کل اور آج: ثقافت اور شعور کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاید آج کچھ لوگوں کو خواب جیسا لگے مگر کوئی بہت پرانی بات نہیں۔ وقت کا سفر اک ہمیشگی اور تسلسل سے وابستہ ہے۔ بچپن اک مستانہ سا زمانہ تھا، ابھی بہت سی سہولتیں عام نہیں تھیں اور ترقی نے ہر اک در پر اخباروں اور اسکرینوں پر ائے اشتہارات کی بھرمار کے ذریعے یلغار نہیں کی تھی۔

خواہشیں اور معلومات بہت نہ تھیں۔ جاننے کا ذریعہ سننا تھا یا پڑھنا، دیکھنے کی محدود سہولت عفریت نہ بن پائی تھی۔ بہت سی گاڑیاں نہیں تھیں۔ فون کسی کسی کے گھر میں ہوتا تھا اور سائیکل کی اہمیت برقرار تھی۔ دکانوں پر کولڈڈرنک کی بوتل عید کے دنوں میں یا مہمانوں کی آمد پر گھروں میں اتی تھیں۔ مقامی مشروبات بازار میں نظر بھی اتے تھے اور پیئے بھی جاتے تھے۔ کیلکولیٹر کو اشتیاق کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور سرکاری دفاتر میں ٹائپ رائٹر کی اہمیت مقدم تھی۔

ترقی کوئی بری چیز نہیں مگر ہمارے رویوں میں منفی بدلاؤ تہذیب اور سماج کی بنیادیں کمزور کرتا ہے اور اگر سماج کی بنیادیں کمزور ہونے لگیں تو اس پر قائم روایات، ثقافت اور تہذیب کی عمارت بھی شکستہ ہونے لگتی ہے۔ جس طرح ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی اس طرح ہر نئی چیز بہترین اور ہر پرانی چیز بے کار نہیں۔

’ ثبات بس اک تغیر کو ہے زمانے میں، مگر دیکھو کہ تغیر فطری ہے یا مصنوعی سا۔ اور اس کی کڑیاں کہاں سے جاملتی ہیں۔ لوگ جہاں رہتے ہیں وہاں کے موسم، حالات، جغرافئیے اور رہن سہن کے طریقوں سے مل کر بنتی ہے وہاں کی ثقافت۔ گزرتا وقت، مختلف تجربوں کا تسلسل اور جدا جدا سی تہذیبوں کا امتزاج ثقافت کو نکھارتا ہے اور اس کو دلکشی کے الگ الگ رنگوں سے سجاتا ہے۔ کھانے، لباس، رواج، رسمیں، عادتیں اور ادب ہر ثقافت کو اک زندہ روایت کے طور پر زندہ رکھتے ہیں

تہذیب کا وہ عنصر جو براہ راست نظر نہیں آتا اس کی روایات اور ثقافت ہیں جو سماج (سوسائٹی) کے ہر فرد کو براہ راست اور بالواسطہ متاثر کرتی ہیں اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تو اگر تبدیل ہونے والی روایات مثبت ہوں تو ثقافت کو جگمگادیتی ہیں اور اگر منفی ہوں تو چمک کو زنگ میں تبدیل کردیتی ہیں۔

انسان جو سنتا ہے اور جو دیکھتا ہے وہ سب اس کے ذہن پر اثر مرتب کرتا ہے اور اس اثر سے اس کی عادات اور روزمرہ زندگی میں بدلاؤ کی شرح کم یا زیادہ ہو سکتی ہے اس کا انحصار اثر کی شدت سے تعلق رکھتا ہے۔

اجنبی تہذیب اور سرزمین انسان کے لیے دلچسپی کا سبب ہیں اور جہاں دلچسپی ہوتی ہے وہاں کم یا زیادہ اس کا مثبت یا منفی اثر قبول کرنا ایک عام سی بات ہے۔ مگر ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی سماج کے فرد کو اپنی تہذیب، روایات اور ثقافت کے بارے میں کس قدر اور کس حد تک حقیقی فہم حاصل ہے۔ اپنی خامیوں اور خوبیوں سے آگاہی ایک ایسا فن ہے جو کسی بھی فرد کو زندگی کے مشکل مقامات سے بخوبی گزرنے اور ہر اک طرح کی صورتحال کو قابو کرنے میں بہت زیادہ مدد دیتا ہے۔

فرد کی طرح سماج کے لیے بھی اپنی خامیوں اور خوبیوں سے آگاہی کا ہونا لازم ہے اور اس کی بقا کے عناصر میں سے ایک لازمی عنصر، کیوں کہ اپنی خامیوں اور خوبیوں سے واقف سماج اپنی ترقی اور تنزلی کی وجوہات کو جان کر اپنی اصلاح کے لیے بروقت، موثر اور ضروری اقدامات لینے کے قابل ہوتا ہے۔ ورنہ مٹتی ہوئی بہت سی تہذیبوں کے بارے میں کچھ معلومات کے لیے دنیا میں بہت سے عجائب گھر (میوزیم) موجود ہیں۔

بات صرف اپنے بچپن یا گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرنے اور اس رومانس سے لطف اندوز ہونے کی نہیں، بلکہ تقابل (کمپیریزن) ہمیشہ فرق جاننے میں مدد دیتا ہے اور فرق جاننے سے ہم ترقی اور تنزلی یا معدومیت کے اسباب و عوامل کو جان سکتے ہیں۔ ہماری اپنی تہذیب اور ثقافت میں بہت سے رنگ، ذائقے، روایات اور خوبیاں موجود ہیں اور اس طرح دوسری تہذیبوں میں بھی۔ کسی بھی انسان، تہذیب اور ثقافت میں خوبیوں کی تلاش کوئی غلط بات نہیں، مگر اپنی تہذیب میں صرف خامیوں کو توجہ دینا تنزلی کے سفر کی ایک واضح علامت ہے۔ وقت پلٹتا نہیں تو اس کی یاد میں گم رہنا شاید کچھ نئی تخلیق کا باعث نہ بن پائے مگر پرانے وقتوں کی اچھی باتوں کو بھول جانا بھی ترقی کی علامت نہیں۔

بہت سی اچھی مثالوں میں ہمارے سامنے جاپان کی مثال ہے کہ جاپان کی زندگی کے اب دو پہلو بہت نمایاں ہیں۔ کام پر موجود جاپانی اور گھر میں موجود جاپانی۔ یہ دو بہت الگ الگ سی چیزیں ہیں۔ کام پر موجود جاپانی آپ کو دنیا پر غالب مغربی تہذیب کی بہت سی علامتوں (لباس اور طریقہ کار وغیرہ) سے مزین نظر ائے گا مگر اپنے گھر کا دروازہ عبور کرنے کے بعد کا جاپانی صرف جاپانی تہذیب اور ثقافت کا نمائندہ بن جاتا ہے اب بات چاہے لباس کی ہو یا غذا کی، گھر کے اندر موجود ہر اک شے جاپان کی تہذیب کو اجاگر کرتی نظر اتی ہے۔

بہت سے اور مضامین (آرٹیکلز) کی طرح یہ مضمون بھی ایک سے زیادہ جہتوں (ڈائمنشینز) میں سفر کرتا ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہے کہ زندگی بھی تو ایک جہت (ڈائمینشن) میں ہی اٹکی نہیں رہتی تو سماج اور تہذیب کی جہتیں بھی مختلف مگر مربوط رہتی ہیں اور ان کے مابین سفر کرتی رہتی ہے۔

ہمارا خطہ زمین اس سیارے کے اس دور کی بہت سی شاندار تہذیبوں کا سرچشمہ اور گڑھ رہا ہے اور بہت سے انے والے مسافروں اور حملہ آوروں کے ساتھ بھی بہت سی تہذیبیں اس خطے میں آبسیں اور ان سب کے مابین ابلاغ (کمیونیکیشن) سے تہذیب اور ثقافت میں نت نئے رنگوں کا اضافہ ہوا۔

غلامی کے اک سو سالہ یا کچھ زیادہ دور نے اک بے عنوان اور بسا اوقات پوشیدہ سی شرمندگی کو جنم دیا ہے جو بہت سے افراد کے رویوں میں غیرمحسوس سے انداز میں رچ بس گئی ہے اور اس کے زیراثر ہم دوسری تہذیبوں کے اثرات کو حاکمانہ انداز میں قبول کرکے اپنے لیے بہت سی الجھنوں کو وجود میں لے اتے ہیں۔

ہم سب کے مدیر اعلیٰ جناب وجاہت مسعود کے ایک حالیہ شائع ہوئے مضمون ’قلعہ فراموشی کی رات اور کوہ ندا کا بلاوا میں جناب احسان دانش کا ایک مصرعہ پڑھا : مجھ سے پہلے مرے اظہار کو موت ائی ہے۔ اظہار زندگی کی علامت ہے اور اس کے نہ ہونے سے معاشرے جبر اور گھٹن کا شکار ہوکر عدم وجود کی جانب جاتے ہیں۔

اظہار کی روایت بھی اک بہت مضبوط ذریعہ ہے کہ جس کے ذریعے مکالمے (ڈائیلاگ) کا عمل مختلف صورتوں میں جاری رہتا ہے اور اگر اس سفر کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو جبر اور گھٹن کا ماحول صلاحیت اور تخلیق کو متاثر کرتا ہے اور پھر جامد معاشرے اور جنگ کے ماحول جنم لیتے ہیں جو صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ سب کے لیے ایک زندہ دھمکی بن جاتے ہیں۔

ہماری ثقافتیں ہمیں خود سے اور اک دوسرے سے جوڑے رکھنے کا اک بہت مضبوط اور قدرتی ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے ہم اپنے معاشروں کو زندہ معاشروں میں بدل سکتے ہیں۔

شاید کچھ چیزوں کو دوبارہ سے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے اور اس ضرورت پر کام کرنے سے ہم اپنی آج کی زندگی کو نہ صرف اپنے گزرے ہوئے کل کی جگمگاہٹ سے ایک مثبت انداز میں جوڑ کر ایک حقیقی معنوں میں اچھے مستقبل کا قیام ممکن بنا سکتے ہیں جس کی چمک ہمارے اپنے ہی رنگوں کی مرہون منت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •