شارلٹ برونٹے = اے آر خاتون جین آئیر، شرلی، ویلیٹ=شمع، تصویر، افشاں صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شارلٹ برونٹے کے ناول بے شک جین آئیر ہو، شرلی یا ویلیٹ ہوں سب انگریزی ادب میں کلاسیک کاجو مقام حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے انگریزی ادب پڑھنے والا کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا۔ شارلٹ برونٹے اور ان کے فن پاروں پر تفصیلی بات کرنے سے قبل مجھے اپنے قارئین کے سامنے ایک سوال اٹھانا ہے کہ کیا ہمارے اردو ادب میں بھی کسی خاتون کے تحریر کردہ ایسے ناول ہیں جنہیں ہم بھی اردو ادب میں کوئی مقام دے سکیں۔ معذرت کے ساتھ قرۃ العین یا ان کا آگ کا دریا یا عصمت چغتائی اور ان کے ناول افسانے یا اور بڑے نام میرے سامنے نہیں۔

میرا مسئلہ جین آئیر جیسے ناول اس کے پلاٹ، اس کی تھیم اور اسے ملنے والی بے پایاں شہرت کے حوالے اور ساتھ ہی کم و بیش اسی نسبت سے تعلق رکھنے والے ناولوں اور ان سے جڑے اپنے لوگوں کے رویوں اور تعصبات سے ہے۔ جنہیں اپنی چیزوں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی تاآنکہ باہر کی دنیا کا کوئی بندہ اس کا احساس نہ دلائے۔ نصرت فتح علی خان کی مثال وضاحت کے لئے کافی ہے۔

تو آئیے پہلے ذرا جین آئیر کا سرسری سا جائزہ لے لیں۔ جین آئیر محبت، رومانس، ایک نوجوان لڑکی کے داخلی اور خارجی اثرات کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربات پر مبنی ایک اثر انگیز کہانی جس کے واقعات کا بیشتر حصہ اس کے اپنے ماحول کا عکاس ہے۔ حالات کا اتار چڑھاؤ پڑھنے والے کے جذبات و احساسات پر اثر انداز ہو کر اسے پرتاثیر بنا تا ہے۔ فطری رنگ میں ڈھلا ہوا واحد متکلم انداز میں لکھی ہوئی اس نسوانی تحریر میں قاری ڈوب کر بے اختیار اس کا ہر صفحہ الٹتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جس نے انیسویں صدی کے تقریباً وسط میں چھپنے والے اس ناول اور مصنفہ کو اتنا مقبول بنا دیا کہ اس کا شمار کلاسیک میں کیا جانے لگا۔

پروفیسر پہلا ناول تھا۔ بعد میں جین آئیر، شرلی ایما اور ویلیٹ لکھے گئے۔ شرلی میں بھی کہہ لیجئیے کہ شارلٹ برونٹے خود ہے اور صیغہ غائب میں کہانی کا سارا بیانیہ ہے۔ یارک شائر کا ماحول اس ماحول کی ایک سچی تصویر۔ جس میں لوگوں کے معاشرتی مسائل، خاندانی لڑائی جھگڑے، صنعتوں کی وجہ سے بے روزگاری اور بے سکونی کا ماحول سب کی بہترین عکاسی ملتی ہے۔ ویلیٹ Villette میں اس کی اپنی تنہائی، ذات پر داخلی اور خارجی دباؤ ناول میں ہیروئن کا ویلیٹ میں تعلیم کے لئے جانا، کونسٹنٹائن ایثریر ادارے کی تفصیلات، وہاں کا ایک مختلف ماحول۔ یہ سب اس کے ذاتی تجربات تھے۔

اور اب اردو ادب کی جس ناول نگار کا تذکرہ کرنا ہے وہ اے آر خاتون ہیں۔ جن کے ناول شمع تصویر اور افشاں ہیں۔

میں سمجھتی ہوں ان ناولوں نے بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اتر پردیش (یعنی یوپی) کے شہروں میں اونچے متوسط، متوسط اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی مسلمان اشرافیہ کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو جس عمدگی اور خوبصورتی سے لکھ کر محفوظ کیا وہ اپنی جگہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایک پردہ نشین عورت اپنے کرداروں کی اندرونی اور اس پر اثرانداز ہونے والے بیرونی اثرات کی بنت، اپنے ماحول اور اپنی روایات کے پس منظر میں اس عمدگی سے بنتی ہے کہ انسانی فطرت کے خیر و شر کے پہلو لیے کچھ ظاہر، کچھ باطنی رخ محبتوں اور نفرتوں میں گندھے سامنے آتے ہیں کہ ہر کردار ذہن پر ایک بھرپور نقش چھوڑتا ہے۔

کہانی اتنی مضبوط کہ بے شمار کرداروں کے باوجود کہیں جھول نہیں۔ ایک تسلسل اور روانی سے آگے بڑھ کر ناول کو حتمی انجام تک پہنچاتی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ ان تینوں ناولوں میں کوئی بڑا پیغام نہیں۔ انہوں نے کسی بڑے موضوع کا احاطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کوئی ماورائی فلسفہ پیش نہیں کیا۔ ہاں رشتے ناتوں میں خاندانی رنجشوں، سیاستوں، توڑ جوڑ، محبتوں، نفرتوں کے جذبات کی فراوانی کے ساتھ انگریز دور حکومت کے نقوش کا بھی ذکر ملتا ہے۔

کہانی کے اندر شادی بیاہ، موت، پیدائش کے مرحلوں میں زندگی کے سبھی رنگوں کو اس کی چھوٹی چھوٹی جزئیات کے ہمراہ بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اب یہ سب بڑے ادیبوں کو بھلے نہ بھائے اور وہ بے اختیار کہیں کہ یہ کیا رنگوں کا مینا بازار سجا دیا ہے۔ یہ کیا غم کے موقع پر بھی خرافات کا سیلاب امڈا ہوا ہے۔ مگر حقیقتاً یہ اس کے اپنے ماحول کی عکاسی ہی تھی کہ اس دور کا ثقافتی پس منظر ایسا ہی تھا۔

ناولوں کی اس پیشکش نے اس مخصوص دور کی مسلم تہذیب و ثقافت کو اوراق میں محفوظ کیا جو تقسیم کے ساتھ زوال پذیر ہو گئی۔

تصویر اور افشاں دونوں ناول بھرپور ڈرامائی تاثر کے حامل ہیں۔ تصویر میں برصغیر کی قدیم داستان گوئی کا رنگ اپنے پورے عروج پر نظر آتا ہے۔ یہاں قاری کا پڑھتے پڑھتے جس طرح سانس رکتا اور اسے پھرتی سے صفحہ الٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ حقیقتاً کمال کا ہے۔ افشاں میں بھی یہ چیز نظر آتی ہے مگر قدرے کم۔

اب ذرا مصنفات کی زندگیوں کا بھی تھوڑا سا احوال بیان ہو جائے۔

یہ انیسویں صدی کی دوسری دہائی کا اختتام ہے جب کاؤنٹی یارک شائر کے شہر بریڈ فورڈ کے ایک قصبے ماورتھ میں پیٹرک برونٹے پادری کے گھر 1816 اور 1818 میں شارلٹ اور ایملی برونٹے پیدا ہوئیں۔ ان کی تیسری بہن این برونٹے بھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لڑکیوں کی تعلیم کا زیادہ رواج نہ تھا۔ تاہم والد چونکہ پڑھے لکھے تھے اس لیے وہ چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں پڑھیں۔ بچپن ہی سے تینوں بہنوں کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ جو کتاب بھی ملتی وہ ضرور پڑھتیں پھر اس پر اظہار خیال ہوتا۔ بحث مباحثے سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار ملنے لگا تو انہوں نے کہانیاں لکھنا شروع کردیں۔ آغاز میں یہ کام وہ چھوٹی چھوٹی ڈائریوں پر کرتیں۔ کاغذوں کو سی لیتیں یوں ایک کتاب بن جاتی۔

تینوں بہنوں نے اب الگ الگ ناول لکھنے شروع کئیے اور تینوں نے انہیں لندن کے ایک پبلشر کو بھیج دیا۔ جس نے دو ناول پسند کئیے اور شارلٹ کے ناول کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا ماٹھا ناول ہے۔

تاہم شارلٹ نے ہمت نہ ہاری اور جین آئیر لکھا اور پبلشر کو بھیج دیا۔ ناول چھپ گیا۔ اسے غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یوں لکھنے کی راہ ہموار ہو گئی۔

اب ذرا اے آر خاتون کو دیکھئیے۔ پہلا سوال بھئی یہ کون ہیں؟ چھٹی، ساتویں دہائی تک تو میری طرح بہتوں کو نہیں پتہ تھا۔ ہاں کسی سے اتنا ضرور سنا تھا کہ پاپولر فکشن لکھنے والی نادرہ خاتون کی والدہ ہیں۔ ہاں بھلا ہو فاطمہ ثریا بجیا کا جنہوں نے ان کے تینوں ناولوں کے ٹی وی سیریل بنائے اور یوں ان کے نام کو عوامی سطح پر پذیرائی دی۔ شکل سے تو کوئی بھی واقف نہیں۔ ہاں البتہ اب اتنا سا ضرور علم ہوا ہے کہ اتر پردیش انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق تھا۔ ناولوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ کہیں اس وقت دستیاب بھی نہیں۔ شاید کسی بڑی لائبریریوں سے کھوج کیا جائے تو کہیں اس کے اردو سیکشن میں گرد آلود پھٹی پرانی صورتوں میں موجود ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میری طرح جن لوگوں نے ان ناولوں کو پڑھا ہے وہ ان کے اندر موجود ایک مضبوط کہانی سے ضرور متاثر ہوئے ہوں گے اور وہ کہانیاں انہیں اب بھی یاد ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •