ریڈیو پر اک قیدی مجھ سے کہتا ہے…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نہیں جانتا وہ کون ہیں؟ میں ان کے نام سے بھی واقف نہیں لیکن ان کے ساتھ پیش آئے واقعے نے مجھے بلکہ ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دکھی کر دیا ہے۔ یہ تحریر لکھتے میرا ہاتھ کانپتا ہے، دل بیٹھ جاتا ہے اور دماغ ماؤف ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا گر چکا ہے۔ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر مدد کرنے کی بجائے وحشت اور درندگی رقص کناں ہوگئی۔ ذہنی صحت اور علم نفسیات سے آگاہی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جنسی زیادتی ایک نہایت سنگین صدمہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اور پھر وہ بچے جو وہاں موجود تھے وہ کیسے اس صدمے سے جانبر ہوں گے؟

یہ خاتون اپنے خاندان کے ساتھ دنیا کے ایک مہذب ملک میں یقیناً معقول زندگی گزار رہی ہوں گی۔ انہیں اپنے ماں باپ، بہن، بھائی، دوست رشتہ دار یاد آتے ہوں گے۔ انہیں اپنے شہر اپنے گاؤں کی یادیں ستاتی ہوں گی۔ وہ پاکستان ہر سال چھٹیوں پہ بھی آتی ہوں گی۔ بہت سے سادہ لوح اوورسیز پاکستانیوں کی طرح انہیں لگتا ہوگا کہ اپنے بچوں کو یورپی ماحول کی جگہ پاکستان میں پلنا بڑھنا چاہیے جہاں دن میں پانچ بار فضائیں اذان سے گونج اٹھتی ہیں۔

ملک سے باہر خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت اسی قسم کے ناسٹلجیا کا شکار ہوتی ہے۔ مزید کسر کچھ دانش ور پوری کر دیتے ہیں جو پاکستان کا کچھ ایسا رومینٹک نقشہ کھینچتے ہیں کہ لگتا ہے کہ قوم عظمت کی بلندیوں پہ فائز ہوا چاہتی ہے۔ بس چند سیاستدانوں کو لٹکا دیجئے تو رفعتیں آپ کی منتظر ہیں۔ مجھے یقین ہے جب ان خاتون نے پاکستان واپس آنے کے بارے میں فیصلہ کیا ہوگا تو خیر خواہوں نے روکا ہوگا، سمجھانے کی کوشش کی ہوگی۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ آہ

چند سال پہلے میں ایک یورپی ملک میں اپنی فیملی کے ساتھ ڈرائیو کر رہا تھا۔ بڑی شاہراہوں کی بجائے ہم نے قصباتی سڑکوں سے سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ رستے میں جنگل بیابان تھا کبھی کبھار کوئی گاڑی کراس کرتی تھی۔ میں اپنے جی پی ایس پر انحصار کر رہا تھا جس کے مطابق ایک پٹرول پمپ نے آنا تھا لیکن وہ نہ آیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ میں ایک غلط موٹر مڑ گیا تھا۔ جھٹپٹے کا وقت تھا جب بیچ بیابان گاڑی کا انجن خاموش ہوگیا۔ میں نے پولیس کی ہیلپ لائن پر کال کی۔

نہ صرف یہ کہ وہ بیس منٹ کے اندر اندر پہنچ گئے بلکہ پٹرول کا کین ساتھ لائے۔ وہاں سے ہمیں صحیح رستے پہ ڈال کر نزدیکی پٹرول اسٹیشن پہنچا کر ہی واپس آئے اس سارے عرصے میں ہمیں کسی ڈر اور خوف کا احساس تک ہوا حالانکہ وہ ایک اجنبی ملک تھا جس کی زبان سے بھی ناآشنا تھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ان ممالک میں سب پرفیکٹ ہے۔ جرائم وہاں بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کسی ایمرجنسی میں محکمے ذمہ داریاں شفٹ نہیں کرتے رہتے۔

لیکن پاکستان ایسا ہرگز نہ تھا۔ ہم تو ہمدرد، مہمان نواز اور سخی دل ہوا کرتے تھے۔ مجھے ٹریکنگ کا جنون رہا ہے اب بھی ہے۔ 1980 ء کے اوائل کا ذکر ہے ہم چند دوست شمالی علاقہ جات میں ہائیکنگ کے لئے گئے تھے۔ پہاڑوں میں خراب موسم کی صورت میں رستے کھو دینا عام سی بات ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ نقشے کے مطابق جس گاؤں ہمیں ظہر کے قریب پہنچنا تھا وہاں ہم مغرب کے بعد بھی نہیں پہنچ سکے۔ خشک دودھ کے ایک پیکٹ کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء اس صبح ہی ختم ہوچکی تھیں۔

اندھیرا چھا گیا اور ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ ہم کہاں تھے۔ اس زمانے میں جی پی ایس یا موبائل تو ہوتے نہیں تھے بس اللہ کے آسرے ایک طرف ہم چلتے رہے۔ اس وقت ہمیں دو فرشتے ملے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کا گاؤں پہاڑ کے پیچھے ہے۔ وہ اپنے جانور تلاش کرنے نکلے تھے اور خراب موسم کی وجہ سے دیر ہوگئی تھی۔ اس چھوٹے سے گاؤں کے باسی جس میں شاید پندرہ بیس گھر ہوں گے اتنی رات گئے ہمیں دیکھ کر حیران ہوگئے۔ واضح رہے ہم تینوں ٹین ایجر تھے۔

ملک اتنا محفوظ تھا کہ نہ صرف ہم بلا خوف و خطر گھومتے پھرتے تھے بلکہ ہمارے والدین اجازت بھی دے دیتے تھے۔ مجھے اپنے میزبان کا نام آج بھی یاد ہے۔ امین صاحب نے ہماری مدارات میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس رات کے کھانے کی لذت کو میں آج تک بھول نہیں پایا۔ پاکستان کے لوگوں کی سخاوت اور ہمدردی کے نہ جانے کتنے ہی واقعات بیان کیے جا سکتے ہیں۔

تو پھر حالیہ پاکستان میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ الزام اور دشنام کا چلن کیوں ہوگیا ہے؟ تشدد، دہشت اور وحشت حیات کا حصہ کیسے اور کیوں بن گئے ہیں؟ کیونکر ہم اخلاقی پستی کی گہرائیوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں؟ بنیادی انسانی اقدار سے عاری ہوچکے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟

جو لوگ بیچارے سی سی پی او لاہور صاحب کے لتے لے رہے ہیں وہ غلطی پہ ہیں۔ استحصالی معاشروں جہاں غربا کو روٹی نہ ملنے کی صورت میں کیک کھانا تجویزکیا جاتا ہو۔۔۔ یا ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کرلینے کی صلاح دی جاتی ہو وہاں عمائدین سلطنت ایسا ہی کہا کرتے ہیں۔ انہوں نے تو شاید ہتھ ہولا رکھا ہے۔ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ آخر یہ اوورسیز پاکستانی واپس آتے ہی کیوں ہیں؟ انہیں وہیں رہنا چاہیے اور زرمبادلہ بھیجتے رہنا چاہیے، یا پھر پلاٹ وغیرہ خریدتے رہنا چاہیے تاکہ ان کے لواحقین خوردبرد کرتے رہیں یا قبضہ گروپس کا کام چلتا ہے۔

بہت سال بیت گئے جب ممتاز مفتی حیات تھے تو میں ایک شام ان سے ملنے گیا۔ بہت سی باتوں کے بعد انہوں نے کہا ”او کاکا۔ تجھے پتہ ہے پچھلے دنوں منیر (نیازی) نے کیا کہا ہے؟“

” منیر تو جو بھی کہتے ہیں اچھا ہی ہوتا ہے۔“ میں نے جواب دیا۔

”میں شاعری کی بات نہیں کر رہا۔ اس نے کچھ ایسی بات کہی ہے کہ جس نے ہلا کے رکھ دیا ہے۔“ مفتی صاحب کا ڈرامائی انداز یکتا ہوا کرتا تھا۔

”منیر کیندا اے (یہ ساری گفتگو پنجابی میں تھی) بتایا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں لیکن تم نہیں جانتے۔ تو یہ دوسری طرح بھی ہو سکتا ہے۔“

”یعنی۔“
” تسی سارے مردہ ہوو۔ ۔ ۔ پر تانوں پتہ نا ہووے“ ۔
( ہم سب مردہ ہوں لیکن جانتے نہ ہوں۔)

یہ سن کر مجھے مجید امجد کی ایک نظم یاد آئی جو ہماری تاریخ کے ایک المناک موڑ پر لکھی گئی تھی۔

ریڈیو پر اک قیدی مجھ سے کہتا ہے
’میں سلامت ہوں ،سنتے ہو ،میں زندہ ہوں “
بھائی ،تو یہ کس سے مخاطب ہے …
ہم کب زندہ ہیں
ہم تو اپنی اس چمکیلی زندگی کے لئے تری مقدس زندگی کا یوں سودا کرکے
کب کے مر بھی چکے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •