عورت کی انگیا میں جھانکنا ضروری کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چند سال پہلے جب پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ دوسرے چینلز بھی ٹی وی کی سکرین پہ نظر آنا شروع ہوئے۔ تو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ خبروں کے لیے اب اگلے دن کے اخبار یا پھر رات نو بجے کے خبرنامے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جیو کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے دنوں میں مختاراں مائی کے کیس کی کوریج اور تجزیوں کو سننے کا جو مزہ میں نے محسوس کیا تھا۔ وہ ناقابل بیان ہے۔ مجھے لگا کہ بس میڈیا تو اب آزاد ہو گیا۔ اب سب کے راز کھلا کریں گے۔ اور شاید احتساب بھی۔ مگر یہ خواب تو خواب ہی رہا۔

کہیں نہ کہیں ایک دکھ بھی ہوا کہ کاش میرے نانا زندہ ہوتے۔ تو خبروں اور تجزیوں والے اتنے چینلز دیکھ کے بہت خوش ہوتے۔ اور ٹی وی پہ چلتے تجزیوں پہ ان کے تبصرے بے مثال ہوتے۔ خیر ایک وہ دور بھی تھا۔ جب میں سوچتی تھی کہ اگر کبھی میں وزیراعظم بنی تو ٹی وی پہ دو چیزیں بند کرواوں گی۔ ایک نیلام گھر اور دوسرا خبر نامہ۔ مگر اب خود بھی خبروں کے بنا گزارا نہیں۔ کہ سارا دن سوشل میڈیا پہ نئی سے نئی اور تازہ ترین خبریں آپ کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ ٹی وی دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو بہرحال ہے۔ کہ فوری اور تازہ ترین واقعہ، خبر بننے کے فوراً بعد آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔ اور اتنے تسلسل سے آتا ہے کہ کئی بار تو آپ کسی ایک واقعے پہ بات کر رہے ہوتے ہیں۔ تو اتنی دیر میں کچھ اور سامنے آ جاتا ہے۔ سامنے آنے والی خبروں میں بلاشک و شبہ سب سے زیادہ خبریں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و قتل کی ہوتی ہیں۔ عورتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم تسلسل سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اور وائرل ہونے والی خبروں میں بھی سب سے زیادہ عورت ہی ہوتی ہے۔ طلال چوہدری دو دن خوب خبروں میں رہے۔ لیکن ان کے ساتھ بھی چونکہ ایک عورت کا معاملہ تھا۔ تو واقعے کی تحقیقات یا اندرونی معاملات کو سمجھے بنا عورت کو تختہ مشق بنایا گیا۔ یہ ہمارا عمومی مزاج بن چکا ہے۔ کیا کیجئیے۔

آج کی خبر میں ایک خاتون اینکر کی تصویر کے ساتھ مختلف پوسٹس چلتی رہیں۔ لوگ چسکے بازی کے لیے تصویر کے ساتھ مختلف کیپشنز لگا کے شیئر کرتے رہے۔ یہ سوچے سمجھے بنا کہ جس لڑکی کی تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ وہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔ اس کے گھر میں والدین بہن بھائی و رشتے دار بھی ہوں گے ۔ اس لڑکی کے ذہن پہ اس کا کیا نفسیاتی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ سب سوچنا شاید ہمارا وتیرہ ہی نہیں ہے۔ میں نے تصویر دیکھی۔ مجھے اس میں کوئی ولگیریٹی نظر نہیں آئی۔

میں نے سوچا شاید میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں۔ میں نے زوم ان کر کے پھر سے دیکھا۔ مگر بے سود۔ مجھے گلابی شرٹ کے نیچے کیمی سول یا آسان لفظوں میں شمیض کہہ لیں۔ اس کے علاوہ تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ باریک کپڑوں کے نیچے لڑکیاں شمیض پہنتی ہیں۔ جس کا مقصد ہی یہ ہے کہ ان کا جسم کور ہو جائے۔ اور برا، بریزئیر یا انگیا نظر نہ آئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کو برا کی سٹریپس اگر نظر بھی آ رہی ہیں تو اس میں بے حیائی کہاں سے آ گئی۔

کیا مرد اپنی قمیض کے نیچے بنیان نہیں پہنتے۔ کیا وجہ ہے کہ کبھی کسی عورت نے تو مرد کی بنیان نظر آنے پہ بے شرمی کے سرٹیفکیٹ نہیں بانٹے۔ ٹھٹھے نہیں اڑائے۔ یا پھر دوستوں کو تصویر بھیج کے کہا ہو کہ دیکھو۔ اس نے لال رنگ کی بنیان پہنی ہے۔ کتنا سیکسی لگ رہا ہے یار۔ کیا مست سینہ ہے۔ ہائے اس کے سینے کے بال تو دیکھو۔ جی یہ سب الفاظ ہی ہوتے ہیں ایک عورت کی برا نظر آ جانے پہ۔ یعنی آپ کی آنکھیں نہ ہوئیں۔ ایکسرے مشین ہو گئی۔ وہ بے چاری بھی اتنی گہرائی میں بھلا کب جا سکتی ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے ہمارے ایک معروف صحافی کو ٹی شرٹ پہنے ورزش کرتی لڑکی میں بے حیائی دکھ گئی تھی۔ اب یہ نیا کٹا کھل گیا ہے۔ کہ جی یہ تو بے حیائی ہے کہ لڑکی کی بریزئیر نظر آ رہی ہے۔ میں اسی معاشرے میں پلی بڑھی ہوں۔ ایک انتہا کے تنگ ذہن خاندان میں پرورش پانا اور پھر آج تک میں جو کچھ بھی میں نے سیکھا یا سمجھا ہے۔ اس میں مطالعے کے ساتھ ساتھ میری مشاہدے کی عادت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

مجھے ایک بار سکول کے ساتھ ٹرپ پہ جانا تھا۔ تو میرے ماموں نے مجھے کلر کپڑے پہن کے جانے نہیں دیا۔ میرے دوسرے ماموں جو ان سے کچھ بہتر تھے۔ انہوں نے میرے کلر کپڑے اپنی شرٹ میں چھپائے۔ اور سکول جا کے میں نے چینج کیے۔ ٹرپ سے واپسی پہ پھر یونیفارم پہن کے گھر آئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے دماغوں میں جو گند عورت کو لے کر بھرا ہوتا ہے۔ جو گند آپ دوسروں کی عورتوں کو دیکھ کر بولتے ہیں۔ اس کا الٹ آپ اپنے گھر میں کرتے ہیں۔ اپنے گھر کی عورت پہ پابندیاں اور الزامات لگا کے اپنی مردانگی اور نام نہاد غیرت کو تسکین پہنچاتے ہیں۔

خیر یہاں ہمارے معاشرے میں مجموعی طور پہ زیادہ تر مرد ایسے ہیں۔ جو عورت کے جسم کو ایسے دیکھتے ہیں۔ جیسے قصائی بکرے کو دیکھتا ہے۔ چاہے اس نے کچھ بھی پہنا ہو۔ لباس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان شہوت بھری نظروں سے۔ کبھی کسی عورت سے پوچھئیے گا۔ کہ جب وہ انڈر گارمنٹس لینے کے لیے کسی دکان پہ جاتی ہے تو برا کا سائز بتانے پہ دکاندار اسے کن نظروں سے دیکھتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ باجی جو سائز آپ کہہ رہی ہیں۔ اس کی بجائے آپ کو فلاں سائز آئے گا۔ اس وقت دل چاہتا ہے کہ بندہ سر پھاڑ دے۔ مگر ایک کا سر پھاڑیں گے، دو کا پھاڑیں گے۔ اب سارے شہر کا تو سر توڑنے سے رہے۔

اس نیوز اینکر کا قصور نہیں۔ اس بے چاری کو علم نہیں ہو گا کہ یہاں تو راہ چلتی لڑکی کی بریزئیر کے رنگ پہ لڑکے کھڑے کھڑے بوتل کی شرط لگا لیتے ہیں۔ جینز ٹائٹ پہنی ہو تو آپ کے بٹکس کے ہلارے گنتے ہیں۔ میری باتیں بڑی بری لگتی ہیں۔ مگر جن لوگوں نے یہ سب باتیں روزمرہ زندگی میں بھگتی ہوں۔ وہ اب کیا انہیں لالی پاپ بنا کے دکھائیں وہ بھی سونے کے ورق لگا کے۔ ہمیں اگر بدلاؤ لانا ہے تو پھر شجر ممنوعہ سمجھے جانے والے الفاظ کو عام کرنا پڑے گا۔

جس طرح شلوار قمیض پینٹ شرٹ بنیان دھوتی اور چادر و برقع جیسے الفاظ بولنے اور ان کے استعمال پہ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایسے ہی بریزیر اور انڈروئیر کو تسلیم کریں۔ آپ تسلیم کریں کہ جس طرح مرد کو بنیان کی ضرورت ہے۔ ویسے بی عورت کو بھی بریزئیر یا انگیا پہننے کی ضرورت ہے۔ آپ لباس اس لیے پینتے ہیں کہ آپ کا جسم ڈھکے۔ اور آپ خوبصورت دکھیں۔ (جن کو خوبصورت لگنے پہ اعتراض ہے میری طرف سے وہ بے شک کچھ نہ پہنیں نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے)۔

ویسے یہ جو لڑکوں میں ڈھیلی اور ہپس سے ڈھلکتی پینٹس پہننے کا رواج ہے۔ کیا انہیں پتہ ہے کہ چلتے ہوئے ان کی لٹکتی ڈھلکتی پینٹ کو جب ان کے پیچھے چلنے یا گزرنے والے دیکھتے ہیں۔ تو دل میں کیا سوچتے ہوں گے ۔ کیا رنگ رنگ کے انڈروئیرز نظر آنے پہ مارکیٹس میں کبھی کسی عورت نے شور مچا دیا۔ کہ دیکھو بھئی دیکھو یہ لڑکا بے حیائی پھیلا رہا ہے۔ اس نے مالٹا رنگ کا انڈروئیر پہن رکھا ہے۔ اور اس کی پینٹ گرنے والی ہوئی پڑی ہے۔ سوچیں اگر ایسا ہونے لگے تو کیا نظارہ ہو۔

باقی ہم تو بچپن سے بہت سے ایسے گانے سنتے آئے ہیں جن میں لفظ انگیا کا استعمال بنا کسی شرم کے ادا ہوا۔ شرابی کا نولکھا گانا تو سب نے ہی سنا ہو گا۔ اس میں انگیا سلوانے کی فرمائش پہ پتہ نہیں ہماری قوم کے معماروں نے کیا سوچا ہو گا۔ عورت اور مرد کے فزیکل اپئیرنس میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جیسے مرد کے لیے انڈروئیر اور بنیان ضروری ہے۔ ویسے ہی عورت کے لیے بھی یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ ان باتوں کو اب چھوڑ دیں کہ فلاں کی قمیض کے نیچے سے بریزئیر نظر آ رہی ہے۔ فلاں کی سلیو لیس بازو کیوں ہیں۔ فلاں نے جینز کیوں پہن رکھی ہے۔ یقین مانیں بے حیائی کا تعلق آپ کے دماغ اور آپ کی سوچ سے ہے۔ ہماری بریزئیر ہرگز بے حیا نہیں۔ وہ تو بلکہ ہمارے تن ڈھانپنے میں کام آتی ہے۔ آخری بات یہ کہ ہم آپ کے انڈروئیر کو کچھ نہیں کہتے۔ خدارا آپ بھی ہماری بریزئیر کو بخش دیں۔ جس دن ایسا ہوا یقیناً دنیا بھر کی انگیائیں بھی آپ کا شکریہ ادا کریں گی۔

سوچئیے کیونکہ سوچنے پہ فی الحال ٹیکس نہیں لگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •