اپنی بیٹیوں سے خوف زدہ مرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کیمرے کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں تو آپ کی بیٹی یہ پیغام لے سکتی ہے کہ مرد اور خاتون کا ہاتھ ملانا جائز ہے۔ وہ بھی کسی مرد سے ہاتھ ملا سکتی ہے یا ایسا سوچ سکتی ہے۔ آپ یہ پیغام اپنی بیٹی کو دینا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی غیرت گھر کی عورتوں کے بدن سے جڑی ہوئی ہے۔ اور آپ ہر وقت اپنی بیٹی کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تمھاری خیریت اسی میں ہے کہ تم اپنے رشتے دار مردوں کی جھوٹی انا کو اپنے سکھ، سکون، خوشی اور بنیادی انسانی حقوق پر ترجیح دو۔ ہم مردوں کی یہ غیرت اور انا تمھاری زندگی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ تم ہمیں بہت عزیز ہو لیکن یہ صرف اس وقت تک ہے کہ جب تک تم ہماری مرضی کے مرد کی غلامی میں رہو۔ اس غلامی میں تم خوش ہو یا نہیں اس بات سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔ لیکن جونہی تم نے اس غلامی کو جان لیا اور اس کے خلاف سوال اٹھایا، ہمارا سارا پیار دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ اس لیے ہم سب کی خیریت اسی میں ہے کہ تم حد میں رہو۔ بیٹی کو یہ پیغام دوسری خواتین کی سرعام تضحیک کر کے بھی دیا جاتا ہے۔

لیکن لڑکیوں سے خوف زدہ تو پھر بھی رہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں بھی پتا ہے کہ لڑکیاں کسی سے کم نہیں ہیں۔ عام شعبوں کے ساتھ ساتھ وہ سربفلک چوٹیاں سر کر رہی ہیں اور جہاز اڑا رہی ہیں۔ اس لیے آپ کا خوف زدہ رہنا بلاوجہ نہیں۔

لڑکیوں سے خوف زدہ ہونا بہت ہی عام بات ہے۔ ہم برصغیر کے لوگ جہاں بھی رہ رہے ہوں اپنی لڑکیوں سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ ایک دھڑکا سا رہتا ہے کہ کہیں وہ “باغی” نہ ہو جائے۔ اور دوسرے بھی اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ کس کس کی لڑکی کتنی باغی ہو گئی ہے۔ اور پھر اس بات کو خوب مزے لے کر ڈسکس کرتے ہیں۔ ان کی عزت مٹی میں رل جانے کی بات کرتے ہیں۔ اس سے ہماری اپنی سٹیکس اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔

دیا خان ایک ناویجن برٹش ڈاکومنٹری فلم میکر اور انسانی حقوق کی پرچارک ہیں۔ ان کی ماں افغان اور باپ پاکستانی ہے۔ وہ اپنی ایک ٹیڈ ٹاک میں بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ کے کہنے پر میوزک کی تعلیم حاصل کی اور سنگر بننے کی کوشش کی۔ اور وہ ناروے میں کافی مشہور گئیں تو ایک عمر رسیدہ ناویجن پاکستانی نے انہیں سڑک پر روک کر کہا کہ وہ واجب القتل ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی کی لڑکیوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں اور یہ کہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ تو وہ عمر رسیدہ شخص کوئی اکیلا نہیں ہے جو لڑکیوں سے ڈرتا ہے۔ بہت سے ہیں جو اپنی بیٹیوں کے پر کاٹنے میں لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی بیٹیوں سے خوف زدہ رہتے ہیں۔

عورت دشمنی جتنی عام ہے اتنی ہی قابل قبول بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں انسانوں کے خلاف ہر قسم کی تفریق برتنے کا رواج بہت زیادہ ہے لیکن جو حال عورتوں کے انسانی حقوق کا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں کم ہی ملتی ہو گی۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں عورتوں پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے کی بات کی جا سکتی ہے۔ مثلا ایک بہت ہی مشہور (اور جوانی کی دھوپ ڈھلنے کے بعد پارسائی کا لبادہ اوڑھنے والے) کرکٹر نے خواتین کی کرکٹ پر بات کرنے سے انکار کر دیا اور ٹی وی پر بیٹھ کر اینکر کے ایک ہی سوال کا تین مرتبہ یہ جواب دیا کہ ان (عورتوں) کے ہاتھ میں ذائقہ بہت ہوتا ہے۔ یعنی وہ جائیں کچن میں جا کر ہانڈی روٹی کریں، کرکٹ کھیلنے سے ان کا کیا کام۔ پچھلے سال پھر انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹیاں گیمز میں بہت اچھی ہیں۔ لیکن وہ انہیں آؤٹ ڈور گیمز کی اجازت نہیں دے سکتا۔ فیمینسٹ جائیں بھاڑ میں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے اور لوگوں کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

یہ ایک اور غلط فہمی ہے کہ آپ کی بیٹی آپ کی ملکیت ہے اور آپ کا جو جی چاہے، وہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ آپ کے بچے یا بچیاں آپ کی ملکیت نہیں ہیں۔ آپ کے ذمے ان کے کچھ حقوق ہیں اور اگر آپ وہ حقوق پورے نہیں کر رہے تو اس سلسلے میں مداخلت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کی پرورش میں سستی اور ان کے خلاف کسی بھی طرح کی تفریق، تشدد یا استحصال سے تحفظ ان کا حق ہے اور اس تحفظ کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مثال کے طور پر بچوں کو تعلیم یا صحت کی سہولت سے محروم رکھنا، ان سے مزدوری یا نوکری کروانا، ان پر تشدد کرنا، ان کے ساتھ کسی قسم کی جنسی زیادتی کرنا، کم عمری کی شادی کرنا یا ایک خاص عمر کے بچے کو گھر پر اکیلا چھوڑ دینا یہ سب جرائم ہیں جن کے لیے قوانین ہیں۔ اور مہذب دنیا میں ایسی صورت حال میں پولیس مداخلت کرتی ہے اور والدین کو سزا بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ زیادہ خراب حالات میں اگر بچے کے تحفظ کے لیے ضروری ہو تو بچے کو والدین سے الگ بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن پاکستان میں بچوں کے ساتھ خاص طور پر بچیوں اور عورتوں کے خلاف جتنی مرضی تفریق کرو اور اس بات کا اعلان کرتے رہو، تو بھی کوئی آپ کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے آپ کی فین فالونگ میں اضافہ ہو گا اور آپ ہماری “عظیم مشرقی روایات” کے محافظ اور ہیرو تصور ہوں گے۔ لیکن اندر سے آپ خوف زدہ رہیں گے کہ ایسا نہ ہو آپ کی بیٹی نافرمانی پر اتر آئے اور آپ کی ریا کاری کا بھرم بلبلے کی طرح پھوٹ بہے۔ اس لیے آپ اپنی بیٹیوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے اور ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھیننے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے روکتے رہیں گے۔ آپ کی کوشش یہی ہو گی کہ وہ انسان کی طرح ایک آزاد زندگی گزارنے کے قابل نہ ہوں تاکہ آپ کے بعد وہ اس مرد کی غلامی میں سانس لینے پر مجبور رہیں، آپ نے انہیں جس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 247 posts and counting.See all posts by salim-malik