جنسی تشدد اور سماجی و قانونی بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں بچوں، بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی بنیادوں پر طاقت، خوف، تشدد اور بندوق کی بنیاد پر زیادتی کے واقعات کا تسلسل کے ساتھ ہونا ایک حساس نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس طرز کے واقعات کی بنیاد پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ملک کی تصویر ایک بدنما چہرے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ لوگوں عمومی طور ان واقعات پر معاشرے کی سیاسی، سماجی، اخلاقی اور قانونی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک طرف جنسی زیادتی کے واقعات کا ہونا اور دوسری طرف ایسے واقعات میں زیادتی کے مرتکب مجرموں کا مختلف سیاسی، قانونی دباؤ یا قانونی سقم، عملدرآمد کے کمزور نظام یا ردعمل کی پالیسی سمیت ریاستی و حکومتی ترجیحات کی کمزوری کی وجہ سے مسئلہ کی شدت میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

پاکستانی خاتون کے ساتھ جو کچھ پچھلے دنوں لاہور رنگ روڈ پر اس کے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوا ہے وہ معاشرے میں یقینی طور پر اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ طبقہ حقیقی معنوں میں عدم تحفظ کا شکار ہے۔ کسی بھی عورت کو اس کے معصوم بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانا بربریت کی تصویر کھینچتا ہے کہ بطور معاشرہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اورٹی وی یا سوشل میڈیا پر ایسی خبریں پڑھنے یا دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں معصوم بچوں اور بچیوں سمیت عورتوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہاں عورتیں ہوں یا بچے و بچیاں کیونکر خود کو محفوظ نہیں سمجھتی اور کیوں وہ ڈر اور خوف کا شکار ہوتی ہیں؟

بچوں، بچیوں او رعورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مسئلہ محض پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیں جو فرق پاکستان او رمغربی ممالک میں نظر آتا ہے وہ قانون پر عملدرآمد سمیت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوتا ہے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ پہلے فریق زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے اور دوسری بڑی زیادتی اس کے ساتھ قانون، پولیس اور سماج کرتا ہے جہاں اسے عدم انصاف سمیت مزیدذہنی عدم سکون اور مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فکری مغالطہ بھی غلط ہے کہ پاکستان میں صرف عورتوں یا بچوں و بچیوں کے ساتھ محض جنسی تشدد ہی ہوتا ہے۔ ایسی تصویر پیش کرنے والے بھی معاشرے کی کوئی بڑی خدمت نہیں کر رہے ہوتے، حالانکہ معاشروں کی سطح اچھے اور برے دونوں پہلو ہوتے ہیں اور ان میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اصل مسئلہ اس طرز کے واقعات کے خلاف آواز اٹھانا اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا سمیت ادارہ جاتی عمل کو زیادہ سے زیادہ مضبوط، خود مختار اور شفافیت کی بنیاد پر قائم کیا جانا چاہیے۔ یہ سماجی بیانیہ مکمل غلط ہے کہ ہم جنسی زیادتی کے شکار افراد کو انصاف دلوانے یا اس طرز کے جرائم کو ختم کرنے کی بجائے الٹا اسی عورت پر الزام لگاتے ہیں کہ مختلف وجوہات کی بنا پر غلطی اسی کی ہے۔ یعنی عورت یا بچی و بچے کا گھر سے نکلنا ہی اس کا بڑا جرم بن جاتا ہے اور اس جنسی سطح پر ہونے والی زیادتی کے بعد جو کچھ سماجی، خاندانی او رمعاشرتی سطح پر اس کے ساتھ جو سلوک یا برتاؤ ہوتا ہے وہ خود تکلیف دہ امر ہے۔ اس لیے معاشرے کے بالادست طبقات جو سیاسی، سماجی، مذہبی، انتظامی اور قانونی محاذ پر بڑی حیثیت رکھتے ہیں ان کو بھی اپنے الفاظ، طرز عمل کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے تاکہ تعصب کا پہلو نمایاں نہ ہو۔

ایک مسئلہ ملک میں بچوں، بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مجرموں کو سزا دینے پر تقسیم کا ہے۔ ایک طبقہ ان مجرموں کے خلاف سخت سنگین سزائیں جس میں پھانسی اور وہ بھی سرعام سزا کا حامی ہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ موت کی سزا سمیت سرعام سزا کے خلاف ہیں۔ ایسے لوگ عمومی طور پر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں او ران کے خلاف ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی سمیت سماج کے بیانیہ میں کسی قسم کی بھی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ اب وقت ہے کہ ا ن مجرموں کے خلاف سنگین نوعیت کی سزا دینی ہوگی اور خود ہماری پارلیمنٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو حتمی فیصلہ پر اتفاق رائے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہمیں عورتوں او ربچیوں کے خلاف جرائم کے خاتمہ کے لیے ایک نئے سماجی وقانونی بیانیہ درکار ہے جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں اور بغیر کسی ڈر یا خوف کے آزادانہ بنیادوں پر اپنی نقل و حمل کو یقینی بناسکیں۔ یہ سماجی بیانیہ محض قانون سازی یا اسے محض حکومت نہیں تیار کرسکتی۔ اس کے لیے ہمیں معاشرہ کی سطح پر ایک بڑی سماجی تحریک جو علمی و فکری بنیادوں پر ہو قائم کرنی ہے۔ ہمیں پانچ بنیادی سطحوں پر کام کرنا ہوگا۔ اول تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے بشمول مدارس میں سے بچوں کی تربیت کے معاملے کو بنیاد بنانا ہوگا۔

نصابی کتابوں میں تشدد سمیت عورتوں کے بارے میں منفی رویوں یا طرزعمل کو ایک بڑے مسئلہ کے طور پر پیش کرنا ہوگا اور ان ہی تعلیمی اداروں سے تحقیق کے امور پر توجہ دینی ہوگی کہ کیونکر لوگ عورتوں اور بچیوں کو جنسی بنیادوں پر درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ بچیوں میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے سیلف ڈیفنس کی تربیت کو لازمی قرار دیا جائے۔ دوئم مساجد، علمائے کرام، سیاسی و مذہبی جماعتوں، اہل دانش، شاعر، ادیب، میڈیا کے محاذ پر اس سماجی بیانیہ کو تشکیل دینا ہوگا کہ عورت کا تحفظ معاشرے کی بنیادی کنجی ہے او ران کے خلاف ہر جرائم کی حوصلہ شکنی اور جوابدہی کے نظام کو طاقت دینی ہوگی۔

میڈیا میں چلنے والے ڈراموں، فلموں او راشتہارات میں عورتوں کی جنسی عکاسی کے مقابلے میں ان کی مثبت تصویر پیش کی جائے۔ سوئم ریاستی، حکومتی سطح پر عورتوں کے خلاف جرائم کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹنا ہوگا، پولیس و انتظامی اور قانونی اداروں کے ادار ہ جاتی میکنزئم کو زیادہ شفافیت کے ساتھ ڈھالنا ہوگا۔ اسی طرح پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں یا عملہ کی صنفی بنیادوں پر تربیت پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ پارلیمنٹ قانونی سقم کو ختم کرے او رموثر اور سخت قانون سازی یا پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی مدد سے اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کرے اور جنسی زیادتی سے نمٹنے کے لیے سپیشل کورٹ قائم کی جائیں، مقدمات کے فیصلہ کے لیے مدت مقرر کی جائے اور بنچ میں ایک عورت بطور جج شامل ہو۔ کیونکہ ان واقعات کو روایتی عدالتی نظام سے بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ پنجم نوجوانوں کی سطح پر معاشرے میں عورتوں کے بنیادی حقوق او رتحفظ کے حوالے سے سماجی بیداری تحریک ہو جس میں خود لڑکے یا مرد اس تحریک کی مدد سے اس احساس کو اجاگر کریں کہ وہ عورتوں یا بچیوں کے حقوق کے تحفظ میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کیونکہ اگر ہم نے مہذہب معاشرہ بننا ہے اور جہاں عورتوں او ربچیوں کو تحفظ دینا ہے تو پھر بہت کچھ بدلنا ہوگا تاکہ ہم خود کو ہر سطح پر عملامہذب معاشرہ کے طور پر پیش کرسکیں۔ یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بطور ریاست، حکومت، ادارہ او رمعاشرہ عورتوں اور بچیوں کے تحفظ میں عملی بنیادوں پر ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •