پیمرا نے موٹروے ریپ کیس کی میڈیا پر کوریج پر پابندی عائد کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیمرا نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام سیٹلائٹ چینل (نیوز اور کرنٹ افیئرز) موٹروے ریپ کیسے کے بارے میں کسی بھی قسم کا مواد نشر مت کریں۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 تبدیل کردہ 2007 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس نوٹیفیکیشن میں اس پابندی کی وجہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا حکم بتایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملزم کو جوڈیشل لاک اپ میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اگر اس کیس کی میڈیا کوریج بند نہ کی گئی تو اس کے نتیجے میں جمع شدہ شواہد کی قدر ختم ہو جائے گی۔ جنس سے متعلقہ مقدمات میں مظلوم اور اس کا خاندان بھی اذیت اٹھاتا ہے۔ اس لیے چیئرمین پیمرا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس کیس کی الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کوریج روک دے۔

اس حکم نامے سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیمرا کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ پرنٹ اور سوشل میڈیا کو حکم جاری کر سکے؟ ہم نے یہ سوال ممتاز ماہر قانون اسد جمال صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عبارت میں موجود یہ حکم پیمرا آرڈیننس کو درست طریقے سے نہ سمجھنے کے سبب ہے۔ اسی وجہ سے پیمرا نے صرف نیوز اور کرنٹ افیئرز چینل کے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور اس میں پرنٹ اور سوشل میڈیا کو کسی قسم کی ہدایت نہیں کی۔ پیمرا والے اپنے دائرہ اختیار سے واقف ہیں کہ وہ صرف الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ان کی رٹ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر نہیں چلتی۔

پیمرا کے خط میں موجود عدالتی حکم کے اقتباس میں صرف ملزمان کی تصاویر، مظلوم کی شناخت وغیرہ چھپانے کا نہیں کہا گیا بلکہ اس کیس کی ہر قسم کی کوریج منع کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •