مردانہ صلاحیت کا خاتمہ اور ناک کاٹ دینا، جنسی جرائم کا واحد علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سوشل اور ویب میڈیا پر موٹروے حادثے اور اس کے بعد کی صورت حال کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سی سی پی او کے نامناسب بیان کی مذمت سے لے کر جنسی جرائم کے مجرمان کو سرعام سزائے موت کے مطالبات تک بہت سا مواد نگاہ سے گزرا اور گزر رہا ہے۔

فنکار برادری نے بھی حادثے کی شکار ماں سے اظہار یکجہتی کے لئے کراچی میں مظاہرہ کیا۔ اس میں ہماری بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان بھی شامل تھیں۔ فنکار برادری کی جانب سے یہ مظاہرہ باعث مسرت و ستائش ہے کہ انہوں نے اس نہایت اندوہ ناک اور نازک معاملے پر آواز بلند کی اور واضح الفاظ میں مجرمان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں، قصور میں جنسی بے حرمتی کے بعد قتل کر دی جانے والی کم سن بچی زینب کے مجرم کو سزائے موت دی گئی تھی۔

اداکارہ صنم سعید نے ٹویٹ کیا تھا کہ جنسی جرائم کے مجرمان کو سزائے موت دینے کی بجائے زندہ رکھنا چاہیے لیکن ان کی جنسی صلاحیت کو ختم کر دیا جائے تاکہ وہ تمام عمر اذیت اور شرمندگی محسوس کرتے رہیں اور دوسروں کے لئے نشان عبرت ہوں۔ یہ موقف بھرپور تائید کے لائق ہے کیونکہ سزائے موت بلاشبہ اس اذیت کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ایک جنسی درندہ کسی عورت یا بچی کو پہنچاتا ہے۔ مردانہ صلاحیت کے خاتمے سے وہ بھی ویسی ہی اذیت سے گزرے گا جو زیادتی کا شکار شخص کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے۔

ایسی صورت میں ناجائز تو کیا، وہ جائز اور قانونی تعلقات بھی قائم نہ کر سکے گا اور یہی ایسے درندہ صفت مرد کی سزا ہے۔ بلکہ اس میں یہ اضافہ بھی ہونا چاہیے کہ آبروریزی کا جرم ثابت ہو جانے پر اس کی ناک کاٹ دی جائے۔ جسم تو لباس میں چھپ جائے گا لیکن ایک نک کٹا مجرم اپنا چہرہ کیسے چھپائے گا؟ عورت کی طرح نقاب یا پردہ تو بے چارہ کر نہیں سکے گا۔ لوگ ناک کے بغیر چہرہ دیکھ کر خود ہی اس کا جرم سمجھ جائیں گے۔ جو نہ سمجھیں، وہ پوچھیں گے اور یہی سوال ناگ بن کر اسے ڈستا رہے گا اگر وہ بے حس و بے شرم نہ ہو۔

ناک اور مردانہ جنسی ہارمونز پیدا کرنے والے عضو کے کٹ جانے یا ناکارہ ہو جانے کے بعد اس کی زندگی اور جذبات و احساسات کیا ہوں گے، خود ہی اندازہ لگا لیں۔ جس طرح عورت ظلم و زیادتی کا ”شکار“ ہونے کے باوجود ایسے جملے سنتی ہے کہ وہ خود ذمہ دار ہے، تو پھر مجرم کو بھی وہ سزا ملے کہ وہ خود کو ”ذمہ دار“ محسوس کرے۔ پھر اس ذلت آمیز زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ کسی جوہڑ میں ڈوب مرے تو اس کی مرضی۔

ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہی ہے تاکہ مرد ذلت سے بھرپور زندگی اور جینا حرام کر دینے والے طعنوں کے خوف سے جرم کرنے کا سوچنے سے بھی گریز کرے۔ مزید یہ کہ:

٭حکومت پورن مواد کی انٹرنیٹ پر آسان دستیابی کو ہر طرح سے روکے۔ پورن مواد، جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنے میں یقیناً اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تب غیر شادی شدہ مرد اور لڑکے ”آگ“ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے آسان اہداف تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں گھر اور گھر سے باہر کی کم عمر بچیاں، مادہ جانور مثلاً بلی، کتیا، گدھی وغیرہ ان کی جنسی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ جو شادی شدہ ہوں، ان کی ہوس بیویوں پر ظلم کر کے پوری ہوتی ہے۔ بیوی کی مجال کہ ”مجازی خدا“ کو انکار کرے۔ ایسی عورت کو ”شیطان کی مانند راندۂ درگاہ“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ سو حکومت ڈنڈے کے زور پر بھی پورن مواد پر پابندی لگائے تو درست ہے۔

٭جن مجرمان پر آبروریزی کے الزامات ہوں، ان کا ڈی این اے ڈیٹابیس تیار کیا جائے تاکہ آئندہ ہونے والے کسی جرم کی تفتیش اور ثبوت حاصل کرنے میں آسانی اور وقت کی بچت ہو۔

٭تعلیم کو پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بھی عام کیا جائے۔ نصاب میں ایسے اسباق شامل ہوں جن سے لڑکوں کو کم عمری میں ہی تربیت ملے کہ صنف نازک کا احترام کریں، نہ کہ اسے کمزور، کمتر، یا اپنی ملکیت سمجھیں۔

٭بچوں کی تعلیم و تربیت کی زیادہ ذمہ داری چونکہ ماں پر ہوتی ہے تو ماؤں کو یہ شعور دیا جائے کہ بیٹوں کو صنف نازک کا محافظ بنائیں، نہ کہ رہزن۔ یہاں تو معاذ اللہ ماں کے درجے پر ایسی بھی عورتیں فائز ہیں جو کہتی ہیں، ”میرے بیٹا تو نہا کر پاک صاف ہو گیا ہے، زندگی تو اس لڑکی کی برباد ہوئی ہے۔“ یہ مت بھولیں کہ جو کسی کی بیٹی کے ساتھ ہوا، آپ کی بیٹی بھی اس کا نشانہ بن سکتی ہے۔ لوگوں کی بیٹیوں بہنوں کو بھی اتنا ہی قابل احترام سمجھیں، جتنا آپ کی اپنی بیٹیاں بہنیں ہیں۔ دنیا مکافات عمل ہے۔ آج آپ کا بیٹا یا بھائی کسی عورت یا لڑکی سے زیادتی کرے تو کل کلاں یہی چیز آپ کی بیٹی یا بہن کے سامنے آ جائے گی۔

٭اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کی تربیت اور ان پر نگاہ رکھنے کے معاملے میں بیٹی اور بیٹے کی تخصیص نہ کی جائے۔ اخلاق و کردار، شرم و حیا، اور خاندان کی عزت کا بوجھ صرف عورت کے نازک شانوں پر نہ لادا جائے بلکہ مردوں کو بھی اس کا مکمل پابند کیا جائے۔ ایک صنف کی آزادی اور دوسری صنف پر پابندی کئی مسائل کی بنیاد ہے۔

سزا کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کا بھی قبلہ درست کرنا ہوگا، تبھی ہم اپنی عورتوں کو ایک محفوظ معاشرہ دے سکیں گے۔

حرف آخر:

محترم یاسر پیرزادہ صاحب نے اپنے کالم میں جنسی مجرمان کے لئے قید تنہائی کی تجویز دی ہے۔ میں اس کی تائید اور مزید یہ اضافہ کرتی ہوں کہ جنسی مجرمان کی ناک کاٹ دینے اور جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے بعد اسے ایسے کمرے میں قید تنہائی میں بے لباس کر کے رکھا جائے جہاں چاروں طرف اور چھت میں بھی آئینے نصب ہوں۔ اس طرح وہ اپنے دریدہ جسم اور نامکمل چہرے کو آئینوں میں دیکھ دیکھ کر شرم سے مرتا اور یہ سوچتا رہے گا: کاش، میں نے ایک عورت کی بے حرمتی نہ کی ہوتی تو آج یہ ذلت آمیز اور اذیت ناک سزا مجھے نہ ملتی۔ میں خود ہی اس کا ذمہ دار ہوں۔

(ادارہ مصنفہ سے متفق نہیں ہے مگر آزادی اظہار کے حق کے طور پر مضمون شائع کر رہا ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •