بڑھتی معاشرتی بے حیائی کا جائزہ

ہمارے ملک میں فحاشی اور بے راہ روی کو جس طرح گزشتہ چند برسوں میں عروج اور پذیرائی ملی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہمارے اقدار کی پاسبانی کرنے کے لئے عمر رسیدہ افراد سے لے کر نو جوانوں تک میں سے کوئی تیار نہیں۔ اس سلسلے میں ایک علمی جائزہ لینا ضروری ہے، تا کہ آنے والے وقت میں ہمیں در پیش مسائل کا احاطہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی درست سمت کا تعین بھی۔ آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا جائزہ لیں۔ مثلاً: فیس بک یا ٹک ٹاک، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں صارف کو دینی، فحش اور بے وقعت تفریح کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔

پہلے آپ قرآن مجید کی کسی آیت کو لائک کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اگلی پوسٹ پر کوئی فحش کلپ نمودار ہو جاتا ہے اور اس سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عورت کے لباس کو لے کر جہاں بے تحاشا مرد اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، وہیں وہ ہر انجان پروفائل پر میسیج بھیجنا بھی فرض سمجھتے ہیں۔ ہمارے گھروں سے لے کر مساجد تک جھوٹ، منافقت اور عدم برداشت نے جگہ بنا لی ہے۔ ایک جوان لڑکا لڑکی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے ہونے کی سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

Read more

کھلونا جان کر تم تو۔ ۔ ۔ سطحی ملائیت سے پاک کالم

اب سے چار برس قبل میں سندھ کے ایک پسماندہ شہر میں برسر روزگار تھا۔ ایک دن خبر ملی کے میرے والد صاحب کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ خبر برق بن کر جسم سے گویا روح قبض کر گئی۔ میں جو کے ایک منچلا نوجوان تھا، اب اپنی دنیا کو بدلتا محسوس کر رہا تھا۔ کچھ موڑ زندگی میں قدرت کی طرف سے ایسے آتے ہیں جو انسان کو نا چاہتے ہوئے بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس موڑ میں راستہ اچانک ناہموار ہو جاتا ہے، جگہ جگہ ٹائر پنکچر ہوتا ہے، دور دور تک کوئی چارہ گر دکھائی نہیں دیتا، البتہ زمانہ شناسی کے سائن بورڈز اور دانائی کے سپیڈ بریکر ضرور آتے ہیں۔

اب آپ وہ راستہ کیسے طے کرتے ہیں، اس میں اللہ کی مدد کا بہت عمل دخل ہے کیونکہ انسان تو زندگی کے بیشتر لمحات میں خود کو عقل کل ہی سمجھتا ہے۔ خیر اپنی لا اوبالی طبیعت کو خیر باد کہنا پڑا کیونکہ میرے والد نے میری بڑی بہن کی پیدائش پر جہاں بے پناہ خوشی منائی وہاں انہوں نے ہسپتال کی دریدہ کھڑکی سے طلوع صبح کا سورج دیکھتے ہوئے یہ آرزو کی کہ اللہ تو نے مجھے چاند عطا کر دیا ہے، اگر تو بہتر سمجھ تو سورج بھی عطا کر دے۔ اور اس بات میں دو رائے بھی نہیں کے بسا اوقات ہمارے معاشرے میں بیٹوں کا اصل کردار ماں باپ کی ادھیڑ عمری سے ہی شروع ہوتا ہے، اس کے علاوہ عمومی طور پر وہ گھر سے لاتعلق ہوتے ہیں۔

Read more

اسلام آباد میں ایک سالگرہ کا فنکشن

یہ اب سے چند برس پہلے کا واقعہ ہے مجھے بن بلائے اسلام آباد میں منعقد ایک سالگرہ کے فنکشن میں شریک ہونا پڑا۔ دراصل جس شخص کو مدعو کیا گیا تھا اسے اچانک کسی کام سے لاہور جانا پڑا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر مجھے حاضری یقینی بنانے کا فرض سونپ دیا گیا۔ موقع کو غنیمت جان کر میں اپنی امی جان کو بھی ساتھ لے گیا کیونکہ اتفاق سے وہ کچھ روز گزارنے میرے پاس موجود تھیں۔

Read more

علم نفسیات پڑھنے کے چند فوائد

زندگی میں تجسس کا عمل دخل اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے جو انسان کی فکری صلاحیتوں کو نئے زاویے عطا کرتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کوئی نئی ایجاد کر لیں اور وہی تجسس کی تکمیل کے زمرے میں آئے، اگر آپ کسی نئے لفظ کو سننے کے بعد اس کو لغت سے تلاش کرتے ہیں تو یہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ ہر ایک کی طرح مجھے بھی اپنی ذاتی زندگی میں ہمیشہ سے انسان

Read more

ایک خوف کی داستان اور آہوں بھری بازگشت

وہ ہے ہی کیا غریب ماں باپ کی نادار بیٹی جو طلاق کے خوف سے اپنی ذات کے لئے کھلی فضا میں زور سے سانس لینا بھی نازیبا حرکت سمجھتی ہو گی۔ آپ فرض کریں کے ابھی وہ نرس غیر شادی شدہ ہے اور آپ اس کو کسی اچھے کولیگ سے قریب ہوتا دیکھ رہے ہیں اس غرض سے کہ زندگی کا بقیہ سفر شاید اس کے ساتھ خوشگوار گزرے اور عہد گزشتہ کی تلخیاں اسے خیر باد کہہ دیں۔ وہ روزانہ چند روپے بچا کر جو لپ اسٹک خریدی تھی اسے اپنے کولیگ کے لئے لگاتی ہے اور پھر بھی اس سے اظہار محبت نہیں کرتی کیونکہ یہ اقدام بہر حال اس کی تربیت کے منافی ہے۔

وہ کولیگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اس سے وعدہ وفا کرتا ہے، اس کے ساتھ چند لمحے تفریح کرتا ہے۔ اس تفریح کے دوران وہ اسے اپنی ذات کی الجھنیں اور اپنے مسائل بتانا چاہ رہی ہوتی ہے لیکن اس کا کولیگ اپنے درد کا درماں کسی اور انداز میں کر رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اسے کھری کھری سناتا ہے کے تمہارا ’کریکٹر ٹھیک نہیں‘ اور وہ بقول پروین شاکر اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آتی ہے۔ اب یہ فرض کریں کہ شادی اس کی کسی عمر رسیدہ آدمی سے ہو جاتی ہے اور اس پر اپنی شریک حیات کا پرانا معاشقہ کھل جاتا ہے تو وہ کیا اقدام کرے گا۔

یا تو وہ پل بھر میں طلاق یافتہ ہو جائے گی یا اس غلطی کی پاداش میں تاحیات مزید حیوانی سلوک کی حقدار ٹھہرے گی۔

Read more