چار مجرم چار سزائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک نیمروز میں چار مجرم جیل کی گاڑی میں عدالت کی طرف محو سفر تھے۔ پہلے نے ایک آہ بھری اور کہا ”صاحبو، راستہ طویل ہے اور سفر سست، کچھ کہو کہ سفر کٹے۔ کہو کہ یہاں کیسے پہنچے، کیا جرم کیا، کیا سزا ہے اس جرم کی؟ میری سنو تو میں ہفتہ پہلے اپنی سائیکل پر اپنی فیکٹری کی طرف رواں تھا کہ بس سٹاپ پر ایک مہ جبیں دکھائی دی۔ بے اختیار دل اچھلا، اور دل سے ایک آہ اور ہونٹوں سے سیٹی نکلی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ وہیں ایک داروغہ بھی موجود تھا۔ اب میں یہاں ہوں اور امید ہے کہ معمولی سرزنش یا جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاؤں گا“ ۔

دوسرے مجرم نے سر اٹھایا اور بولا ”بندہ ایک بوائز کالج میں فسٹ ائر کا طالب علم ہے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ بندے کے والد نے کمیٹیاں ڈال کر پیسے جوڑے اور اسے ایک موٹر سائیکل دلوا دی کہ جاؤ اب خود آیا جایا کرو اور باقی کام بھی نمٹایا کرو۔ موٹر سائیکل پاتے ہی جیسا کہ نوجوانوں کا دستور ہے، دوستوں کے ساتھ نزدیکی گرلز کالج کے گیٹ پر پہنچے کہ ڈیوٹی دیں اور کسی حسینہ کو مدد کی ضرورت ہو تو مدد کریں۔ کرنا خدا کا یوں ہوا کہ میرے ساتھ بیٹھا طالب علم شرارت کا پتلا تھا، اس نے ایک دوشیزہ کو دیکھ کر ہاتھ بڑھایا تو نیت اس کی مدد کی ہرگز نہ تھی۔ وہ دوشیزہ بھی ہاتھ لگنے پر پہلے تو چونکی اور پھر گھما کر بیگ جو مارا تو سیدھا میرے سر پر لگا۔ میں وہیں ڈھیر ہوا اور دوست وہاں سے چمپت ہوا۔ داروغوں نے پکڑ لیا اور اب پرچہ درج ہوا ہے۔ امید ہے کہ ہفتے دس دن کی قید ہو گی، اور چند ہزار کا جرمانہ۔ اس کا مجھے خوف نہیں، خوف اس بات کا ہے کہ گھر جاؤں گا تو والد محترم ایسی کفش کاری کریں گے کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا“ ۔

تیسرا مجرم بے نیازی سے سگریٹ پی رہا تھا۔ اس نے کہا کہ ”بندہ شمشیر ابن شمشیر ہے۔ اجداد کا کام ڈھور ڈنگر کی تجارت تھا۔ اس مقصد کے لیے رات گئے نکلتے اور صبح دم مال مویشی کے ساتھ لوٹتے اور انہیں بیچ کر دال روٹی چلایا کرتے تھے۔ جب بزرگوں کی عمر زیادہ ہوئی تو مجھ پر ذمہ داری آن پڑی۔ میں نے جانا کہ ڈھور ڈنگر کی تجارت میں محنت زیادہ ہے اور نفع کم، سو ایک بھینس بیچ کر پستول خریدی اور لوگوں کا مہمان بننے لگا۔ پہلے تو کچھ مدت صرف مال لوٹتا مگر پھر عزت بھی لوٹنے لگا۔ درجنوں پرچے ہوئے مگر ہمیشہ بچ نکلا۔ ایک دن قسمت خراب کہ پکڑا گیا۔ سزا اس جرم کی عمر قید ہے۔“

چوتھا مجرم سکون سے ٹانگ پر ٹانگ دھر کر بیٹھا تھا۔ کہنے لگا کہ ”کوئی خاص کیس نہیں ہے۔ ڈکیتی کا اور گینگ ریپ کا پرچہ ہے۔ نئے سخت قانون کے مطابق اس کی سزا تیزاب سے جنسی اعضا جلانے، پچاس برس قید تنہائی اور اس کے بعد سزائے موت کی ہے۔“

سب نے عبرت پکڑی اور افسوس کرنے لگے کہ ایسا جوان اپنے کرتوتوں کے سبب ایسی اذیت سے گزرے گا کہ اس کو اپنے ایک ایک گناہ پر ندامت ہو گی مگر اب کچھ بن نہ پڑے گا۔

نیمروز کے قاضی کی عدالت میں سب سے پہلے تیسرے مجرم کا کیس لگا۔ داروغہ نے فرد جرم پڑھ کر سنائی کہ ڈکیتی اور ریپ کے کئی پرچے اس پر درج ہیں۔ مظلوم لڑکی کو بطور گواہ پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اسے پہچاننے سے انکاری ہو جاتی ہے۔ گواہ پولیس کو دیے گئے بیان سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ لڑکی کا باپ صلح نامہ پیش کرتا ہے کہ ہم اپنا دعویٰ واپس لیتے ہیں، ہماری تین بیٹیاں اور بھی ہیں اور ہمیں ان کی عزت پیاری ہے۔ برادری اس مجرم کی طاقتور ہے اور ہم کمزور۔ عدالت دعویٰ واپس لینے پر مقدمہ خارج کر دیتی ہے اور مجرم آزاد ہو جاتا ہے۔

چوتھا مجرم پیش کیا جاتا ہے۔ داروغہ مقدمہ پیش کرتا ہے کہ الزام اس پر کئی ڈکیتیوں اور گینگ ریپ کا ہے۔ تمام گواہ یکے بعد دیگرے منحرف ہو جاتے ہیں۔ لڑکیاں اور مدعی اسے پہچاننے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ ڈی این اے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ میچ نہیں کیا۔ عدالت اب کیا کرتی؟ اسے باعزت بری کر دیا گیا۔

پہلا اور دوسرا مجرم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ ایسے بڑے جرائم والے باعزت بری ہو گئے تو ہمیں معمولی ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔

اب دوسرے مجرم کی پیشی ہوتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ الزام اس پر لڑکیوں پر دست درازی کا ہے۔ قاضی مقدمہ سنتا ہے۔ ایک بہت کم اجرت لینے والا وکیل اس کی طرف سے پیش ہوتا ہے۔ داروغہ کی طرف سے فرد جرم پیش کی جاتی ہے اور قاضی کو بتایا جاتا ہے کہ ڈکیتی اور ریپ کی کئی اندھی وارداتوں کا مجرم یہی ہے۔ پولیس نے بہت زیادہ دوڑ دھوپ کر کے اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔ کئی گواہ پیش کیے جاتے ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ڈکیتی اور ریپ کرتے اپنی گناہگار آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور پولیس کی سرتوڑ تفتیش کے نتیجے میں یہ لونڈا ان جرائم کو قبول بھی کر چکا ہے۔ قاضی اس کے جرائم کی فہرست سن کر آگ بگولا ہو جاتا ہے اور اسے سزائے موت سنا دیتا ہے۔ دوسرا مجرم بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے۔

پہلے مجرم کا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔ داروغہ فرد جرم عائد کرتا ہے کہ ڈکیتی اور گینگ ریپ کی بے شمار اندھی وارداتوں کا مجرم یہی ہے۔ رپورٹ پیش کی جاتی ہے اور اس کا ڈی این اے بھی ان وارداتوں کے سیمپل سے میچ کر جاتا ہے۔ مدعی بھی اسے شناخت کر لیتے ہیں۔ پولیس ریکارڈ میں اس کا مجسٹریٹ کے سامنے کیا گیا اقبال جرم بھی موجود ہوتا ہے۔ کسی کو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ایک نہایت مردود اور خبیث شخص ہے جس نے بے شمار لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی لوٹی ہے اور عزتوں کو پائمال کیا ہے۔ قاضی شدید غیظ و غضب کے عالم میں اس کے جنسی اعضا تیزاب کے ذریعے جلا کر اسے پچاس برس کی قید بامشقت، دس ہزار کوڑوں جو سرعام سٹیڈیم میں پچاس کوڑے فی ہفتہ کے حساب سے رسید کیے جائیں، اور سزا کے اختتام پر سرعام پھانسی پر لٹکانے کی سزا سناتا ہے۔

تو صاحبو۔ معاملہ یہ ہے کہ ملک نیمروز میں جرائم کی سزا سخت کرنے سے ایسا ہی منظر نامہ سامنے آیا تھا کہ طاقتور اور طاقتوروں کے لاڈلے جب جرم کرتے تھے تو تمام گواہ منحرف ہو جایا کرتے تھے اور مدعی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ صلح کرے اور مقدمہ واپس لے۔ جبکہ کمزور لوگ معمولی جرائم کر کے سخت جرائم کی سزا پایا کرتے تھے۔ جب طاقتور کو پتہ ہو کہ جرم کر کے وہ بچ نہیں سکتا تو ہی وہ جرم کرنے سے باز رہے گا۔ ملک نیمروز کے نظام قانون میں پولیس سے لے کر قاضی تک اتنے زیادہ اور مختلف قسم کے دباؤ اور حربے ہیں کہ طاقتور کو سزا دینا تقریباً ناممکن ہے اور کمزور اپنے جرم بے گناہی میں بھی سخت سزا پا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1318 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar