ مصروف ترین شاہراہوں پر گاڑی چلا رہی ہوں انھیں مرد کیسے گندے اشارے کر جاتے ہیں؟ جب کہ وہ تو آدھی رات کا وقت بھی نہیں ہوتا۔ ان گاڑیوں کا موٹر سائیکل سوار کیسے پیچھا کرلیتے ہیں جبکہ یہ راستہ موٹر وے کا بھی نہیں ہوتا؟ وہ جو چھوٹی بچیاں جن کی گڑیا سے کھیلنے کی عمر ہے انھیں دن دیہاڑے کیسے اٹھا لیا جاتا ہے؟ اٹھا لیا جائے تو ان کو مسل کر کیسے کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے؟ کیا وہاں بھی مسئلہ وقت اور کپڑوں کا ہے؟

آپ ایک نوٹس کیوں نہیں جاری کرتے؟ جس پر لکھا ہو کہ عورت، لڑکیوں اور بچیوں کے باہر آنے جانے کے کیا کیا اوقات مخصوص ہیں اس وقت پر کوئی درندہ نہیں بھٹکے گا۔ کوئی ہماری ماں بہنوں کو اپنی ہوس کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ اگر اس نوٹس کے بعد بھی کوئی عورت یا لڑکی خلاف ورزی کرے تو بھلا کچھ بھی ہو اس کی وہ ذمہ دار ٹھہرے گی۔ لیکن کیا آپ ان مخصوص اوقات میں درندہ صفت مردوں کو باندھ کر رکھیں گے؟

آپ ٹول پلازہ کی پرچی کی پشت پر لکھ کیوں نہیں دیتے کہ اگر ڈرائیور عورت ہے تو اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہماری نہیں۔ آپ تھانوں اور ہیلپ پائن کے عملے کو پابند کیوں نہیں کردیتے کہ اگر رات دس کے بجے کے بعد کوئی عورت مدد کے لئے پکارے تو کال پر اس کی اخلاقی چھترول کی جائے۔ اسے غیرت دلائی جائے کہ وہ اس وقت باہر کیوں نکلی؟

سی سی پی او لاہور کے بیان کے بعد سے آج تو اپنا آپ ایک باغی اور بے غیرت سے زیادہ محسوس ہو رہا ہے کیونکہ میں ایک عورت جو ہوں۔ عورت بھی وہ جو اپنی مرضی سے بنی ہے۔ عورت بھی وہ جس کی حدود و قیود مرد ہی طے کریں گے وہ بھی وہ مرد جو یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے کب اور کیسے نکلنا چاہیے جو یہ بتاتے ہیں کہ معاشرہ ٹھیک نہیں ہے مجھے مرد کے بغیر نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ مجھے مرد سے ہی خطرہ ہے۔ میں اپنی حفاظت کے لئے مرد کو ہر بار لے کر نکلوں کیونکہ مجھ پر حملہ آور ہونے والا مرد اپنی جیسی جنس کو میرے ہمراہ دیکھ کر اپنا ارادہ بدل سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ عورتیں جنھیں مردوں کا ساتھ میسر نہیں وہ کیسے اپنے کام کریں کیا کسی بھی مرد کی تصویر اگر وہ گلے میں لٹکا لیں تو درندہ اپنے ناپاک عمل سے باز تو آ جائے گا ناں؟ یا ہمیں تحفظ فراہم کرنے والے قانونی ادارے ہم پر سوال نہیں اٹھائیں گے کیونکہ کچھ نہیں مرد کی تصویر بھی بہت ہے۔

موٹر وے واقعے میں ظلم کا شکار ہونے والی خاتون پر بات تو بہت کی جا رہی ہے کہ وہ کیوں اس وقت نکلیں اور غلط راستے سے کیوں گئیں۔ اس کے لئے حالات کو دیکھنا بہت ضروری ہے کہ باہر نکلنے کا فیصلہ کب اور کن حالات میں لیا گیا۔ کہا گیا کہ پیٹرول تو چیک کر لیتی، وقت تو دیکھ لیتی۔ یقیناً گاڑی کو چیک کیا ہوگا کیا اس میں سے پکنک پر جانے کا سامان بر آمد ہوا ہے؟ اگر ہاں تو سوال بنتا ہے کہ آپ رات ساڑھے بارہ پکنک منانے کیوں نکلیں۔ یہ کیوں نہیں سوچا گیا کہ کوئی ایمرجنسی بھی تو ہو سکتی ہے جس کے سبب کوئی خاتون بہت جلدی میں نکلی ہوں۔

میں نے ایک سال قبل ایک خاتون بائیکر کا انٹرویو کیا جن کے شوہر اس سواری کو استعمال کرنے پر کچھ خفا تھے لیکن جب ان کے شوہر کو آدھی رات دل میں تکلیف ہوئی اور کوئی ایمبولینس نہ ملی تو وہ خاتون اپنے شوہر کو بائیک پر لے کر نکلیں اور بروقت اسپتال پہنچ گئیں۔ آج سوچتی ہوں کہ انھیں نہیں نکلنا چاہیے تھا شوہر نیم بیہوشی کی حالت میں تھا وہ اپنی بیوی کا کیا دفاع کرتا یقیناً اس عورت نے بیوقوفی ہی کی تھی۔

والد کی وفات کے ایک روز قبل اسپتال ایمرجنسی میں لے جانے کے دوران میں بہت عجلت میں اپنے والد کو لے کر ایمبولینس میں بیٹھ کر اسپتال پہنچی۔ میرے والد ہوش میں نہ تھے جبکہ ایمبولینس میں عملے کے تین مرد سوار تھے۔ میں کتنی بڑی احمق تھی مجھے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ میری والدہ کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی مجھے رات نو بجے اس وقت اطلاع دی گئی جب میں ایک شوٹ پر تھی میں وہاں سے اپنی والدہ کے پاس شدید پریشانی کی حالت میں ایک انجان کریم ڈرائیور کے ساتھ رات دس بجے گھر پہنچی۔ میں واقعی کتنی باغیانہ سوچ کی مالک تھی کہ مجھے خود کو اپنے تحفظ کو دیکھنا چاہیے تھا ماں باپ تو آنی جانی چیز ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ 90 کی دہائی میں جب شہر خون اور آگ کی لپیٹ میں تھا تو میرے خاندان کی ایک خاتون اپنی ڈیلیوری کے لئے اسپتال میں بے یارو مددگار کھڑی تھیں وہ گئیں وقت سے قبل ان کے آپریشن کا ٹائم دے دیا گیا تھا اور شوہر دفتر میں تھے۔ ان خاتون کی بہن اکیلے گاڑی چلا کر اسپتال پہنچیں یہ جانتے ہوئے کہ شہر جل رہا ہے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں، کوئی بھی اندھی گولی ان کی زندگی کا خاتمہ کردے گی پر وہ اپنی بہن کے اس مشکل وقت پر پہنچ گئیں۔ آج سوچتی ہوں کہ یہ دیدہ دلیری کرنے کی کیا ضرورت تھی انھیں گھر سے نکلنے سے پہلے معاشرہ، اپنی جنس اور پھر سارے حفاظتی اقدامات کو دیکھ کر پرکھ کر نکلنا چاہیے تھا۔

یہ سب بیوقوف عورتیں کیوں نہیں سوچتیں کہ وہ خود موت، ذلت کو اپنے گلے لگانے نکل رہی ہیں کس کے آسرے پر؟ اس واقعے پر کہا گیا کہ تین بچوں کی ماں اتنی رات کو کیسے نکل گئی پیٹرول تک چیک نہیں۔ اگر اس عورت کی جگہ کوئی غیر شادی شدہ خاتون ہوتی تو کہا جاتا کیا زمانہ آ گیا ہے کہ ایک خاتون جن کی شادی بھی نہیں ہوئی وہ اتنی رات نکلیں۔ اگر کوئی ادھیڑ عمر خاتون ہوتیں تو کہا جاتا کہ اپنی عمر دیکھیں انھیں ایڈونچر کی سوجھی ہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ جو بھی ہو عورت ہی ان سب کی ذمہ دار ہے اور رہے گی۔

اس واقعے نے مجھے یہ بھی سوچنے کا موقع دیا کہ جس خاتون کے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے اس کے دو کمسن بچوں نے اپنی ماں پر یہ ظلم ہوتے دیکھا اور جب پولیس ان خاتون کی مدد کو آئی تو وہ اپنے بچوں کو اپنے سینے سے لپٹائے بیٹھی تھیں۔ یہ بچے کبھی بھی اپنی ماں کی بے بسی اور اس ظلم کو نہیں بھولیں گے نہ ہی ساہیوال سانحہ کے وہ بچے بھولیں گے جن کے سامنے دن دیہاڑے ماں، باپ، بہن اور گاڑی چلانے والے کو مار دیا گیا۔ لیکن یہ سوچنا آپ کا کام نہیں ہم عورتوں کا ہے کہ ہم عورت ہونے کے ناتے اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارا سب سے بڑا قصور تو ہمارا عورت ہونا ہے نہ ہم عورت ہوتے نہ ہماری نسلوں کو یہ دیکھنا پڑتا۔

میرے خیال سے تمام عورتوں کو اب گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی گاڑی کا فیول، بیگ میں ضروری اشیاء کی جانچ پڑتال کرنے کے بجائے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے پاس پستول ہے یا نہیں۔ تاکہ اگر کوئی درندہ ان پر حملہ آور ہو تو انھیں نشانہ وہی لینا چاہیے جہاں سے مردانگی کے غرور کو نہ صرف زوال ہو بلکہ وہ ساری زندگی خود کو مرد کہلانے کے لائق بھی نہ رہ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 76 posts and counting.See all posts by sidra-dar