تنویرؔ نقوی/ شہبازؔ نقوی اور طفیل ہوشیارپوری / عرفان باری: خوشبو کا سفر جاری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں میرا کراچی آنا ہوا۔ یہاں کافی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں مدیر نگار ویکلی اسلم الیاس رشیدی صاحب اور دیگر احباب شامل ہیں۔ یہاں سے میرا پروگرام لاہور جانے کا تھا اور یہ ٹھان رکھا تھا کہ اس دفعہ لاہور فلم انڈسٹری کی تاریخ پر مزید تحقیق کی جائے۔ اتفاق سے میں جوہر ٹاؤن میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں ہماری فلمی صنعت کے نامور شاعر حضرت تنویرؔ نقوی مرحوم کے صاحبزادے شہباز تنویر نقوی سے، لاقات ہوئی۔

باتوں باتوں میں ان کے والد صاحب کا ذکر چل پڑا۔ اسی دوران شہباز نے بتلایا کہ ان کے دوستوں میں فلمی دنیا کے مایہ ناز گیت نگار جناب طفیل ؔ ہوشیار پوری کے صاحبزادے عرفان باری بھی شامل ہیں۔ اسی دوران انہوں نے اپنے دوست عرفان کو بھی بلوا لیا۔۔۔۔ یوں یہ بات چیت تحریر کا حصہ بن گئی۔ جناب طفیلؔ ہوشیار پوری اور تنویر ؔ نقوی صاحبان دونوں غیر منقسم ہندوستان سے گیت لکھتے چلے آ رہے تھے۔ یہ بعد میں پاکستان کی پہچان بنے۔ آج وہ اپنی اولاد کی شکل میں ہر سو خوشبو بکھیر رہے ہیں۔

شہبازؔ تنویر نقوی:

سرخ ہونٹوں سے جو کبھی لیتا ہے نام میرا
پھول بن بن کر ہر اک حرف نکھر جاتا ہے
شوخ نطریں میرے چہرے کو جب بھی چھوتی ہیں
میری دنیا کا ہر اک رنگ نکھر جاتا ہے

مندرجہ بالا قطعہ کہنے والے حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہباز تنویر نقوی ہیں۔ یہ کہتے ہیں :

” میں بہت چھوٹا تھا جب یہ سارا ماحول دیکھا۔ بابا لکھا کرتے اور گیت نگاری کا سلسلہ چل رہا تھا۔ جو کام ہوتا وہ گھر پر ہی ہوتا تھا۔ والد صاحب بہت کم اسٹوڈیوز جا تے۔ موسیقار اور میوزیشن ہمارے گھر پر آ کر کام کرتے تھے۔ ان میں ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداللہ اور خاص طور پر بخشی وزیر صاحبان نے بہت کام کیا ہے۔ البتہ خواجہ خورشید انور کے ہاں ہم خود جاتے تھے۔ کبھی وہ بھی ہمارے ہاں آتے تھے۔ گیتوں کی ریکارڈنگ کے لئے البتہ بابا اکثر اوقات اسٹوڈیو جاتے تھے۔ چونکہ یہ سارا کام ہمارے گھر پر ہی ہوتا تھا لہٰذا تب ہی سے اچھی موسیقی سننے کا شوق پیدا ہوا۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ والد صاحب گیت کی صدا بندی والے دن متعلقہ اسٹوڈیو آتے اور ریکارڈ ہوتے گیت میں کوئی رد و بدل کر دیتے۔ یہ سب سلسلہ ہوتے میں نے دیکھا تھا۔ بابا نے موسیقار بخشی اور وزیر المعروف بخشی وزیر کے ساتھ پنجابی فلموں کا بہت کام کیا۔

جیسے 1970 میں بننے والی فلم ’ات خدا دا ویر‘ میں ان کی موسیقی میں گیت ’جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ مجھے بخشی وزیر صاحبان نے خود بتایا کہ انہوں نے فلموں کے بہت سے گیت بنائے لیکن ایسا گیت نہ بن سکا اور نہ ہی کبھی ان سے بن سکے گا۔ بابا کے لکھے اس گیت کو وہ اپنی زندگی کا شاہکار گیت مانتے تھے۔ اسی طرح 1971 میں بننے والی فلم ’دنیا پیسے دی‘ میں ماسٹر عبداللہ کی موسیقی میں یہ گیت ’جدوں وی کوئی پیار کرن دی کسے نوں حامی بھردا۔۔۔‘۔ ماسٹر صاحب کو خود بھی یہ بہت پسند تھا۔

خواجہ خورشید انور صاحب کے کیا کہنے! ان کا بنایا ہوا ہر ایک گیت شاہکار ہے۔ انہوں نے بابا کے ساتھ بہت کام کیا۔ اس دور کے شاعر خواجہ صاحب کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کتراتے تھے کیوں کہ وہ ڈانٹ دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فیض ؔصاحب علیل اور حراست میں تھے۔ انہیں کسی فلم کے گیت لکھنے تھے لیکن سارا کام بیچ میں رہ گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کیا جائے کیوں کہ فلم کی ریلیز کرنے کی تاریخ بھی مل گئی ہے۔

تو اس پر فیضؔ صاحب نے کہا کہ تم یہ گیت تنویرؔ نقوی سے لکھوا لو۔ پھر وہ گیت لکھے گئے۔ فلم کا نام مجھے یاد نہیں۔ اپنے بابا کا ایک واقعہ مجھے ریاض بٹالوی صاحب نے بتایا کہ مجھے ساحرؔ لدھیانوی صاحب سے ملنے بمبئی جانا تھا۔ اس سلسلے میں وہ میرے بابا کے پاس آئے کہ مجھے ساحرؔ کے لئے ایک تعارفی رقعہ لکھ دیں تا کہ ملنے میں آسانی ہو۔ وہ رقعہ لے کر میں بمبئی چلا گیا۔ کڑکتی دوپہر کو میں ساحر ؔ کے گھر پہنچا۔ چوکیدار کو بتایا کہ پاکستان سے آیا ہوں۔

مجھے بتایا گیا کہ وہ آرام کر رہے ہیں۔ میں نے رقعہ چوکیدار کو دیا کہ ساحرؔ صاحب کو دے دے۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ ساحرؔ صاحب ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے باہر آئے۔ اتنا پیار کرتے تھے وہ بابا سے۔ ساحرؔلدھیانوی کہا کرتے تھے کہ وہ اگر کسی کو پاکستان میں گیت نگار مانتے ہیں تو وہ تنویرؔ نقوی ہے۔ اسی طرح بٹالوی صاحب نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ایک فلمساز تھے ( نام ذہن سے نکل گیا ) انہوں نے کسی فلم کے گیت لکھوانے تھے۔

وہ بابا کو لے کر لتا صاحبہ کے ہاں پہنچے تو وہاں فلمسازوں کی ایک قطار لگی ہوئی تھی۔ ان دنوں لتا کی مصروفیت عروج پر تھی۔ جب لتا کو علم ہوا کہ بابا خود اس کے گھر چل کر آئے ہیں تو جیسا وہاں کا رواج تھا، بابا کے پیر چھو کر کہا کہ کوی مہاراج! ناحق تکلیف کی۔۔۔ مجھ سے کہا ہوتا میں خود آتی۔۔۔ بابا نے کہا کہ یہ میرے دوست فلمساز ہیں ان کی فلم کے گانے گانے ہیں۔ لتا نے اپنی تمام تر مصروفیات پیچھے ہٹا کر اس فلمساز کی فلم کے آٹھ گانے بلا معاوضہ گائے تھے۔ یہ سب بڑے لوگ تھے۔ ان کی باتیں بھی بڑی تھیں! گو کہ اس وقت میری چھوٹی عمر تھی لیکن ایسی باتیں، اچھی موسیقی اور اچھا کلام کان میں پڑتا رہا اور آج بھی وہی ذوق قائم ہے کہ اچھا کلام اور اچھی موسیقی سنی جائے”۔

” میں نے موسیقار اے حمید سے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ کو اپنے تمام گانوں میں کون سا گانا پسند ہے تو کہنے لگے کہ گیتوں کی دھنیں بھی اولاد ہی کی طرح ہوتی ہیں۔ ایسا کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کون سی سب سے اچھی لگتی ہے۔ پھر کہا کہ مجھے جو گیت پسند ہے وہ ہے : ’پھکی پے گئی چن تاریاں دی لو، تو اجے وی نہ آیوں سجناں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ پھر سوال کیا کہ کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی گیت کی دھن بناتے وقت آپ کو بہت دقت پیش آئی ہو؟

کہنے لگے وہ بھی تمہارے والد ہی کا گیت تھا۔ مجھے بہت مشکل پیش آئی اور میں اس کی دھن نہ بنا سکا:“ جان بہاراں رشک چمن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”۔ اس سے میں انصاف نہ کر پایا۔ ایسے میں ماسٹر عنایت حسین قریب سے گزر رہے تھے انہوں نے اس کا مکھڑا بنا کر پیش کیا جو بہت پسند کیا گیا۔ پھر جو گیت بنا تو ایسا کہ آج بھی پسند کیا جاتا ہے“ ۔

” وہ دور ایسا تھا کہ ایک دوسرے کی بہت قدر ہوتی تھی۔ آپس میں خلوص اور پیار تھا۔ بابا کے ہم عصروں میں قتیلؔ شفائی بھی تھے۔ دونوں کی آپس میں بہت اچھی دوستی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ قتیلؔ شفائی گیت لکھ رہے ہیں بابا نے مکمل کر دیا۔ آپس میں گیت ایک دوسرے کو دے دینے اور اپنا نام بھی نہیں دینا کہ میں نے لکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ !“ ۔

” بابا کی آخری فلم ’بہشت‘ ( 1974 ) کا ایک گیت بہت مشہور ہوا: ’میں جو شاعر کبھی ہوتا تیرا سہرا کہتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ یہ گیت بابا نے فلم کے ہدایتکار ریاض شاہد کے نام کر دیا۔ اپنا نام تک نہیں دیا۔ ریاض شاہد صاحب شاعر تو نہیں تھے۔ انہوں نے تو کبھی گیت نگاری کی ہی نہیں۔ اتنا خلوص تھا تعلقات میں“ ۔

” گیت نگار احمد راہی اکثر ہمارے گھر آیا کرتے۔ انہیں بابا پنجابی بھی کہا جاتا ہے۔ ہم لوگ گھر میں پنجابی بولتے تھے۔ وہ بہت خوش ہوتے تھے کہ ہمارے ہاں چھوٹے بڑے سب پنجابی بول رہے ہیں۔ میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ میں نے ان لوگوں میں وقت گزارا۔ حبیب جالبؔ، منیر ؔ نیازی وغیرہ کا ہمارے ہاں بہت آنا جانا تھا“ ۔

” فلمسازوں میں فلمساز اور ہدایتکار لقمان صاحب کے ساتھ میری بہت اچھی ملاقات تھی۔ سید شوکت حسین رضوی صاحب کے اسٹوڈیوز میں ہم جاتے تھے۔ انور کمال پاشا صاحب کے ہاں بھی ہمارا بہت آنا جانا تھا۔ بابا نے اداکار علاؤ الدین، آغا طالش اور اکمل کو فلمی دنیا میں متعارف کروایا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب سے مجھے علم ہوا تھا کہ حبیب جالب کو کراچی سے لاہور لانے والے میرے بابا تھے۔ بابا نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کروایا۔ محمد رفیع کو بھی متعارف کروانے والے میرے بابا ہی ہیں“ ۔

” مہدی حسن، مجیب عالم، احمد رشدی، سلیم رضا اور بہت سے گلوکار ہمارے ہاں آتے تھے۔ میڈم نورجہاں سے تو رشتہ بھی تھا۔ ان کی بڑی بہن بابا کے نکاح میں 14 سال رہیں۔ چونکہ اولاد نہیں ہوئی لہٰذا انہوں نے دوسرا نکاح کیا“ ۔

” موسیقار بابا کو بہت پسند کرتے کیوں کہ میٹر پر وہ فوراً لکھتے تھے۔ اس کام پر ان کو پوری مہارت تھی۔ اسی لئے موسیقار ان کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے تھے۔ گیت اردو ہو یا پنجابی، میں نے بابا کو دس پندرہ منٹ میں بھی گانا تیار کرتے ہوئے دیکھا ہے“ ۔

” ایسا بھی ہوا ہے کہ گیت اچھا خاصا ریکارڈ ہو رہا ہے لیکن بابا وہاں آن پہنچے۔ ریکارڈنگ کے دوران کوئی ردو بدل کیا جب کہ فلمساز اور موسیقار کہتے کہ ٹھیک جا رہا ہے۔ کچھ تبدیلیاں کرنے کے بعد وہاں موجود متعلقہ لوگ کہتے کہ اب مزا دوبالا ہو گیا“ ۔

غزل
یہ بھی نہیں کہ زندگی دشوار نہیں ہے
لیکن یہ دل کسی کا طلبگار نہیں ہے
کیوں اس طرح حد میں ہیں میرے دل کی دھڑکنیں
جبکہ بدن کو کوئی بھی آزار نہیں ہے
پروردگار مجھ کو کیوں بھیجا گیا یہاں
مجھ جیسوں کے لئے تو یہ سنسار نہیں ہے
شہبازؔ یہ بھی راستہ تیرا نہیں کہ یاں
دیوار نہیں سایہ ء دیوار نہیں ہے

میں نے ان سے سوال کیا : ”کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تمہارے گیتوں کی بھی کوئی عمدہ سی دھن بنائی جائے“ ؟

” دل تو بالکل کرتا ہے لیکن کبھی اس چیز کا موقع ہی نہیں ملا“ ۔
۔ ”اپنا کلام شائع کروانے کا کبھی سوچا“ ؟

” مسودے کی صورت میں میرا کلام ’ماورا پبلشرز‘ کے پاس موجود ہے۔ کسی بنا پر وہ سلسلہ التوا میں چل رہا ہے۔ امید ہے کہ انشاء اللہ جلد منظر عام پر آئے گا“ ۔

ایک سوال کے جواب میں شہباز نے کہا : ”فلم اسٹوڈیو کی چار دیواری گھریلو زندگی سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس میں جھوٹ اور فریب ہی کا سایہ ہے“ ۔

***     ***

عرفان باری :

ہمارے ملک کے بہترین گیت نگار، ملی نغمات کے خالق جناب طفیل ہشیار پوری کے صاحبزادے عرفان باری سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا :

” 1914 کو مشرقی پنجاب میں ہوشیار پور کے مقام پر میرے والد صاحب پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ درس و تدریس کے سلسلہ میں سیالکوٹ آ کر مصروف ہوگئے۔ 1935 میں انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور مشاعروں میں جانا آنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی وہ ادبی دنیا میں بھی چھپنے لگے۔ انہیں اچھے دوست مل گئے۔ پھر ایک ایسا گروپ ملا جو فلمیں بناتا تھا۔ یوں انہوں نے فلموں میں گیت لکھے۔ یہ قیام پاکستان سے پہلے کی باتیں ہیں۔

ان فلموں میں“ ریحانہ ”،“ ڈائریکٹر ”وغیرہ تھیں۔ تقسیم ہندوستان پر وہ پاکستان آ گئے۔ وہ سارا گروپ جس میں آغا جی اے گل، ڈبلو زیڈ احمد، انور کمال پاشا صاحبان جیسے نامور فلمساز اور ہدایتکار شامل تھے وہ بھی پاکستان آ گیا۔ ان میں بڑے بڑے شاعر اور موسیقار بھی شامل تھے۔ پہلے اس گروپ کے فلمساز ایس گل اور نذیر اجمیری نے فلم“ بیقرار ”( 1950 ) بنائی۔ والد صاحب نے نذیر صاحب کی فلموں میں بہت لکھا جیسے :“ شہری بابو ”( 1953 ) ،“ نور اسلام ”( 1957 ) ،“ صابرا ”( 1956 ) وغیرہ۔ پھر ڈبلو زیڈ احمد کی“ وعدہ ”( 1957 ) ، انور کمال پاشا صاحب کی“ انارکلی ”( 1958 ) ،“ سرفروش ”( 1956 ) ، پنجابی فلم“ چن ماہی ”( 1956 )“ ۔

” والد صاحب نے 1964 تک فلموں میں لکھا اور ساتھ ساتھ ادبی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وہ باقاعدگی سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے۔ 1952 میں انہوں نے رائل پارک لاہور سے ادبی پرچہ ماہنامہ ’محفل‘ کا آغاز کیا۔ پہلے وہ روزنامے کی شکل میں تھا پھر ہفت روزہ ہوا اور پھر ماہنامہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ’صاف گو‘ بھی شروع کر دیا اور زندگی بھر اسی کی ادارت کرتے رہے۔ ادبی محفلوں میں بھی شرکت کرتے تھے۔ آخری بیس سال وہ مستقل نعت کی طرف آ گئے تھے۔ ان کا ایک نعتیہ مجموعہ ’رحمت یزداں‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد 1993 میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا“ ۔

” والد صاحب کی پہچان ان کے ملی نغمے بھی ہیں۔ جیسے ’اے مرد مجاہد جاگ زرا، اب وقت شہادت ہے آیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ ان کے 10 مجموعۂ کلام ہیں۔ تقسیم سے پہلے ہندی گیت، دوہے اور غزلوں کی ایک کتاب ’سوچ مالا‘ ویوناگری رسم الخط میں شائع ہوئی تھی۔ وہ پھر پاکستان میں اردو رسم الخط میں بھی شائع ہوئی۔ اس کا ایک گیت بہت مقبول ہوا جسے نصرت فتح علی خان نے گایا: ’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ۔ بعد میں یہ بھارتی فلم ’کوئلہ‘ ( 1997 ) میں بھی کویتا کرشنا مورتی کی آواز میں استعمال کیا گیا“ ۔

میں نے سوال کیا : ”آپ کے والد صاحب نے عین اپنے فلمی عروج کے زمانے میں فلموں سے کیوں کنارہ کر لیا“ ؟

اس پر عرفان باری نے کہا۔ : ”میرے بڑے بھائی 18 سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔ والد صاحب نے جواں سال بیٹے کی جدائی اور صدمہ دل پر ایسا لیا کہ اس کے بعد فلم لائن کو مستقل خیر باد ہی کہہ دیا۔ حالاں کہ ان کے فلمی احباب والد صاحب سے ملتے رہے اور اصرار کیا کہ وہ فلموں میں لکھیں لیکن انہوں نے فلموں میں پھر شاز و نادر ہی لکھا۔ اپنی کوئی پرانی چیز کسی فلم میں دے دی تو دے دی“ ۔

سپر اسٹار اداکار اور گلوکار عنایت حسین بھٹی (م) اور طفیل ہوشیار پوری کے باہم تعلقات اور پیار پر عرفان نے بتایا:

” بھٹی صاحب ہمیشہ میرے والد صاحب اور شروع کے پرانے موسیقاروں، فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی بہت قدر اور توقیر کرتے تھے۔ جیسے بابا جی اے چشتی صاحب، فلمساز اور ہدایتکار نذیر صاحب۔ بھٹی صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ ان سب لوگوں کی وجہ سے مجھے شہرت ملی۔ یہ ان کی بڑائی تھی۔ میرے والد صاحب کے انتقال پر عنایت حسین بھٹی صاحب اس وقت آئے جب ان کو دفن کر دیا گیا تھا۔ ہم لوگ مٹی پر پھول کی پتیاں ڈال رہے تھے۔ وہ آتے ہی قبر پر غم میں نڈھال ہو کر گر گئے۔ دہاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ ہم تو تھے ہی پریشانی میں، یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس طرح بھی کوئی محبت فرماتا ہے! ان دونوں کا زندگی میں بھی بہت اچھا ساتھ رہا تھا۔ شیخ بلڈنگ رائل پارک میں بھٹی صاحب کا آفس اور والد صاحب کا دفتر تھا“ ۔

ایک سوال کے جواب میں عرفان نے بتایا :

” والد صاحب زیادہ تر ملنا ملانا دفتر یا گھر سے باہر کرتے تھے۔ لیکن ادبی محفلیں گھر پر بھی ہوتی تھیں۔ خاص طور پر بھارت سے جب کوئی شعرا اور ادیب آتے تھے تو ان کے اعزاز میں گھر میں دعوت کی جاتی۔ اس موقع پر مقامی ادبی ہستیاں بھی آتی تھیں۔ مجھے یاد ہے جب بیگم اختر ہمارے گھر آئیں۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔ مجھے تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ کون ہیں! لیکن میں ان کی شخصیت سے بہت مرعوب ہوا۔ ایسا لگتا تھا گویا وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہیں۔

سفید ملبوسات زیب تن تھے۔ ان کے ساتھ کنور مہندر سنگھ بیدی صاحب تھے۔ جگن ناتھ آزاد صاحب بھی تشریف لاتے تھے۔ کلدیپ نیر صاحب بھی آتے تھے۔ یہ والد صاحب کے اس وقت کے شاگردوں میں سے تھے جب میرے والد اسکول میں پڑھاتے تھے۔ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ دہلی گیا تھا جہاں کلدیپ نیر صاحب نے ہمیں اپنے گھر میں دعوت پر بلایا“ ۔

میں نے سوال کیا: ”والد صاحب کے بعد ان کے پرچوں کا کیا ہوا“ ؟

” 1952 سے محفل پرچہ باقاعدگی سے نکلتا رہا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی مہینے شائع نہ ہوا ہو۔ یہ اسکولوں کالجوں اور ایک خاص حلقے پڑھا جاتا تھا۔ حالانکہ اس زمانے میں لاہور سے اور بھی اچھے ادبی پرچے نکلتے تھے۔ جیسے محمد طفیل صاحب کا ’نقوش‘ ، جاوید اختر صاحب کا ’تخلیق‘ ۔ یہ لوگ بھی ہمارے گھر والد صاحب سے ملنے آتے تھے۔ دفتر میں بھی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ 1993 میں والد صاحب کے انتقال کے بعد میرے چچا جان، محمد خان کلیم نے والدصاحب کے بعد ادارت کا کام سنبھالا۔ یہ خود بھی ادبی شخصیت تھے۔ ساری زندگی تعلیم کے شعبہ سے متعلق رہے۔ 2000 میں ان کی وفات ہو گئی۔ اس کے بعد میرے تایا زاد بھائی، مقبول سرمد نے ادارت کی۔ یہ صحافی تھے۔ 2006 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی محفل کی اشاعت ختم ہو گئی۔ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے میں خود اس کو نہیں چلا سکتا تھا“ ۔

” عرفان! تم نے جو سرکاری نوکری کی اس کا تو دور دور فنون سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے“ ؟ میں نے سوال کیا۔

” والد صاحب کی مہربانی سے میں ’لیبر‘ ڈپارٹمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ فنون کو چھوڑئیے! یہ تو خود میرے مزاج سے مختلف تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں ادب کی تو خیر گنجائش ہی نہیں تھی۔ ہمارا کام فیکٹری کارخانوں میں مزدوروں کے معاملات کو دیکھنا، فلاح بہبود کے کام اور ان کی داد رسی کرنا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ ہمارے اپنے اندر کی ادبی تشنگی پوری نہیں ہو سکی۔ وقت نہیں مل سکا“ ۔

” اپنا کوئی نمونۂ کلام سنائیں؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
اس پر انہوں نے پہلے ایک قطعہ سنایا:
قطعہ:
طبیعت گر چہ بہلائی بہت ہے
مگر جیون میں تنہائی بہت ہے
تو آ کے دل میں گھر کر لے ہمارے
یہاں تیری پذیرائی بہت ہے
غزل:
ثمن برو ں کی جبیں پہ گلاب دیکھے ہیں
زمیں پہ اترے ہوئے ماہتاب دیکھے ہیں
تمام عمر نہ تعبیر مل سکی جن کی
وہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھے ہیں
عروج حسن پہ تو اس قدر غرور نہ کر
کہ ہم نے ڈھلتے ہوئے آفتاب دیکھے ہیں
بغیر جام و صبوح پی ہے بارہا ہم نے
نظر نے ایسے بھی دور شراب دیکھے ہیں
چمن میں بکھرے ہوئے شکل لالہ و گل میں
کتاب حسن کے رنگین باب دیکھے ہیں
لہو سے جن کو نوازا ہے سرفروشوں نے
وہ لمحے نامہ بر انقلاب دیکھے ہیں
مزاج شعلہ و شبنم پر نظر کر عرفانؔ
سلگتے پھول اگر زیر آب دیکھے ہیں

واقعی ان دونوں سے بات چیت میں جا بجا حضرت تنویرؔ نقوی، طفیلؔ ہوشیارپوری صاحب، عنایت حسین بھٹی صاحب اور دیگر نامور شخصیات کی خوشبو آتی رہی۔ وقت کی کمی کی بنا پر شہبازؔ تنویر نقوی اور عرفان باری کی گفتگو سمیٹنا پڑی۔ پھر کبھی سہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •