بلوچ خانہ بدوشوں کا نوحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی سر زمین پر صد یوں سے آباد بلوچ قوم کو آج ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ دور کے ذرائع ابلاغ، علاقائی و عالمی صورتحال سے مکمل بے خبر، ہر طرح کی سہولیات سے محروم اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی تگ و دو میں مصروف ایک عام بلوچ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ میرا گردوپیش، ذریعہ معاش اور معمولات زندگی کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟

انسانی تہذیب کی ابتداء مال مویشی پالنے اور کاشتکاری سے ہوئی ہے۔ بلوچستان میں آج بھی ہزاروں خاندان پر مشتمل خانہ بدوش طبقہ موجود ہے جن کا گزر بسر مالداری (غلہ بانی) نظام سے منسلک ہے۔ بلوچی زبان میں ان کو ”کوہی بلوچ“ یعنی پہاڑی بلوچ اور ”پہوال“ کہا جا تا ہے۔ اس طبقے کا مستقل مسکن پہاڑی بیابان ہیں۔ جدید معاشی ذرائع اور طریقوں سے مکمل طور پر انجان یہ بلوچ خانہ بدوش خاندان اپنی (درجنوں سے سیکڑوں تک ) بھیڑ بکریوں، گدھوں اور اونٹوں کی خوراک کے لئے چراگاہوں کی تلاش میں مختلف پہاڑی بیابانوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تمام جدید ضروریات اور سہولتوں سے بے نیازیہ لوگ اپنے تئیں ایک آسودہ حال اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ یہ اپنی خوراک کا زیادہ تر حصہ اپنے مال مویشی اور آس پاس کے قدرتی ماحول سے حاصل کرتے ہیں۔ تقریباً ان کی روز مرہ ضروریات اور معاشی و سماجی زندگی کا دار و مدار پہاڑی بیابانوں کے قدرتی وسائل اور پالتو جانوروں پر منحصر ہے۔ سواری اور مال برداری کے لئے اونٹ اور گدھے (محدود تعداد میں گھوڑے بھی ) استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان میں مکران ڈویژن اور کولواہ آواران کے خانہ بدوش بلوچوں کا ذریعہ معاش مخصوص مدت میں مال مویشیاں فروخت کرنا ہے، جبکہ باقی اوقات میں محدود پیمانے پر خشک لکڑیاں اور مزری سے روایتی چٹائیاں اور دیگر اشیاء بنا کر دیہی و شہری آبادیوں میں فروخت کرنا ہے۔

دنیا میں کئی ایسے خطے ہیں جہاں آج بھی ایسے قدیم قبائل موجود ہیں جو رائج عام طرز زندگی کے بجائے قدیم طرز زندگی پر عمل پیرا ہیں۔ جیسے ہندوستان میں ”بن واسی“ اور ”آدی واسی“ (یعنی جنگلوں کے رہائشی) قبائل آباد ہیں جن کی زندگی کا انحصار پالتو جانوروں اور دستیاب جنگلی وسائل پر ہے۔ اس لئے تحفظ جنگلی حیات کے ریاستی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان قبائل کو خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں تا کہ ان کا تحفظ کیا جا سکے ( البتہ شہری آبادی میں اضافہ اور پھیلاؤ سے ”آدی واسی قبائل“ کی طرز زندگی اور جنگلی وسائل متاثر ہو رہے ہیں جن کے خلاف ان ”آدی واسیوں“ کی تحریکیں چل رہی ہیں ) ۔

اسی طرح آسٹریلیا اور امریکہ میں بھی ایسے قبائل آباد ہیں جو پہاڑی بیابانوں اور جنگلات میں مکین ہیں وہاں کے دستیاب قدرتی وسائل پر قدیم روایتی انداز میں زندگی گزار رہے ہیں اور ریاست ان کی اس قدیم طرز زندگی کی حفاظت کا ضامن ہے۔ کئی ممالک میں ایسے قدیم قبائل اور ان کی ثقافت کو تہذیبی ورثہ قرار دے کر ان کی طرز زندگی کو متاثر کیے بغیر ان قدیم قبائل کی ترقی و خوشحالی اور تحفظ کے لئے ماہرین کی مدد سے انتہائی باریک بینی سے مختلف منصوبے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ مگر پاکستان میں حسب توقع صورتحال بالکل برعکس ہے۔

بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری شورش کی وجہ سے ہزاروں خاندان پر مشتمل بلوچ خانہ بدوش طبقہ شدید (بلکہ سب سے زیادہ) متاثر ہے۔ کیونکہ ان کے دائمی مسکن یعنی پہاڑ و بیابان اب میدان جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مکمل ناخواندہ، شہری زندگی سے نا آشنا اور ادنیٰ سے ادنیٰ کاروباری سمجھ بوجھ و تقاضوں سے کوسوں دور، حتیٰ کہ روایتی کاشتکاری تک سے ناواقف یہ طبقہ اب مجبوراً شہری علاقوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ جہاں بھی خالی میدان دیکھ لیا اپنی جھگی ڈال دی۔

لیکن شہری علاقوں میں ان مصیبت زدوں کی زندگی بد سے بد تر ہے۔ کیونکہ شہری و دیہی علاقوں میں درخت اور خشک لکڑیاں مالکان زمین کی ملکیت ہیں، چراگاہیں محدود اور مخصوص ہیں اور وہ بھی رہائشیوں کی ذاتی ملکیت ہیں۔ اس لئے جانوروں کا چارا اور گھاس پھوس پیسے دے کر خریدنا پڑتا ہے اور زندگی کی ہر ضرورت کی قیمت مقرر ہے، جو ان خانہ بدوشوں کی بساط سے باہر ہے۔ یعنی جن وسائل پر ان کی زندگی کا انحصار ہے اور وہ جس قدرتی ماحول کے عادی ہیں انھیں وہ شہری علاقوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ یہ خانہ بدوش شہری علاقوں میں کئی طرح کے مسائل و مشکلات کا شکار ہیں۔ معاشی طور پر تباہ یہ خود دار لوگ اب بھیک یا علاقہ مکینوں کی خیرات پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔

تربت شہر سے ملحق مشرقی آبادیوں کے آس پاس، کھجور کے باغات اور ایگریکلچر ریسرچ فارم سے منسلک خالی میدانوں اور پہاڑی دامنوں میں بھی کئی خانہ بدوش خاندان رہائش پذیر ہیں۔ دوران گفتگو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ صدیوں کی روایات اور علوم کو آج بھی خود میں سموئے ہوئے یہ زمین زادے بلوچ خانہ بدوش بلوچی محاورے، تراکیب، وضاحتوں، لوک گیت اور رزمیہ شاعری و داستانوں کی انسائیکلو پیڈیا اور ذخیرہ الفاظ کی لغات ( ڈکشنریاں ) ہیں۔

جدید روایتی تعلیم سے ناآشنا مگر روایتوں کے امین ان آزمودہ کار اور اپنی دھرتی سے جڑے خانہ بدوشوں کے پاس درختوں، پودوں، جانوروں، جڑی بوٹیوں، روایتی علاج معالجہ، موسموں، جنگلی حیات اور جنگلی حیات کی اہمیت و تحفظ کے روایتی اور آزمودہ علوم کا خزانہ موجود ہے۔ مزری سے بنی مختلف اشیا ان حالات کے ماروں کی ہنرمندی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بیش بہا اظہار ہیں۔ بلوچی زبان و ثقافت اور روایات سے تجسس اور دلچسپی رکھنے والے دانشور، لکھاری اور محققین ان خانہ بدوشوں سے وہ بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں جن کا حصول کسی کتاب یا روایتی درسگاہوں میں ممکن نہیں ہے۔

افسوس کہ صدیوں کے علوم و رایات کے محافظ مگر اس تباہ حال طبقے کے تحفظ، نقصانات کا ازالہ اور آبادکاری و خوشحالی کے لئے قومی اسمبلی اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں براجمان نام نہاد عوامی نمائندوں کی جانب سے لائحہ عمل ترتیب دینا تو کجا! آج تک کا رسمی ہی سہی ان کا مسئلہ کبھی زیر بحث تک نہیں آیا ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس انسانی المیہ کی جانب کبھی کسی کا خیال تک بھی نہیں گیا ہے۔ ”سلیکٹڈ“ عوامی نمائندوں کا کیا گلہ!

بلوچ قوم پرستی کا دم بھرنے والے ہماری بلوچ سیاسی پارٹیاں و قائدین تاحال ان مظلوم بلوچ فرزندوں سے مکمل طور پر لا تعلق اور انجان ہیں۔ کیونکہ عوامی نمائندوں اور قوم پرست لیڈران کی زبان پر تاحال نا اس مظلوم طبقے کا نام آیا ہے اور نا ہی انہوں ان کے حوالے سے کبھی لب کشائی کی ہے۔ آج تک کسی بھی حکومتی ارکان و ادارے، سرکاری منتظمین، قوم پرست سیاسی پارٹیوں و لیڈران، این جی اوز یا علاقائی سماجی تنظیم کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ یا اعداد و شمار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

سماجی، سیاسی، انتظامی اور معاشی طور پر نظر انداز بلوچ خانہ بدوش انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان میں جاری شورش کی وجہ سے مالی نقصانات کے علاوہ کئی خاندانوں کے افراد کو بغیر کسی جرم کے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے او ر کئی قتل بھی ہو چکے ہیں۔ مگر یہ خانہ بدوش احتجاج اور ایڈووکیسی کے تمام طریقہ کار سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں، ان کا کوئی مشترکہ پلیٹ فارم نہیں ہے کہ جس کے زیر سایہ مظلوم طبقہ حکام اعلیٰ، سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا سکیں۔ وطن دوستی اور زبان دوستی کا دم بھرنے والے ہمارے اہل علم و قلم اور محققین کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے۔ جب بے حسی کی انتہا یہ ہو، تو پھر ان مظلوم و محکوموں کے تحفظ، داد رسی یا دکھوں کا مداوا اور آسودہ حالی کے لئے کوئی پروگرام یا منصوبہ کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔
اس کالم سے ہماری مجموعی بے حسی اور بے ضمیری کا احساس کرانا مقصود ہے، شاید اس سے اس انسانی المیہ کا کوئی حل یا کوئی تدبیر نکل آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •