موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہر موڑ پر پولیس سے آگے کیسے

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس میں ہونے والی ابھی تک کی پیش رفت کے مطابق اس کیس میں ملوث دو میں سے ایک ملزم گرفتار کیا جا چکا ہے جو اس وقت 14 روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہے جبکہ مرکزی ملزم ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے۔

تاہم پولیس کی جانب سے مسلسل یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کی مختلف ٹیمیں اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

ملزم چار مرتبہ پولیس کو دھوکہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔

یہ کیس سامنے آنے کے بعد سے ہی اس کیس میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی جس کے بعد سب سے پہلے اس شخص کا ریکارڈ سامنے آیا۔ 12 ستمبر کی شب وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر اعلی عہدیداران نے پریس کانفریس میں بتایا کہ نامزد ملزم ایک عادی مجرم ہے اور اس سے پہلے بھی یہ کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

ان کے مطابق 2013 میں بھی اس نے دوران ڈکیتی ایک ریپ کیا تھا اور اس کیس میں لیا گیا ڈی این اے موٹروے ریپ کیس میں ملنے والے نمونوں سے میچ کر گیا ہے۔ تاہم آئی جی نے پنجاب حکومت کے ساتھ کی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم اسے پکڑنے میں ناکام ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

موٹروے ریپ کیس: ڈی این اے کی مدد سے ملزمان کی شناخت کیسے ممکن ہوئی؟

پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کیا مزید قانون سازی کی ضرورت ہے؟

ریپ کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے: عمران خان

موٹروے ریپ کیس کی تفتیش میں ’رازداری‘ کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟

قلعہ ستار شاہ

پولیس ذرائع کے مطابق جب پولیس کو ابتدائی اطلاعات کے ملیں تو وہ قلعہ ستار شاہ میں اپنی بیوی اور گھر والوں کے ساتھ موجود تھا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی کے مطابق پولیس کے اہلکار سادہ کپڑوں میں اور گاڑیوں میں جیسے ہی اُس جگہ پہنچے تو ملزم اور اس کی بیوی انھیں دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ تاہم پولیس نے ملزم کی بیٹی کو اپنی تحویل لے لیا۔

آئی جی پنجاب کے اس بیان پر صحافیوں کی جانب سے کئی سوالات کیے گئے، جیسا کہ ملزم کے لیے پولیس کی موجودگی کے باوجود فرار ہونا اتنا آسان تھا کیوں تھا اور اطلاع ملنے پر کیا ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس بھرپور تیاری کے ساتھ نہیں گئی تھی؟

کچھ سوالوں کے جواب تو انھوں نے نہیں دیے لیکن یہ وضاحت ضرور پیش کی ’کیونکہ میڈیا پر پہلے ہی ملزم کا ڈی این اے میچ ہونے کی خبریں اور اس کی تصاویر چل چکی تھیں، اس لیے اسے پہلے ہی اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ پولیس اس کی تلاش میں ہے۔‘

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک اعلی افسر کا کہنا تھا کہ اس کیس کے حوالے سے ’پنجاب حکومت اور پولیس پر کافی دباؤ تھا اس لیے جیسے ہی ایک ملزم کی نشاندہی ہوئی تو حکومتی حلقوں اور افسران کی جانب سے اس دباؤ اور عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے پہلی پریس کانفرس کی گئی۔ اس وقت ان کے پاس بتانے کو صرف یہ تھا کہ ڈی این اے میچ ہو گیا ہے جو فارنزک ڈیپارٹمنٹ نے کر کے دیا۔‘

قصور (راجہ جنگ)

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کے ضلع قصور کے ایک علاقے راجہ جنگ میں اپنے بہن اور بہنوئی کے گھر میں ہونے کی اطلاع ملی، جس کے بعد پولیس کی جانب سے نفری کے ساتھ اس کی بہن کے گھر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ وہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ اس میں پولیس کی ناکامی صاف دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ان کی ٹیمیں کافی وقت سے اس علاقے میں ملزم کے تاک میں بیٹھی تھیں تاہم پولیس کے پہنچنے پر وہ وہاں سے فرار ہو کر قریبی گنے کے کھیتوں میں چلا گیا جہاں سے اسے پکڑنا مشکل ہو گیا۔

اس بار بھی ملزم تو نہیں پکڑا گیا لیکن اس کی جوتی اور چادر پولیس نے قبضے میں لے کر فارنزک کے لیے بھجوا دی اور وہاں سے اس کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

ننکانہ صاحب

ملزم نے ایک مرتبہ پھر اپنے رشتہ داروں کے گھر کا رخ گیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم نے اپنی سالی سے رابطہ کیا اور ملنے کا کہا، جس کی اطلاع پولیس کو 15 پر ایک شہری کی جانب سے دی گئی۔ تاہم ملزم یہاں بھی پولیس کے پہنچنے سے کچھ دیر بعد پہلے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس بار بھی پولیس نے ملزم کی سالی اور دیگر رشتے داروں کو بھی حراست میں لے لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی سالی نے ہی پولیس کو ملزم کے حلیے کے بارے میں بتایا کہ وہ اس وقت موچھوں اور داڑھی کے بغیر ہے۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ بیان بھی جاری ہوا کہ ملزم کو پکڑنے میں دشواری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھیس بدلتا ہےاور انھوں نے ملزم کے مختلف بھیس بدلنے والی تصاویر شائع کی تاکہ وہ کسی بھی بھیس میں ہو تو پہچانا جائے۔

منچن آباد

ایک وقت پر ملزم کا موبائل فون ضلع بہاولنگر کے علاقے منچن آباد میں استعمال ہوتے ہوئے بھی ٹریس کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس نے اپنے ایک عزیز سے اس علاقے میں پیسوں کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم یہاں بھی وہ پولیس کی گرفت میں نہ آسکا۔

پولیس ملزم کو اب تک گرفتار کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

یہ سوال پوچھنے کے لیے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان، جو اس کیس کی تمام تفتیشی ٹیموں کے نگران ہیں، سے کئی مرتبہ رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم ڈی آئی جی آفس کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں انھوں نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ ہماری پولیس کی ٹیمیں جگہ جگہ چھاپے مار رہے ہیں۔ جبکہ ہم نے ملزم کو پکڑنے کے لیے اپنے نیٹ ورک کا جال بیچھا رکھا ہے۔

انھوں نے اپنی جاری کردہ پریس ریلیز میں اس بات کا اعتراف ایک مرتبہ پھر کیا کہ ’یہ غلط تاثر ہے کہ پولیس کی کاوشیں رنگ نہیں لا رہی ہیں۔ جہاں جہاں ملزم جا رہا ہے وہاں وہاں پولیس اس کے پیچھے جا رہی ہے یا پہلے سے موجود ہوتی ہے۔‘

پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس میں ملزم کے بارے میں معلومات ہوتے ہوئے بھی اس کا نہ پکڑے جانا پولیس کی ناکامی ہے۔

ان کے مطابق یہاں بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جب پولیس کو اس کی موجودگی کی اطلاع ہوئی تو اسے پولیس کے پہنچے سے پہلے ہی کہیں سے خبر مل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی خدشہ ہے کہ ہمارے محکمے کے اندر کے لوگ ہی اسے خبر دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ملزم کی موجودگی کی خبر کے بعد کسی مخصوص سٹریٹیجی کے تحت گرفتار کرنے لیے کوشش بھی نہیں کی گئی۔

ابھی تک پولیس نے کیا کیا ہے؟

حساس نویت کے اس کیس میں صرف پولیس کا محکمہ ہی نہیں، مزید شعبے بھی اس پر کام کر رہے ہیں۔

اس کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فارنزک ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے پوچھا کہ اب تک پولیس نے ملزم کی گرفتاری میں کیا کمال کیا ہے؟

ان کے مطابق اس کی نشاندہی ڈی این اے کے ذریعے کی گئی جبکہ ملزم کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود بھی پولیس اسے نہیں پکڑ پائی۔ دوسری جانب جہاں یہ واقعہ ہوا، اس علاقے سے پولیس نے 70 لوگوں کی فہرست ڈی این اے کرنے کے لیے بھجوا دی۔ جبکہ ہم نے خاتون کی چیزوں پر سے ملنے والے نمونے اپنے ڈیٹا بیس میں ڈالے تو وہ ملزم کے نمونوں سے میچ ہوئے جو پہلے سے ہی ہمارے ڈیٹا میں موجود تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے ڈیٹا میں ملزم کے نمونے موجود نہ ہوتے تو اس کی نشاندہی ہونا بھی انتہائی مشکل کام تھا۔

دوسری جانب اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور اس کیس کے ترجمان ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ملوث دوسرے ملزم کو بھی پولیس نے ہی گرفتار کیا ہے۔ جبکہ اس کا ڈی این اے بعد میں میچ ہوا۔

مرکزی ملزم ایک عادی مجرم ہے اور پہلے بھی 2013 میں ایک ماں اور بیٹی کے ساتھ ریپ کر چکا ہے۔ جبکہ اگست کے مہینے میں ہی وہ ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے بارے میں ہر قسم کی معلومات پہلے ہی میڈیا پر لیک ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے بھی اس کی گرفتاری میں دشواری ہوئی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی پکڑا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس ملزم کو پکڑنے کے لیے ٹیکنالوجی، فارنزک اور دیگر جدید طریقوں سمیت پولیس کے روایتی طریقوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ جس میں مخبری کرنے والی ٹیموں سمیت چھاپہ مار ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

ملزم کی معلومات لیک ہونے کی تحقیقات

ملزم کی معلومات کس نے لیک کی؟ ملزم کی گرفتاری اب تک عمل میں نہ لائے جانے کی ایک وجہ حکام کی جانب سے یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ میڈیا اس کا ذمہ دار ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیقات کرنے کے لیے حکومت کے دیگر اداروں اور محکوموں سے بھی تحقیقات کی گئیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی تصویر اور اس کے بارے میں معلومات فرانسک ڈیپارٹمنٹ سے لیک ہوئیں اور ہم نے ان بندوں کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔

دوسری جانب پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی ملزم ہی نہیں گرفتارت ملزم کے ڈی این اے میچنگ کے بارے میں پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے فرانسک ڈیپارنمنٹ کے افسر کے اہلیہ نے سوشل میڈیا اپنا سٹیٹس اپ لوڈ کر دیا تھا کہ ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔

اس بارے میں ڈی جی فرانسک کا کہنا تھا میں نے خود سب سے پہلے یہ معلومات اعلی افسران کو دی تھیں اور انھیں نے تمام معلومات کو راز میں رکھا تھا۔ تاہم اس کیس کے حوالے سے ہم نے پولیس کی ہر قسم کی معاونت کی ہے تاکہ ملزمان کو جلدی پکڑا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16115 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp