زنا ، زنا بالجبر اور عورت کی حیثیت طے کرتے قوانین پر ایک نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پاکستان اس خطے پر ابھر تو اس نے ایسے قوانین کو اپنایا جو برصغیر پاک و ہند میں پہلے سے موجود تھے اور پاکستانی سول اور فوجداری ضابطے کے قانون بھی اسی روایت کا حصہ بن گئے۔ ریپ کے لیے قانون سازی ان اپنائے گئے قوانین کا ایک حصہ تھا۔ 1979 میں اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا جب فوجی آمر جنرل ضیا الحق، جس نے پاکستان میں اسلامی قانون کے انتہائی قدامت پسند اور متنازعہ ورژن کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کی سزا ہم اب بھی بھگت رہے ہیں۔

اس قانون کا سب سے زیادہ تباہ کن نتیجہ 1979 میں حدود آرڈیننس کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حدود آرڈیننس پانچ ایسے آرڈیننس کا مجموعہ ہے جن پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی۔ قومی بحث و مباحثے کے بغیر کوئی بھی قانون لاگو کرنا مارشل لا رجیم کا یوں بھی خاصہ رہا ہے۔ اقتدار میں غیر قانونی تسلسل کا جواز پیش کرنے کا یہ ایک عامیانہ سا حربہ ہوتا ہے۔

حدود آرڈینینس اصل میں پاکستان پینل کوڈ کے تحت متعارف کرایا گیا۔

حدود آرڈیننس خصوصاً زنا آرڈیننس کو خاص طور پر خواتین اور معاشرے کے دوسرے پسماندہ طبقوں کے لئے ناقابل یقین حد تک جابرانہ ہونے کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سرکردہ فقیہ، دانشور، ممبران، صحافی اور ماہرین تعلیم نے بھی ان قوانین کی نا انصافی اور اسلام کی اصل روح کے خلاف ہونے کی مخالفت کی ہے۔

یہاں تک کہ سرکاری سطح پر 1997 میں خواتین کے تحقیقاتی کمیشن اور خواتین کے متعلقہ قومی کمیشن کی خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر انتہائی اہم اکثریت کے ساتھ اس کی منسوخی کی سفارش کی۔ اس سخت مخالفت کے باوجود ان قوانین کو ان کی ’اسلامی‘ نوعیت کی وجہ سے 27 سالوں سے بحث اور تنقید سے بالا تر سمجھا جاتا رہا۔

یہ آرڈیننس اور اس کی مختلف دفعات خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ جس انداز اور طریقے کا رویہ اپناتی ہیں وہ اس کے استعمال کی وجہ سے معاشرے کے امتیازی سلوک میں ظاہر ہوا۔

اس میں مجموعی طور پر خواتین اور اقلیتوں کی گواہی کو خارج کیا گیا۔

زنا بالجبر اور زنا کو مساوی قرار دیا گیا: زنا بالجبر کو زنا کی ایک شکل قرار دیا گیا۔ زنا کے قانون کی طرح ریپ کے کیس میں بھی قانون کے تحت چار بالغ مسلمان مردوں کو پابند کیا گیا کہ وہ عصمت ریزی کی گواہی دیں تو ہی سچ تسلیم کیا جائے گا جب کہ اسلام میں یہ قانون زنا کے لیے ہے ریپ کے لیے نہیں۔ جس کے نتیجے میں عصمت دری کرنے والوں کو قانونی طور پر مضبوط بنا دیا گیا اور اس کا قانون کی پکڑ میں آنا ناممکن ہو گیا۔ اس طرح کے آرڈیننس سے بہتری کی بجائے ریپ کلچر کو ترویج ملی۔ جوانی کے ساتھ بلوغت کو مساوی قراردیا۔ اور اس طرح سے قانون میں نرمی لاکر مزید معاشرتی مسائل پیدا کئیے گئے

عصمت دری کے معاملات زنا کے معاملات میں تبدیل ہوچکے تو حمل کو خواتین کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اگر کوئی عورت عصمت دری ثابت نہیں کر سکتی ہے۔ اس کے حمل اور اس کی عصمت دری کی اطلاع کو اس کے زنا کے اعتراف کے طور پر لیا جاتا۔

ریپ ثابت ہو بھی جاتا تو ہلکے سے معاوضے پر چھوٹ مل جاتی۔
نتیجتاً، پولیس افسران، وکلا اور حتی کہ بعض ججوں تک کو بھی بار بار اس قانون کا غلط استعمال کرتے دیکھا گیا۔

تحقیقات کو صحیح طریقے سے نہ کرایا جاتا۔ فرانزک شواہد کو صحیح طریقے سے جمع نہیں کیا گیا یا غلط طریقے سے چھیڑا گیا ہے۔ غلط ایف آئی آر درج کی جاتی جو پورے جرم کو موثر انداز میں نہیں لیتی یا اس کیس کے تمام پہلوؤں کی اطلاع نہ دیتی۔ پولیس کبھی غفلت کے ذریعہ یہ کام کرتی ہے، کبھی جانکاری کا فقدان وجہ بنتا یا بد نظمی یا شخصی تعصب کی بنا پر حقائق پس پردہ چلے جاتے۔ مزید برآں، ممتاز مرد وکلا اور بعض جج بھی مجرموں کے ساتھ ہمدردی رکھتے اور ان کے حق میں فیصلے کے لئے جدوجہد کرتے۔

یہ قانون پیٹرارکی (پدر سری) کے ہاتھ میں ایک مہلک ہتھیار بن کر رہ گیا جس کا بے دریغ غلط استعمال کیا گیا۔ ایسے غیر انسانی رویے کی وجہ سے یا مقدمات کا اندراج نہ کیا جاتا یا عورت کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ اس سے عورت کے قانونی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور مجرموں کو بھی سزا نہ ملتی۔ عورت کو شرمندہ کیا جاتا اس کا مستقبل داغدار ہو جاتا اور اس کی زندگی تباہ ہوجاتی۔ ایسی فرعونیت ہمارے سماجی رویوں پہ جو نقوش چھوڑ گئے ہم اب تک مٹا نہیں سکے۔

حالات جیسے بھی ہوں، بدنیتی پر مبنی ہوں یا حفاظتی، عصمت دری اور عصمت دری کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے واقعات بہت کم ہیں۔ پاکستان میں زنا بالجبر کے واقعات کی تحقیقات اور ان کے نفاذ کے سلسلے میں پوری اسکیم، عمل اور طریقہ کار کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنا بہت ضروری ہے۔ پولیس کے کردار کو دوبارہ جانچنا چاہیے اور بہتر تربیت اور حساسیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ خواتین مخالف معاشرتی تعصب کو ختم کرنے کے لئے باقاعدگی سے نگرانی اور فیصلوں پر جانچ پڑتال کرنا بھی ضروری ہے۔ متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔

اب آتے ہیں اس قانون کے کچھ اور خوفناک اور گمبھیر پہلوؤں کی طرف۔ ایک عورت 16 سال کی بلوغت کی عمر میں سمجھی جاتی۔ بلوغت کو جسمانی پختگی سے تعبیر کیا گیا (یعنی ماہواری کی عمر، جو 9 یا 10 سال کی عمر میں ہو سکتی ہے ) ذہنی پختگی کے برخلاف، اور اس طرح بالغ ہونے کا حقدار ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک بچی گواہی کے لئے تو نا بالغ ہے ہاں مگر زنا کے لیے اسی عمر کی بچی بالغ تصور کی جاتی ہے۔ یہ قانون خواتین کو ہراساں کرتا رہا، ان کا استحصال کیا گیا۔ خواتین کو حدود کے الزام میں قید کیا گیا اور وہ برسوں تک قید میں رہیں۔ تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ زنا کے الزام میں جیل میں رکھی خواتین کو ان کے باپ، بھائی اور شوہر نے وہاں رکھا تھا۔

زنا بالجبر اور زنا کاری دونوں کو بلا تخصیص جرم قرار دیا گیا اور ان سے معاشرے میں ابھرنے والے پیچیدہ مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔

زنا بالجبر کا جرم اب پاکستان پینل کوڈ 1860 میں ہے۔

زنا بالجبر کی سزا پاکستان پینل کوڈ کی بالترتیب دفعہ 375 اور 376 کے تحت آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ثبوت کی ضرورت کسی دوسرے جرم کی طرح ہی ہوگی۔ نہ صرف فرانزک ثبوت (جیسے ڈی این اے ) بلکہ متاثرین کی شہادتوں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

گینگ ریپ کی صورت میں ہر فرد کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہوگی۔

قانونی دفعہ کے تحت زنا بالجبر کی تعریف یہ ہے

مرد نے مندرجہ ذیل پانچ بیانات میں سے کسی ایک کے تحت کسی بھی حالت میں عورت سے جماع کیا ہے تو وہ زنا بالجبر ہے
اس کی مرضی کے خلاف
اس کی رضامندی کے بغیر
اس کی رضامندی کے ساتھ، جب موت سے یا تکلیف کے خوف میں دلا کر رضامندی حاصل کی گئی ہو،
اس کی رضامندی کے ساتھ، جب مرد جانتا ہے کہ اس نے اس سے شادی نہیں کی ہے اور یہ رضامندی اس لئے دی گئی ہے کہ اس سے شادی کرے گا

جب کہ اس کی عمر سولہ سال سے کم ہو تو اس کی رضامندی کے ساتھ یا اس کے بغیر۔
زنا بالجبر کے جرم کے لئے ضروری جماع کو مرتب کرنے کے لئے دخول کافی ہے۔

قانون کے حامیوں نے دعوی کیا کہ اس آرڈیننس کے پیچھے منشا خواتین کو زنا جیسے گھناؤنے جرائم سے بچانا تھا، لیکن عملی طور پر اس کے برعکس ہوا۔

حقیقت میں، اس کا استعمال ان خواتین کو اذیت دینے کے لئے کیا گیا تھا جو اپنی پسند سے شادی کرتی ہیں، طلاق لینے کی خواہش مند بیویاں، طلاق یافتہ خواتین جو دوبارہ شادی کی خواہاں ہیں یا بچوں کی گرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں وغیرہ۔ یہ خواتین کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ کرنے والا ایک طاقت کا ذریعہ ہے۔

زنا آرڈیننس کو آخر کار تحفظ برائے خواتین (فوجداری قانون) ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ ترمیم کیا گیا۔

اس قانون نے ان نا انصافیوں کو براہ راست چیلنج کرنے کے لئے متعدد آلہ کار اور عملی تبدیلیاں کیں جو ایسے معاملات سے نمٹنے کے وقت نظام کا حصہ بن چکے تھے :

نکاح جیسے الفاظ کو خاص طور پر قانون سازی سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایک خاص اثر ہوگا۔

لہذا جبری طور پر جماع کے دفاع کے طور پر نکاح کے تقاضے کو ہٹانے کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت کے مابین تعلقات غیر فطری ہے اگر جنسی تعلقات کسی عورت کی رضامندی کے خلاف ہو یا اسے مجبور کر کے اس کا ارتکاب کیا گیا ہو۔ خواہ وہ اس کی بیوی ہو یا نہیں۔ زنا بالجبر ہی ہے

کیا پھر ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ ازدواجی حیثیت سے قطع نظر، 16 سال سے کم عمر کی لڑکی سے شادی زنا بالجبر ہے؟
اگرچہ یہ بات عیاں ہے کہ زنا بالجبر پر ایک وسیع قانون موجود ہے، جس میں بچوں اور ازدواجی زنا بالجبر کے اہم امور کا احاطہ کیا گیا ہے، لیکن یہ قانونی سطح پر اس کی عملی تشکیل کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔
ابھی مزید تبدیلیاں قوانین میں ہو بھی جائیں تو کیا جو ذہنی بنت بن چکی ہے عورت ذات کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کر رکھ چھوڑنے کی، کیا اس میں تبدیلی آئے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •