حرمین کے پھولوں سے حضرت بل کی اذان تک


عصر کی اذان ہو رہی تھی اور عارفہ نے عدیل کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں حرمین سے لایا ہوا گلدستہ تھما دیا۔ عارفہ کو علم تھا کہ عدیل اس کا ہاتھ مانگنے کی ہمت کرنے سے قاصر ہے۔ عدیل کو حسرت تھی کہ عارفہ پھولوں سے پہلے اس دامن کی بھیک دیدے جو عدیل نے بیتے ہوئے تین برسوں میں اپنے آنسوؤں سے خوب بھگویا تھا۔ عدیل عارفہ کی اس اوڑھنی کا متمنی بھی تھا جس سے عارفہ نے اس کے بے بسی کے آنسو بار بار پونچھے تھے!

عدیل کی حسرتیں اپنی جگہ لیکن عارفہ کی لطیف نرگسیت کا اس کو خوب علم تھا۔ اس لئے اس کو عارفہ کی طرف سے کسی پیشکش کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔ دراصل عدیل کے رقیق القلب مزاج کو محبت کی شدت نے ایک ایسے سمندر میں تبدیل کیا تھا جس کا پانی عارفہ کے محبت کی حرارت سے بھاپ اور بادل بن کر برسنے لگتا تھا اور عدیل کی آنکھیں آبشاروں کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔

اشکوں کی اسی بارش کو جب عارفہ کی اوڑھنی پونچھتے پونچھتے عاجز آجاتی تو عارفہ کا دامن جو ایسے لمحات میں عدیل کا سرہانا ہوتا تھا، اس درجہ تر ہوجاتا کہ اسے نچوڑ کر عدیل وضو بنا سکتا۔ بے شک عدیل اپنے آپ کو خطاکار تصور کرتا تھا کیوں کہ ان کا معاشقہ اور ملنا جلنا اسلامی اقدار کے ساتھ متصادم تھا لیکن عارفہ کی طرف سے ملا ہوا ”پاکیزہ“ ہونے کا لقب یا بالفاظ دیگر ”پارسائی“ کی ”سند“ اسے یہ بات باور کراتی تھی کہ اس کے آنسو ناپاک نہیں ہیں! شاید عدیل کو اسلامی فقہ کا یہ اصول بھی مدنظر تھا کہ ”الماء کثیر لا ینجس“ یعنی پانی کی اچھی خاصی مقدار کسی خفیف گندگی سے ناپاک نہیں ہوتی۔

بہرحال عدیل کو گلدستہ بالکل اسی دن سہ پہر کو ملا جس دن ایم۔ اے۔ اردو کی تکمیل کے بعد ان دونوں کا پی۔ ایچ۔ ڈی۔ میں داخلہ ہوا۔ چوں کہ گلدستے کی نسبت حرمین سے تھی اس لئے عدیل اپنے تحقیقی سفر کی ”روحانی پاکیزگی“ کی باپت سنجیدہ ہوگیا۔ یا ”انگور کھٹے“ کی اصطلاح کی عملی تعبیر اس کے سامنے مترشح ہو رہی تھی کیوں کہ عارفہ کا دامن اس کو ناقابل حصول معلوم ہورہا تھا۔ البتہ عدیل اپنے اندر ایک اطمینان سا بھی محسوس کر رہا تھا کیوں کہ اس نے باور کر لیا تھا کہ کم سے کم تحقیق کے چار پانچ سال عارفہ کے ساتھ دانش گاہ کشمیر کے حسین احاطے میں گزر جائیں گے۔

عدیل دنیائے تخیل میں اپنے جمالیاتی ذوق کی خوب تسکین کر رہا تھا۔ عدیل سوچ رہا تھا کہ کس طرح یونیورسٹی کے باغیچوں کی کیاریوں کا حسن ہر صبح دوبالا ہو جایا کرے گا جب عارفہ کی آمد پر کلیاں سر ہلا ہلا کر اس کو سلام کیا کریں گی! اسے خیال آرہے تھے کہ کس طرح نسیم باغ سے آنے والی تروتازہ ہوائیں عارفہ کے آنے کا پیام سنایا کریں گی! وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کس انداز میں جھیل ڈل سے منعکس ہونے والی سورج کی کرنیں عارفہ کے گلابی چہرے سے ٹکرا ٹکرا کر اس کا استقبال کیا کریں گی۔

عدیل کے یہ خیالات ”حسن پرستی“ کا شاخسانہ قطعاً نہیں تھے! وہ دراصل تخیل کی حسین وادی، جس کو حسن بخشنے والا فقط عارفہ کا وجود تھا، سے اپنے لئے کچھ نرالا کرنے کا ولولہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ شاید اس لئے کہ کل کبھی وہ عارفہ کے سامنے کھڑا ہونے کے قابل ہو سکے۔ کیوں کہ اشارتا ”کنایتا“ عارفہ وصال کو ناممکن قرار دے چکی تھی۔

ایک طرف جمالیاتی حس کو جلا بخشنے والے عدیل کے یہ خیالات تھے تو دوسری طرف عارفہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی بے اطمینانی! کیوں کہ عارفہ اگرچہ عدیل کو ہاتھ دینے سے قاصر تھی لیکن دل تو دے چکی تھی! بھلا عارفہ کے چہرے پر نمودار ہونے والے بے چینی کے احساسات عدیل کیوں نہ سمجھتا! وہ تو اس کی دھڑکنوں سے بھی واقف تھا۔ ماتھے کی شکن پڑھنا تو کوئی بڑی بات نہیں، عدیل تو عارفہ کی نظروں کے خوشی اور اداسی کے زاویوں کو بھی پڑھ لیتا تھا!

بہرحال پی۔ ایچ۔ ڈی۔ میں داخلے کے چند ماہ بعد ہی عدیل کو پتا چلا کہ عارفہ کی والدہ محترمہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوچکی ہیں! عارفہ اپنے والدین کی اکلوتی صاحبزادی تھی۔ تحقیق اور والدہ کی دلجمعی کے ساتھ خدمت کرنے کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جائے، اس پر ہفتوں عدیل اور عارفہ کے درمیان گفتگو ہوتی رہی۔ آخر کار فیصلہ ہوا کہ والدہ کی خدمت کو ترجیح دی جائے!

دونوں اس فیصلے تک کیسے پہنچے، یہ بھی عقل اور دل کی کشمکش کی اپنی ایک داستان ہے! اس فیصلے میں دراصل اس اسلامی روایت اور رویے کی جیت ہو رہی تھی جس میں توحید کے بعد ”وبالوالدین احسانا“ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اگر عارفہ تحقیق جاری رکھتی تو اسے ایک اعلٰی سند (ڈگری) ضرور مل جاتی لیکن ماں کی خدمت میں جو سکون ہے، اسے وہ بہرحال حاصل نہیں ہو پاتا۔ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ حالات میں کچھ اس طرح کا تغیر واقع ہوتا کہ اس کا عدیل کے ساتھ وصال ہوتا اور اس صورت میں اسے ایک ”جنت“ مل جاتی۔

لیکن یہ ایک ایسی جنت ہوتی جو بے ثبات اور ناپائیدار ہوتی۔ اس کی اس ابدی اور اصلی جنت کے ساتھ کیا مماثلت جس کی عارفہ ماں کی بے لوث خدمت کرکے مستحق ہونے والی تھی۔ شاید عارفہ کو اس فیصلے تک پہنچنے میں اس تربیت نے بھی مدد کی جو اسے حرمین میں اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے حاصل ہوئی تھی۔ اسماعیل (ع) کی جائے پیدائش کے روحانی ماحول نے عارفہ کے اندر ”آداب فرزندی“ کی اچھی خاصی استعداد پیدا کی تھی! اس فیصلے کا عدیل کے ماضی اور مستقبل کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق تھا۔ عدیل دسویں جماعت سے ہی منبرومحراب کے ساتھ متعلق رہا تھا۔ اگر وہ معاشقے کی شادی کرتا تو وہ اس روحانی نعمت سے محروم ہوجاتا! یا اگر شرعا ”وہ منبر کو نہیں کھوتا تو وہ روایات جن کو بنانے میں صدیاں درکار ہوتی ہیں، اسے منبر سے دور بہت دور دھکیل دیتیں!

اس صورتحال کو ملحوظ خاطر رکھ کر دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ عارفہ تحقیق کو خیرباد کہہ کر اپنی والدہ کی خبر گیری کرے گی۔ اور عدیل اپنی تحقیق کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ جس طرح عارفہ دل تھام کر یونیورسٹی کو خدا حافظ کہہ رہی تھی بالکل اسی طرح عدیل بھی ”دل کو لب بام محو تماشا“ رکھ کر عشق کو قربان کر رہا تھا اور عارفہ کی اس تمنا کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہورہا تھا کہ عدیل شاہراہ علم کا ایک مسافر بنا رہے!

عدیل موسم خزاں میں شعبہ اردو سے نسیم باغ تک عارفہ کو رخصت کرنے گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ عدیل کے آنسو خشک ہوچکے تھے اور اس کے اعضاء کانپ رہے تھے! دونوں بے ارادہ چناروں کے تلے بیٹھ گئے اور دیر تک ایک دوسرے کے خاموش تماشائی بنے رہے۔ عارفہ نے اس خاص دن کے لئے وہی جوڑا زیب تن کیا تھا جو عدیل کو بالکل اس دن بھایا تھا جس دن شعبہ اردو کے کتب خانہ میں ان کا پہلی بار آمنا سامنا ہوا تھا! گہرے سبز رنگ کا یہ لباس، جو بہار کی نوید سنانے کے لئے موزوں ہو سکتا تھا کسی طرح بھی ہجر کے اس موقعے کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا۔

بہر کیف یہاں پر بھی عدیل نے تخیل کی وادی سے اس غیر مناسبت کے لئے مناسبت کی تعبیر ڈھونڈ ہی نکالی۔ اس کے مطابق سبز رنگ اس اسلامی قدر کی جیت کا نشان ہے جس کے تحت ایک دوشیزہ اپنی محبت کو خیر باد کہہ کر اپنی ماں کے قدموں تلے حاصل ہونے والی جنت کو ترجیح دے رہی ہے اور دوسری طرف اپنے محبوب کو یہ باور کرارہی ہے کہ ”نہ پانا کھونا نہیں ہوتا“ !

بہرحال چناروں کے پتے جھڑ جھڑ کر دونوں کے ارد گرد بالکل اسی طرح بکھر رہے تھے جس طرح ان کی کتاب عشق کا ورق ورق الگ ہورہا تھا! اس دوران چناروں سے گرنے والے پتوں کی سرسراہٹ نے ایک خاص قسم کی موسیقی چھیڑ دی اور عارفہ جیسے وجد میں آکر عدیل کی ایک کشمیری غزل گنگنانے لگی۔ عارفہ ساتھ ساتھ زاروقطار رو رہی تھی۔ عدیل کے تخیل نے ایک بار پھر ہجر کے حزن و ملال میں وصل کا کمال دیکھا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ جس دامن کو اس نے برسوں تک اپنے اشکوں سے بھگویا ہے اسی پر آج عارفہ کے آنسو گر رہے تھے۔

جس اوڑھنی نے کئی بار عدیل کے آنسو پونچھے تھے اسی اوڑھنی سے آج عارفہ کی سہیلی اس کے آنسو پونچھ رہی تھی۔ اسی اثنا میں عصر کی اذاں ہوئی اور عدیل نے اپنے دل کی لگام عقل کے سپرد کی اور عارفہ کو رخصت کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس طرح اچانک کھڑا ہونا دراصل ان کی اس روایت عشق کا حصہ تھا جس کے تحت ان کی محفل اذان عصر کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوجاتی اور وہ اپنی اپنی راہ لیتے! بہرحال عدیل نے دل تھام کر اس شعر کے ساتھ عارفہ کو رخصت کیا:

وہ معصوم جس کے ناموس کی میں نے نگہداری کی
کیے آیا ہوں خود ہی رخصت وہ مہمان ابھی ابھی

میدان تحقیق میں عدیل اب تنہا رہ گیا تھا۔ اس کے دل میں عارفہ کی قدروقیمت روزافزوں بڑھ رہی تھی۔ اس کو احساس ہورہا تھا کہ کس طرح ان برسوں میں عارفہ نے اسے اصل تہذیب سے روشناس کیا تھا۔ اس نے اسے اٹھنے بیٹھنے بلکہ بات کرنے تک کے گر سکھائے تھے۔ عدیل اس بات کا بھر پور ادراک رکھتا تھا کہ کس طرح ایک دیہاتی بلکہ ”اعرابی“ نوجوان کی راہوں پر عارفہ نے تہذیب کی شمع کو فروزاں کیے رکھا تھا۔

عارفہ اب والدہ کی خدمت میں مصروف ہوکر قرآنی تصور ”قدمت لغد“ کے تحت اپنی آخرت کے لئے توشہ جمع کررہی تھی اور عدیل دانش گاہ کشمیر میں اپنی اصل تحقیق کے ساتھ ساتھ عارفہ کو ایک فکری اور روحانی تمثیل کے طور پر استعمال کرنے لگا تھا۔ اس کے پاس اس مقصد کے لئے تاریخ انسانی اور تاریخ اسلامی میں کئی ایک نمونے دستیاب تھے۔ ایک طرف تو اس کے پاس Dante کی Beatrice تھی تو دوسری طرف اقبال کی عطیہ فیضی۔ لیکن ان دونوں تمثیلوں کو وہ اپنے لئے ناقابل استعمال سمجھتا تھا۔ کیوں کہ اول الذکر ایک کلیسائی تمثیل تھی جس میں Dante نے تمام اسلامی

شعائر کا تمسخر اڑایا ہے اور آخرالذکر کبھی کبھار ہی اقبال کی فکری محفلوں میں شامل ہوئی ہیں اور ان کے درمیان بس تھوڑے ہی فکری اور علمی موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔ عدیل کے لئے اب صرف ابن العربی کی ”نظام“ والی تمثیل ہی بچتی تھی۔ ”نظام“ روایات کے مطابق وہ خاتون تھیں جس کو شیخ اکبر نے کعبے کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایک ایرانی عالم کی بیٹی، یہ خاتون جو خدوخال میں یونانی حسن کا پیکر تھیں، ابن العربی کے لئے جمال اور معرفت کی ایک اعلٰی تمثیل تھی۔

عدیل ہرگز اپنا تقابل شیخ اکبر کے ساتھ نہیں کر سکتا تھا لیکن وہ اپنے آپ کو بہرحال شیخ کی قطار روحانیت کے درمیان نہ سہی تو آخری سرے پر ضرور پارہا تھا۔ شاید اسی لئے عدیل نے اپنے ایک سفر حرمین کے دوران ایک حسین خواب میں عارفہ کے عکس کو مسجد نبوی کے ایک دروازے کے سامنے ایک پانی کے پیالے میں دیکھا تھا۔ اسی دروازے کے سامنے عدیل کی رہائش تھی!

وقت گزرتا گیا۔ عدیل کے سینے میں دبی محبت کی چنگاری نے اس کے تحقیقی کام کو تیز تر اور آسان بنادیا۔ اس کا تحقیقی مقالہ اپنی تکمیل کو پہنچ رہا تھا۔ ادھر عارفہ کی والدہ صحتیاب ہو رہی تھیں۔ تقریباً تین سال کے بعد کسی طرح سے ان کی ایک اور ملاقات ہوجاتی ہے۔ عدیل عارفہ کے چہرے پر اطمینان اور سکون کی کیفیت کو بھانپ رہا تھا۔ دوران گفتگو عارفہ عدیل سے یہ کہتی ہے کہ آج وہ اپنی والدہ سے جو مانگے حاصل کر سکتی ہے۔

عدیل سمجھنے لگا کہ شاید عارفہ کوئی مژدہ سنانے جارہی ہے۔ لیکن بات بالکل مختلف تھی۔ عارفہ بول اٹھی کہ اگر وہ اپنی والدہ سے من پسند نکاح کی بات کرے گی تو اس نے جو اس کی بے لوث خدمت کی ہے اس پر حرف آئے گا اور وہ خود غرض قرار پائے گی! عدیل کو اگرچہ عارفہ کے ساتھ بے انتہا محبت تھی لیکن اس کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ عارفہ کے اندر ایک لطیف نرگسیت بہرحال موجود ہے۔ موقعے کو کسی کڑواہٹ سے بچانے کے لئے عدیل نے ”چلو یہ بھی ٹھیک“ والا اصول اپنایا اور عارفہ کو اپنی تحقیق کی تکمیل کی خوش خبری سنائی۔ یہ سنتے ہوئے عارفہ نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ عدیل کا اسی یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تقرر ہونا چاہیے۔ بلکہ اس نے اس کے لئے دعا بھی کی۔

چوں کہ عدیل کا دیہاتی پس منظر تھا اس لئے اس کے گھر والوں نے اس کو تحقیق مکمل ہوتے ہی شادی کرنے کے لئے آمادہ کرنا شروع کیا۔ عدیل نے بہت جلد حامی بھر لی اور اس کا نکاح ایک ایسی خاتون سے ہوا جو زیادہ تعلیم یافتہ تو نہیں تھی البتہ آگے چل ہر معاملے میں بہت حوصلہ مند ثابت ہوئی۔ حسب توقع عارفہ کو یہ خبر سن کر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ البتہ وہ اس بات کی متمنی ضرور تھی کہ عدیل علم کی راہ پر مسلسل گامزن رہے۔ ادھر عدیل کی اہلیہ نے عدیل کو تحقیق کے بعد بھی تحقیق میں مصروف رکھا۔

دو سال کے عرصے میں عدیل نے اپنی چند کتابیں اور کئی ایک تحقیقی مقالے شائع کروائے۔ ٹھیک تین سال بعد عدیل کا دانش گاہ کشمیر کے شعبہ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تقرر ہوا۔ بالکل پہلے ہی دن اس نے اپنے دفتر کی میز پر حرمین کا گلدستہ سجایا اور درس و تدریس میں مصروف ہوا۔ دوسری طرف اس نے اپنی تھیسیس، جس کی جلد گہرے سبز رنگ کی تھی، اپنی خاص الماری میں سجائی۔

عدیل کی شادی کو دو سال ہوئے تھے کہ عارفہ کی شادی بھی ہوئی۔ عدیل کو اطلاع ملی کہ اس کا شوہر پیشے سے ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہے۔ لیکن اسے یہ خبر بھی دی گئی کہ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود شادی کے صرف چھ ماہ بعد عارفہ اپنے شوہر کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے لگی ہے۔ لیکن شوہر کی اذیتوں کو وہ کچھ اس طرح سہ رہی ہے کہ اس کو ”لل دید“ کا ثانی قرار دیا جانے لگا ہے۔ دوسری طرف عدیل بھی اپنی ازدواجی زندگی سے مطمئن سہی لیکن خوش نہیں تھا۔

تاہم جب شادی کے بعد ایک بار عدیل کو کسی طرف سے یہ پیغام ملا کہ اس کو عارفہ کی حالت زار بالمشافہ سننی چاہیے تو اس نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ ایسی ”خیانت“ جس میں حقوق العباد جیسی اسلامی قدر کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو، سے اجتناب ہی بہتر ہے! تاہم عدیل کے دل میں عارفہ کے لئے ماضی کی طرح ہی محبت کے جذبات موجزن رہے۔ تبھی تو وہ اذان عصر ہوتے ہوئے گلدستے پر ہاتھ پھیر کر دفتر سے اٹھتا اور مسجد میں نماز ادا کرکے اپنے گھر، یعنی یونیورسٹی کوارٹر چلا جاتا۔

قریباً دس سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ دونوں اب بال بچوں والے تھے۔ ایک روز عدیل اپنے دفتر سے معمول سے ذرا پہلے اٹھا اور درگاہ حضرت بل کی طرف چل پڑا۔ درگاہ کے احاطے میں پہنچ کر وہ جھیل ڈل کے کنارے“ چار چناری ”کی طرف رخ کرکے ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ اسی اثنا میں اس کے سامنے سے ایک خاتون جو گہرے سبز رنگ کا لباس پہنے ہوئے تھی اور جو اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دو بچوں کو پکڑ کر چل رہی تھی، گزر گئی۔ سبز رنگ کا لباس دیکھ کر عدیل کے تحت الشعور میں دبی محبت کی رمق نمودار ہوئی۔

خاتون درگاہ حضرت بل کے حسین باغیچے میں بیٹھ گئی۔ اس کے بچے اس کے پاس ہی کھیلنے لگے۔ عدیل جان گیا کہ یہ عارفہ ہی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم عارفہ کی طرف بڑھنے لگے۔ اپنی اسلامی شناخت اور“ غض بصر ”کے قرآنی حکم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عدیل نظریں جھکائے عارفہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ عارفہ بھی جان گئی کہ عدیل اسی کی طرف آ رہا ہے۔ دونوں اب ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔

اب راہ وفا کے دو مسافر ڈل جھیل کے کنارے مدت بعد روبرو ہورہے تھے۔ ڈل کی لہریں حسن کی تصویر کشی کرنے کے لئے بے تاب ہو رہی تھیں۔ زبرون پہاڑی وقت کی ستم ظریفی سے چور حسن کے پیکر پر سایہ فگن ہورہا تھا۔ پری محل داراشکوہ اور پری بیگم کی داستان عشق سنارہا تھا۔ ”شیخ“ کا مقبرہ کشمیری قوم کے ساتھ کی گئی جفاوں کی راگنی سنارہا تھا۔ نسیم باغ کی روح افزا فضا داستان عشق کی نزاکتوں کو تروتازہ کررہی تھی۔ کتب خانہ اقبال خاموشی کے ساتھ ماضی کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ عدیل اور عارفہ کی نگاہیں باہم ”الجھنے“ والی ہی تھیں کہ درگاہ حضرت بل کے میناروں سے بلند ہونے والی ”اللہ اکبر“ کی پر اثر صدا نے انہیں اس ”لطیف خیانت“ سے بھی روک لیا!

Facebook Comments HS