وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب وزیر اعظم! آپ کو پہلی دفعہ خط لکھ رہا ہوں, اس لیے پہلے میں اپنا تعارف کروا دوں۔ انتہائی کم عمری میں جب میری سیاسی تربیت ہو رہی تھی تب آپ کرکٹ کی دنیا کے چمکتے ستارے تھے۔ پاکستان میں مارشل لا لگا ہوا تھا اور فوجی حکومت ہر سیاسی آواز کو دبانے میں مصروف تھی۔ ٹی وی پر اناؤنسرز اور نیوز کاسٹرز کو اسلام کے نام پر دوپٹہ اوڑھنے کا حکم تھا مگر آپ کو’اسلامی دور‘ میں کھلی آزادی تھی۔ اس لیے آپ اکثر بمبئی جا کر فلم اسٹاروں سے’میل ملاقات‘ کرتے تھے۔ یعنی ایک نہیں دو پاکستان ہونے کی وجہ سے آپ جوانی کی زندگی کا خوب لطف اٹھا رہے تھے۔ آپ کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ نذیر عباسی، لالہ اسد، ادریس طوطی، ایاز سموں، ادریس بیگ، رزاق جھرنا اور رحمت اللہ انجم جیسے کئی سیاسی کارکنان کو فوجی حکومت چن چن کر قتل کر رہی تھی۔ صحافیوں کو ننگا کر کے صرف اس لئے کوڑے مارے جا رہے تھے کہ باقی صحافی عبرت حاصل کریں اور فوجی حکومت پر تنقید نہ کریں۔ فوجی حکومت آپ پر پہلے بھی بہت مہربان تھی۔مگر جب آپ نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جنرل ضیاء کے کہنے پر واپس لے لیا تھا تو آپ فوجی آمریت کے مزید قریب ہو گئے۔

وقت گزرتا گیا اور جنرل ضیا آموں کے ساتھ ہوا میں پھٹ گئے۔ پھر آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا اور نواز شریف اس اتحاد کے سربراہ بنے۔ پھر نوے کی دہائی میں نواز شریف نے بے نظیر کی حکومت کے ساتھ وہ سلوک کیا جو آپ نے نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف کیا۔ اس سے پہلے کہ آپ میری اس بات سے مشتعل ہوں میں آپ کی یاد دہانی کیلئے آپ ہی کے الفاظ پیش کرتا ہوں: ’اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آج تک پاکستان میں کوئی الیکشن نہیں جیت سکا۔ جب اسٹیبلشمنٹ ایک پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے آج تک ہماری تاریخ میں کوئی اسے ہرا نہیں سکا۔‘یہ الفاظ تھے آپ کے بھارتی ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی کے مقبول پروگرام ’آپ کی عدالت میں‘۔

2002 کے انتخابات کے متعلق بات کرتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا: ’یاد رکھیں کہ پی ایم ایل این جو پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی اور پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی تھی، جس کی ٹو تھرڈ اکثریت تھی پارلیمنٹ میں پہلے، اس کو صرف 13 سیٹیں ملیں کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جب وہ کھڑے ہوئے تو اسٹیبلشمنٹ نے ان کو آؤٹ کر دیا۔‘

مجھے یاد آ رہا ہے کہ ایک بار آپ نے نادیہ خان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: غریبوں کو سیاست میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ غریب لوگ جب سیاست میں آتے ہیں تو وہ غلط سمجھوتے کرتے ہیں اور لوٹا بن جاتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں صرف اسے آنا چاہئے جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو کیونکہ وہ پھر ایک چھوٹی سے وزارت کیلئے اپنا ضمیر نہیں بیچے گا۔ غریبوں سے اتنی نفرت میری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اگر خریدار جہانگیر ترین ہو تو امیر لوگ بھی اپنے ضمیر کا سودا بڑی خوشی سے کرتے ہیں۔

2016  میں لندن کے میئر کے الیکشن میں ایک طرف آپ کی سابقہ اہلیہ کے ارب پتی بھائی زیک گولڈ اسمتھ تھے اور دوسری ایک پاکستانی نژاد بس ڈرائیور کے بیٹے صادق خان تھے۔ صادق خان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کرتے ہوئے اسلام فوبیا کا سہارا لیا گیا اور کہا گیا کہ صادق خان ایک اسلامی انتہا پسند ہیں۔ آپ پاکستان سے خاص طور پر لندن گئے اور اپنے سابق برادر نسبتی کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مساجد میں جا کر لوگوں سے زیک گولڈ اسمتھ کیلئے ووٹ مانگے۔ برطانوی اخبارات کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ آپ طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں لہٰذا انہوں نے لکھا کہ صادق خان پر ایک ’بنیاد پرست‘ اور ’تفرقہ انگیز‘ ہونے کا الزام لگانے کے بعد طالبان کے حمایتی عمران خان کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنانا ایک گہری منافقت ہے۔

آپ کے سابق برادر نسبتی کی نسل پرستی اور اسلام فوبیا مہم نے انہیں 43 فیصد ووٹ ڈلوائے جبکہ صادق خان 57 فیصد ووٹ لے کر لندن کے میئر بن گئے۔ اب ان کا شمار لندن کے مقبول ترین میئرز میں ہوتا اور دنیا کے متعدد رہنما، سوائے ٹرمپ کے، ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ آپ کو اتنا عرصہ عملی سیاست کرتے نہیں ہوا، جتنا عرصہ مجھے مغرب میں رہتے ہوئے ہو گیا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ صادق خان کا میئر بننا نسل پرستی کے خلاف ایک اہم علامت ہے۔ مگر آپ شاید کبھی نسل پرستی کا نشانہ نہیں بنے اس لئے یہ آپ کی سمجھ سے باہر ہے۔

رواں سال جولائی میں جب صحافی مطیع اللہ جان کو ایک خفیہ ایجنسی کے مسلح اہلکاروں نے اغوا کیا تو مجھے آپ کا وہ انٹرویو جو آپ نے حامد میر کو کیپیٹل ٹاک میں دیا تھا بہت یاد آیا۔ اس میں آپ کے الفاظ کچھ یوں تھے: ’کبھی اگر ایجنسیز نے کسی انسان کو اٹھایا، یا میں نہیں یا وہ ایجنسی نہیں، یعنی کہ میں استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہو جاؤں گا‘۔ معلوم نہیں کہ آپ کو اپنے الفاظ یاد ہیں یا نہیں مگر مجھے تو یہ بھی یاد ہے کہ جب آپ سیاست میں نہیں تھے تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سیاست میں آنا چاہیں گے تو آپ نے جواب دیا تھا ہرگز نہیں کیونکہ کوئی پاگل ہی ہو گا جو سیاست میں آئے اور لوگوں سے ووٹ مانگتا پھرے۔

بہرحال آپ نے 1996 میں پی ٹی آئی کی بنیاد رکھتے ہوئے عملی سیاست میں آنے کا اعلان کر کے ’پاگل‘ہونے کا ثبوت دیا اور ابھی تک وہ کام بڑے شوق سے کر رہے ہیں جو آپ کے خیال میں کوئی پاگل ہی کر سکتا تھا۔ اکتوبر 1999 میں جب جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تو آپ نے فوج کا ساتھ دیا۔ 1991 میں سوویت یونین میں جب گورباچوف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو بورس یلسن نے اصولی موقف لیا اور فوج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہم گورباچوف کے مخالف ہیں مگر ہم اس طرح تختہ الٹانے کے بھی مخالف ہیں۔ مگر آپ نے بے اصولی کی سیاست کو ترجیح دی تھی اور مشرف کے ساتھ مل گئے تھے۔ ان دنوں یہ افواہیں تھیں کہ فوج آپ کو وزیراعظم اور طاہر القادری کو صدر بنانا چاہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے دیکھا کہ مشرف نے جمالی اور شوکت عزیز کو وزیراعظم بنایا تو آپ نے مشرف سے اپنا راستہ الگ کر لیا۔ نومبر 2007 میں آپ نے فرمایا: ’جنرل مشرف نے ایمرجنسی لگا کر اور ججز کو نظر بند کر کے آئین شکنی کی ہے۔ جنرل مشرف پر آئین کا آرٹیکل چھ لگنا چاہئے جس کی پھانسی کی سزا ہے‘۔

امسال جون میں پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ’جنرل مشرف کی گورنمنٹ اتنی بری نہیں تھی‘۔ ماضی میں آپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ مشرف مجرم ہے اور اس نے پاکستان کو بنانا ریپبلک میں بدل دیا تھا۔ ایک آپ کے الفاظ یوں تھے: ’جو مجرم ہے اس وقت ملک کا سب سے بڑا وہ ہے پرویز مشرف‘۔ توانائی کے بحران پر بات کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا: ’ایک میگا واٹ بجلی حکومت نے نہیں دی، ایک میگا واٹ۔ ساری جو بھی اضافہ ہؤا ہے، وہ نواز شریف اور بے نظیر کے زمانے میں آئی ہے‘۔ اب جب بے نظیر بھٹو کا ذکر ہوا ہے تو آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ آپ نے پی پی پی کے بارے میں کہا تھا۔ ’جو پارٹیاں ہوتی ہیں، جس کو کوئی ہلا نہیں سکتا وہ ہوتی ہے نظریاتی پارٹی۔ پیپلز پارٹی، کتنی کوشش کر لی جنرل ضیا الحق ہے، جو مرضی کر لیا، پیپلز پارٹی کو ہلا نہیں سکا کیونکہ نظریہ تھا۔ اس کے بعد فاروق لغاری نے نواز شریف کے ساتھ مل کر ان کو فارغ کیا 1997 میں۔ اس کے بعد جنرل مشرف آئے، انہوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں کو فارغ کیا۔ اس کے باوجود 2008 میں ان کی گورنمنٹ بن گئی کیونکہ نظریاتی پارٹی تھی‘۔

مجھے معلوم نہیں کہ اب آپ کو ایک پارٹی کا نظریاتی ہونا منفی لگتا ہے یا مثبت مگر مجھے یاد ہے کہ 2014 میں آپ نے کہا تھا کہ جمہوریت میں الزام لگنے پر استعفیٰ دے دیا جاتا ہے۔ اب بندہ استعفیٰ کیا دے، جب آپ اسے قبول ہی نہیں کرتے۔ بقول ایم این اے سید نوید قمر، غریب کی دعا اور جرنیل کا استعفیٰ قبول نہیں ہوتا۔

آپ سے اس خط کا جواب ملنے کی کوئی امید نہیں کیونکہ حال ہی میں آپ کی کابینہ کے رکن شیخ رشید نے فرمایا ہے کہ آپ ٹی وی دیکھنے میں بہت مصروف رہتے ہیں۔ بہرحال پھر بھی اگر آپ جواب دیں تو برائے مہربانی یہ ضرور لکھیں کہ 2 سال سے زائد عرصہ میں آپ نے کتنے فیصد کرپشن کم کر دی ہے۔ میں تب تک زینت امان پر فلمائے ہوئے گیت ’دم مارو دم‘ سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان ٹونی کی دیگر تحریریں