سندھو تہذیب اور اس کے قدیم باشندے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وادی کشمیر کے باشندوں کی اکثریت وہ ”پشاچ“ لوگ تھے جو سندھو ویلی یعنی موئنجو ڈڑو اور ہڑپہ تہذیب کے دور میں آرینز کی آمد اور غلبے کے بعد ہجرت کر کے کشمیر میں جا بسے تھے۔ وانی یا وائیں بھی ان ہی میں شامل تھے اور اس ہجرت کی بہت سی علامات زبان، تہذیب اور ثقافت میں آج بھی موجود ہیں۔ بحوالہ، مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی، سید سبط حسن ”پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء“ اور سندھی ثقافت و ادب کی مشہور محقق ڈاکٹر فہمیدہ میمن۔

جن سے راقم کی اس موضوع پر گفتگو ہوئی تھی۔ کشمیر میں جو مچھلی اور ندرو چاول کے ساتھ کھاے جاتے ہیں سندھ کے قدیم خاندانوں میں یہ پکوان آج تک مستعمل اور موجود ہے۔ بس سندھی میں ندرو کو ”بئیں“ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح وانی کی مناسبت سے آج تک سندھی زبان میں کاروبار کو ”ونئڑج“ کہا جاتا ہے جس کا اصل منبعہ ”وانیڑیں“ یا ”وانی“ یا ”وائیں“ ہے، اس نسل کے جن لوگوں کے ہزارہ کے پی کے جو دور قدیم میں کشمیر کا ہی حصہ اور مضافات سمجھا جاتا تھا میں آباد ہوئے اور ”پنی“ کہلاتے ہیں۔

جوآرینز کے ساتھ وادی گنگا و جمنا کی طرف گئے وہ ”بنیا“ کہلاے۔ سندھ کی مستند تاریخی کتب میں اس خط کا ذکر ملتا ہے جو راجہ داھر نے محمد بن قاسم کو لکھا کہ اگر میں کشمیر پر حکمران اپنے رشتہ داروں کو مدد کے لیے بلا لوں تو تمہارے لیے ان کی طاقت کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا، یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ شکست سے پہلے راجہ داھر نے اپنے کچھ قریبی عزیزوں کو کشمیر بھجوا دیا تھا۔ مشہور محقق اور عالمی درجے کے تاریخ دان ”سر اولف کیرو“ جو مشہور زمانہ اور شہرہ آفاق کتاب ”دی پٹھان“ کے مصنف بھی ہیں بھی انڈس سویلائزیشن اور کشمیر کے روابط کا ذکر کرتے ہیں، ان کے مطابق پنجاب میں آج اکثریت میں پاے جانے والے ”جاٹ“ اور گوجر ”پنجاب میں چھٹی صدی عیسویں میں جاٹ یا زط یا جٹ اور، گوجر، گورجوار، کے نام سے آ کر آباد ہوئے وہ جاٹوں کو“ ہن ”بتاتا ہے اور گورجوار ان کی رعیت کے طور پر ان کے ساتھ یا پیچھے آئے تھے، خان کا خطاب، ہن، ہی یہاں لاے تھے اور اولف کیرو مثال دیتا ہے کہ آج بھی کے پی کے، کے اکثر دیہات میں سردار، خان ہوتا ہے اور اکثریت گوجر رعیت۔

بات وادی کشمیر کی ہو رہی تھی، کہ قدیم کشمیر کی حدود“ کشن گنگا ”سے لے کر چندر بھاگا، یعنی چناب تک تھیں نہ کہ وادی کے بیچ میں قائم چشمہ ویری ناگ تک۔ ایک دور میں یہی وادی دو بھائیوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور یہ حصے آج تک“ مراز ”اور“ کمراز ”کہلاتے ہیں۔ وادی میں سندھو دیش یعنی آج کا پورا پاکستان جو قدیم تاریخ کی کتب میں آج بھی“ انڈس سیویلائزیشن ”کہلاتا ہے، سے جو باشندے آرینز کی آمد اور ان کے غلبے کے بعد وادی کشمیر کی طرف ہجرت کر گئے تو چند سو سال کے بعد آرینز کا پورے بھارت ورش جس میں گنگا اور جمنا کی تہذیبیں بھی شامل تھیں، پر بھی غلبہ ہو گیا اور وہ کشمیر پر بھی قابض ہو گئے اس طرح ہندو مت کشمیر پہنچا، لیکن برصغیر پر آرینز کے غلبہ کو کیونکہ کافی عرصہ گزر چکا تھا اور سپت سندھو میں ان کے مذہب کی علمی بنیاد بھی رکھی جا چکی تھی کہ ہندوؤں کے“ وید ”پنجاب اور سندھ کے ان ہی دریاوں کے کناروں پر قائم کردہ بستیوں میں تحریر کئیے گئے تو اس بڑی فتح کے بعد کشمیر آنے والے اول آریا ان کے اہل علم اور لسانات کے ماہر ہی تھے جنہوں نے وادی سندھ اور پنجاب کے برخلاف یہاں ظلم و ستم روا نہ رکھا بلکہ اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے پہلے سے آباد قدیم“ پشاچ ”باشندوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئیے اور ان کے ساتھ بود و باش اختیار کی، اسی وجہ سے کشمیر کے معاشرے میں آج تک ہندو پنڈتوں کو آبادی کی اکثریت کے مسلمان ہونے کے باوجود عزت احترام اور پیار محبت کے روئیے سے برتا جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چینی ترکستان، کاشغر، چین، اور مختلف ممالک جن کے ساتھ کشمیر کی تجارت اور آمد و رفت دور قدیم سے ہی شمال کے بلند دروں کے راستے قائم تھی، وہاں سے بھی کچھ افراد اور کنبے کشمیر آ کر آباد ہوتے گئے، دلچسپ بات یہ کہ کشمیر میں آج بھی ایک نسل ایسی بھی پائی جاتی ہے جن کے بال سرخ، تلوں سے بھری گوری سرخی مائل رنگت اور تنومند جثہ یہ بتاتا ہے کہ ان کے آباء روس سے آ کر کشمیر میں آباد ہوئے تھے، کشمیر میں آج تک چاے کو دیر تک گرم رکھنے کے لیے ایک مخصوص ساخت کا برتن جس کے نچلے حصے میں انگار پڑتا ہے جس کی وجہ سے اوپر کے حصے میں چاے گرم رہتی ہے یہ برتن“ سماوار ”کہلاتا ہے اور سماوار روسی زبان کا لفظ ہے اور روس کے دیہات میں یہ برتن آج بھی اسی نام سے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح بہت بعد میں وسط ایشیا اور پھر ایران سے مبلغین کی کشمیر میں آمد شروع ہوتی ہے جنہوں نے یہاں کی مقامی ثقافت اور سماج پر گہرے اثرات ڈالے، آج تک وادی کشمیر میں مستعمل برتنوں کی مخصوص ساخت ان اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ ۔ ان مبلغین میں سے کچھ سید علی ہمدانی کی طرح اپنے آبائی علاقوں میں واپس تشریف لے گئے، لیکن بہت سے کشمیر میں ہی آباد بھی ہو گئے جنہوں نے یہاں کے معاشرے پر گہرے مذہبی اور ثقافتی اثرات مرتب کئیے۔

ابھی کچھ ہی عرصہ قبل کے پی کے صوبہ کے ہزارہ کے علاقہ میں ایک یونیورسٹی نے تین سال پر محیط“ ڈی این اے ”کے تجزئیے سے ہزارہ میں مقیم بہت سی اقوام کا تجزیہ کیا تو ان کے ڈی این اے کے موازنے اور تجزئیے سے یہ بات سامنے آئی کہ بہت سی اقوام جو اپنے آپ کو عرب سے آیا ہوا بتاتی اور سمجھتی ہیں ان کے آبا و اجداد کا تعلق یہاں کی مقامی قدیم نسلوں سے ہی نکلا، بعض دفعہ کسی بات کو بار بار دہرانا آئندہ آنے والی نسلوں کا یقین ان روایات پر پختہ کر دیتا ہے۔

سر اولف کیرو نے اپنی کتاب“ دی پٹھان ”میں آج کے پورے مغربی پاکستان میں آباداقوام کے مختلف ادوار میں یہاں نزول، قیام اور پھر آباد کاری کا ذکر کرتے ہوئے ایک دلچسپ بات لکھی ہے کہ باہر سے آئے ہوئے مختلف اقوام کے افراد اپنے جنگ میں غالب رہنے کی وجہ سے خود کو مقامی نسلوں سے برتر سمجھتے ہیں اور اپنا خون خالص ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں سر اولف کیرو لکھتے ہیں کہ برصغیر میں آنے والی لاتعداد اقوام پارتھی، سیتھی، ایرانی، کشان، ہن، ساکا، یونانی منگول، مغل جب یہاں غلبہ پاتے تو رشتے ناتے زبردستی یا بالرضا، امراء میں ہی کیا کرتے اس طرح خالص خون کا ان اقوام کا دعوی بالکل غلط ہے، البتہ قدیم ترین مقامی اقوام جن کو آرینز نے شکست دے کر غلام یعنی داسیو بنا دیا تھا آج کے بھیل، نٹ، چنگڑ ’مصلی وغیرہ قبائل، ان قدیم ترین مقامی اقوام یعنی جو حقیقی معنوں میں سننز آف سوائل ہیں ان میں فاتحین بوجہ تعصب، نفرت رشتے ناتے نہیں کرتے تھے لہذا ان علاقوں میں اگر کوئی خالص خون ہونے کا دعوی کر سکتا ہے تو وہ یہی اقوام ہیں جن کو ان کے علاقوں پر غاصب حملہ آوروں نے حملہ اور قتل و غارت اور ظلم و جبر کے ذریعے سماج کے پسماندہ ترین طبقات میں شامل کر دیا، اور ان پر فتحیاب ہونے کے بعد ان کو ان کے اپنے شہروں سے ہی باہر جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔

دڑاوڑین تہذیب کے اب تک موئنجو دڑو اور ہڑپہ ہی دریافت ہوئے ہیں اس دور میں پنجاب اور سندھ یعنی انڈس ویلی میں ان کے نوے بڑے شہر ہوا کرتے تھے جو کچھ معدوم اور گمنام ہو چکے ہیں، کچھ ابھی تک زمین میں دبے پڑے ہیں، کچھ دریاوں کے راستے بدلنے کی وجہ سے دریا برد ہو چکے ہیں لیکن کچھ آج بھی آباد ہیں لیکن تبدیلیوں کی وجہ سے اور قدیم ترین آثار ختم ہو جانے کی وجہ سے آج ان کی شناخت مشکل ہے اور ان کی دریافت اور پہچان کے لیے ابھی تک کوئی علمی اور تحقیقی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی گئی ہے لیکن ایک ایسا شہر جسے ہم اس کے نام سے آج بھی پہچان سکتے ہیں“ راجن پور ”ہے جو شاید اس تہذیب کے حاکم خاندانوں کا مقام رہا ہو گا کہ دراوڑین زبان میں سردار کے لیے“ راجن ”کا لفظ بولا جاتا تھا۔

ہندی لفظ“ راج ”کا ماخذ یہی لفظ“ راجن ”ہے۔ ان مفتوح عوام کے ذمے معاشرے کے ادنیٰ ترین کام لگا دیے گئے۔ آرینز کی علمی اور مذہبی زبان سنسکرت تھی ان مقامی باشندوں کے بارے میں ایسے رواج اور ضابطے بناے گئے، کہ اس زبان کا کوئی حرف بھی ان مقامی لوگوں کے کان میں نہ پڑ جائے، کہ یہ کہیں علمی اور مذہبی زبان سنسکرت سیکھ کر معاشرے میں براہمن کی علمی اجارہ داری کے لیے خطرہ نہ بن سکیں، اس لیے اگر سنسکرت کا ایک لفظ بھی کسی قدیم مقامی جن کو داسیو، شودر، اور ملیچھ بنا دیا گیا تھا کے کان میں پڑ جائے، تو اس کے کانوں میں پگھلہ ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا۔

آج ہزاروں سال گزر چکے ہیں، معاشرے علم و شعور کی روشنی آنے کے بعد بدل چکے ہیں، لیکن یہ بدقسمت لوگ آج ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی ہماری بستیوں شہروں سے باہر جھونپڑیوں میں رہائش پذیر ہیں، ان میں کوئی رشتہ نہیں کرتا، ان کے ساتھ آج بھی کوئی بیٹھ کر کھانے کے لیے تیار نہیں ہے، ان پر تعلیم روزگار بلکہ نہ صرف ہمارے سماج کے بلکہ ہمارے دلوں کے دروازے بھی بند ہیں۔ کبھی ان کے اندر جا کر ان سے ان کی قدیم داستانیں اور ان کی اپنے بچوں کو سنائی جانے والی سینہ بہ سینہ نسل در نسل چلتی کہانیاں سنی جائیں، تو ہمیں ان کہانیوں میں ان کے ماضی بعید میں چھن چکے اقتدار، خوشحالی‘ افراط اور کھوئی ہوئی خوشیوں اور عزت و اقتدار کے نشانات اور آثار ملتے ہیں۔

ہزاروں سال کی دربدری، مصائب، تذلیل و تحقیر کا آج کے دور تک بھی جاری رہنا ایک نظر انداز شدہ انسانی المیہ ہے۔ کاش آج کے نام نہاد مہزب کہلانے والے باقتدار ان مظلوموں کو انسانی دھارے میں شامل کرنے اور ان کو شرف انسانیت سے بازیاب کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو مجھے یقین ہے کہ چند ہی سال کی منظم اورمنضبط کوشش سے ان کو اس سماج کا ایک کارآمد حصہ بنا کر ترقی، علم، اور انسانیت کے سفر میں ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •