غریب ہندو لڑکی کا ریپ اور خودکشی: اس لئے بنا تھا پاکستان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب وسط جولائی دو ہزار انیس میں، تین آدمی ایک سولہ سالہ ہندو لڑکی مومل میگھواڑ کے ساتھ جبری زیادتی کر رہے تھے، تب ان کو ادراک تھا کہ دلن جوتڑ گاؤں کی اس غریب ہندو لڑکی کی فریاد کسی کے ضمیر پر بھی بوجھ نہ بنے گی۔ تینوں اس دور اندیشی اور درست فہمی میں بجا تھے۔ اجتماعی جبر جنسی کا مقدمہ درج ہونے پر تینوں کو ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور آج تک آزاد ہیں، جو کہ اس ملک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جبر جنسی کا یہ انوکھا واقعہ تھا نہ کسی ہندو لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا تشدد کا انوکھا حادثہ۔ یقین کیجئے یہ روز ہوتا ہے اور بے حساب و کتاب ہوتا ہے۔

تیس ستمبر کی درمیانی شب مومل میگھواڑ نامی ہندو لڑکی نے ہراسانی اور دھونس دھمکیوں سے تنگ آ کر کنویں میں گر کر خودکشی کر لی ہے۔ زیادتی کے بعد خودکشی کو مبارک عمل قرار دیا جانا ایسا انہونا عمل بھی نہیں ہے۔ آج تک بہت فخر سے بتایا جاتا ہے کہ تقسیم کے وقت لڑکیوں نے عزت لٹنے کے ڈر سے کنوؤں میں کود کر جانیں دی۔ یہاں ہرگز ان شہدا بارے کوئی ہتک آمیز بات کرنا مقصود نہیں ہے۔ تقسیم کے وقت جس مرد کے ہاتھ مخالف مذہب کی لڑکی، بچی یا عورت لگی اس نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔

عورت تو تقسیم کے وقت بھی مغلوب تھی، عورت آج بھی مغلوب ہے۔ مومل جیسی ہندو مسلمان لڑکیاں تب بھی زیادتی کا نشانہ بنی اور کنوؤں میں کودی تھیں۔ تھرپارکر کی سترہ سالہ ہندو، مومل نے صرف اپنی جان نہیں لی، ہم سب کی جان بھی لی ہے۔ اس بازگشت کرتے نظریے کی جان بھی لی ہے جس کی خاطر ہزاروں لڑکیوں نے اپنی عصمتوں کی قربانی دی۔ وہ سب خواتین دوبارہ سے اپنے مجرموں کے ہاتھوں ریپ ہوئی ہیں، افراد اور نظام کی معذرت نے تقسیم کے وہ لمحے پھر سے زندہ کر دیے ہیں۔ بلوائیوں کی وحشت سے وہ لڑکیاں دوبارہ سے کنوؤں اور ندیوں میں کودی ہیں، وہ سب پھر سے مر گئی ہیں۔ ایک ناری مومل ہی نہیں، آپ سب بھی مر گئے ہیں۔

ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ جرائم سے تعصب اور منافرت کو بھی رنگیں لبدوں میں اوڑھا کر بد نیتی چھپا دی جاتی ہے اور پھر گنگناتے ہیں کہ یوں پاکستان بنا تھا، اس لئے پاکستان بنا تھا؟

ایک نغمے ”یوں پاکستان بنا تھا“ جس میں کہانی کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کو کن مصائب کا سامنا تھا۔ کبھی کھیت تو اپنا ہوا کرتا مگر زمیں کسی اور کی تھی، پگڑی اونچی تھی مگر کسی اور کے قدموں تلے تھی، مسلمان چھپ چھپ کر سجدے کرتے تھے۔ آج کے تناظر میں یہ اشعار کس قدر طعن آمیز ہیں نا، اغوا ہوتی، مرتی ہندو عیسائی لڑکیوں اور اقلیتی مسالک کے متاثرہ شہریوں کے گھاؤ پر نمک پاشی ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں جا رہی کہ ان الفاظ میں کتنی حقیقت ہے یا نہیں لیکن غریب کی زمیں آج بھی اپنی نہیں، یا زمیں تو اس کی اپنی ہو مگر جس کھیت پر وہ اور اس کا سارا خاندان کام کرتا ہے وہ اس کا اپنا نہیں۔

زمیندار سود کی واپسی کے لئے اس کو دھمکاتا تو ہے ہی ساتھ میں اس کی کھیتوں میں جان لگا کر کام کرتی بیوی پر بھی نظر رکھتا ہے اور غالباً بیٹی کے ساتھ جنسی جرائم کا مرتکب بھی ہوا ہے۔ لوگ تو چھپ کر آج بھی سجدے کرتے ہی ہیں، غیر مسلک مساجد میں ہاتھ باندھ کر نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔ امام بارگاہوں پر ویسا ہی پتھراؤ ہوتا ہے جیسے کانگریس راج میں نابلد ٹولہ کسی مسجد پر کیا کرتا تھا۔

”رہتے تھے جیسے ایک ڈر میں
جب قید ہوئے اپنے گھر میں ”

کیا آج لوگ قید نہیں یا بے خوف نہیں؟ کیا صرف نام دیکھ کر پہچان جانے والے کھینچ کر گولی مار کر فرار نہیں ہو جاتے؟ فلاحی اداروں کی دیواروں اور خاص متعصب طبیبوں کے کلینکس پر یہ سطور تحریر نہیں ہوتی کہ اگر اس فرقے سے ہو تو مفت علاج نہ ہوگا؟ کیا جنوب مشرق میں شہریوں کی آنکھوں کی بناوٹ دیکھ کر گولیوں سے چھلنی نہیں کیا جاتا؟ تو ایسے کیسے بنا تھا پاکستان؟

ہر نکتہ بڑھتا بڑھتا وہیں آ کر منجمد سا ہو جاتا ہے کہ ایک اشتباہ عمل دوسری جگہ ہو تو وہ ہمارے یہاں درست کیسے ہو سکتا ہے؟ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف سنگین جرائم تب غلط تھے تو آج غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف تشدد کیسے جرم ہونے کی حیثیت کھو جاتا ہیں؟ انسانوں کے خلاف انتہائی نوعیت کے جرائم سے آخر کس نہج تک آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا اور ان کا عقیدہ منفرد ہے؟ اس حد تک متعصب ہونا کیا رات کو آرام سے سونے دے دیتا ہے؟ انسان کا کوئی بھی نظریہ ہو مگر اس جہان کا ایک قانون تو ہے ہی جو دکھ اور سکھ کی بنیادوں پر سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ میرا نظریہ وہاں ناپید ہوجانا چاہیے جہاں وہ کسی معصوم کو اذیت دینا شروع کردے۔

”پیروں میں اور کسی کے، تھا شملہ اونچا سر کا“

مومل کا تو شملہ بھی اونچا نہ تھا۔ وہ تو اس ملک میں، اس دور میں ہندو لڑکی ہونے کے ناتے پہلے ہی کمزور تھی۔ کیا اس لئے بنا تھا پاکستان کہ اس کے آزاد شہریوں کو ان کے مذہب کے ناتے کمزور سمجھتے ہوئے ان کے جان مال، عزت پر دھاوا بولا جائے گا اور مجرم وحشی بن کر قانون کی شاخوں سے اٹکھیلیاں کریں گے؟ اس لئے تو نہیں بنا تھا پاکستان۔

شملہ اونچا تھا مگر کسی کے قدموں میں تھا؟ اگر ایسے بنا تھا پاکستان تو اب کس طرح سے بچا رہے ہیں پاکستان؟ ہندو لڑکیوں کو کنوؤں میں دھکیل دھکیل کر؟ نہیں، اس لئے نہیں تھا بنا ہمارا پاکستان۔

بھیڑیوں کی طرح گزیلوں پر وار کرنے والے دانت اور پنجے تیز کیے بیٹھے ہیں کہ کب کوئی شکار ملے اور نوچ ڈالیں، چیر ڈالیں، ریشہ ریشہ ادھیڑ کر رکھ دیں۔ اس واقعہ کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا مگر اس کے وجود پر تین آدمیوں کے ہاتھوں زیادتی کے زخم اب تک موجود تھے، جن کی مرہم شاید نظام ہو سکتا تھا۔ افسوس، نظام نے تو اس کے قاتلوں کو خود ہاتھ سے ضمانت پر رہا کیا تھا تاکہ کل کو وہ کسی اور بے کس و لاچار کو کنوؤں میں کودنے پر مجبور کر سکیں۔ ستر سال پرانی مجبوریوں کو آج کی مجبوریوں سے مستعار لینا شروع کریں، ان ہندو لڑکیوں کی بے کسی پر نغمے تخلیق کریں، جن کے پاس زمیں ہے اپنی نہ کھیت، جن کے آنچل بھی قدموں میں ہیں اور ایماں بھی، جو کھل کر اپنے رب کا نام لیتے ہیں نہ آزاد ہیں۔

غیر انسانی جہتوں کو چھوڑنے کے لئے بنا تھا پاکستان۔ اس لئے بنا تھا جہاں کسی ہندو کو مسلمان اور کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان، کسی عورت کو کسی مرد، کسی با اثر سے کمزور کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ کسی کا جو بھی خدا ہو، امام ہو، رات کو سفر کرے یا جس راستے سے کرے، پاکستان کو اس سے کیا لگے؟ پاکستان نے تو سب کو سنبھال کر پیار سے رکھنا تھا، اس لئے ہی بنا تھا نا پاکستان؟ اس لئے تو نہیں بنا تھا پاکستان کہ عورتیں کنوؤں میں کود کود کر جانیں گنواتی پھریں کہ ان کے درندے آزاد ہیں؟ اس لئے بھی نہیں بنا تھا پاکستان کہ ہندوؤں سے تعصب اور امتیاز کے بدلے لئے جائیں جب کے وہ اسی ملک کے شہری ہوں اور مظلوم بھی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •