شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ ایک سے دو افراد میں بدل جاتے ہیں۔ جس کمرے میں آپ سوتے ہیں اس میں ایک دوسرا انسان بھی سونے لگتا ہے۔ آپ کی تمام ”ذاتی“ اشیاء ذاتی نہیں رہتیں اور سب کچھ ”ہماری“ میں بدل جاتا ہے۔

شادی کرنی تو سب کو ہوتی ہے کیونکہ جوانی کے ساتھ ہی آپ کی امنگیں مچلنے لگتی ہیں اور پھر ان امنگوں کی تان ”میرے بچے ہوں“ پر ٹوٹتی ہے۔ انسانی جذبات پر ریسرچ کرنے والوں نے تین مراحل پر بنیادی تقسیم کی ہے۔ پہلی جب انسان ایک بچہ ہوتا ہے اور اسے والدین کا پیار اور کھلونے چاہئیں ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ دوسری تقسیم نوجوانی اور پھر جوانی کا عروج ہے جہاں انسان کو جنس مخالف میں سب زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے اور وہ ایک فرد کا ہو جانا چاہتا ہے جس ساتھ وہ قربت کے تمام لمحات بیتانا چاہتا ہے۔ پہلی سٹیج کا وہی بچہ جس کو والدین کا پیار اور کھلونے چاہئیں تھے اب اسے ایک بیوی/شوہر اور بچے چاہئیں۔ اس مرحلے کے بعد کا اور آخری مرحلہ میرے دوستو! اڈھیر عمری اور بڑھاپے کا ہے۔ اس سٹیج پر انسان کو پیار کا، توجہ کا احساس اپنے بچوں سے زیادہ چاہیے ہوتا ہے۔

گویا انسان کی تمام زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنے کو ”شادی“ کرنا ضروری ہی نہیں لازمی ہے۔ شادی کس عمر میں کی جائے اس پر بات کرنا تو گویا ایک لمبی سی کتاب لکھ دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں مذہب، معاشرہ، والدین اور ذاتی نقاط اور خیالوں کی بھرمار ہے۔

جہاں تک میری سوچ ہے مرد کو شادی تب کرنی چاہیے جب وہ اس قابل ہو کہ اپنے خرچے خود پورے کرنے کے علاوہ ایک اور فرد کا خرچہ بخوبی اٹھا سکتا ہو۔ کیونکہ آپ کی بیوی جو اپنا گھر چھوڑ کر آتی ہے اس کی خواہشات اور خوابوں کو پورا کرنا آپ کی ذمہ داری ہی نہیں فرض بھی ہے۔ مندرجہ بالا تین مراحل میں تمام عمر کا کوڈ ہے جس کا بہترین ہونا، دونوں افراد کے سلجھے اور خوش اخلاق ہونے سے مشروط ہے۔

اس امر کو ہمارے رہنما قرآن مجید میں یوں آسان کیا گیا ہے۔ سورہ ’نور‘ آیت نمبر 26 میں جس کا مفہوم ہے ؛

”پاک مردوں کے لیے پاک عورتیں ہیں، پاک عورتوں لیے پاک مرد ہیں“

گویا، ہمارے ”لائف پارٹنر“ کا اچھا یا برا ہونا ہمارے اپنے اچھے یا برے ہونے سے مشروط ہے۔ یہ اللہ پاک نے ایک بہت بڑی پریشانی ہی دور کر دی؛ اب مجھے سکون ہے کہ میری ذات معاشرے لیے احسن رہے گی تو میری شریک حیات بھی معاشرے کا ایک احسن فرد ہو گی۔ ان شا اللہ

اس بات کے ساتھ تحریر کا احتتام کرتا ہوں کہ میرے دوست مجھے مزاح کے رنگ میں پڑھتے آئے ہیں جبکہ شادی کے اس موضوع کو میں نے خاصا سنجیدگی سے لیا ہے۔ خاطر رکھئیے میری طبعیت سنجیدہ بہت کم ہوتی ہے۔ جب کہ یہ تحریر میں لکھ رہا ہوں والدین اور اپنے لیے چائے بنائے پی رہا تھا۔ ”بہت اچھی چائے بنائی“ امی جان اور ابو کے اس جملے ساتھ میں نے سوچا شادی کے موضوع کو مزاح کے رنگ میں ڈھالنے سے پہلے اس کا اصل مقصد لکھ دیا جائے تو بہت بہتر ہو گا۔

یقین کریں اس سے زیادہ مزاح کہیں نہیں ملے گا، شادی ہونے سے پہلے بھی اور شادی ہونے کے بعد بھی مزاحیہ پن عروج پر رہتا ہے۔ جس کو اگلی تحریر میں، میں پیش کروں گا۔ تب تک اللہ نگہبان!

Latest posts by عبداللہ محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •