اجتماعیت کی بجائے انفرادیت پر مبنی پاکستانی معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت برسوں سے پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے، ہمیشہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے ہی گزرتا رہتا ہے۔ اور ہم ہمیشہ اچھے دنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے یا کوئی عوامی نوعیت کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس پر ہر جگہ گفتگو شروع ہو جاتی ہے، پہلے گاؤں کی چوپالوں اور شہر میں چائے کے ڈھابوں پر یہ گفتگو ہوا کرتی تھی اب سوشل میڈیا ہی ہماری چوپال ہے اور ڈھابہ بھی، فرق بس اتنا ہے کہ چائے اپنے اپنے پلے سے پیتے ہیں اور انٹرنیٹ پیکج بھی اپنا ہی کرواتے ہیں۔ دن ہو رات ہو، سرگی ہو یا شام جب اس سوشل میڈیا چوپال کا رخ کرو دو چار دوست مل ہی جاتے ہیں بات چیت کے لیے اور جو نہیں موجود ہوتے وہ اپنے حساب سے آ کر گزری گفتگو میں ٹانکا لگا لیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹر وے لنک روڈ پر ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک اور بیرون ملک بھی لوگوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کے ساتھ ساتھ ممکنہ حل بھی تجویز کیے جاتے رہے، ہر بندہ جب بھی سوشل میڈیا پر جائن ہوا اس نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق حل بیان کرنے کی کوشش کی، ایک تجویز یہ تھی کہ خواتین کو اپنے پاس اسلحہ رکھنا چاہیے جس کو ایسی گمبھیر صورتحال میں استعمال میں لایا جا سکے۔

پاکستان میں جب بھی کسی مسئلے پر آواز بلند ہوتی ہے تو عموماً ایسے حل پیش کیے جاتے ہیں، کچھ برسوں پہلے لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافے کے بعد ہر تاجر اور صاحب استطاعت نے اپنے اپنے گارڈز رکھ لیے۔ عمومی اجتماعی حفاظت کی بجائے انفرادی حل تلاش کیا۔

بجلی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا تو اپنے گھر اپنے کاروبار کی جگہ کو سولر انرجی پر کنورٹ کر لیا، انفرادی حل نکال لیا۔
پانی پورے ملک میں پینے کے قابل نہیں رہا تو زیادہ تر لوگوں نے اپنے گھر میں آر او فلٹرز لگا لیے، باقی کی رب جانے، انفرادی حل نکال لیا۔
گلی میں سیوریج لائن ڈالنی ہو تو اتفاق کرنے کی بجائے اپنا اپنا پائپ لائن بچھا کر کام چلا لیا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اب بھی اوور آل سیکورٹی کو بہتر بنانے کی بجائے ہم انفرادی سیکورٹی حاصل کر لینے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مکمل درستگی دیر سے آتی ہے مگر انفرادی حل بھی وقتی ہوتے ہیں دیرپا نہیں۔

قوم باتوں سے نہیں بنائی جاتی، اجتماعی مسائل کے اجتماعی حل نکالنے سے بنائی جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ان مسائل پر قابو پا سکے تو اجتماعی حفاظت پر غور کریں ایک ایک ہوتا ہے اور دو گیارہ۔ مگر ہمیں تو عادت نہیں، اچھی بات ہمارا مخالف کر دے تو بات کو نہیں بندے کو دیکھ کر رد کر دیتے ہیں۔ مل بیٹھنے کو ڈیل اور مک مکا سمجھتے ہیں، ہر بات میں ذاتی نفع نقصان تولنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے رویے سے قومیں نہ بنتی ہیں اور نہ پروان چڑھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •