اورینٹل کالج شعبہ اردو اور ارمغان جمیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جامعہ پنجاب کے الرازی ہال میں ہونے والی یہ تقریب اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ اس میں ملک کے ممتاز صحافی اور قلم کار شریک تھے جو ڈاکٹر جمیل جالبی پر شائع ہونے والی اہم ترین کتاب ”ارمغان جمیل“ پر گفتگو فرما رہے تھے۔ یہ ارمغان شعبہ اردو ’اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ‘ معروف محقق ’مترجم‘ کالم نگار اور اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے ترتیب دیا جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اسکالرز کے مقالات کو یکجا کیا گیا ہے۔

تقریب کے مقررین جن میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم مظہر ’ڈاکٹر محمد خاور جمیل (وفاقی محتسب)‘ ڈاکٹر خورشید رضوی ’مجیب الرحمن شامی‘ سہیل وڑائچ ’قاضی آفاق حسین‘ محمد سہیل عمر اور ڈاکٹر صغریٰ صدف سمیت کئی اہم تخلیق کار شامل تھے۔ ان مقررین نے ”ارمغان جمیل“ اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی علمی و ادبی خدمات پر گفتگو کرنے کے ساتھ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے علمی و ادبی کارناموں کو بھی موضوع سخن بنایا اور مزید شعبہ اردو میں ہونے والی ادبی تقریبات ’سیمینارز اور شعبہ کی تازہ مطبوعات پر بھی پرمغز گفتگو فرمائی۔

اس میں واقعی کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے صدر شعبہ بننے سے کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں کلاسز کا ریگولر ہونا‘ ادارے میں ادبی تقریبات و سیمینارز کا انعقاد ’دو بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد‘ شعبہ کی جانب سے مسلسل مطبوعات کی اشاعت ’ادبی مجلے بازیافت اور سخن کی انتہائی خوبصورتی سے اشاعت سمیت کئی دیگر کام شامل ہیں‘ جن سے شعبے کی ساخت مزید مضبوط اور واضح ہوئی اور اورینٹل کالج کی پہچان میں مزید اضافہ ہوا۔

سب سے نمایاں کام جوڈاکٹر زاہد منیر عامر کے صدارت سنبھالنے کے بعد ہوا وہ علامہ اقبال پر کانفرنس کا انعقاد ہے۔ وہ ادارہ جہاں علامہ اقبال نے بطور استاد اپنی خدمات پیش کیں اورجس ادارے کو اردو ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے ’اس میں علامہ اقبال پر پچھلے اکیس سال سے کوئی کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔ اس کا الزام کس کے سر رکھا جائے‘ اس پر بات کرنا یقیناً غیر اہم ہے مگر یہ بات واضح ہے کہ شعبہ اردو کے علاوہ بھی پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کبھی اقبال پر کانفرنس کروانے کا نہیں سوچا اور اس کی وجہ کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔

گزشتہ برس23 اپریل 2019ء میں جب اکیس سال بعد علامہ اقبال پر یہاں بین الاقوامی کانفرنس رکھی گئی جس میں جاپان ’ایران‘ ترقی ’مصر‘ ہانک کانگ اور پاکستان کے مندوبین نے شرکت فرمائی تو اس موقع پر اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے گفتگو میں فرمایا کہ ”اکیس سال بعد علامہ کو یاد کرنے کا سہرا ڈاکٹرزاہد منیر عامر کے سر جاتا ہے“ تو یقین جانیں حاضرین بھی حیران ہو گئے کہ کیا واقعی اکیس سال بعد اورینٹل کالج یا جامعہ پنجاب میں علامہ اقبال پر کانفرنس رکھی گئی؟

اور اگر ایسا ہے تو علامہ کو مسلسل اکیس سال کیوں نظر انداز کیا گیا؟ خیر دوسری بین الاقوامی کانفرنس15 نومبر2019ء کو منعقد ہوئی اور اس میں بھی ملکی و غیر ملکی مندوب شریک تھے۔ ان دونوں کانفرنسوں میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز اختر (ستارہ امتیاز) کی سرپرستی موجود رہی اور یقیناً یہ کریڈٹ انہی کو جاتا ہے کہ انھوں نے شعبہ اردو ’اورینٹل کالج میں ہونے والی ادبی سرگرمیوں میں بذات خود دلچسپی لی اور شعبہ اردو کے سربراہ کو ہر حوالے سے سپورٹ کیا۔ علامہ اقبال پر ہونے والی کانفرنس میں پڑھے جانے والے مقالات کو بھی کتابی شکل میں ”اقبال امروز و فردا“ کے نام سے یونیورسٹی نے شائع کر دیا ہے جو اقبال شناسی کے حوالے سے یقیناً ایک اہم کام ہے۔

شعبہ اردو ’اورینٹل کالج‘ جامعہ پنجاب سے بطور طالب علم میرا تعلق تقریباً پانچ سال پر محیط ہے۔ اگرچہ بطور طالب علم دو سال اس ادارے میں رہا مگر ادارہ چھوڑنے کے بعد بھی اس کے درو دیوار اور یہاں کے اساتذہ کی قربت اور محبت نے دور نہ جانے دیا اور بطور طالب علم ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے دور میں شعبہ اردو میں ہونے والی تبدیلیوں کو راقم نے شدت سے محسوس کیا بلکہ ادارے سے وابستہ ہراس شخص نے محسوس کیا جو ادارے سے دل و جان سے محبت کرتا ہے یا کسی نہ کسی حوالے سے اس عظیم دانش گاہ سے وابستہ ہے۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی قانون پسندی اور تبدیلیوں سے جہاں شعبے کی ساخت مزید مستحکم ہوئی وہاں انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا رہا جو ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ پاکستان میں قانون محض فائلوں میں رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں ’عملی طور پر قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی مگر اس تنقید نے یہ ضرور ثابت کیا کہ کام کرنے والے کام کر جاتے ہیں اور باتیں کرنے والے باتیں کرتے رہ جاتے ہیں۔ اکبرالٰہ آبادی نے سرسید کے لیے کہا تھا کہ ”ہماری باتیں ہی باتیں تھیں‘ سید کام کرتا تھا“ اور ڈاکٹرزاہد منیر عامر نے بھی کام کر کے دکھایا۔

گزشتہ دو سالوں میں شعبہ اردو سے مسلسل چار اہم ترین کتابوں کی اشاعت کے ساتھ شعبے میں سویڈن ’اٹلی‘ کوپن ہیگن ’جنوبی کوریا‘ ڈنمارک ’ہائیڈل برگ اور مصر سمیت کئی اہم ملکوں سے مندوبین کو مدعو کیا گیا اور شعبہ اردو کے طالب علموں سے ملاقات کروائی گئی اور اہم ترین موضوعات پرلیکچرز بھی دلوائے گئے۔ معروف علمی و تحقیقی مجلے ”بازیافت“ کی ساخت کو مزید مستحکم کرنے اور ملک کے اہم ترین محققین کو اس سے وابستہ کرنے کا سہرا بھی ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے سر جاتا ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ یہ سلسلہ مزید اسی طاری جاری رہے گا تاکہ شعبہ اردو (اورینٹل کالج) دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا رہے۔

کرونائی دور میں بھی مسلسل کلاسز کا ہونا‘ سیمینار اور ادبی تقریبات کا جاری رہنا یقین اہم اور مشکل کام تھا جس بخوبی پایہ تکمیل کو پہنچا ورنہ توزیادہ تر اداروں میں آن لائن کلاسز برائے نام ہی رہیں مگر شعبہ اردو نے یہ کام بھی بطریق احسن نبھایا۔ میں اس ادارے سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتا ہوں کہ میری دعا ہے کہ آنے والے وقتوں میں بھی جو اس شعبے کو بطور سربراہ سنبھالے ’وہ بھی اسی طرح اس کی ساخت اور شناخت کو مزید مضبوط کرنے اور دنیائے ادب میں اس کی پہچان قائم رکھنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •