گجرات کا قابل فخر فرزند: پرکاش ٹنڈن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردم خیز خطے کا حامل گجرات ہمیشہ نامور لوگوں کی جنم بھومی رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کا ممتاز و معتبر بزنس لیڈر، مینجمنٹ پروفیشنل، بینکار، ثقافتی شعور سے بھرپور سوانح نگاری کرنے والا قلمکار پرکاش ٹنڈن ہندوستان کی ناموری کے باوجود گجرات میں گزرے بچپن اور یادوں کو کبھی فراموش نہیں کر پایا اور جب اس نے اپنی سوانح لکھنے کا آغاز کیا تو اس میں گجرات کی یادوں کا تذکرہ بڑے موثر انداز میں کیا۔

وہ اپنی کتاب ”پنجاب کے سوسال“ میں گجرات کو یاد کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ ”میرے لیے گجرات ہی میرا گھر ہے۔ میرے خاندان کا اصل تعلق تو کالا سرائے سے ہے لیکن میرے ذہن میں کالا سرائے کی کوئی یاد نہیں۔ کینال کالونیوں کی یادیں بڑی گریز پا تھیں۔ گجرات میں ہماری اپنی برادری تھی، اپنے رشتے دار تھے، ہم رہتے بھی وہیں تھے۔ یوں گجرات ہی میرا گھر ہے۔ پنجابی زبان کا لفظ گھر یا فارسی زبان میں لفظ وطن ہمارے لیے بڑا عزیز تھا۔

کسی اجنبی سے اس کا نام یا ذات پوچھنے سے پہلے آپ اس کا وطن پوچھتے ہیں۔ اگر دونوں کا وطن ایک ہی ہو یا قریب قریب ہو تو فوراً ہی رشتہ قائم ہو جاتا تھا۔ کسی اجنبی شہر میں آپ دونوں ایک برادری بن جاتے تھے اور برادری کے تمام حقوق و فرائض آپ پر عائد ہو جاتے تھے۔ شادیوں، تہواروں اور دوسرے خوشی کے موقعوں پر تحفوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اگر اس کی بیوی آپ کے شہر کی ہے تو وہ آپ کی بہن تصور ہوتی تھی اور وہ خود بھی وہیں کا ہو تو وہ آپ کا بھائی سمجھا جائے گا۔

اگر دونوں خواتین ایک ہی شہر سے ہوں تو وہ بہنیں بن جاتیں تھیں۔ بچے ان کو انھی نئے رشتوں پر مبنی ناموں سے ہی پکارتے۔“ پرکاش ٹنڈن نے رشتوں کے ثقافتی شعور کا جس بھرپور اور برملا انداز میں اظہار کیا ہے اسی سے لبریز ہو کر ہی میں نے ان کی شخصیت کے حوالے سے لکھنے کی سعی کی ہے تاکہ اہل گجرات کو ایک پرانے گجراتی سے متعارف کروا سکوں۔

پرکاش ٹنڈن یکم جنوری 1911 ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد سول انجینئر تھے اور محکمہ انہار میں ملازم تھے اس لیے پرکاش ٹنڈن کی پیدائش کینال کالونی میں ہوئی۔ ان کے رشتے دار گجرات میں ہی تھے اس لیے یہ بھی گجرات میں آ کر اندرون شہر ڈھکی کے قریب رہائش پذیر تھے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ”اگرچہ ہندو اور مسلمان بالعموم علٰحیدہ علٰحیدہ محلوں میں رہتے تھے لیکن ایک چھوٹا سا محلہ ایسا بھی تھا جس میں ہندو اور مسلمان اکٹھے رہتے تھے“ ۔

درمیانے طبقے کے مخصوص گھروں کی طرح پرکاش ٹنڈن کا گھرانہ بھی ایک تین منزلہ گھر میں رہتا تھا۔ یہ گھر اندرونی و بیرونی تزئین کی بنا پر دوسروں سے مختلف اور نمایاں تھا۔ ان کے اپنے بقول گھر کی ہر منزل پر دیواروں میں کھڑکیاں اور روشندان تھے جن میں مختلف شکلوں کے رنگ برنگے شیشے لگے ہوئے تھے۔ گھر چوکور تھا اور اس کے درمیان ایک کنواں تھا۔ گھر کا بیرونی حصہ متشاکل، دلکش اور مزین تھا۔ ”انہوں نے لکھا ہے کہ“ گجرات میں نووارد ہونے کے باوجود اپنے دادا اور چچا کی وساطت سے ہم مقامی برادری میں شریک ہو گئے اور دوسرے خاندانوں سے ہمارے تعلقات بڑی جلدی استوار ہو گئے۔

پرکاش ٹنڈن سول سٹیشن میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول گجرات میں پڑھتے تھے اسی سکول میں ان سے پہلے اس کے والد اور دادا بھی پڑھتے رہے تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ وہاں سے گریجویشن سائنس کے ساتھ پاس کی تو گھر والوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں 1929 ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا۔ جہاں ان کے بڑے بھائی منوہر ٹنڈن پہلے سے ہی لندن میں تھے۔ پرکاش ٹنڈن نے انگلینڈ جاکر اپنی سائنس کے تعلیم کے برعکس مانچسٹر یونیورسٹی میں خود کو اکاونٹینسی میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ کے لیے رجسٹرڈ کروایا۔

اس زمانے مہں اس شعبے میں بہت کم ہندوستانی داخلہ لیتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کی ڈبیٹنگ ٹیم کے بھی متحرک ممبر بنے۔ یونیورسٹی تعلیم کے ساتھ وہ لندن میں اکنامکس اور اکاونٹس کے شعبے میں تحقیق بھی کرتے رہے۔ اسی دوران آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک سٹوڈنٹس کانگریس میں شریک تھے کہ ان کی ملاقات سویڈش نژاد خاتون Miss Gard سے ہوئی جو بعدازاں ان کی شریک حیات بنی۔ وہ آٹھ سال بعد 1937 ء میں انگلستان میں تعلیم و تحقیق کے بعد چارٹرڈ اکاونٹنٹ کی ڈگری کے ساتھ واپس ہندوستان آئے تو چھوٹے شہر گجرات میں ان کا کوئی مستقبل نہیں تھا وہ بمبئی چلے گئے جہاں انہیں یونی لیور ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت مل گئی۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کی ڈگری اور مہارت اکاونٹنگ کی تھی اس کے باوجود انہیں یونی لیور کے ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں نوکری ملی۔ ان دنوں ان کی تنخواہ بھی ان کے انگریز کولیگز سے کم تھی۔ لیکن وہ دلجمعی سے کام کرتے رہے اور اپنی کارکردگی سے 1951 ء میں یونی لیور کے ڈائریکٹر بن گئے۔ 1956 ء میں ہندوستان لیور کے پہلے بورڈ کے ممبر بن گئے۔ بعد میں 1961 ء میں ہندوستان لیور لمٹیڈ کے پہلے ہندوستانی چیئرمین بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

پرکاش ٹنڈن ہاورڈ بزنس سکول سے بہت متاثر تھے انہیں اس کا ایڈوانس مینجمنٹ پروگرام AMP بہت پسند تھا اور اسی طرز کے ادارے کے قیام کے خواہاں تھے۔ چنانچہ 1962 ء میں وہ IIMA کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر بنا دیے گئے۔ انہوں نے اس ادارے کے لیے بہت کچھ کیا یہی وجہ ہے کہ دو دہائیوں بعد 1984 ء میں ادارے کے انیسویں کانووکیشن میں انہیں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ پرکاش ٹنڈن ہندوستان کے پہلے سودیشی بنک پنجاب نیشنل بنک کے مینجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین بھی رہے۔

وہ ہندوستان کے کئی اداروں مثلاً فوڈ کارپوریشن آف انڈیا، ہندوستان سٹیل، ہندوستان ایئرونائٹکس، اور ریزرو بنک آف انڈیا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں رہے۔ ان کی ماہرانہ مزاج شخصیت ہی تھی کہ وہ جہاں اور جس ادارے میں بھی رہے وہاں انمٹ نقوش و پیشہ وارانہ کامرانیوں کے اثرات چھوڑ کر آئے۔ وہ سادہ مزاج، علم دوست اور ادب نواز فرد تھے۔ آرٹ، فنون لطیفہ، اردو و انگریزی شاعری، قدیم تاریخ، موسیقی اور کلاسیکل لٹریچر سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔

ادب، فن، تاریخ سیاست وغیرہ کے تمام بڑے لوگوں سے ان کی ذاتی دوستیاں تھیں۔ بینکنگ، پروفیشنل مینجمنٹ اور بزنس لیڈرشپ کے شعبوں میں انہوں اپنی ذہانت و اہلیت کا خوب لوہا منوایا۔ ہندوستان کے مالیاتی سیکٹر میں ان کی انقلابی خدمات یادگار ہیں۔ ان کا شمار بھارت میں پروفیشنل مینجمنٹ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان لیور کے سابق چیئرمین ڈاکٹر اشوک گنگولی نے ان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ

” He established standards and norms for corporate conduct, governance and social conduct that have now become popular and fashionable around the world“ .

پرکاش ٹنڈن کی پیشہ وارانہ کامیابیاں اور کامرانیاں اپنی جگہ قابل تحسین ہیں لیکن ان کی سوانح نگاری اور سماجی تاریخ نویسی کا جو ڈنکا بجا اس نے ان کی شخصیت کو کمال بخشا۔ وہ پنجابی ورثے، تاریخ و ثقافت سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی سماج نگاری نے ان کی سوانح حیات کو عالمی شہرت بخشی۔ ان کی سوانح کے رنگ ان کی تین کتابوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی پہلی کتاب 1961 ء میں لندن سے

” Punjab Century :1857-1947“

کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ان کے بچپن کی یادیں اور گجرات کی تاریخ و ثقافت کا بھرپور ذکر بھی موجود ہے۔ ان کی دوسری کتاب 1971 ء میں لندن ہی سے ”Beyond Punjab : 1937۔ 1960“ کے نام سے شائع ہوئی۔ جبکہ 1981 ء میں تیسری کتاب ”Return to Punjab 1961۔ 1975“ کیلیفورنیا یونیورسٹی پریس برکلے سے شائع ہوئی۔ ان تینوں کتابوں کو اکٹھا کر کے روپا اینڈ کمپنی نیو دہلی نے 2000 ء میں ”Punjab Saga: 1857۔ 2000“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔

طرز تحریر، ثقافتی شعور، تاریخی مطالعے اور سماج نگاری کی چاشنی نے اس سوانح کو بہت مقام عطا کیا ہے۔ پرکاش ٹنڈن کی ایک اور کتاب جسے پینگوئن نے 1989 ء میں ”Banking Century : A Short History of Banking in India; Pioneers Punjab National Bank“ ۔ کے عنوان سے شائع کیا وہ ہندوستان میں بینکاری کی تاریخ کا ایک شاندار حوالہ ہے۔ اس میں لالہ لاجپت رائے سے ترغیب لے کر نوجوانوں کے لاہور میں سودیشی بنک کے قیام کا خواب اور اس کی تعبیر کا خوب ذکر ہے کہ کیسے 1895 ء میں تین نوجوانوں سردار دیال سنگھ ماجیتھا، بابو کالی پراسن رائے اور ای سی جیسوالہ، ایک سکھ، ایک ہندو، اور ایک پارسی تینوں نوجوان ں بنگالی براہما سماج کے پیرو کار تھے انہوں نے مل کر پہلا ہندوستانی سودیشی بنک قائم کیا۔

یہ خواب دیکھنے والے شاید نہیں جانتے تھے کہ انارکلی لاہور میں دو کمروں میں قائم ہونے والا یہ بنک کم و بیش سات ہزار برانچوں کے ساتھ نیشنل بنک آف انڈیا کا روپ دھار لے گا۔ یہ کتاب بھی بہت مقبول ہوئی۔ پرکاش ٹنڈن بلاشبہ ایک کامیاب بزنس لیڈر اور کامران لکھاری رہے۔ وہ ہندوستان میں بیسویں صدی کے نصف آخر کے کامیاب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ گجرات میں پلے بڑھے، بمبئے و دہلی میں انہوں نے کامرانیاں سمیٹیں اور 20 اکتوبر 2004 ء کو پونہ میں وفات پاگئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •