اگر نواز شریف واقعی واپس آ گیا تو کیا ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جوں جوں موجودہ نظام حکومت اور سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف نواز شریف کا لب و لہجہ سخت ہورہا ہے، اسی کے ساتھ ملک میں ’احتساب‘ کا نظام اور عدالتیں بھی مستعد اور چوکنا ہوگئی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر شریف خاندان کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لئے ایف آئی اے اور وزارت خارجہ کو ہر ممکن اقدام کرنے کا حکم دیا ہے۔

کیا یہ حکم جاری کرتے ہوئے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی سوچ لیا گیا ہے کہ جس نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر ملک میں سیاسی طوفان اٹھا دیا ہے اگر وہ پاکستان واپس آگیا تو کیا قیامت بپا ہوسکتی ہے؟ اب بھی جمہوری خواہش کا اظہار کرنے والوں کے خلاف فیصلوں اور احکامات کو بدستور قومی مفاد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا کسی نے یہ سوچنے کی ضرورت بھی محسوس کی ہے کہ ان فیصلوں اور بیانات کا مملکت پاکستان، اس کے مفادات، اداروں کی خود مختاری و اختیار کے علاوہ سیاسی نظام اور پارلیمنٹ کے معاملات پر کیا اثر مرتب ہوگا۔

یہ وقوعہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ پرویز مشرف نے 1999 میں فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ہر قیمت پر سیاست سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وہ ببانگ دہل یہ کہتے تھے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا پاکستانی سیاست میں کوئی کردار نہیں۔ اسے بھی وقت کی ستم ظریفی ہی سمجھنا چاہئے کہ اسی پرویز مشرف نے سیاسی زوال قریب دیکھ کر بے نظیر بھٹو کے ساتھ معاہدہ کیا اور وہ ’قومی مفاہمتی آرڈی ننس‘ جاری کیا جو این آر او کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان اور ان کے ساتھی باقاعدہ کورس کی صورت میں یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کو کوئی رعایت یا این آار او نہیں دیں گے۔

پرویز مشرف نے فوج کے سربراہ کے طور پر ملک کی دو سربرآوردہ سیاسی شخصیات کو ملکی سیاست سے بے دخل کرنے کا جو اقدام کیا، اسے اس وقت کی فوجی قیادت کی نمائندگی سمجھنا غلط نہیں ہوگا۔ لیکن یہ حکمت عملی ناکام ہوئی۔ اسی نتیجہ تھا کہ جب عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجہ میں پرویز مشرف کو ملک میں جمہوریت بحال کرنے پر راضی ہونا پڑا تو پہلے پیپلز پارٹی اور اس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالا۔ ان دونوں ادوار میں آئینی اصلاحات اور معاشی احیا کے حوالے سے قابل قدر اصلاحات اور کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ ان میں سب سے اہم سب صوبوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھنے والی اٹھارویں ترمیم کو آئین کا حصہ بنانے کا کارنامہ تھا۔

موجودہ حکومتی انتظام نافذ ہونے کے بعد سےمسلسل اٹھارویں ترمیم ہی نہیں بلکہ ملک کے پارلیمانی نظام کے خلاف تواتر سے رائے سازی کی جارہی ہے۔ سرکاری ترجمان اور میڈیا میں ان کے ہمدرد اس معاملہ میں دلائل کے ’انبار‘ لگاتے ہیں ۔ سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس ترمیم کے نتیجہ میں قومی آمدنی کا بڑا حصہ صوبوں کو دینے سے مرکز مالی طور پر مفلس ہوگیا ہے ۔ تحریک انصاف اس صورت حال کو ناقابل قبول قرار دیتی ہے۔ گویا دلیل یہ ہے کہ مرکز خلا میں قائم کوئی ایسے طاقت ہے جس کا ملک کی چار انتظامی اکائیوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا، سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہی مباحث میں مضبوط مرکز کا شوشہ چھوڑ کر صوبوں کو ان کی ’حدود‘ میں رکھنے کی بات بھی کی جاتی ہے۔ حالانکہ مضبوط صوبے اور ان کے مطمئن عوام ہی ملک کے وفاقی انتظام میں مرکز کی اصل طاقت ہیں۔ مرکز کو طاقت ور بنانے کے نام پر بدستور اس اعتبار اور بھروسہ کو ختم کرنے کے لئے دلائل دیے جاتے ہیں جو اٹھارویں ترمیم نے ملک کے صوبوں اور مرکز کے درمیان قائم کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔

ان دلائل میں دفاع کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے مرکز کی مفلوک الحالی کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان جن سیاسی و مالی حالات کا سامنا کررہا ہے ، ان کی روشنی میں صوبوں کے اختیار کو چیلنج کرنے کی بجائے ملکی وسائل میں اضافہ کرنا اہم ترین اقدام ہے۔ معیشت سے معمولی شدھ بدھ رکھنے والا شخص بھی بتا سکتا ہے کہ کسی بھی ملک کے مالی وسائل میں اضافہ کے لئے معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی معاشرے میں سکون اور اطمینان پیدا کرکے ہی ممکن ہوتی ہیں۔ گزشتہ دو برس میں جانے انجانے میں مسلسل اس سکون کو ختم کرنے اور بے یقینی و اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ہیجان اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ سیاسی لیڈر براہ راست فوج یا اسٹبلشمنٹ کو اس پریشان کن صورت حال کا ذمہ دار سمجھ رہے ہیں۔

 پاکستان میں کسی سول دور حکومت میں عسکری قیادت کے خلاف اس قسم کا احتجاج اور رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایوب خان اور پرویز مشرف کی حکومتوں کے خلاف تحریک کے دوران ضرور سیاست کو فوجی تسلط یا مارشل لا قسم کے انتظام سے پاک رکھنے کے مطالبے کئے جاتے رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی جمہوری حکومت میں فوجی اثر ورسوخ کے خلاف ایسا وسیع اتفاق رائے اور احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا جو اب دیکھا جارہا ہے۔ غور کرنا چاہئے اس کی کیا وجوہ ہوسکتی ہیں؟

ماضی قریب میں برسر اقتدار آنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کو میمو گیٹ اور ڈان لیکس اسکینڈلز جیسے ڈراموں سے دباؤ میں لانے اور عاجز کرنے کی کوششیں بھی قومی یادداشت کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود اپوزیشن ،فوج اور سیاست کے تال میل کے خلاف اس حد تک برافروختہ اور ناراض نہیں ہوئی۔ اب ملکی سیاست میں ایسی کیا تبدیلی رونما ہوچکی ہے کہ صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہے اور ناراضی اور مایوسی کا کھلم کھلا اظہار ہورہا ہے۔ گزشتہ دس بارہ روز میں نواز شریف کی دو تقریریں اور مریم نواز کی پریس کانفرنس اس پریشانی کا مؤثر اظہار کہی جاسکتی ہیں۔

جن ملاقاتوں کا ’انکشاف‘ کرکے سیاست دانوں کو بے اعتبار ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ ملاقاتیں دراصل ملکی سیاسی قیادت کے اس احساس ذمہ داری اور مفاہمانہ طرز عمل کی علامت ہیں کہ ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے ایک ایسے ادارے سے مواصلت ختم نہ کی جائے جس نے ملک کی مختصر تاریخ میں چار مرتبہ مارشل لا کے ذریعے جمہوری راستہ روکنے کی کوشش کی۔ البتہ عسکری قیادت پر ضرور یہ جواب واجب ہے کہ وہ کیوں سیاسی قیادت سے نیم خفیہ اور منظر نامہ سے پرے ملاقاتیں کرنا اور ہدایات دینا ضروری سمجھتی رہی ہے۔ خاص طور سے جب سرکاری طور سے فوج کا یہ مؤقف ہے کہ وہ سیاسی امور میں کسی قسم کی مداخلت کی روادار نہیں اور آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت وقت کے تابع فرمان ہے۔

 ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی اور بحران کی صورت حال میں یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ پرویز مشرف کے فوجی دور کے خاتمہ کے بعد فوج نے مجبوراً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو قبول ضرور کیا لیکن نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے خلاف تحفظات دور نہیں ہوسکے۔ حالانکہ فوج کا س بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے کہ عوام کس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ نگار اس پر متفق ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت کو کم یا محدود کرنے کے لئے عمران خان کو متبادل قیادت کے طور دیکھا جانے لگا تھا۔ تحریک انصاف کو گزشتہ چند برسوں کے دوران ہر وہ سہولت فراہم کی گئی جو کسی سیاسی لیڈر اور پارٹی کو قومی سیاست میں نمایاں ہونے کے لئے درکار ہوسکتی ہے۔ 1996 میں قائم ہونے والی تحریک انصاف جو کبھی ایک نشست سے زیادہ جیتنے کا ریکارڈ نہیں رکھتی تھی ، کو 2012 سے ایسی ’قوت‘ فراہم کی گئی کہ وہ 2013 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی تیس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

یہ کامیابی بھی عمران خان اور ان کے سرپرستوں کے خوابوں کی تکمیل نہیں کرسکی ۔ اس کے نتیجہ میں 2014 کا دھرنا منظم کیا گیا۔ گزشتہ روز نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دھرنا کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر وہ مستعفی نہ ہوئے تو ملک میں مارشل لا لگ جائے گا۔ ان حالات میں 2018 کے انتخابات منعقد ہوئے اور بالآخر عمران خان وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کامیابی انتخابات سے پہلے، دوران اور بعد میں آزمائے گئے ہتھکنڈوں کا نتیجہ تھی۔ ملکی میڈیا کے ذریعے عمران خان کو پروموٹ اور باقی سیاسی قیادت کو چور ثابت کرنے کا اہتمام ہؤا۔ انتخابات سے پہلے با اثر لوگوں یعنی الیکٹ ایبلز کو پارٹی کی جانب دھکیلا گیا اور پھر بھی اکثریت نہ ملنے پر آزاد ارکان کا بازو مروڑا گیا۔

بدقسمتی سے ان تمام تر کاوشوں کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والی حکومت نہ عوام کی توقعات پر پوری اتری اور نہ ہی ملک کے معاشی اور انتظامی حالات بہتر ہوئے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں ایک چوتھائی ووٹ لینے والی پارٹی مرکز اور تین صوبوں میں برسر اقتدار ہے اور پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ لینے والی اپوزیشن پارٹیوں کو چور اچکوں کا ٹولہ قرار دے کر سیاسی عمل سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے۔ فوج اور عدلیہ سمیت ملک کے ادارے اگر اس صورت حال کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے اور ملک کے آئینی جمہوری انتظام کی روح پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالنے میں عمران خان کے معاون ہوں گے تو اسے عوامی رائے کا احترام قرار دینا ممکن نہیں ہو سکتا۔ جو بھی یہ صورت پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے ، اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک مستحکم ہے بلکہ اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ پے در پے غلطیوں کی وجہ سے تحریک انصاف مسلسل مقبولیت سے محروم ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود جمہوریت اور آئین کے احترام کا تقاضہ ہے کہ منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے۔ لیکن یہی آئین ملکی عوام کے سب نمائیندوں کو فیصلہ سازی میں شریک ہونے کا حق دیتا ہے۔ موجودہ انتظام میں اس حق کو تلف کیا گیا ہے۔ اسی لئے نواز شریف کی باتوں کو غور سے سنا جارہا ہے اور ان کی پذیرائی ہوتی ہے۔

عین ممکن ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے احتجاجی طرز عمل کے ذاتی مقاصد بھی ہوں اور وہ کسی مرحلے پر لین دین کے کسی منصوبہ کا حصہ بن جائیں۔ ملک میں جمہوریت کی لڑائی کسی ایک بیان یا ایک تحریک سے جیتی نہیں جائے گی لیکن نواز شریف نے جو قدم اٹھایا ہے وہ ملک میں آئینی بالادستی کے لئے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کو عدالتوں اور نیب کے ذریعے خوفزدہ کرنے والوں کے لئے اس نکتہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی جیل میں بند نواز شریف ، لندن سے تقریریں کرنے والے نواز شریف سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1651 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali