میرا بھائی، میرا دوست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ میرا حوصلہ ہے کہ تیرے بغیر بھی میں۔
سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں۔

جاوید بھائی یوں تو مجھ سے عمر میں تقریباً ساڑھے تین سال بڑے تھے لیکن ہم دونوں میں بے تکلفی ایسی تھی کہ اکثر لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا کہ ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم بھائی سے زیادہ دوست تھے اور ہماری محبت ضرب المثال تھی۔ ایک سکول۔ ایک کلاس اور ایک ہی بنچ پر بیٹھنا اور دوست بھی مشترکہ۔ ساتویں کلاس کے سالانہ امتحان میں میں تو پاس ہوگیا لیکن جاوید بھائی ایک پرچے میں فیل ہوگئے اور اگلی کلاس میں پروموٹ نہ ہو سکے۔

میں نئی کلاس میں کچھ دن تو گیا لیکن بھائی کے بغیر دل نہیں لگا ایک دن گھر آکر میں رونے لگا۔ ابا کا میں چہیتا تھا۔ ان کے پوچھنے پر بتایا کہ نئی کلاس اچھی نہیں لگتی اور اب میں اسکول بھی نہیں جاؤں گا۔ وجہ پوچھی تو یہی بتایا کہ بھائی کے بغیر اچھا نہیں لگتا۔ اگلی صبح ابا میرے ساتھ اسکول گئے اور ہیڈ ماسٹر صاحب سے درخواست کی کہ مجھے ساتویں کلاس میں دوبارہ بیٹھنے کی اجازت دی جائے پہلے تو ہیڈ ماسٹر صاحب حیران ہوئے کہ یہ کیسی انوکھی خواہش ہے پھر انہوں نے اجازت دے دی۔ اس طرح میں نے ایک کلاس دو بار پڑھی۔ ۔ ۔ اور اس واقعہ کا خوب چرچا ہوا۔

جاوید پڑھائی میں تو زیادہ دلچسپی نہیں لیتے لیکن کھیل کے میدان میں آگے آگے رہتے۔ نو عمری کے باوجود اسکول کی سینئیر الیون میں تھے وہ کرکٹ اور فٹبال کے بہترین کھلاڑی تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم آٹھویں یا نویں کلاس میں تھے تو ان کو دوسری ٹیم والے اتوار کے دن صبح ہی لینے آ جاتے اور اپنی طرف سے کھلاتے۔ فاسٹ بولنگ کرتے اور بیٹنگ بھی بہت اچھی کرتے۔ ان کے پاس رنگ برنگی پتنگوں۔ ڈور مانجھے اور رنگا رنگ کنچوں کا ذخیرہ رہتا جنہیں میں للچائی نظروں سے دیکھتا کبھی مجھے بھی دے دیتے یا پتنگ بڑھا کر مجھے اڑانے کے لیے دے دیتے وہ میری کسی بات کو کبھی نہیں ٹالتے تھے۔

کرکٹ کے بیٹ پر گھنٹوں تیل لگا کر اسٹروک نکالتے اور گیندوں کو چمکاتے رہتے۔ بعد میں وہ کراچی کے مشہور کلب سنگم سے بھی کھیلے۔ اکثر جب کبھی دوست اکٹھا ہو جاتے تو رمی اور فلاش کی محفل بھی جمتی۔ میں بھی کھیلتا لیکن آخر میں جیت جاوید بھائی کی ہی ہوتی اور وہ میری ہاری ہوئی رقم خاموشی سے میری جیب میں ڈال دیتے۔

ایک دن کرکٹ کا میچ جاری تھا وہ بھی ٹیم کا حصہ تھے اور میں تماشائیوں میں بیٹھا میچ دیکھ رہا تھا کہ کسی بات پر دو لڑکوں سے میری لڑائی ہوگئی وہ دونوں مجھ پر بھاری پڑ رہے تھے جاوید بھائی لانگ آف پر فیلڈنگ کر رہے تھے انہوں نے مجھے پٹتے دیکھا پھر کیا تھا وہ فیلڈنگ چھوڑ کر بھاگے آئے اور ان دونوں لڑکوں کی خوب پٹائی کی۔ جب وہ آس پاس ہوتے تو مجھے ایک خاص قسم کے تحفظ کا احساس رہتا۔ ان کے جانے کے بعد یوں لگتا ہے کہ کسی نے میرے وجود کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہو جیسے دل بجھ سا گیا ہو کوئی مہرباں راز دار نہ رہا۔ ہر طرف ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے جیسے کہیں کچھ کھو گیا ہو۔ ۔ ۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے!

جاوید بھائی اچھی خاصی شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ تاریخ کے دلدادہ تھے ان کے مطالعے میں نسیم حجازی، منٹو عصمت، کرشن چندر وغیرہ رہتے۔ ابن صفی تو خیر گھر میں سب ہی پڑھتے اور وہ بھی۔ جاوید بھائی مجھ سے پہت پیار کرتے اور مجھے بچوں کی دنیا۔ تعلیم۔ و تربیت اور بہت سی کہانی کی کتابیں لائبریری سے کرایہ پر لا کر دیتے اور پڑھواتے بھی۔ میں کتابیں لے تو لیتا لیکن پڑھتا کم ہی تھا میرا زہادہ رجحان انگریزی کامکس کی طرف تھا جسے میں خود بھی پڑھتا اور ان کو بھی سناتا لیکن وہ اردو ادب اور شاعری زیادہ شوق سے پڑھتے اور مجھے بھی تاکید کرتے کہ اپنی زبان پڑھا کرو۔

تمام تر بے تکلفی کے باوجود میں ان سے ایک فاصلہ رکھتا اور کبھی کوئی تہذیب سے گری زبان ان کے سامنے استعمال نہیں کی اور وہ خود بھی میرے سامنے لیے دیے رہتے جس کی وجہ شاید ایک فطری حجاب اور بڑے چھوٹے کا لحاظ تھا۔

افسوس کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ بھائی سے زیادہ میرے دوست تھے۔ ان کی کمی اور خلا کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ آج بھی جب یاد آتے ہیں تو دل کٹ سا جاتا ہے اور بے اختیار فیض صاحب کا وہ نوحہ یاد آنے لگتا ہے جو انہوں نے اپنے بھائی کی وفات پر لکھا تھا۔

” مجھ کو شکوہ ہے میرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے۔
لے گئے ساتھ میری عمر گزشتہ کی کتاب۔
اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں۔
اس میں بچپن تھا مرا اور مرا عہد شباب۔
اسکے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے ہوئے۔
اپنے غم کا دمکتا ہوا یہ خوں رنگ گلاب۔
کیا کروں بھائی یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں۔
مجھ سی لے لو میری سب چاک قمیضوں کا حساب۔
آخری بار ہے لو مان لو اک یہ بھی سوال۔
آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوس جواب۔
آ کے لے جاؤ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول۔
محھ کو لوٹا دو مری عمر گزشتہ کی کتاب۔ ۔ ۔ ”

آہ! جاوید بھائی آپ نہ رہے لیکن آپ کی یادیں آج بھی میرے دل میں اسی طرح زندہ ہیں۔ آپ اب بھی مجھے کہیں اپنے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں ”اور آپ کا دیا ہوا“ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب ”اسی طرح آج بھی ترو تازہ ہے۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •