بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟
2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟
3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟
4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟

میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔ یہ جذباتی بت اس وقت چکنا چور ہو جاتا ہے جب ہمارا ٹاکرا ان بڑے لوگوں کی اصلیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان سوالات کی کھوج کے دوران میری نظر سے ایک علمی پروگرام گزرا، جس کا نام pass word تھا۔ اس پروگرام کو ہوسٹ کرنے والی شخصیت کا نام ڈاکٹر بلند اقبال تھا اور مہمان شرکاء میں ”جاوید دانش اور پرویزمنیر سامی“ تھے۔

عنوان گفتگو جاوید دانش کی ایک ٹیلی مووی تھی جس کا عنوان ہی سوچ کو جھنجوڑ دینے والا تھا۔ اس ٹیلی مووی کا نام ”بڑا شاعر چھوٹا آدمی“ تھا اس مووی میں ایک تلخ حقیقت کو فکشن کے رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ بقول منیر سامی کہ کوئی بھی فکشن ہوا میں جنم نہیں لیتی بلکہ اس کی جڑیں سماج میں ہی ہوتی ہیں اور کوئی بھی فکشن کسی نہ کسی حقیقت سے ہی نکل کر آتی ہے۔ اس مووی میں جاوید دانش یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جو بڑے بڑے صاحبان دانش سارے نہیں اکثر اپنی نجی زندگی میں بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہاں چھوٹے ہونے سے مراد علمی سطح پر نہیں بلکہ اس کا تعلق lack of morality سے ہوتا ہے۔ اس ٹیلی مووی کی تلخ حقیقت کو ہم اگر اپنے سماج کی نظر سے دیکھیں تو موٹروے ریپ کی صورت میں ہونے والے سفاک حادثہ نے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگوں کو بالکل ہی ننگا کر دیا ہے۔ اس دردناک واقعے کی آڑ میں وہ فضول ولغو اور لچرزبان کا استعمال کیا گیا کہ بڑے لوگوں کی زبان کے نیچے کون کون سا چھوٹا پن چھپا ہوا ہے وہ بالکل واضح ہوچکا ہے۔ پیش کش و مراعات کے اس دور میں بڑوں بڑوں نے دوڑ لگائی اور موقع غنیمت جانتے ہوئے اس سارے دردناک واقعہ کی ذمہ داری مظلوم عورت پر ہی ڈال دی گئی اور کہا گیا کہ

1۔ عورت رات کوگھر سے بنا محرم کیوں نکلی؟
2۔ فرانس میں پلی بڑھی خاتون کو پاکستان کے کلچر کا کیا پتا؟
3۔ ریوڑ سے الگ کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؟
4۔ اگر شریعت کے اصولوں کی پیروی نہیں ہوگی پھر تو ایسا ہی ہونا ہے؟

سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے پنڈتوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بولیں اور اپنی مردانگی کے علم کو اونچا رکھنے کی اپنے اپنے طور پر سعی کی اور ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ جیسے عورت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ روایات کے بوجھ تلے دبے اس تنگ سماج میں عورت اور مرد کے درمیان تعلق میں اجنبیت کی ایک بڑی دیوار قائم کی گئی تاکہ پدرانہ نظام پورے آب و تاب سے چلتا رہے مگر جنس کی بنیاد پر تفریق اور ظلم و بربریت کا یہ مائنڈ سیٹ زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں ہے۔

ان سماجی پنڈتوں کا روپ آج کی باشعور اور تعلیم یافتہ عورتوں کے سامنے واضح ہو کر آ رہا ہے۔ اسی روایتی سماج میں فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، عاصمہ جہانگیر اور ملالہ یوسف جیسی بہادر ہستیوں نے جنم لیا ہے۔ اب روایات کے نام پر عورتوں کے پر کاٹنے کا وقت جاچکا ہے۔ اس دردناک واقعے نے بڑے بڑے لوگوں کے نقاب اتار دیے ہیں، آج کی باشعور عورت اب ان پنڈتوں کو کسی بھی قسم کا نقاب پہننے کی اجازت نہیں دیں گیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر جو کہ خواتین کے بارے میں ایک متنازع موقف رکھتے ہیں انہوں نے ایک بار پھر منافقانہ نقاب پہن کر موٹروے پر ہونے والے خواتین کے احتجاج میں گھسنے کی کوشش کی تو خواتین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور موصوف کو ماضی میں عورت دشمن گفتگو یاد دلائی تو انہوں نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اول فول بکنے کے بعد فرار ہونے میں ہی عافیت جانی۔

اس قسم کے روایتی اور دقیانوسی والے مائنڈ سیٹ نے خواتین کو ایک انسان کے روپ میں کبھی تسلیم ہی نہیں کیا بلکہ اسے ”سیکشول ٹوائے“ سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دی گئی۔ اس بات کا ثبوت ہمارے گھٹن زدہ سماج کی گالیاں ہیں جو کبھی ماں، بہن سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس گٹر زدہ سماج نے عورت کو وہ وہ القاب دے دیے کہ جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں ہوتی مگر خراج تحسین کی حقدار ہیں وہ خواتین جو اس سماجی جبروبربریت کے باوجود علمی میدانوں میں اپنا سکہ منوارہی ہیں۔

جبر کا ماحول ایک لحاظ سے blessing in disguise ہوتا ہے کیونکہ یہ شعور وآگہی کے در وا کرتا چلا جاتا ہے اور شعور کی روشنی کے آگے روایتی جبروبربریت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ علم و ہنر سے بھرپور اس بالغ صدی میں بے شمارایسی خواتین ہیں جو کہ بڑی بہادری اور جراءت کے ساتھ لکھتی اور بولتی ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ آج کی عورت نے تسلط کے اس مایا جال کو اپنے آہنی عزم کے ساتھ کاٹنا شروع کر دیا ہے جسے مردوں نے اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے بڑی ریاضت سے بنا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •