کہیں ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمانوں کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر ہیں۔ جب بھی مسلمان قوت پکڑنے لگتے ہیں، ہنود و یہود کوئی نہ کوئی نئی سازش کے ساتھ رستہ روک لیتے ہیں۔ اب اس کرونا وائرس کی کہانی ہی دیکھ لیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان الحمد لللہ اب ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے ہیں، اتنی بڑی عالمی سکیم بنائی کہ پوری دینا کو بیک جنبش قلم ساکت کر دیا صرف اس لئے کہ ہماری مسجدیں اور حرمین اس مبارک ماہ میں بند ہوجائیں۔ ان کو معلوم تھا کہ ہم نے مدنی تکیہ ایجاد کرکے ان کے عمل قوم لوط کو ہتھکڑیاں ڈال دی ہیں۔

اور فحاشی کے اس دور فتن کا مقابلہ کرنے کے لئے کھیرے کو عین اسلامی طریقے سے کاٹنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا ہے۔ اونٹنی کے پیشاب کو ماڈرن طریقے سے انہی کی مشینوں سے انہی کے کینز میں بند کرکے ہم نے پہلے ہی یہودی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لئے مشکلات پیدا کردی تھیں۔ اوپر سے کلونجی اور شہد کا خطرہ تو کئی دہائیوں سے ان کو تھا ہی۔ اب ماشا اللہ ہمیں وہ ساری دعائیں بھی ازبر ہوگئی ہیں جو کرونا تو چھوڑیں کینسر اور شوگر جیسے موذی امراض کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتی ہیں۔ کرونا وائرس کا ہتھیار انشا اللہ انہی پر واپس پڑے گا کہ آج سے آٹھ سو سال پہلے ہمارے عظیم طبیب ابن سینا نے پہلے ہی اس کی نہ صرف پیشنگوئی کی تھی بلکہ علاج بھی طے کر دیا تھا۔

اسرائیل اور بھارت کو ہماری مسجدوں میں صفوں کی یکجہتی، مختلف مسالک کے درمیان رواداری، اسلام پر سختی سے کاربند ہونے سے بہت بڑا خطرہ کھڑا ہوگیا تھا چنانچہ نہ صرف انہوں نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کر دیا تاکہ ہم مساجد میں نہ جاسکیں اور ان کے توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعائیں نہ مانگ سکیں۔ پہلے ہی ان اجتماعی بد دعاؤں سے ان کی معیشت بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے کارخانے بند ہونے لگے تھے۔ دوسری طرف ہماری طبی صنعت دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی تھی۔

مردانہ کمزوری جیسے عالمی مسلے پر ہمارے ہاں جتنی تحقیق اور ترقی ہوئی، اس سے پہلے ہی مغربی لابی پریشان تھی۔ ہم نے محض ایک چف سے ماں کے پیٹ میں بچی سے بچہ بنانے کا ہنر معلوم کر لیا تھا جبکہ وہ ابھی تک بچہ دانی کی پیوندکاری میں مصروف تھے۔ جہاں یہ لادین طبقہ اوسط عمر کے بڑھانے کے نت نئے تجربات کرہا تھا وہاں ہم نے نیپال جیسے پسماندہ ملک میں ہر رات مرنے والوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا فن ایجاد کر لیا تھا۔ میرے ٹھینگے سے، میں تو ان کو یہ طریقہ نہیں بتاؤں گا، نہیں بتاؤں گا، ہر گز نہیں

لیکن اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ الومیناٹی سازش کو ہم نے عین انہی کے میدان میں کیسے شکست دی۔ انہوں نے ہمارا کاروبار بند کیا، کارخانے بند کیے ، دکانیں سیل کروائیں، ہم نے بھی انہی کا داؤ انہی پر واپس کر دیا۔ ہم نے دس روپے کا ماسک سو روپے میں اور بیس روپے کا سینی ٹائزر پانچ سو میں بیچ کر سارے نقصانات پورے کرلئے۔ ان کا خیال تھا ہمارے رمضان کے لئے ذخیرہ اندوزی کا فائدہ لاک ڈاؤن سے ختم کردیں گے، ہم نے کھانے پینے کی اشیا پر تو بھرپور منافع کمایا ہی، اب میڈیکل اور احتیاط والی اشیا پر بھی پانچ سو سے ہزار فیصد تک کمائی کی۔

ان کو علم نہیں کہ ہماری پشت پر اللہ کی طاقت ہے۔ جو مساجد میں باجماعت نوافل، دو دو تین تین دنوں میں راکٹ کی رفتار سے ختم قرآن کرکے اور وبائی امراض کے لئے جاری احتیاط کی دھجیاں اڑاکر ہم نے دو چند کرلی ہے۔ جب تک اہل اسلام، مساجد کو بھرتے رہیں گے، رمضان میں منافع کرتے رہیں گے، لاؤڈ سپیکروں پر لوگوں کو سونے نہیں دیں گے، وظایف سے بلاؤں کو دور کرتے رہیں گے، تعویزوں میں ترقی ہوتی رہے گی، یہ یہود و ہنود ہمیں زیر نہیں کرسکیں گے۔

ہم ان کو انہی کی ایجادات جیسے موبائل فون، فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے سے شکست دیں گے۔ ہم ہر مرض میں ان کی تحقیق کی دھجیاں اڑائیں گے۔ ان کے مہنگے علاج صرف اپنے ان علما کے لئے مخصوص کریں گے جو عوام کو عجوہ کھجور اور کلونجی سے علاج کروانے کی تبلیغ کریں گے۔ ہم اپنی تحقیقات شوگر کے مستقل علاج اور بلڈ پریشر کو فانی کرنے میں جاری رکھی گے۔ یہ دجالی میڈیا جھوٹ بولتا ہے کہ انہوں نے کئی بیماریوں پر قابو پا لیا ہے۔ اور ان کی اوسط عمریں بڑھ گئی ہیں۔ تو کیا ہوا۔ ہماری زندگی ثواب کی زندگی، ہماری موت شہادت ہے۔ ہم تو معمولی معمولی باتوں پر خود کو اڑا کر اللہ تعالیٰ کے ہاں شہادت پر سرفراز ہوتے رہے ہیں

Latest posts by ڈاکٹر عبید اللہ عبید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •