ابنارمل رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نارملائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر عمرانیات سے ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی رو سے بہت سے خیالات اور افعال سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائج الوقت نظام زندگی میں قدرتی طور پر موجود رہے ہیں۔ نارملائز ہونے یا کرنے کا عمل بظاہر سادہ سا ہے مگر اس کے کئی ایک محرکات ہیں جو بتدریج اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں بعض ایسے رویے رائج ہو چکے ہیں جن کے متعلق برسوں سے ہمارے بزرگ اور علم کے تمام ماخذ ذرائع ممانعت کرتے آئے ہیں۔ مگر ابھرتے نظام کی ستم ظریفی ہے کہ یہی ممنوعہ خصائل ہمارے ہاں نہ صرف موجود رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ پختہ ہوتی رہی ہے اور اب جبکہ ترسیل اور ترویج کے ذرائع بڑے پیمانے پر میسر آنے لگے تو یہ خصلتیں بھی انتہائی سہولت سے پروان چڑھ رہی ہیں۔ ان بنیادی نارملائز اشکال میں سے ہی ایک گالم گلوچ یا فحش گوئی کی ہے جو اپنی ہیئت میں غلط ہونے کے ساتھ نامناسب بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں گالی دینے کا رواج شروع سے اسی شدت سے رائج ہے؟ کیا ہم ایک مجموعی معاشرے کی مناسبت سے اس غیر اخلاقی رویے کی ممکنہ حد تک حمایت کر رہے ہیں؟ کیا ہم ایسا سماجی نظام تشکیل دے چکے ہیں جہاں مراسم میں محبت کا اظہار یا دوستی میں سچائی اور پختگی کا معیار ماں بہن کی تضحیک کروا کر ہی ممکن ہے؟ کیا اختلاف رائے کی قدر لعن طعن سے ہی ہو سکتی ہے؟ کیا دوسرے فرقے سے یا مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہر شخص طنز و تشنیع کا نشانہ بننے کا حقدار ہے؟ کیا کسی کو اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار اپنی آزادی کے ساتھ کر سکے؟

ہمارے مرد حضرات اور بالخصوص نوجوان نسل نے گالم گلوچ کو تکیہ کلام بنا لیا ہے۔ گفتگو کا آغاز ہی ماں یا بہن کی ’تعریف‘ کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اسے یوں استعمال کیا جانے لگا ہے کہ جیسے یہ صدیوں سے ہماری تہذیب و روایات کا سب سے پوتر حصہ رہا ہو۔ پہلاسوال یہ ہے کہ یہ غلط اقدار رائج ہی کیوں کر ہو سکیں؟ مدعا یہ ہے کہ ہمارے ہاں بزرگوں کی اکثریت گالی دینا فرض سمجھتی ہے اور چونکہ وہ گھر کے بڑے ہوتے ہیں لہذا انہیں کوئی روکنے کی جسارت بھی نہیں کر سکتا اور وہ یوں بنیادی طور پر بچوں کی تربیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہوش سنبھالنے والا بچہ اپنے اردگرد کی عادات اپناتا ہے اور وہی ماحول اس کی ذہنی نشونما پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے تو بدرجہا ممکن ہے کہ وہ طفل بھی پرورش کے ایام سے اسی ڈگر پر چل نکلے جو آگے جا کر اسے فحش گوئی میں وہ مرتبہ دیں جو اس کے آبا و اجداد کے خواب و خیال سے بھی پرے ہو۔ تو کیا اس ذہنی پسماندگی کے ذمہ دار صرف گھر کے بزرگ ہیں؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس میں وہ معاشرہ جس میں اس طفل کی بودوباش ہوئی برابر کا قصور وار ہے۔

بچہ سکول جانے کے لئے گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو موبائل فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف صاحب اس بچہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کسی کی ماں ’بہن یا بیٹی کو چند مغلظات سے تعبیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکول کی گاڑی میں سوار ہو گا تو جناب ڈرائیور پاس سے گزرتی گاڑیون کے مالکان کو القابات نوازنے کے عمل سے سرشار ہیں۔ سبزی یا اشیائے خورد و نوش لینے کی غرض سے بچے نے قریبی دکان کا رخ کیا تو گلی کی نکڑ پر کھڑے کالج سے فارغ التحصیل چند نوجوان ایک دوسرے کو دوستی کے نام پر لغویات بکتے نظر آتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہو کر گالی دینے کے عمل کی ترویج یا ترسیل نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔

نوجوان طبقہ تو ویسے ہی اس بیہودہ فعل کی مخالفت کومعیوب سمجھتا ہے کیونکہ جتنی بڑی گالی اتنی گہری یاری۔ کیا ہم نے اس کے تدارک کی کوشش کی ہے یا کبھی کسی دوست یا عزیز کو ٹوکا ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کرے۔ یقین کریں تدارک تو بہت دور ہیں اکثریت نے تخفیف کی ادنی کوشش کو بھی آزمانے کی بہت کم ہمت کی ہے اور کی بھی ہے تو فقط چند دنوں کے لئے۔ جو یقینی طور پر بے سود ثابت ہوتی ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر برائیوں کی ترسیل کو اس لئے نہیں روک سکتے کیوں کہ انہیں سرانجام دینے والے وہ افراد ہوتے ہیں جن کا لحاظ کرنا ہم پر لازم ہوتا ہے اور بجائے ہم ان کی اصلاح کرنے کے ’پالیسی آف اپیزمنٹ‘ اپناتے ہیں جو ایسے غلط رویوں کو مزید پختگی فراہم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ مجھے زندگی میں ایسے بے شمار احباب کی قربت نصیب ہوئی جو گالی نوازنے کے بعد دعاؤں اور نیک خواہشات سے نوازتے تھے مگر میں نے ایسے رویے کی نہ صرف بروقت مذمت کی بلکہ اس کے پوشیدہ خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

کچھ لوگوں کو کہتے سنا کہ جب تک گالی نہ دیں روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ واہ۔ کیا خوبصورت محاورہ اور کیسا نامناسب استعمال۔ لوگوں کی عادات میں یہ بات شامل ہو جاتی ہے اور اس سے نجات کو ناممکن قرار دیا جاتا ہے۔ مگر کیا یہ واقعی سچ ہے؟ ہرگز نہیں۔ نجات اسی صورت ممکن ہے جب اس کو ختم کرنے کی وجوہات اور ضرورت پر عمل کیا جائے اور سمجھا جائے کہ اس انفرادی غلط رویے کی وجہ سے معاشرے کی روح کس شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔ ہر انسان اپنے ضمیر کا پابند ہوتا ہے اور اگر اس سے آزاد ہو جائے تو کیا بگڑنا کہ حالات کی سمت ٹھیک نہیں۔ اجتماعی سطح پر کیا کسک کہ معاشرہ بدامنی اور بداخلاقی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔

آئے روز سوشل میڈیا پر عدم برداشت کی خوفناک صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ کسی کی بات کو منطقی دلائل پر پرکھنا تو بہت دور اس کی رائے سننے کا حوصلہ موجود نہیں۔ فرقہ واریت ہو یا سیاسی اختلاف ’رائے مختلف ہو یا دلیل متضاد۔ سب کا جواب صرف ایک ہی طرز پر ہے اور وہ ہے گالم گلوچ سے جواب کا اظہار۔ عدم اعتماد کی فضا کی پرورش میں معاشرہ جرم وار ہے تو معاشرتی ارکان ہونے کی حیثیت سے ہم سب بھی قصور وار ہیں۔ خاندان کے وہ بزرگ جو بنا رکے چھوٹوں پر اپنا رعب اور بزرگی گالیوں سے جماتے‘ محلے کی نکڑ پر کھڑے تعلیم یافتہ نوجوان جو دوستوں سے خلوص کا اظہار ماں بہن کی شان میں مغلظات بک کر کرتے ہیں۔

طعن و تشنیع ’دشنام طرازی اور لچپن اسی معاشرے میں پرورش پاتے ہیں جہاں تقدیس کو بالائے طاق رکھ کر کسی کی ماں کو غلط القابات سے نوازا جائے کسی کی بہن یا بیٹی کو ہزلیات کی بنا پر پرکھا جائے یا کسی کی ولدیت پر شبہ ظاہر کیا جائے۔ کیا ہم اس اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ ان رویوں کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ ہی پیدا نہیں کر سکتے۔ کیا ہم ذہنی پسماندگی کی اس نہج پہ ہیں کہ غلط کو غلط کہنے کی صلاحیت سے بیزار ہیں؟ کیا ہم اس سماجی بیماری سے نفرت کی جسارت نہیں کر سکتے؟ کیا ہم انتہائی ابنارمل ہیں کہ اس عمل کو‘ نارمل ’قرار دیے ہوئے جی رہے ہیں۔

رویوں میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے وگرنہ معاشرے غلط سمت میں ہی متعین رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حافظ محمد رمضان اسلم کی دیگر تحریریں