کیا آپ ایک ریپسٹ ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سموئیل کو اپنے ہی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے کچھ ایسے لوگوں سے انٹرویو کرنا تھا جو عورتوں کی جنسی زیادتی کے مرتکب رہے ہوں۔ سموئیل نے اخبار میں ایک عجیب اشتہار دیا۔
”کیا آپ ایک ریپسٹ ہیں؟ ایک ریسرچر آپ کو آپ کی شناخت خفیہ رکھ کر ایک انٹرویو کرنا ہے۔ اس نمبر پر کال کریں۔ سموئیل“

سموئیل حیرت زدہ رہ گیا جب اسے دو سو کے قریب کالز سننی پڑیں۔ اس نے پچاس لوگوں کو منتخب کر کے انٹرویوز کیے اور اپنا مقالہ مکمل کیا۔ سموئیل ایسی عادت و اطوار معلوم کرنا چاہتا تھا جو جنسی مجرموں کے درمیان مشترکہ ہوں اور وہ کوئی ایسا ماڈل بنا سکے جس کی مدد سے ایسے لوگوں کی بروقت پہچان ہو سکے تاکہ ایسے جرائم کم سے کم ہوں۔ آنے والے کہیں سالوں تک یہ سموئیل کا پیپر اس موضوع پر ہونے والی تحقیق کا بنیادی ماخذ بنا رہا۔ سال ہا سال کی ریسرچ کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں ان نتائج کے دو پہلو پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کے سماجی رویے میں ہونے والے بگاڑ کا پتہ دیتے ہیں۔

پہلی بات جو سامنے آئی وہ یہ کہ ریپسٹ کسی خاص قوم، رنگ یا نسل سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ بظاہر بالکل نارمل نظر آتے ہیں، بعض تو بظاہر بڑی کامیاب زندگی گزارتے رہے ہوتے ہیں۔

دوسری بات جو حالیہ تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ایک ریپسٹ عام طور پر یہ مکروہ کام اپنی جوانی کے ابتدائی حصے سے شروع کر دیتا ہے یعنی سولہ سے بائیس سال کی عمر کے درمیان۔ بہت سے لوگ ایک دو دفعہ یہ جرم کرنے بعد احساس گناہ یا ندامت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور بقیہ زندگی اس سے باز رہتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ جو اپنے اس جرم کا قصوروار عورتوں کو سمجھتے ہیں وہ جنسی زیادتی سے ساری زندگی بعض نہیں آتے کیونکہ پہلے گروپ کی طرح ان میں احساس گناہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس گناہ کا ذمہ دار وہ اس جرم کی شکار عورتوں کو سمجھتے ہیں۔ انطونیہ جو وین سٹیٹ یونیورسٹی کی ریسرچر ہیں ایک سیریل ریپسٹ نے انہیں بتایا کہ جب بھی وہ کسی خاتون کا ریپ کرتے ہیں انہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ عورت سے جنسی جذبات ابھارنے کا بدلہ لے رہے ہوں۔

اب ہم اگر سوشل میڈیا پر اپنی وال، مختلف گروپس، پوسٹس اور کمنٹس پڑھیں تو ہمیں بہت بڑی تعداد بظاہر نارمل نظر آنے والے لوگوں کی آئے گی جو کسی نہ کسی مذہبی یا سماجی تھیوری کا سہارا لے کر اس قسم کے جرائم کا الزام اس قبیح فعل کا شکار ہونے والی عورت پر ہی ڈال دیتے ہیں۔ کیا یہ رویہ ایک ”پوٹینشل ریپسٹ“ کا رویہ نہیں ہے؟

کافی عرصہ پہلے ایک صاحب ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر فرما رہے تھے کہ ریپ کے جتنے بھی کیسز ہیں ان میں مجرم نے ریپ کرنے کرنے سے پہلے کوئی پورن مووی دیکھی۔ ایسا کوئی پیپر مجھے تو نہیں ملا۔ یہ ثالثی فیکٹر ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس جرم کے بنیادی عوامل میں سے نہیں۔

کوئی بھی اخلاقی جرم کسی نہ کسی ذہنی یا نفسیاتی بگاڑ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایسے جرائم کو ختم کرنے کے لیے وہ جرم کرنے والوں کے رویوں کو پرکھا جاتا ہے تاکہ آئندہ کے لیے اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔ اور ”پوٹینشل مجرموں“ کی پہچان ہو سکے نہ کہ پورے معاشرے کے بنیادی سٹرکچر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ، سرعام پھانسی جیسے بچگانہ مطالبات یا سرے سے سارے مردوں یا عورتوں کو مورد الزام ٹھہرا دینا۔ یہ رویے بالکل بھی کسی تہذیب یافتہ معاشرے کے رویے نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •