بریٹن گاٹ ٹیلنٹ: برطانیہ کے ریئلٹی شو میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی پاکستانی نژاد برطانوی گلوگارہ سیرین جہانگیر

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’میں جب سٹیج پر جا رہی تھی تو دل و دماغ میں بس ایک ہی بات تھی کہ کچھ ایسا کرنا ہے کہ میں اس قابل ہو جاؤں کہ اپنے جیسے نابینا بچوں کے حوالے سے کچھ کر سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے سٹیج پر بھرپور جذبے اور جوش سے گانا گایا۔‘

ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے مقبول عام ٹیلنٹ ہٹ ریالٹی شو ’بریٹن گاٹ ٹیلنٹ‘ میں اپنی آواز کا جادو جگا کر ایک ہی روز میں اپنے لاکھوں چاہنے والے بنانے والی 14 برس کی نابینا پاکستانی نژاد برطانوی گلوگارہ سیرین جہانگیر نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔

سیرین جہانگیر کے بارے میں برطانوی میڈیا نے سرخیاں جمائی ہیں کہ یہ برطانیہ کا نیا جادو ہے۔ سیرین جہانگیر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی پاکستانی برطانوی ہیں جنھوں نے بریٹن گاٹ ٹیلنٹ شو کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

سیرین جہانگیر کی پرفارمنس والے روز ہال میں ایک اور پاکستانی برٹش ڈاکٹر سارہ حسین بھی موجود تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب سیرین کو میزبان ہاتھ سے پکڑ کر لائے تو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ جب یہ پتا چلا کہ ہنستی مسکراتی اور انتہائی خوبصورت سیرین جہانگیر دیکھ نہیں سکتی تو دل کو ٹھیس پہنچی۔

یہ بھی پڑھیے

’میرا مشن یہ ہے کہ میں دنیا کا ہر ملک دیکھوں‘

صوفی درگاہوں میں خواتین کی گائیکی

نابینا انڈین جوڑے کے اندھے پیار کی کہانی

’جب سیرین نے ’کیری یو‘ گانا شروع کیا تو چند ہی لمحوں میں انھوں نے پوری توجہ کھنچ لی۔ جیسے جیسے وہ گاتی جا رہی تھیں ہمارے اردگرد لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کچھ پتا نہیں چلا کہ کب گانا ختم ہوا، کب پورا ہال آنکھوں میں آنسو لیے اور تالیاں بجاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔‘

سیرین جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’کیری یو‘ ان کا پسندیدہ گانا ہے اور اپنے ایک خاص دن کی مناسبت سے انھوں نے اسی گانے پر پرفارمنس دینے کا سوچا تھا۔

’گانے کے بول کا ایک ایک لفظ اور میرے جذبات ملتے جلتے ہیں۔ اس لیے دل و دماغ اور پورے جذبات سے گایا تھا۔‘

سیرین جہانگیر کے گانے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھی سیرین جہانگیر گا ہی رہی تھیں کہ عالمی شہرت یافتہ ججز اپنی آنکھوں میں آنسو لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جب گانا ختم ہوتا ہے تو سیرین جہانگیر باقاعدہ رو رہی تھی۔

جب سیرین کو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے تو سارا میلہ ہی لوٹ لیا تو وہ اپنی خوبصورت آنکھوں میں آنسو لیے اور مسکراتے ہوئے سٹیج پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔

سیرین جہانگیر کا کہنا تھا کہ جب وہ گانے کے لیے جارہی تھی تو انھیں اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انھیں اتنی پذیرائی ملے گئی۔

’اس وقت کے آنسو خوشی کے آنسو تھے۔ وہ لمحات بہت قیمتی تھی۔‘

سیرین جہانگیر کون ہیں؟

سیرین جہانگیر وزیراعظم پاکستان عمران خان کے برطانیہ اور یورپ تجارت کے لییے ترجمان صاحبزادہ جہانگیر کی پوتی ہیں۔

صاحبزادہ جہانگیر نے بتایا کہ سیرین جہانگیر اور ان کا ایک بھائی برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے ہیں۔ سیرین جہانگیر کے والد کفیل جہانگیر برطانیہ میں ایک ڈویلپر ہیں۔

’ہمارا خاندان پاکستان سے برطانیہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم سب لوگ فنکاروں سے محبت کرنے والے ہیں جبکہ پاکستان میں ہمارے خاندان میں بھی جنید علی جیسے کئی نامور فنکار ہیں۔‘

صاحبزادہ جہانگیر نے بتایا کہ سیرین پانچ سال کی عمر میں بدقسمتی سے آنکھوں کی ایک ناقابل علاج بیماری کا شکار ہو گئیں۔

’ان کے والد اور ہم سب نے دنیا کے ہر کونے میں ان کا علاج کروایا مگر بدقسمتی سے اس بیماری کا کوئی علاج دستیاب نہیں تھا اور وہ نو سال کی عمر تک دیکھنے کی صلاحیت ختم کر چکی تھی۔‘

سیرین جہانگیر کے والد کفیل جہانگیر نے بتایا کہ سیرین ان کی بڑی بیٹی ہیں جو پانچ برس کی عمر میں بیماری کا شکار ہوئیں۔

’سات سال میں اس کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی تھی۔ میں جانتا تھا کہ دو، تین سال میں یہ اپنی بینائی مکمل طور پر کھو دے گی۔‘

’وہ قیامت کا وقت تھا۔ اس وقت ہی سے ہم سب نے مل کر سیرین کو مستقبل کے لیے تیار کرنا شروع کردیا تھا۔ میں، اس کی والدہ، دادا، دادی اس کے ساتھ بیٹھتے اور اس سے بات کرتے تھے۔ مستقبل کے منصوبے بناتے تھے۔ اس کو یقین دلاتے تھے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں۔ وہ جو کچھ چاہے کرسکتی ہے۔‘

کفیل جانگیر کا کہنا تھا کہ سیرین اس وقت سے ہی انتہائی بہادر، جرات مند اور سمجھدار تھیں۔

’اس نے ہماری باتیں سمجھنا شروع کر دی تھی۔ نو سال کی عمر میں جب وہ دوسری آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہوئی تو مجھے اسی وقت یقین ہو چلا تھا کہ قدرت اس سے کوئی بہت بڑا کام لینا چاہتی ہے۔ اب وقت نے ثابت کردیا کہ اگر قدرت کوئی ایک صلاحیت واپس لیتی بھی ہے تو دوسری دے بھی دیتی ہے۔‘

سیرین جہانگیر اس وقت سکول میں زیر تعلیم ہیں لیکن مستقبل میں وہ میوزک ہی میں اپنا مستقبل بنانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فلاحی کاموں کا بھی شوق رکھتی ہیں۔

سیرین جہانگیر نے کیری یو کیوں گایا؟

سیرین جہانگیر کا کہنا تھا کہ جب وہ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئیں تو اس وقت انھیں گانے کا شوق پیدا ہوا۔

’میرے والد، والدہ، دادا، دادی سب نے میری حوصلہ افزائی کی۔ مجھے بھی اپنے جذبات کے اظہار کے لیے گانے اور پیانو سے محبت ہو چکی ہے۔ میری تنہائی میں گانے اور پیانو میرے اچھے ساتھی ہوتے ہیں۔‘

’میں سکول جاتی، پڑھائی کرتی پھر پیانو اور گانے ہوتے، میں اپنے گانوں کے لیے خود بھی شاعری کرتی ہوں۔ جن میں سے کچھ کو انسٹاگرام پر پوسٹ بھی کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں شروع ہی سے طکیری یو‘ گانا بے حد پسند تھا۔ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے اور میرے جیسے بچوں کے حالات پر ہے۔ اس گانے میں جہاں دکھ کا اظہار ہے۔، وہیں پر مدد کرنے کا جذبہ بھی موجود ہے۔ اس مدد کرنے کے جذبے ہی نے مجھے کچھ کرنے پر ابھارا۔‘

کیری یو پہلی مرتبہ امریکن گلوگارہ روئیل نے گایا تھا۔ اس کے بول کچھ اس طرح سے ہیں:

میں جانتا ہوں کہ دکھ ہوتا ہے

کسی وقت سانس لینا بھی مشکل ہوتا ہے

یہ راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں

جب زندہ رہنے کی لڑائی کی آس بھی ختم کر دیتے ہیں

کیا کوئی موجود ہے

کیا آپ روشنی تک میری رہنمائی کر سکتے ہیں

کیا کوئی موجود ہے

مجھے بتا دیں یہ ٹھیک ہو گا

آپ تنہا نہیں ہیں

میں ہمیشہ آپ کے لیے گانا گانے کے لیے موجود رہوں گی

میں آپ کو سنبھالا دوں گا

میں جانتی ہوں کہ تمھیں نہیں یاد کے اب کیسے ابھرنا ہے

تمھارا دل ایک پرندہ ہے جس کے پاس اڑنے کے لیے پر نہیں ہیں

کیا کوئی موجود ہے

کیا تم میرا بوجھ اٹھا سکتے ہو

کیا کوئی موجودہے

کیا آپ روشنی تک میری رہنمائی کرسکتے ہیں

آپ تنہا نہیں ہو

میں ہمیشہ آپ کے لیے گانا گانے کے لیے موجود رہوں گی

میں آپ کو سنبھالا دوں گی

میں آپ کو سنبھالا دوں گی

آپ تنہا۔۔۔ آپ تنہا نہیں ہیں

سیرین جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے پاکستان میں رفاعی کاموں سے متاثر ہیں اور ان ہی کی طرح بھرپور انداز میں رفاعی کام کرنا چاہتی ہیں۔

’اس کامیابی پر مجھے ابھی اپنے والدین سے تحفہ ملنا باقی ہے۔ یہ تحفہ پاکستان کا دورہ ہو گا۔ اس دورے کے دوران میں پاکستان کے مختلف دیہاتوں اور آنکھوں کے ہسپتالوں میں جاؤں گئی۔ جہاں پر میں اپنے جیسے بچوں سے ملاقات کروں گی۔ ان کے مسائل کو سمجھوں گی۔‘

’میں اپنے جیسے ان بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ میرے والد اور دادا میری رہنمائی کررہے ہیں۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر امید ہے کہ کورونا کے حالات جلد ختم ہو جائیں گے تو ان کے لیے چندہ اکھٹا کرنے کی کوشش کروں گی۔ کوشش کروں گی کہ یہ بچے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔‘

سیرین کا کہنا تھا کہ ’آپ تنہا نہیں‘ میرا سلوگن ہے۔ ’میں اکثر اوقات اس سلوگن کو اپنے پیانو پر بھی سجاتی ہوں۔ یہ ایک بہت ہی خاص جملہ اور اس میں ایک پیغام چھپا ہوا ہے۔ میری طرف سے بھی پاکستان اور دنیا بھر کے ان بچوں کو پیغام ہے جو میری طرح کے حالات کا شکار ہیں کہ وہ ہمت نہ ہاریں۔‘

’کیا ہوا اگر وہ دیکھ نہیں پاتے مگر ابھی بھی وہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ کر سکتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں، آپ تنہا نہیں ہو۔ میں ان کے لیے وہ سب کچھ کر جاوں گی جو میں کر سکتی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16074 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp