سی سی پی او لاہور عمر شیخ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس میں طلب کیے جانے کے باوجود کپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور ڈی آئی جی عمر شیخ کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور ان کے اس اقدام کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پنجاب پولیس کی طرف سے ان کی نمائندگی کے لیے بھی کوئی موجود نہیں تھا جس پر اس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ’کیا لاہور کے سی سی پی او آسمان سے اترے ہیں؟‘

لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اس ریپ کے بعد سی سی پی او نے میڈیا پر جو بیان دیا اس پر معافی مانگنے کے باوجود اُنھیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کون ہیں؟

موٹروے ریپ کیس: گرفتار ملزم 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

گجرپورہ واقعے کی کوریج: کیا پاکستان میں میڈیا کا کوئی ضابطہ اخلاق ہے؟

موٹروے ریپ کیس: ڈی این اے کی مدد سے ملزمان کی شناخت کیسے ممکن ہوئی؟

موٹروے ریپ کیس کی تفتیش میں ’رازداری‘ کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر لاہور کے علاقے گجرپورہ میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے کی وجہ سے مدد کی منتظر تھی۔

اس متاثرہ خاتون کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔

سی سی پی او لاہور نے اس واقعے کے بعد متاثرہ خاتون پر ہی سوال اٹھا دیے تھے کہ وہ رات گئے گھر سے کیوں نکلیں۔

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی سربراہی میں جب انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو سب سے پہلے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا وہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ تاہم کمیٹی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس اجلاس میں آئی جی موٹر وے کلیم امام پیش ہوئے جس پر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ اگر آئی جی رینک کا افسر پارلیمان کے بلانے پر اجلاس میں شریک ہوسکتا ہے تو پھر ڈی آئی جی کیوں نہیں اور کیا سی سی پی او لاہور ’آسمان سے اترے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی نے گینگ ریپ واقعہ پر سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں اجلاس میں پیش ہونے کے بارے میں کہا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کا جو ایجنڈا جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق سی سی پی او لاہور کو سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر پرویز رشید کی طرف سے لاہور میں مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر ہونے والے احتجاج میں پارٹی کارکنوں پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے طلب کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گینگ ریپ کی تحقیقات سے متعلق عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی تو سی سی پی او لاہور عمر شیخ عدالت میں بھی پیش نہیں ہوئے۔

قائمہ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی عمر شیخ کی غیر حاضری کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے جبکہ کمیٹی میں شامل دیگر ارکان نے کہا کہ اتنے حساس معاملے پر تمام پارلیمان کے لوگ شیدید غصے میں ہیں اور اس واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ہی سی سی پی او لاہور کو بلایا گیا تھا، لیکن شاید انھوں نے اہمیت نہیں دی۔

کمیٹی کے ارکان نے اعلان کیا کہ وہ سی سی پی او کے اس اقدام کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروائیں گے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے سی سی پی او کو دوبارہ طلب کرنے کے سمن بھی جاری کیے ہیں۔

‎اجلاس کے دوران اس واقعے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو بریفنگ دی، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ جس جگہ پر یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہ موٹر وے کی حدود میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ریپ کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے: عمران خان

’عین ممکن ہے کہ اُن کی نیت بالکل ٹھیک ہو لیکن یہ کیا ہے‘

’ہمارے کپڑے نہیں تو ہمارا رویہ، وہ بھی نہیں تو وہ راستہ جو ہم نے لیا۔۔۔‘

’شہباز صاحب! یہ کوئی مبارک دینے والی خبر یا موقع ہے؟‘

کمیٹی کے ارکان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ چند ماہ پہلے لاہور سیالکوٹ موٹر کا افتتاح کر دیا گیا تھا لیکن حیرت ہے کہ اس شاہراہ پر موٹر وے پولیس کو تعینات نہیں کیا گیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ آئی جی کی طرف سے اس واقعے سے قبل حکومت کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس موٹر وے پر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔

آئی جی موٹر وے کلیم امام نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ جس وقت یہ وقوعہ رونما ہوا تو متاثرہ خاتون کی رات 2 بجکر ایک منٹ پر موٹر وے ہیلپ لائن پر کال آئی۔ اُنھوں نے کہا کہ ہیلپ لائن پر اس وقت موجود آپریٹر نے کال اٹھائی تو متاثرہ خاتون نے انھیں صورتحال سے آگاہ کیا جس پر آپریٹر نے خاتون کو بتایا کہ یہ ان کی حدود نہیں ہے۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ آپریٹر نے خاتون سے کہا کہ آپ رکیں میں متعلقہ حکام کو آگاہ کرتا ہوں، بعد ازاں آپریٹر نے خاتون سے بات کرنے کے بعد فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن یعنی ایف ڈبلیو او کو اطلاع دی۔

آئی جی موٹروے کا کہنا تھا کہ خاتون کی کال کے بعد ایف ڈبلیو او کے ساتھ کانفرنس کال کی گئی۔

کمیٹی کے ارکان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ موقع پر پولیس نہیں پہنچی اور یہ واقعہ ہو گیا، تو اس واقعے کی ذمہ داری تھی کس کی؟

کلیم امام نے جواب میں کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے وفاق کا دائرہ کار ہے اور وفاق کا ادارہ این ایچ اے اس کے معاملات کو دیکھتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سڑک تعمیر ہونے کے بعد موٹر وے پولیس تعینات ہوتی ہے لیکن اس جواب کے ساتھ آئی جی موٹر وے نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس شاہراہ پر موٹروے پولیس نہ ہو وہاں مقامی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کمیٹی کے ارکان کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ متاثرہ خاتون نے کال کر کے مدد مانگی اور خاتون کی بروقت مدد نہ کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟

اس کے جواب میں آئی جی موٹر وے نے اس کا جواب دینے کی بجائے یہ کہا کہ جب خاتون نے موٹر وے ہیلپ لائن پر کال کی تھی تو ان کی آواز سے ایسا لگ رہا تھا کہ ’جیسے وہ نارمل ہیں اور اُنھوں نے اپنے بچوں کا بھی نہیں بتایا کہ وہ ان کے ہمراہ ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ اس واقعے کو انتظامی ناکامی کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15375 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp