محمد زبیر نواز شریف، مریم نواز کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو بار ملے: آئی ایس پی آر


میجر جنرل بابر افتخار

ISPR
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہی ہوئی تھیں اور ان میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض بھی موجود تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپنی جماعت کے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے دو ملاقاتیں کی تھیں۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ محمد زبیر اگست کے آخری ہفتے اور پھر رواں ماہ کی سات تاریخ کو جنرل باجوہ سے ملے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہی ہوئی تھیں اور ان میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

‘نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی’

’اے پی سی پیچھے رہ گئی، نواز شریف کی تقریر بہت آگے نکل گئی‘

نواز شریف کی سیاست کا آغاز یا اختتام

مریم نواز کا سخت لہجہ ’مایوسی‘ کا غماز یا مستقبل کی سیاسی پالیسی کا؟

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملاقاتوں میں انھوں نے میاں نواز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ کے حوالے سے ہی بات چیت کی۔’ ترجمان کا مزید کہنا تھا: ‘ان ملاقاتوں میں جو بھی بات چیت ہوئی، آرمی چیف نے ان پر واضح کر دیا کہ جو بھی ان کے قانونی مسائل ہیں وہ پاکستان کی عدالتوں میں حل ہوں گے اور جو سیاسی مسائل ہیں ان کا حل پارلیمنٹ میں ہوگا، ان معاملات سے فوج کو دور رکھا جائے۔’

تاہم محمد زبیر نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ان کی فوج کے سربراہ سے ملاقاتوں کا مقصد نواز شریف یا مریم نواز کے لیے کسی ریلیف کے بارے میں بات کرنا تھا یا وہ جنرل باجوہ سے ان کے نمائندے کے طور پر ملے تھے۔

خیال رہے کہ نواز شریف کے نمائندے کی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی خبریں منگل کی شام سے گردش میں تھیں تاہم مریم نواز نے بدھ کی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے والد کے کسی نمائندے نے جنرل باجوہ سے ملاقات نہیں کی۔

ملاقات میں کسی کے لیے ریلیف نہیں مانگا، محمد زبیر کا دعویٰ

ادھر فوج کے ترجمان کے بیان کے بعد آج ٹی وی پر صحافی عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ان کے جنرل قمر جاوید باجوہ سے 40 برس پرانے تعلقات ہیں۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ان کی آرمی چیف سے پہلی ملاقات چار گھنٹے طویل تھی تاہم انھوں نے میجر جنرل بابر افتخار کے اس مؤقف کی تردید کی کہ اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک مرتبہ بھی عسکری قیادت سے اپنی قیادت کے لیے ریلیف نہیں مانگا نہ انھوں نے ان کو یہ کہا کہ انھیں نواز شریف، مریم نواز یا شہباز شریف نے بھیجا ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ ان کی آرمی چیف سے ملاقات کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ‘نہ میں اپنے لیے ریلیف لینے آیا ہوں، نہ پارٹی کے لیے ریلیف لینے آیا ہوں، نہ میاں نواز شریف کے لیے نہ مریم نواز کے لیے۔’

محمد زبیر نے مزید کہا کہ ان کی آرمی چیف سے ملاقات کے دوران ڈیڑھ گھنٹہ معیشت پر بات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ڈان لیکس، پانامہ پیپرز، نااہلیوں اور مریم نواز کے خلاف کیسز بننے کے دوران انھوں نے ایک مرتبہ بھی جنرل باجوہ سے ملاقات کی درخواست کی نہ انھیں نواز شریف یا مریم نواز کی جانب سے انھیں کہا گیا کہ وہ ان سے جا کر ملیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے آج کے بیان کے حوالے سے محمد زبیر نے کہا کہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیوں یہ بات کہی ہے۔

‘یہ طے نہیں ہوا تھا کہ یہ خفیہ ہے لیکن یہ تشہیر کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ میری طرف سے اب تک کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ میں نے کب کس سے اور کیوں ملاقات کی ہے، اس لیے مجھے معلوم نہیں کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ کو یہ بتانے کی ضرورت کیوں پڑی۔’

سوشل میڈیا پر ہنگامہ

فوج کے ترجمان کا بیان سامنے آتے ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث ہونے لگی۔

صحافی سرل المیڈا نے لکھا کہ اب فوج کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ سیاست دانوں سے ہونے والی تمام ملاقاتوں کو ریکارڈ پر لائے گی۔

https://twitter.com/cyalm/status/1308793928854974464

صحافی مظہر عباس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ اچھا ہوا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس لیگی رہنما کا نام لیا جنھوں نے آرمی چیف سے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ ملاقات کی اور نواز اور مریم کے مقدمات پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ زبیر کا مؤقف بہت کمزور ہے اور مسلم لیگ (ن) کو وضاحت کرنی پڑے گی یا این آر او کی درخواست کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

https://twitter.com/MazharAbbasGEO/status/1308790544261353476

صحافی بلال لاکھانی نے لکھا کہ محمد زبیر کی آرمی چیف کے ساتھ محمد زبیر کی درخواست پر دو ملاقاتیں ہوئیں، اور پھر مریم کہتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی رہنما فوج سے نہیں ملا۔ انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کھیل صرف وہی نہیں کھیل رہی۔

https://twitter.com/MBilalLakhani/status/1308798340050624519

صارف شہزاد خان نے لکھا کہ یہ محمد زبیر کی جانب سے غیر اطمینان بخش توجیہ ہے، واضح طور پر وہ مسلم لیگ (ن) کے لیے کسی قسم کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

https://twitter.com/shazadk/status/1308808895348051973

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp