فوج کی سیاست میں دلچسپی نہیں تو یہ ملاقاتیں کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف، آرمی چیف

Getty Images

اس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو جو ٹرینڈز دکھائی دے رہے ہیں وہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کا حال بخوبی سنا رہے ہیں۔

منگل کی بدھ کی شام جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپنی جماعت کے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے دو ملاقاتیں کی تھیں تو اس کے بعد سے نیوز چینلز اور سوشل میڈیا طرح طرح کے سوالوں اور قیاس آرائیوں سے بھرا پڑا ہے۔

محمد زبیر نواز شریف، مریم نواز کے حوالے سے جنرل باجوہ سے دو بار ملے: آئی ایس پی آر

وہ گیا نواز شریف!

جنرل قمر جاوید باجوہ ’کھلے ڈلے اور بے تکلف فوجی‘

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلائے جانے کے بعد جو سخت موقف جماعتوں بالخصوص نواز شریف کی جانب سے اختیار کیا گیا یہ انہی صلح کی کوششوں میں ناکامی کا ردعمل ہے۔

https://twitter.com/AliRazaTweets/status/1308814698352173057

ایک صارف علی رضا کا کہنا ہے ’وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کی تقریر کو نشر ہونے دیا۔ نواز شریف نے فوج کو نشانہ بنایا، فوجی سربراہ کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کی خبر سامنے آئی۔ شیخ رشید نے پی ایم ایل این کے رہنماؤں کی آرمی چیف سے ملاقات کا انکشاف کیا۔ مریم صفدر نے تردید کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سچ بتا دیا۔‘

’عمران حان نے ماسٹر سٹروک کھیل دیا‘۔

اس وقت پاکستان میں جو ہیش ٹیگز بہت زیادہ ٹرینڈز کر رہے ہیں وہ بھی کچھ ایسے ہیں ہیں جس میں سر فہرستMaryamExposedAgain ہے،اس کے بعد ’جی ایچ کیو نہیں پارلیمنٹ، ڈی جی آئی ایس پی آر، زبیر، چیف آف آرمی سٹاف اور پی ایم ایل این سمیت وہ تمام ٹرینڈز گردش میں ہیں جو اسی معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بیشتر صارف مریم نواز کی جانب سے فوج کے ساتھ رابطوں کی خبر کی تردید کیے جانے کے بعد اس صورتحال میں انہیں ’سند یافتہ جھوٹ بولنے والی‘ قرار دے رہے ہیں۔ صارفین کے خیال میں مریم نواز اوبر نواز شریف کا جی ایچ کیو کے خلاف پروپیگینڈا ناکام ہو گیا ہے۔

ایک صارف مطیع الولید نے ٹویٹ کیا کہ ’آئی ایس پی آر کے بیان سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ پی ایم ایل این کوئی این آر او چاہتی تھی لیکن ان کی درخواست رد کر دی گئی۔ اس واقعے نے تو اے پی سی اور پی ایم ایل این دونوں کو ختم کر دیا۔‘

ایک صارف ایس ایم عمر کا کہنا تھا پی ایم ایل این ریاستی اداروں کو گھسیٹ کر احتساب سے فرار چاہتی ہے۔ پاکستانی فوج سے صاف انداز میں سیاسی یا احتسابی عمل میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ ‘

https://twitter.com/_UmerrPTI/status/1308826573156614145

آئی ایس پی آر کے اس بیان کہ آرمی چیف نے سیاسی معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ایک صارف عمیر چادھر نے لکھا’یہی ہمارے آئین اور مسلح افواج کے حلف میں شامل ہے کہ وہ سیاسی عمل میں مداخلت سے انکار کریں۔ آئین بالاتر ہے اور سیاسی معاملات کو آئین کے مطابق حل کیا جانا چاہے۔‘

وہیں صحافی غریدہ فاروقی نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا مریم نواز اور نواز شریف ان ملاقاتوں سے آگاہ بھی تھے یا نہیں؟

https://twitter.com/GFarooqi/status/1308785643527368704

دوسری طرف اسامہ صدیقی کا کہنا تھا ’فوج کی سیاست میں دلچسپی نہیں تو (1) یہ ملاقات کیوں؟ (2) نواز شریف اور مریم نواز کی بات کیوں ہوئی (3) اسے آئی ایس پی آر کے ذریعے عوام تک کیوں پہنچایا؟ ہم جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا۔ کیا یہ سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں؟ اور ایک سیاسی چال نہیں۔ یہ کافی مضحکہ خیز ہے۔‘

https://twitter.com/DrOsamaSiddique/status/1308861496500387840

اسی حوالے سے صحافی اسد طور کا کہنا تھا ’اگر آرمی چیف جنرل باجوہ قانونی معاملات کو عدالتوں میں اور سیاسی معاملات کو پارلیمان میں حل کروانا چاہتے تھے اور فوج اس سے دور رہنا چاہتی تھی تو یہ بات محمد زبیر کو پہلے ملاقات میں ہی کیوں نہ بتا دی گئی۔ دونوں کو دوسری ملاقات کی ضرورت کیوں پڑی‘۔

https://twitter.com/AsadAToor/status/1308789045875683329

وہیں ایک صارف ماجد نواب نے شیخ رشید کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’مین آف دی میچ‘ جنھوں نے پی ایم ایل این اور نواز شریف کا بھانڈا پھوڑا۔ ‘

کچھ صارفین تو مولانا فضل الرحمن کو بھی نہیں بھولے اور طنز و مزاح پر مبنی تصاویر کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی کہ مولانا فضل الرحمن اس صورتحال میں کافی پچھتا رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16085 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp