کھلونا جان کر تم تو۔ ۔ ۔ سطحی ملائیت سے پاک کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب سے چار برس قبل میں سندھ کے ایک پسماندہ شہر میں برسر روزگار تھا۔ ایک دن خبر ملی کے میرے والد صاحب کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ خبر برق بن کر جسم سے گویا روح قبض کر گئی۔ میں جو کے ایک منچلا نوجوان تھا، اب اپنی دنیا کو بدلتا محسوس کر رہا تھا۔ کچھ موڑ زندگی میں قدرت کی طرف سے ایسے آتے ہیں جو انسان کو نا چاہتے ہوئے بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس موڑ میں راستہ اچانک ناہموار ہو جاتا ہے، جگہ جگہ ٹائر پنکچر ہوتا ہے، دور دور تک کوئی چارہ گر دکھائی نہیں دیتا، البتہ زمانہ شناسی کے سائن بورڈز اور دانائی کے سپیڈ بریکر ضرور آتے ہیں۔

اب آپ وہ راستہ کیسے طے کرتے ہیں، اس میں اللہ کی مدد کا بہت عمل دخل ہے کیونکہ انسان تو زندگی کے بیشتر لمحات میں خود کو عقل کل ہی سمجھتا ہے۔ خیر اپنی لا اوبالی طبیعت کو خیر باد کہنا پڑا کیونکہ میرے والد نے میری بڑی بہن کی پیدائش پر جہاں بے پناہ خوشی منائی وہاں انہوں نے ہسپتال کی دریدہ کھڑکی سے طلوع صبح کا سورج دیکھتے ہوئے یہ آرزو کی کہ اللہ تو نے مجھے چاند عطا کر دیا ہے، اگر تو بہتر سمجھ تو سورج بھی عطا کر دے۔ اور اس بات میں دو رائے بھی نہیں کے بسا اوقات ہمارے معاشرے میں بیٹوں کا اصل کردار ماں باپ کی ادھیڑ عمری سے ہی شروع ہوتا ہے، اس کے علاوہ عمومی طور پر وہ گھر سے لاتعلق ہوتے ہیں۔

میرے والد کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک عام سرکاری ملازم تھے لیکن کمال کے ذہین آدمی تھے۔ بہت عرصہ ملک کے نامور اخبارات میں لکھا، شعری مجموعہ پیسے کی کمی کی وجہ سے شائع نہ کر سکے۔ ایک افسانہ لکھا جو کہ ہماری یونیورسٹی کی فیسیں دینے کے لئے اونے پونے بیچ دیا۔ موسیقی کا بے پناہ شوق رکھتے تھے اور خواجہ خورشید انور کے شاگرد رہے۔ جوانی میں کہیں آڈیشن دینے گئے تو موسیقار نے فی الفور ناہید نیازی صاحبہ کے ساتھ گانے کی پیشکش کر دی مگر دادا نے منع کر دیا کے ہمارے خاندان میں کوئی میراثی نہیں گزرا تو تمہیں کیا شوق پڑا ہے۔

نوکری میں نہایت ایماندار تھے، جب ان کے روزنامہ جنگ اور نوائے وقت ایسی اخبارات میں کالم شائع ہوتے تھے معاشرتی مسائل اور ان کے تدارک ایسے موضوعات پر، تب ہمارے فلیٹ میں غسل خانے کے دروازے کی عدم موجودگی کے باعث چادر بندھی ہوئی تھی۔ دادا جان نے دوسری شادی کر لی، پہلی بیوی کی وفات ہو گئی، والد صاحب اپنے ہی شہر میں اپنے باپ کے ہوتے ہوئے دربدر ہو گئے۔

رات کو سٹریٹ لائٹ میں پڑھ کر ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ آپ اندازہ کریں کے ایک حساس انسان جو کہ بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہو، اس کو اگر اپنوں کے ہاتھوں ہی اس قدر رسوائی اور بے قدری کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے زیادہ اس معاشرے کا نقصان ہوتا ہے جو اچھے لوگوں کو پنپنے نہیں دیتا۔ خیر اس بیماری کے دوران کچھ نیک دل سینئرز نے دست شفقت دراز کیا اور مجھے اپنے والد صاحب کے علاج کے سلسلے میں ان کی رفاقت طوالت سے نصیب ہوئی۔

انسان کو جب اللہ امتحان میں ڈالتا ہے، تب اسے اپنی اصلی فطرت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ یہی سب میرے ساتھ بھی ہوا اور مجھے پہلی دفعہ خود کو بحیثیت انسان پرکھنے کا موقع ملا۔ میں اکیلا بیٹا ہونے کے ناتے اب گھر کا ذمہ دار تھا۔ علاج کی سرکاری سہولت میسر تھی اس لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں پڑے۔ خیر ہسپتالوں کے متواتر چکروں نے مجھے تھکا دیا اور مجھ میں ہمت جواب دینے لگی۔ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کے اب والد صاحب کے پاس محض چھ مہینے کا وقت ہے۔

میری شادی شدہ بہنیں ہسپتال بھی کم آتیں کیونکہ ہماری معاشرت میں شادی کے بعد عورت اپنے ہی بابل کے گھر مہمان بن کر لائی جاتی ہے اور اس کے اپنے خاندان کی مصروفیات بھی بہت ہوتی ہیں۔ ان کچھ مہینوں میں مجھے صدیوں کا تجربہ ہوا کہ کس طرح انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے اور جب اس کے آرام کا موقع آتا ہے تو زندگی ناپائیداری کا علمی نمونہ بن جاتی ہے، کس طرح انسان اپنے حصے کی تکلیف برداشت کرتا ہے اور کوئی دوسرا وہ درد محسوس نہیں کر سکتا، کس طرح رشتہ دار اور اقارب تیمارداری کے دوران عقابی نظروں سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں، کس طرح اولاد ماں باپ کا حق ادا کرنے میں کوتاہی برتتی ہے، کس طرح بھرم ٹوٹ جاتے ہیں۔

علامہ اقبال کو پڑھنے والے میرے والد صاحب آخری لمحات میں جون ایلیا کی ’فرنود‘ پڑھنے لگے۔ وہ اردو کی ایک مشہور ویب سائٹ پر باقاعدہ سے شاعری بھیجتے تھے اور ایک روز میں نے ان کی ایک درد بھری غزل پڑھی جس نے مجھے جھنجھوڑ دیا، وہ غزل کالم کے اختتام پر درج ہے۔ مجھے اپنے والد صاحب کی صحبت میں ان کی بیماری والے وقت میں اصل مزہ آنا شروع ہوا۔ وہ ہسپتال میں بستر مرگ پر بھی شاعری کرتے رہتے، ہم اکثر شام کو باغوں بالخصوص ماڈل ٹاؤن پارک میں چلے جاتے جہاں وہ قدرتی نظارے دیکھ کر خوش ہوتے۔

یہ قربت مجھے ’اچھے‘ دنوں میں اس طرح نصیب نہیں ہوئی کیونکہ کھونے کا خوف شاید دستیابی کی عام کیفیات سے کہیں طاقتور ہے۔ شروع میں ہسپتال میں رات کے وقت میں گھر چلا جاتا تھا۔ ایک دن ہسپتال میں رات کے گیارہ بجے نیند اور تھکن سے بے حال میں نے سوچا کے گھر جا کر آرام کر لوں اور صبح پھر آ جاؤں۔ جانے سے پہلے دروازے کی چھوٹی کھڑکی سے اس بات کی تصدیق کی غرض سے اندر دیکھ رہا تھا کے والد صاحب کی نیند گہری ہوئی یا نہیں کہ اچانک محمد رفیع صاحب کا وہ گانا میرے کانوں میں گونجنے لگا ’کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو، مجھے اس حال میں کس کے سہارے چھوڑ جاتے ہو‘ ۔

اس دن سے والد صاحب کی راہ عدم روانگی تک ہر رات ہسپتال میں گزاری۔ اب سوچتا ہوں کے اللہ نے ایک عام گانا میرے ذہن میں ڈال کر مجھ پر کتنا بڑا احسان کر دیا۔ اگر میں موسیقی کو حرام جانتا تو شاید آج تک خود کو ملا یار سے دست بردار نا کر سکتا۔ میرے خیال سے یہاں سطحی ملائیت کا اختتام اور تصوف کا آغاز ہوتا ہے۔ ’جے تو رب نوں منانا پہلے یار نوں منا، رب من جاندا یار نوں منانا اوکھا جے،

والد صاحب کی غزل۔

شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا

زندگی ایک نئے موڑ پہ آ ٹھہری ہے
لوٹ کر پھر انہی راہوں پہ جا نہیں سکتا

اب امنگوں کے گلابوں کا نہیں ہے موسم
اب محبت بھرے نغمات گا نہیں سکتا

آج مایوسی مری حد سے بڑھی جاتی ہے
آج اپنے لیے کچھ بھی تو پا نہیں سکتا

موت ہے سامنے اور سانس رکی جاتی ہے
زندگی جا تجھے واپس میں لا نہیں سکتا

درد سہ سہ کے خود اک درد بنا جاتا ہے
اب مسیحا سے بھی دل بس میں آ نہیں سکتا

شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •