پیاسوں کو ٹھنڈا پانی پلانے والے پر کیا بیتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوڑیا بازار میں دریا لال اسٹریٹ کے بعد بھگوان داس بلڈنگ میں نظامانی صاحب رہتے تھے۔ بہت دوستی تھی ہماری نظامانی صاحب کے خاندان سے۔ وہ سانگھڑ کے رہنے والے تھے اور نہ جانے کب سے کراچی میں رہ رہے تھے۔ جب سانگھڑ سے ان کا خاندان کراچی آیا تو شروع میں آ کر کھارادر میں رہنے لگا تھا۔ میمن مسجد کے پیچھے بمبئی بازار کے بعد کھارادر کی پرانی بلڈنگوں میں سے ایک بلڈنگ میں نظامانی لوگوں کے بھی گھر تھے۔ انہیں میں انہوں نے زندگی شروع کی تھی۔

کسی کو کچھ پتا نہیں تھا کہ انہوں نے سانگھڑ کیوں چھوڑا۔ خاندان کے لوگ ابھی بھی سانگھڑ میں رہتے تھے۔ ہمارے ابا جی نے بھی ایک دن پوچھا تھا مگر نظامانی چاچا بات ٹال گئے تھے۔ کوئی بات تھی ایسی کہ وہ سانگھڑ کی بات کرنا نہیں چاہتے تھے۔ شاید زمینوں کا کوئی مسئلہ ہو گا۔ شاید باپ کے مرنے کے بعد دولت کے بٹوارے کے مسئلے پر بھائیوں سے کوئی رنجش ہو گئی ہوگی یا پھر کسی عورت کا چکر ہو گا۔ موہنجو داڑو کے زمانے سے آج تک زن زر زمین کے چکر نے انسانوں کو چکر میں رکھا ہے۔ یہ میرے ابا جی کا خیال تھا مگر وہ نظامانی صاحب سے پوچھ نہیں سکتے تھے۔ ان کے بڑے احسانات تھے ہمارے خاندان پر۔ ابا جی نے مرتے وقت بھی یہی کہا تھا بیٹے نظامانی صاحب خیال رکھنا، بڑے برے وقت پر کام آئے تھے ہمارے۔

وہ برا ہی وقت تھا۔ ابا جان نے جب الٰہ آباد چھوڑا تھا تو آسانی سے نہیں چھوڑا تھا۔ کون چھوڑتا ہے اپنے پرکھوں کی جگہ کو۔ جہاں آبا و اجداد کے قبرستان ہوں، جہاں بچپن گزرا ہو، جہاں جوانی کے نازک لمحے جوانی کے برسوں میں بدلے ہوں۔ وہ پاکستان آ کر بھی الٰہ آباد کو نہیں بھولے تھے۔ میں کبھی بھی الٰہ آباد نہیں گیا تھا مگر مجھے الٰہ آباد کی باتیں اس طرح سے یاد ہیں جیسے ان گلیوں میں خود گھوما ہوں۔

ابا جان کو جاسوسی ناولوں سے کبھی بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر ہمارے گھر میں ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا پابندی سے صرف اس لئے آتی تھی کہ ابن صفی الہٰ آباد کے رہنے والے تھے۔ جواہر لعل نہرو کا سارا خاندان ابا جان کی نظر میں مسلمان دشمن اور پاکستان دشمن تھا، مگر اچھی بات صرف یہی تھی کہ ان کا تعلق الٰہ آباد سے تھا۔

پاکستان بننے کے بعد جب لٹی پٹی ٹرین ہم بچوں کے ساتھ ابا جی کو لے کر کراچی پہنچی تھی تو ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔ ٹوٹے ہوئے صندوقوں میں تھوڑے بہت کپڑے، ہم بہن بھائی، اماں بی، خالہ جان اور ابا جان۔ کچھ پتا نہیں تھا کہاں جائیں گے کدھر رہیں گے، کیا کریں گے؟ ابا جان بتاتے ہوئے بڑے خراب دن تھے وہ اور کراچی تو الٰہ آباد کے مقابلے میں صحرا سا تھا۔ صاف ضرور تھا مگر کہاں وہ بات الٰہ آباد کی۔

مہاجر کیمپ میں ہم مہاجروں کے پڑاؤ کے بعد گزرنی شروع ہوئی تھی۔ مہاجر کیمپ کا تو برا حال تھا۔ گرمی، چٹائیوں کی چھت۔ میں چھوٹا تھا مگر مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ شروع شروع میں تو آگ لگ جاتی تھی گر تھوڑی سی بھی بداحتیاطی کی جائے۔ اماں بی نے بڑی محنت کی تھی، سرکار کی طرف سے کچھ امداد مل رہی تھی اسی کی بنیاد پر گھر چل رہا تھا۔ ڈھنگ کے چولہے تھے نہ باورچی خانہ نام کی کوئی چیز۔ کبھی لکڑیاں جلا کر کھانا پکتا تھا تو کبھی مٹی کے تیل کے چولہوں سے کام چلایا جاتا تھا۔ ابا جان کو ابھی تک نوکری نہیں ملی تھی، امید تھی، مگر کچھ ہوا نہیں تھا۔

ایسی ہی کسی دوپہر میں ابا جان لی مارکیٹ میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے کہ مسجد کے دالان میں نظامانی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ ابا جان بتاتے تھے کہ بہت پیار اور عزت و احترام سے نظامانی صاحب نے ان سے بات کی تھی اور باتوں باتوں میں ابا جان نے بتایا تھا کہ وہ مہاجر کیمپ میں خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ پھر نہ جانے کیا ہوا تھا کہ نظامانی صاحب مہاجر کیمپ آئے تھے۔ گھوڑا گاڑی میں ہمارا سامان لادا گیا تھا اور کھارادر میں ہی مندر سے تھوڑی دور مہندر لال میٹھا مل بلڈنگ کی پہلی منزل کے کشادہ فلیٹ میں ہمارا گھر بن گیا۔

جب پاکستان بننے والا ہو گیا تھا تو کھارادر میٹھادر، رام سوامی، برنس روڈ، رتن تلاؤ، جوڑیا بازار، سولجر بازار میں رہنے والے ہندو آہستہ آہستہ شہر چھوڑنے لگے۔ کھارادر میں نظامانی صاحب کی ہر ایک سے ہی دوستی تھی۔ صنوبر لال سے، ارجن کمار سے، کشی کپور سے، مہندر داس سے، کرم چند سے اور نہ جانے کن کن ہندو گھرانوں سے۔ سالہاسال سے وہ لوگ وہاں ساتھ رہ رہے تھے، ساتھ کھا رہے تھے، ساتھ پی رہے تھے۔ چھوٹا شہر تھا، اچھے برے حالات میں زندگی کے سکھ دکھ میں ایسے ہی گزارا ہوتا ہے۔ وہ بھی کہتے تھے کہ پاکستان بننا چاہیے۔ گو یہ تو انہوں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ پاکستان بنے گا تو ہندو کراچی چھوڑ جائیں گے اور ہندوستان کے دوسرے شہروں سے آگرہ سے الٰہ آباد سے، پٹنہ سے مسلمان کراچی آئیں گے۔ یہ سب تو ہو گیا تو پھر اندازہ ہوا تھا کہ کیا ہو گیا ہے۔

جب یہ سب ہونا شروع ہوا تھا تو نظامانی صاحب کے ہندو دوستوں نے اپنے اپنے گھروں کو بند کیا تھا۔ موٹے موٹے لوہے کے قفل ڈالے تھے اور چابیاں نظامانی صاحب کو دیدی تھیں کہ گھروں کا خیال رکھیں، اگر حفاظت کرسکیں تو کریں۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہو گیا اور ہماری واپسی ہو گئی تو ٹھیک ورنہ جو بھگوان کرے گا اچھا ہی کرے گا۔

بھگوان نے اچھا نہیں کیا تھا۔ شاید اچھا ہی کیا ہو، کون کہہ سکتا ہے۔ کراچی سے اجڑ کے سندھی ہندو دہلی، ہانگ کانگ اور نہ جانے کہاں کہاں چلے گئے تھے۔ لوگ کہتے ہیں سندھیوں کی سب سے بڑی آبادی بمبئی میں رہتی ہے یونائیٹڈ سندھی ایسوسی ایشن کے نام سے ان کی بڑی آرگنائزیشن ہے اور جس طرح سے لالو کھیت میں رہنے والے مہاجر ہر فن مولا ہیں اسی طرح سے یونائیٹڈ سندھی ایسوسی ایشن کی کالونی میں رہنے والے سندھی بھی ہر فن مولا ہیں۔

نظامانی صاحب نے کھارادر کے کئی مکانات جن کی چابیاں ان کے پاس تھیں ایک ایک کر کے ہندوستان سے آنے والے مہاجروں کو دی تھیں، بغیر کسی تخفیف کے، صرف ایک شرط لگاتے تھے اور وہ بھی زبانی۔ نہ کوئی لکھت نہ کوئی پڑھت۔ شرط یہ تھی کہ اگر کبھی بھی اس مکان کا ہندو مالک واپس آیا تو مکان خالی کرنا پڑے گا۔ اس وقت تو یہی خیال تھا کہ جب امن وامان ہو جائے گا تو مالکان بھی واپس آ جائیں گے۔ تھوڑے دنوں کے لئے بھی اگر چھت مل جائے تو پناہ مل جائے گی، کچھ وقت مل جائے گا، اس عرصے میں ہر کوئی کچھ نہ کچھ کر لے گا۔ نظامانی صاحب نے سارے مکانات مہاجروں کو ہی دے دیے تھے نہ کسی سومرو کونہ کسی جتوئی کو اور نہ ہی کسی جوکھیو کو اور سچی بات تو یہ ہے کہ کسی ایسے نے مانگا بھی نہیں تھا۔

پھر ابا جان کو کراچی پورٹ ٹرسٹ میں نوکری مل گئی تھی۔ وہ پڑھے لکھے تھے، الٰہ آباد کے گریجویٹ۔ اس زمانے میں گریجویٹ تھے ہی کتنے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں اچھی نوکری کے ساتھ اچھا سا سرکاری بنگلہ رہنے کو مل گیا تھا۔ اور ہم سب لوگ وہاں چلے گئے تھے۔ ابا جان کہتے تھے کہ اس نوکری کا بھی نظامانی صاحب نے ہی انہیں بتایا تھا اور پورٹ ٹرسٹ میں کام کرنے والے ایک پارسی فریدون کانڈا والا سے ان کی ملاقات کرائی تھی۔ ابا جان مرتے دم تک نظامانی صاحب کا یہ احسان نہیں بھولے تھے۔ نہ صرف یہ کہ نہیں بھولے تھے بلکہ گاہے بگاہے ہم لوگوں کو بتاتے بھی رہتے تھے۔

ہم لوگ نئے بنگلے میں منتقل ہوئے تھے اور نظامانی صاحب جوڑیا بازار میں میں دریا لال اسٹریٹ کے پاس بھگوان داس بلڈنگ میں چلے گئے تھے۔ بھگوان داس بلڈنگ کا مالک بھگوان داس پاکستان سے جاتے جاتے تمام عمارت نظامانی صاحب کے حوالے کر گیا تھا۔ وہ نظامانی صاحب کا پرانا دوست تھا۔ اس نے باضابطہ کارروائی کر کے بلڈنگ ان کے نام کردی تھی اور طے یہ ہوا تھا کہ جب حالات درست ہوجائیں گے تو نظامانی صاحب سوائے اپنے فلیٹ کے باقی ماندہ فلیٹ بیچ کر رقم بھگوان داس کو بھجوا دیں گے۔

انہوں نے کیا بھی یہی تھا۔ وہ بلڈنگ اچھی جگہ پر واقع تھی۔ آہستہ آہستہ سارے فلیٹ بک گئے تھے اور بھگوان داس کو رقم بمبئی پہنچا دی گئی تھی۔ یہ اتنا مشکل کام نہیں تھا۔ ابھی ہندوستان پاکستان میں تعلقات خراب نہیں ہوئے تھے، جنگ نہیں چھڑی تھی۔ سرحدوں نے زمین کو بانٹ دیا تھا۔ دلوں کو تقسیم کر دیا تھا مگر دل بند نہیں کیے تھے لوگ ابھی بھی ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔

جب ہم لوگ کیماڑی میں کے پی ٹی کے بنگلے میں منتقل ہوئے تھے تو ابا جان نے کھارادر کے مکان کو اچھی طرح سے صاف کرا کر چابی نظامانی صاحب کودی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ چابی دینے کا کیا فائدہ ہے۔ اب وہ لوگ تو نہیں آئیں گے یہ فلیٹ آپ ہی اپنے پاس رکھیں۔ کے پی ٹی کی سرکاری نوکری ہے اور سرکاری بنگلہ ہے، کل آپ ریٹائر ہوں گے تو کہاں رہیں گے۔

”اللہ کچھ نہ کچھ کرے گا۔ یہ تو آپ کی امانت ہے۔ برے وقت میں بہت کام آئی ہے۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ ابا جی نے ان سے کہا تھا۔ نظامانی صاحب نے چابی نہیں لی تھی بلکہ مشورہ دیا تھا کہ فلیٹ کسی اپنے جاننے والے ضرورت مند کو دے دیں اس وعدے پر کہ جب کبھی ضرورت پڑے گی تو وہ لوگ خالی کردیں گے

ابا جان نے یہی کیا۔ بہار سے آنے والے ایک مہاجر کنبے کو اسی وعدے پر اس فلیٹ میں آباد کر دیا تھا۔ انہوں نے وعدہ بھی کیا تھا اور نظامانی صاحب کے کہنے کے مطابق ایک تحریری معاہدہ بھی کیا تھا مگر جب دو سال کے بعد ابا جان کے ایک چچا زاد بھائی کو ضرورت پڑی تھی تو ان لوگوں نے خالی نہیں کیا تھا بلکہ وعدے وعید کرتے رہے تھے اور ایک دن خاموشی سے ایک پنجابی خاندان کو ہزاروں میں بیچ کر چلے گئے تھے۔ اس دن نظامانی صاحب ہمارے گھر پر بیٹھے بہت دیر تک افسوس کرتے رہے تھے۔

انہیں اس بات پر دکھ نہیں تھا کہ فلیٹ پر قبضہ ہو گیا ہے انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ لوگوں کو نہ وعدوں کا پاس ہے نہ اصولوں کا لحاظ ہے۔ انہوں نے اس دن بہت دکھ سے بتایا تھا کہ سوائے ابا جی کے سب ہی لوگوں نے فلیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حقیقت میں تو جو جن فلیٹوں میں رہ رہا تھا وہ اسی کا ہو جانا تھا کہ اب ہندو کہاں واپس آئیں گے مگر لوگوں نے خاموشی سے پیسے کھلا کر جھوٹے سچے کلیم داخل کر اکر فلیٹ اپنے نام کرا لئے ہیں، یہاں تک کہ اخلاقاً بھی انہیں نہیں بتایا ہے۔ وہ دونوں بہت دیر تک اسی قسم کی باتیں اور افسوس کرتے رہے تھے۔

وقت نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے۔ کراچی کی آبادی بڑھتی گئی تھی، شہر، شہر سے جنگل بنتا گیا تھا۔ خالہ جان کی شادی ہو گئی تھی۔ بڑے بھائی صاحب کو پاکستانی فوج میں کمیشن مل گیا تھا۔ دوسرے بھائی کو انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل گیا تھا اور میں بی کام کر کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے جا رہا تھا۔ دونوں بہنوں کو میڈیکل کالج میں داخلہ ملا تھا۔ وہ ڈاکٹر بن گئی تھیں۔ ایک کی شادی ڈاکٹر سے ہوئی تھی اور وہ نارتھ ناظم آباد میں اپنی کلینک چلا رہی تھی۔ دوسری کی شادی اسی کے کلاس فیلو انجینئر سے ہوئی تھی اور وہ ان کے ساتھ سعودی عرب چلی گئی تھی جہاں دونوں میاں بیوی کام کر رہے تھے۔

سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا۔ والد صاحب ریٹائر ہونے والے ہی تھے کہ ایک دن ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور بڑی تیزی سے انہوں نے زندگی سے موت کا فاصلہ طے کر لیا۔ جناح ہسپتال پہنچنے تک وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

موت تو ایک یقینی امر ہے۔ جب سے کائنات بنی ہے، دنیا وجود میں آئی ہے، لوگ پیدا ہو رہے ہیں اور لوگ مرتے بھی رہیں گے۔ مگر ابا جان کی موت کا حادثہ اور یکایک بن دیکھے بغیر بات کیے مر جانا میرے لئے ناقابل فراموش سانحہ ہو گیا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ قریب تھے یا میں نے کافی وقت ان کے ساتھ گزارا تھا۔ شروع میں تو میں روزانہ ہی ان کے قبر پر چلا جایا کرتا تھا، ہر وقت ان کی کمی محسوس ہوتی تھی، لگتا تھا کہ وہ آس پاس موجود ہیں، ابھی یکایک کہیں سے آ جائیں گے اپنے مہربان چہرے کے ساتھ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2