سلسلہ گاڈ فادریہ کے اسباق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(سالکان راہ کے لیے سلسلہ گاڈ فادریہ کے اذکار و اشغال کا نایاب مجموعہ – اس کے پڑھنے سے کسی کا بھلا نہیں ہو گا)

 پروین شاکر کا شعر ہے

اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر

پھر عمر بھر ہوا سے مری دشمنی رہی

سپریم کورٹ آف پاکستان میں تین عدد آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد نواز شریف پر عائد الزامات کی روشنی میں جب یہ فیصلہ صادر ہوا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے تو لگا کہ ایک بھونچال آ گیا ہے۔ پانچ رکنی بنچ میں شامل تین جج صاحبان نے انہیں بال بچوں سمیت ایک جے آئی ٹی کے حوالے کر دیا۔

یہ بال بچوں سمیت والی سرخی ایک درجہ سوئم کے اخبار کے چھپن چھری ایڈیٹر نے دوستوں کی محفل سے ایک چلتی ہوئی اصطلاح اچک لی تھی، چھچھورے کے ہاتھ لگی تو ہیڈلائن بن گئی۔ وزیر اطلاعات صاحبہ کی ایڈیٹر کی جانب نگاہ ملفوف نہیں تھی۔ ہر طرف لفافے آتے تھے، لفافے جاتے تھے مگر پیاس کے اس صحرا پر بادل برسنے سے گریزاں تھے۔

وزیر صاحبہ جنہوں نے طلال چوہدری کی نااہلی کا سن کر اپنی مانگ کا سیندور شاہراہ دستور ہی پر نوچ لیا تھا۔ ان کی والدہ ان کے رد بلا کی خاطر سر پر سے باقاعدہ انڈے اور مرغی وغیرہ گھما کر صدقہ دیا کرتی تھیں۔ اتنی کم قابلیت اور صلاحیت کے لوگ اتنے اچھے اور اہم عہدوں پر پہنچ جائیں تو مرغیاں گردن زدنی قرار پاتی ہیں۔ ایں پری پیکر چہ دانند وقت صبح و شام را۔۔۔

 اتنی محنت سابقہ مس یونیورس شسمیتا سین کی والدہ کر لیتیں تو بیٹی بے چاری ایک درجن بوائے فرینڈز کے مظالم کا شکار نہ ہوتی جس میں مکیش بھٹ، انیل امبانی، وسیم اکرم بغیر پلس مائنس اور اب عمر میں آدھے رحمان شال شامل ہیں۔ وزیر صاحبہ نے لفافوں کے ساتھ سب کو تین اقسام کی ہیڈلائنز بھجوائیں، معصوم، بے ضرر اور سرخیاں جو اخبار کے علاوہ کسی لب لعلیں پر ہوں تو دکھائی نہ دینے والی لپ اسٹک کی مانند غنچہ شگفتہ دہن کا رنگ اصیل دکھائی دیں۔ ان میں سے دو سرخیاں یہ تھیں:

  1. نواز شریف کےخلاف عدالت نے ثبوت ناکافی قرار دیے
  2. عدالت نے نواز شریف کو مزید تحقیقات کے مکمل ہونے تک بے گناہ قرار دے دیا

 یہ ایڈیٹر جو آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے رہتے ہیں انہوں نے اپنے اس ناک پونچھنے والے اخبار میں ہیڈ لائن لگائی کہ نواز شریف بال بچوں وسمیت جے آئی ٹی کے حوالے۔ بس پھر کیا تھا ایک قیامت برپا ہو گئی۔ اگلے دن وزیر صاحبہ کا فون بھی آیا ایڈیٹر کو بیس لاکھ کا ایک لفافہ بھی سرکاری اشتہارات کی مد میں مل گیا اور وزیر اطلاعات نے والدہ کو کہہ کر ایک انڈہ مزید شامل کر کے مرغی ماں کے ساتھ چوزہ بھی سر پر گھما کر صدقہ کرایا۔

فیصلے میں عوام کی دل چسپی اس قدر زیادہ تھی کہ 20، اپریل 2017 کو اس کی اشاعت کے بعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ بے اماں ہٹس کی یلغار سے کریش کر گئی۔ گوگل کوعام طور پر اس مشکل کا سامنا ماضی میں بھارتی پورن اداکارہ سنی لیونے (لیونے کا نام آپ یاد رکھیں کیوں کہ گاڈ فادر کو امریکہ میں ویٹو کور لیونے پکارا جاتا تھا) اور پاکستان کی خاک بر سر، خوں بہ داماں ماڈل ایان علی کے حوالے سے ملنے والی ہٹس سے ہوتا رہا تھا۔

امریکہ میں سنہ 1969 میں Mario Puzo  نے  ‘The Godfather’ کے عنوان سے ایک تہلکہ خیز ناول شائع لکھا تھا۔ ماریو پزو پر قرضہ تھا اور انہیں پچاس ہزار ڈالر درکار تھے۔ وہ مافیا سے ناواقف تھے اس لیے انہیں پبلشر کی جانب سے پانچ ہزار ایڈوانس کے علاوہ اس موضوع میں کوئی دل چسپی بھی دکھائی نہ دیتی تھی کہ لوگ مافیا کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ تمام زندگی ان کی ملاقات کسی اصلی مافیا باس سے نہ ہوئی تھی۔ یہ ناول در اصل ایک لائبریری ریسرچ ہے بالکل ایسا ہی الزام ایک اور دھماکہ ناول Fifty Shades of Grey پر لگا تھا۔

تین سال بعد ماریو پزو کے ناول پر ایک معرکۃ الآرا فلم بھی ہالی ووڈ میں اسی نام سے بنی تھی۔ Albert S. Ruddy، جنہوں نے یہ فلم بنائی تھی، رضامند نہیں تھے کہ فلم کے ڈائریکٹر کے طور پر Francis Ford Coppola کو اور مرکزی اداکار کے طور پر Marlon Brando اور Al Pacino کو سائن کرتے۔ یہ تینوں ان دنوں ناکامی کی دھول چاٹتے تھے۔ مارلن برانڈو کو گاڈ فادر کے مکالمے ادا کرتے وقت منھ میں ٹشو پیپر کا ایک گولا بنا کر رکھنا پڑتا تھا۔ فلم کے حقوق چونکہ ناول کی اشاعت سے پہلے ہی حاصل کرلیے گئے تھے اس لیے ماریو پزو کو رقم بھی کل اسی ہزار ڈالر ہی ملی۔ جو ان کے نزدیک بہت کم تھی۔ نیویارک کی مافیا کا اصرار تھا کہ وہ فلم دیکھ کر اس کے ریلیز ہونے کی اجازت دیں گے۔ منظوری ملی تو سب کے وارے نیارے ہو گئے۔ بعد میں فلم میں دکھائے گئے اس خاندان کی دنیائے جرائم سے دنیائے سیاست میں داخلے کے سفر پر مزید دو فلمیں گاڈ فادر ٹو اور گاڈ فادر تھری بنی۔ آخرالذکر فلم کا ایک ڈائیلاگ بھی بڑا قیامت ہے جب اس گھرانے کا ایک چشم و چراغ Vincent Mancini  امریکہ کے ایک بڑے مافیا ڈان Lucchesi  سے ملتا ہے جس کا امریکی سیاست اور عدلیہ میں بڑا اثر و رسوخ ہے تو وہ لوچیسی کو کہتا ہے کہ تمہارے پاس دولت اور سیاست ہے جن کی مجھے کوئی سمجھ نہیں تو لوچیسی اسے جواب دیتا ہے تمہارے  پاس گن ہے۔

اس پر لوچیسی اسے سمجھاتا ہے کہ

Finance is a gun. Politics is knowing when to pull the trigger.

(اصل بندوق تو سرمایہ ہے۔ سیاست اس ہنر کا نام ہے کہ ٹریگر کب دبانا ہے۔)

پاکستان میں کراچی سے ڈان عزیر بلوچ سے لے کر صدارت اور وزرائے اعظم کے عہدوں پر فائز رہنے والوں کے اقوال، افکار اور اطوار سیاست کا جائزہ لیں تو جرائم، سرمایہ اور سیاست کا یہ گٹھ جوڑ باآسانی سمجھ میں آجاتا کیوں کہ اقتدار کی بلندیوں پر جا کر جرم، سرمایہ، مذہب اور سیاست ایک ہی گھر کی بہو بیٹیاں بن جاتے ہیں۔

مذکورہ نکتہ ماننے میں اگر آپ کو کوئی تامل ہے تو آپ پال ولیمز کی کتاب آپریشن گلیڈیو پڑھ لیں۔ یہ کتاب ان سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے کہ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر کس طرح رومن کیتھولک چرچ، سی آئی اے اور اٹلی سے امریکہ تک پھیلی ہوئی مافیا نے سرد جنگ کو یورپ میں جاری رکھنے اور امریکہ کے سیاہ فام افراد میں ہیروئین کے استعمال کو فروغ دے کر سرمایہ جمع کیا۔ کس طرح وہ اس سرمائے سے جمی جمائی حکومتوں کو اتھل پتھل کر دیتے تھے۔

بات ہو رہی تھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی جس میں درج ایک جملے سے حکومت سر کھجانے پر مجبور ہوگئی اور رانا ثنا اللہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے میں گاڈ فادر کے صحفہء اول پر درج جملہ سیخ پا کر گیا

Behind every great fortune, there is a crime. – Balzac

(ہر خیرہ کن امارت کے پس پردہ ایک بہت بڑا جرم ہوتا ہے)

ماریو پزو نے امریکی ذہانت اور اختصار کے پیش نظر بالزاک کا یہ قول سادہ اور دل نشین بنا دیا۔ ورنہ فرانسیسی مصنف بالزاک نے یوں لکھا تھا کہ

The secret of a great success for which you are at a loss to account is a crime that has never been found out, because it was properly executed.

(ہرعظیم کامیابی جس کے حصول کا کوئی قابل تصدیق ثبوت فراہم نہ کیا جا سکے اور جس کا کھوج لگانا کارِ دشوار ہو، وہ جرم کے ارتکاب میں مہارت کی نشاندہی کرتی ہے)

رانا ثنااللہ کی اکھشا تھی کہ جج صاحبان اس رسوائے زمانہ حوالے کی بجائے قرآن پاک، احادیث مبارکہ یا اہل سلوک کا کوئی قول نقل کرتے تو فیصلے کی تقدیس میں اضافہ ہوجاتا۔ اس جملے سے انہیں دکھ پہنچا۔

گاڈ فادر جب شائع ہوا تو ناول انگریزی میں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کم ہی پڑھا گیا۔ اس کا اردو ترجمہ بھی بہت بعد میں شائع ہوا۔ فلم کی ریلیز نے البتہ پاکستان کی دنیائے جرائم و سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ مافیا کے ہاں دشمنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سبق شاید پہلے پہل اس فلم کو ہی دیکھ کر سیکھا گیا۔ ستمبر سنہ 1982 میں اس کا پہلا شکار ایک مہاجر رہنما ظہورالحسن بھوپالی بنے۔ انہیں ان کے حلقہ انتخاب میں دس ممبران کے ایک ڈیتھ  اسکواڈ نے ایاز سموں کی قیادت میں کراچی کے علاقے جیکب لائنز میں کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واردات سے ایک سال قبل چودہری ظہور الہی کو لاہور میں بالکل اسی انداز میں ہلاک کیا گیا تھا۔ جیسا گاڈ فادر کے مختلف مناظر میں جابجا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ سیاست میں تشدد کی باقاعدہ آمیزش میں اس فلم کی تعلیمات کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس کو دیکھ کر ہی اقتدار کے جرائم پیشہ آڑھتیوں کو واردات کے نت نئے طریقے سمجھ میں آئے۔

ہر سلسلہ سلوک میں سالک کو مقام معرفت تک پہنچنے تک مختلف مدارج طے کرنا پڑتے ہیں۔ اعلی ہمت اور یقین و توکل میں مائل بہ کاملیت جن پر اللہ کا خصوصی فضل ہوتا ہے وہ تو فنا فی الشیخ سے باقی باللہ ہو جاتے ہیں۔ رہ گئے دنیا داری کے راتب کو حصول و منزل جان کر کرامات کے طرفہ تماشے میں مشغول ہوجانے والے، سو وہ ڈنگ ٹپاتے رہتے ہیں۔ ہم پانامہ فیصلے کے بعد جنم لینے والی ایک بحث کہ ماریو پزو کی کتاب گاڈ فادر سے اس دل آزار مگر بر محل جملے

Behind every great fortune، there is a crime. – Balzac

کے حوالے سے سلسلہ گاڈفادریہ کے کچھ وظائف اذکار اشغال اور مجاہدات کا ذکر کرنا لازم سمجھتے ہیں جن کا مطالعہ آپ یہ بات عیاں کر دے گا کہ ہمارے سیاست داں، افسران عالی مقام اور تاجران مال و منال نے انہیں کیسے اپنی حیات ہائے قبیحہ کا جیون منتر بنا کر پاکستان کی رگ رگ میں لالچ، لوٹ مار اور لاقانونیت کا زہر گھول دیا ہے۔

سلسلہ گاڈ فاردیہ میں راہ سلوک کے منازل کم از کم دس، اٹھارہ اور زیادہ سے زیادہ چوبیس ہیں۔ اب یہ آپ کی طالع نصیبی ہے کہ آپ کس ڈان کے پاس  Capo Di Tutti Capi یعنی Boss of Bosses کی خانقاہ میں حاضر ہو کر دست ہوس و اقتدار سے بیعت ہوتے ہیں۔

پہلا مجاہدہ: وہ مرد جو اپنے خاندان کو وقت نہ دے، وہ حقیقت میں مرد کہلانے کا مستحق ہی نہیں۔ (اس حوالے سے پاکستان میں سیاست داں، افسران عالی مقام اور تاجران مال و منال نے وقت کے علاوہ بھی سرکار سے عہدوں سمیت سب ہی کچھ لوٹ کر اپنی ہی اولاد اور برداران، ہمشیرگان، خواہران نسبتی اور برادران نسبتی کے نام کر دیا ہے جب کہ امریکی صدر اوباما کے دور صدرات میں بھی ان کی بیٹی شاشا برگر کنگ پر جز وقتی ملازمت کرتی تھی۔)

دوسر مجاہدہ : غدار کو قتل کرنے کے بعد بندوق پھینکو اور راستے سے بیگم کی فرمائش پر اس کی خریدی ہوئی پسندیدہ کنولی یعنی کریم رول اٹھا لو تاکہ بیوی کو شک نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنی ذاتی ترجیحات کو سامنے رکھو (بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کی کشمیری مظالم، احسان اللہ احسان کے انکشافات کے بعد بھی مکمل پروٹوکول کے ساتھ پاکستان میں آمد اور بغیر ویزے کی سیر کو آپ وزیر اعظم کی بندوق پھینک کر کنولی اٹھانا سمجھ لیجئے۔)

تیسرا مجاہدہ:’’آپ کو میرا جواب درکار ہے تو ابھی لے لیجئے۔ میرا جواب ہے ہرگز نہیں‘‘ کوریا میں ریل کے حادثے پر وزیر اعظم استعفی دے دیتا ہے۔ چین میں کرپشن پر جو گولی ماری جاتی ہے اس کا خرچہ بھی فیملی سے لیتے ہیں۔ تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا۔

چوتھا مجاہدہ: دوستی اور سرمایہ یعنی تیل اور پانی کا ساتھ ہے (سرمائے اور دوستی میں جیت ہمیشہ سرمائے کی ہوگی دوست پیسے کی خاطر تمہیں بیچ دیں گے، دھوکا دیں گے)

پانچواں مجاہدہ: ہم اب زمین پر گدے بچھا کر سوئیں گے (حالات خراب ہوں تو چھپ جائو۔ آرام کو تج دو تا وقت یہ کہ حالات بہتر ہوجائیں)

چھٹا مجاہدہ: میرے والد نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ دوستوں کو قریب مگر دشمنوں کو قریب تر رکھا کرو

ساتواں مجاہدہ: مسڑ کور لیونے دوسری دفعہ کوئی رعایت نہیں مانگتے اگر انہیں پہلی دفعہ انکار کر دیا جائے۔

آٹھواں مجاہدہ: خاندان سے باہر کے افراد کو ہرگز نہ بتائو کہ تم کیا سوچ رہے ہو

نواں مجاہدہ: میرے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ سامنے والا اپنی روزی کیسے کماتا ہے (بہت گھپلے ہیں ہم اگر تفتیش اور نیب کے کاموں میں لگ جائیں گے تو تبدیلی کون لائے گا)

دسواں مجاہدہ: ایک وکیل کے بریف کیس میں اگر پیسے بھرے ہوں تو وہ ایسے ہزار ڈاکوؤں سے بڑی واردات کر سکتا ہے جن کے ہاتھ میں بندوق ہو۔ یاد ہے نا چوہدری صاحب کے نورتن۔ کہاں کہاں پہنچ گئے۔

گیارہواں مجاہدہ: اپنے دشمنوں سے نفرت مت کرو۔ اس سے قوت فیصلہ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

بارہواں مجاہدہ: خود اعتمادی میں سکوت اور خاموشی ہوتی ہے مگر احساس عدم تحفظ بہت شور مچاتا ہے

تیرہواں مجاہدہ: غصہ مت کرو۔ دھمکیاں مت دو۔ لوگوں کے ساتھ معاملات میں دلیل کو فوقیت دو۔

چودہواں مجاہدہ: خون کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

پندرھواں مجاہدہ: دوستی ایسا ناتا جو سونے سے بھی مہنگا۔ لوگوں کو ان کی اہمیت کا احساس دلاتے رہو۔

سولہوھواں مجاہدہ: ہر موقع پر اپنے فائدے کو اہمیت دو۔

 آپ نے اگر فیصلہ کر لیا کہ آپ اپنے اعمال کی روشنی میں اس سلسلہ گوڈ فادریہ میں باقاعدہ بیعت ہو جائیں اور دنیا کے مال اور جنسی لذتوں کے جنتی دروازے آپ پر پاٹم پاٹ کھل جائیں تو یاد رکھیے اس خانقاہ وحشت و انتقام میں کوئی ایسا پیر طریقت نہیں جو آپ کی آمد پر یہ ا شعار پڑھ کر کہ آپ کو دامن عاطفت میں سمیٹ لے

باز آ، باز آ، ہر آن چہ ہستی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آؤ اپنی ہستی کو بھول کر بار ہا چلے آؤ

گر کافر و گبر بت پرست باز آ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مت سوچو کہ کافر ہو کہ بت پرست، چلے آؤ

ایں درگاہ ما درگہ نومیدی نیست۔ ۔ یہ میرا آستانہ، آستانہ ناامیدی نہیں

صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ توبہ بھی جو تم ہزار بار توڑ چکے ہو اسے بھلا کر چلے آؤ۔

یہاں تو معاملہ وہی ہے۔ نوے کی دہائی میں جو ایم کیو ایم اور حقیقی کے تصادم کے دنوں میں کراچی کی دیواروں پر جابجا لکھا دکھائی دیتا تھا کہ “قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 40 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan